New Age Islam
Tue Oct 04 2022, 10:12 PM

Urdu Section ( 21 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Surah Al-Munafiqun Was Revealed To the Prophet (PBUH) To Expose the Hypocrites Part-88 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے منافقوں کا پردہ فاش کرنے کے لئے'سورہ المنافقون'نازل کی گئی

مولانا ندیم الواجدی

17 جون،2022

منافقین کی شر انگیزی کا ایک اور واقعہ:

اسی سفر میں ایک اور واقعہ پیش آیا جسے بنیاد بنا کر منافقوں کے سردار عبداللہ ابن أبی نے سادہ لوح انصار صحابہ کرامؓ کو بھڑکانے کی کوشش کی، حالانکہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا،اس طرح کی حرکتوں سے اس کے چہرے کا نقاب ہٹ گیا، خود قرآن کریم نے منافقوں کا پردہ فاش کردیا اور اس سفر میں پوری ایک سورہ ’’المنافقون‘‘ کی مذمت میں نازل ہوگئی۔

واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ مریسیع کے چشمہ آب پر پانی لیتے ہوئے ایک مہاجر کا صحابیؓ کا پاؤں انصاری صحابی کو لگ گیا ، ان دونو ں میں کچھ تکرار ہوئی، اور دونوں نے اپنے اپنے لوگوں کو آوازیں دینی شروع کردیں، یہ واقعہ بھی حضرت جابر بن عبداللہؓ نے تفصیل سے بیان کیا ہے ،فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک غزوے میں شریک تھے ، ایک مہاجر صحابیؓ کا پاؤں انصاری صحابیؓ کے پیر پر جا پڑا، دونوں میںکہا سنی ہوئی، بات بڑھ گئی ،انصاری صحابیؓ نے دہائی دی ۔’اے انصار بھائیو! مہاجر صحابی بھی چلائے ! اے مہاجر بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آوازیں سنیں تو فرمایا کہ یہ جاہلیت کے زمانے کی سی آوازیں کیسی ہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مہاجرین میں سے ایک صحابی کا پیر فلاں انصاری صحابیؓ کے پاؤں پر جالگا تھا، یہ شور وغوغا یہ آوازیں اسی ، جھگڑے کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان باتوں کو چھوڑ دو، یہ باتیں گندی او ربدبو دار ہیں۔

دوصحابیوں کے درمیان اس معمولی کہا سنی کا علم عبداللہ بن أبی کو ہوا تو اسے انصار صحابہؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او رمسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کا ایک او رموقع ہاتھ آگیا، وہ ایک ایک کے پاس جاکر کہنے لگا کہ یہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہم پر حکومت کرنے لگے ہیں ، خدا کی قسم مدینے واپس جاکر عزت دار لوگ ان ذلیل و خوار لوگوں کو نکال باہر کردیں گے ۔ حضرت عمرؓ کو اس کی بکواس کا پتہ چلا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑو ! لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کررہے ہیں ۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عباد بن بشر کو حکم فرمائیں وہ اس منافق کا سر قلم کردے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرؓ! اس وقت کیا کہوگے جب لوگ یہ باتیں بنائیں گے کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کرا رہے ہیں ، میں ہر گز اس کی اجازت نہیں دو ں گا ، البتہ یہاں سے چل نکلو ، چنانچہ قافلہ روانہ ہوگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ دن بھر چلتے رہے، یہاں تک کہ شام ہوگئی ، پھر رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور سورج نکل آیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرنے کا حکم فرمایا ، لوگ ایک دن ایک رات کے تھکے ہوئے تھے، سواریوں سے اترے اور اترتے ہی سوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تدبیراس لئے اختیار فرمائی تاکہ لو گ کل کے واقعے پر کوئی تبصرہ نہ کریں، او راسے بھول جائیں۔ عبداللہ ابن أبی کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حرکتوں کاپتہ چل چکاہے او رجو باتیں وہ کرتا پھرتا رہا ہے وہ سب باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آچکی ہیں ، اب وہ گھبرایا اور صفائی پیش کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوا، کہنے لگا کہ میں نے تو کسی سے کچھ نہیں کہا، وہ بدبخت قسمیں کھا رہا تھا، اور حضرت زید بن ارقمؓ کو ان کے منہ پر جھوٹا ٹھہرا رہا تھا ۔ اس کی باتیں سن کر حاضرین مجلس کہنے لگے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص قسمیں کھا رہا ہے ، اس کااعتبار کرلیجئے ، ہوسکتاہے زید بن ارقمؓ کو مغالطہ ہوا ہو، زید ابھی بچہ ہی تو ہے ۔ بات آئی گئی ہوگئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چل پڑے ، ایک صحابی اُسید بن حُفیرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان اوقات میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر نہیں فرماتے ، کیا بات ہے، آپ کل سے مسلسل سفرفر ما رہے ہیں۔ فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارا ساتھی کیا کہہ رہا ہے ، عرض کیا! کیا کہہ رہا ہے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ابن اُبی کہتا پھر رہا ہے کہ مدینے پہنچ کر عزت والے لوگ ذلیل و خوار لوگوں کو باہر کردیں گے۔اسیدؓ نے عر ض کیا! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مدینے سے نکال باہر کریں گے، وہ ذلیل وخوار ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کا سورج اسی طرح درخشاں رہے گا۔

اسی دوران سورہ منافقون کا کانزول ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ارقمؓ کا کان پکڑکر فرمایا: اس کے کانوں کو سچا ثابت کرنے کیلئے اللہ نے یہ سورہ نازل فرمائی ۔

ابن أبی منافق کے بیٹے عبداللہ ؓ بھی اس غزوے میں شریک تھے، وہ اپنے باپ کی طرح نہیں تھے، بلکہ انہوں نے دل سے اسلام قبول کیا تھا، او رسچے دل کے ساتھ وہ رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں وفادار تھے۔ انہوں نے جب یہ سنا کہ ان کاباپ الٹی سیدھی باتیں کرتا پھر رہا ہے او ر دربار نبوت میں اس کے عمل کی باتیں ہورہی ہیں تو حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیں ، میں ابھی اپنے باپ کا سرقلم کر کے یہاں لاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں! اس کی اجازت نہیں ،ہم اس کے ساتھ اس وقت تک نرمی کامعاملہ کرتے رہینگے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سیرت ابن ہشام :3؍216، 217،218،البدایہ و النہایہ: 4؍158، تفسیر طبری:28؍76)

اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک قائد کو اپنے زیر قیادت ساتھیوں کی نقل و حرکت پر پوری طرح نظررکھنی چاہئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے کی آوازیں سنیں ، فوراً گرفت کی، اور اس طرح کی صورت حال کو دور جاہلیت سے تعبیر فرمایا، او ریہ واضح فرما دیا کہ اسلام میں اس طرح کی گروہی عصبیت کی کوئی گنجائش نہیںہے، جھگڑے ہوسکتے ہیں، اختلاف ممکن ہے ،کیونکہ صحابہؓ بہرحال انسان تھے، ایک کو دوسرے کی بات بری لگ سکتی تھی ، کسی کو کسی سے تکلیف پہنچ سکتی تھی، لیکن اس کایہ مطلب نہیں تھا کہ وہ دونوں اپنے اپنے قبیلوں او راپنے اپنے گروہوں کو آوازیں دینے بیٹھ جائیں ، اور دو افراد کے اس اختلاف کو  دوگرہوں اور دو قوموں کا جھگڑا بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر اس جھگڑے کا قلع قمع فرما دیا کہ ان باتوں کو چھوڑ دو ، یہ بدبو دارباتیں ہیں، ان سے تعفن پھیلتا ہے۔

یہ جھگڑا اگر چہ اسی وقت ختم ہوگیا، مگر منافقین کا ایک ٹولہ جواس غزوے میں اموال غنیمت کی لالچ میں شریک ہوگیا تھا اس بدبو دار او رتعفن زدہ بات کو لے کر سرگرم عمل ہوگیا ۔ وہ پہلے ہی سے اس طرح کے موقعوں کے تلاش میں تھا ،انصار کو بھڑکانے کا ا سے اچھا موقع اور کیا ہوسکتا تھا ،اس گروہ کا سرغنہ انصار صحابہؓ سے کہنے لگا کہیہ مکے سے آئے ہوئے لوگ ہمارے حاکم بن گئے ہیں ، اب ان کی حکومت کے دن گئے ، مدینے پہنچ کر ہم ان کو نکال باہر کریں گے ۔ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ردّ عمل کا اظہار نہیں فرمایا کیوں کہ ان سے غلط فہمیاں پھیل سکتی تھیں او رشکوک پیدا ہوسکتے تھے۔ کچھ لوگ یہ کہتے کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو قتل کرارہے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحمل سے کام لیا ، منافقین کی حرکتوں کو نظر انداز کیا، اور اس واقعے سے صحابہؓ کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں مسلسل سفر میں مشغول رکھا ،یہ ایک بہترین تدبیر تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائی ، مسلسل سفر او رپڑاؤ کے بعد تھکن نے صحابہؓ کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ وہ اس جھگڑے کا آپس میں ذکر کرتے، اتنے میں سورہ بھی نازل ہوگئی ، او رمنافقین کے چہروں سے نقاب اتر گئے ، وہ جو کچھ کہہ رہے تھے قرآن نے کھول کر بیان کردیا۔ بعض صحابہؓ جو عبداللہ ابن أبی کو سچا مان رہے تھے ان کی غلط فہمی بھی دور ہوگئی ،اور منافقین کا معاملہ آئینے کی طرح صاف ہوگیا۔

واقعہ افک:

انصار و مہاجرین کی اخوت او ران کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والی سازش ناکام ہوچکی تھی، عبداللہ بن أبی منافق کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھانی پڑی تھیں، اگر چہ قرآن کریم نے سورہ المنافقون کے ذریعے اس کا راز فاش کردیا تھا، اس رسوائی او رہزیمت سے ابن أبی او راس کے حواریین دل ہی دل میں پیچ وتاب کھا ہی رہے تھے کہ انہیں شر پھیلانے کا ایک او رموقع مل گیا، اس مرتبہ انہوں نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور حریم نبوت پر کیچڑ اچھالا ۔ شر انگیز ی کے اس بدترین او رانتہائی شرم ناک واقعے کو تفسیر ، حدیث، سیرت او رتاریخ کی تمام کتابوں میں واقعہ افک سے تعبیر کیا جاتاہے۔

ابن أبی نے ایک مہاجرین او رایک انصاری کے درمیان ہونے والے معمولی جھگڑے کو پوری قوم کا جھگڑا قرار دینے کی جو کوشش کی تھی اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تدبیر اختیار فرمائی تھی کہ اب بلاتاخیر مدینے پہنچا جائے، اور سفر بھی مسلسل کیا جائے تاکہ صحابہ کچھ باتیں کرنے اور سننے کاموقع کم سے کم ملے، چنانچہ مسلمانوں کا یہ قافلہ تیزی کے ساتھ منزلیں عبو ر کرتا ہوا اور فاصلے طے کرتا ہوا مدینے کے قریب پہنچ کر ٹھہر گیا ، رات کا وقت تھا، لوگوں نے نمازیں پڑھیں ، کھانے پینے سے اور دوسری ضروریات سے فارغ ہوئے ،ابھی پوری طرح سپیدہ سحر نمودار نہ ہوا تھا کہ کوچ کا حکم ہوگیا ، لوگو ں نے جلدی جلدی سامان سمیٹا او رروانہ ہوگئے ۔ اس سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ بھی ساتھ تھیں، یہ واقعہ انہی کے ساتھ پیش آیا  ، بہتر ہوگا کہ ہم انہی سے یہ وقعہ سنیں، بخاری شریف سمیت حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں یہ واقعہ حضرت عائشہ کے حوالے سے تمام ترتفصیلات کے ساتھ موجود ہے ، ہم نے بخاری سے یہ واقعہ لیا ہے اورکہیں کہیں دوسری کتابوں سے بھی۔(جاری)

17 جون،2022 ، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

Part: 72 - In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

Part: 73 - The Muslims Were Defeated In Uhud Due to Disobedience to the Prophet's Instructions and Rumours of His Martyrdom Part 73 آپ ؐ کی حکم عدولی اور آپؐ کی شہادت کی افواہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کا سبب بنی

Part: 74 - The Attitude in Madinah Had Shifted, As the Holy Prophet (Pbuh) Had Noted With His Far-Sighted Eyes Part-74 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوربیں نگاہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ مدینہ کی فضا بدل گئی ہے

Part: 75 - The Prophet (Peace Be Upon Him) Said, 'A Believer Is Not Bitten From the Same Hole Twice' Part-75 آپﷺ نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا

Part: 76 - Wine Flowed Like Water in the Streets of Madinah, Soon After its Prohibition Was Revealed Part-76 شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی

Part: 77 - The Holy Prophet Kept an Eye on the Movements of All the Tribes from Madinah to Makkah Part-77 مدینہ سے مکہ تک تمام قبائل کی نقل وحرکت پرآپ ﷺ نظر رکھے ہوئے تھے

Part: 78 - The Companions and Their Unparalleled Love for the Prophet Part-78 آپؐ سے صحابہؓ کی محبت یہ تھی کہ تختۂ دار پر بھی فکر ہوتی کہ آپؐ کو کانٹا بھی نہ چبھے

Part: 79 - The Shocking Incident of Bir Mauna but the Holy Prophet Continued To Recite the Qunoot-E-Naazla for a Month Part-79 بئر معونہ کے واقعے سے آپ ؐ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپؐ ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھتے رہے

Part: 80 - Through Revelation, the Holy Prophet Learnt Of the Conspiracy of Banu Nadir and Returned To Madinah Part-80 نبی کریم ؐکو بذریعہ وحی بنونضیر کی سازش سے مطلع فرما دیا گیا اور آپؐ مدینہ واپس آگئے

Part: 81 - Sacrifice of the Ansaar (Supporters) and The Prophet’s Prayer for them and Their descendants Part-81 ‘انصار کے ایثار پر آپؐ نے دُعا دی:’ یا اللہ! انصار اور ان کی اولاد پر اپنی خاص مہربانی فرما

Part: 82 - The First Salat Al-Khawf Was Offered In the Ghazwa of Dhat Al-Riqa Which Took Place after the Battle of Banū Naīr Par-82 پہلی’ صلوٰۃِ خوف ‘ غزوۂ ذات ِ الرقاع میں پڑھی گئی تھی جو غزوۂ بنی نضیر کے بعد پیش آیا تھا

Part: 83- The Narrative of Hazrat Jabir Bin Abdullah's Camel: After the Prophet Pbuh Poked the Camel with His Stick, It Became Extremely Fast Part-83 نبی کریم ﷺنے لکڑی کو ہلکا سا اونٹ پر چبھویا اور اس کی رفتار بڑھ گئی

Part: 84 - The Muslims' Fear Dissipated Once the Prophet (Peace Be Upon Him) Exhorted Them to Go To Badr at Any Costs Part- 84 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان سنتے ہی کہ ہمیں ہر حال میں بدر کے لئے نکلنا ہے،مسلمانوں کا خوف ختم ہوگیا

Part: 85- The Prophet (PBUH) Received the Veil Verse on the Day of the Marriage Banquet Part-85 آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت پردہ حضرت زینبؓ سے نکاح کے بعد عین ولیمہ والے دن نازل ہوئی

Part: 86- The Message That Muslims Are Not Inattentive Even For a Moment Spread around the World Thanks To Daumat-Ul-Jandal Part-86 دومۃ الجندل سے ہر طرف پیغام پہنچ گیا کہ مسلمان ایک لمحے کے لئے بھی غافل نہیں ہیں

Part: 87- The Muslim Community was greatly blessed by Juwayriya, the Wife of the Prophet (pbuh) and Mother of the Believers Part- 87 میں نے جویریہؓ سے زیادہ کسی عورت کو اپنی قوم کے حق میں بابرکت نہیں دیکھا

URL: https://newageislam.com/urdu-section/surah-al-munafiqun-prophet-hypocrites-part-88/d/127293

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..