New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 03:08 PM

Urdu Section ( 30 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

مولانا ندیم الواجدی

28 جنوری،2022

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلامت تھے:

حضرت علیؓ بھی یہ افواہ سن چکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں، دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح وہ بھی دل شکستہ اور مایوس تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہیں نظر نہ آئے تو انہوں نے لاشوں کے درمیان دیکھنا شروع کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بھی نہ ملے تو انہوں نے سوچا کہ یہ ممکن نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات ہوں اور میدان چھوڑ جائیں ، اور وہ شہید وں میں بھی کہیں نظر نہ آئیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہم سے ناراض ہوکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ اب اللہ کو خوش کرنے کا یہی راستہ باقی بچا ہے کہ دشمنوں سے لڑتے لڑتے جان دے دی جائے۔یہ سوچ کر انہوں نے نیام پھینک دی اور تلوار لے کر دشمنوں پر پل پڑے ، یہ حملہ اتنا زبردست تھا کہ دشمن کائی کی طرح چھٹ گئے ۔حضرت علیؓ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دشمنوں نے گھیر رکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو پکارا، علی انہیں روکو، حضرت علیؓ دشمنوں پر جھپٹ پڑے اور انہیں مار بھگایا،کچھ ہی لمحوں کے بعد مشرکین کے ایک اور گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نرغے میں لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت علیؓ کو آواز دی، حضرت علیؓ نے انہیں بھی پسپا کردیا ۔(تاریخ دمشق:42؍76) حضرت علیؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم و زندہ سلامت دیکھ کر اللہ کا شکرادا کیا ، مگر دوسرے صحابہ اب بھی بے خبر تھے بلکہ زیادہ تر یہی سمجھ رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں۔ مدینہ منورہ تک یہ خبر پہنچ چکی تھی ، ہر گھر میں کہرام مچا ہوا تھا ، عورتیں او ربچے روتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے ، ہر شخص غم کی مجسم تصویر بنا ہوا تھا۔

حضرت علیؓ کے بعد کعب بن مالکؓ پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے پہچان لیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم از سرتاپازرہ پوش تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بھی آہنتی خود سے ڈھکا ہوا تھا،صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں جو انتہائی روشن اورچمک دار تھیں۔ صحابہ کرامؓ ان آنکھوں کو اچھی طردیکھے ہوئے تھے اور خوب پہچانتے تھے، جب کہ دشمن ناواقف تھے۔ اتفاق سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ا س وقت کعب بن مالکؓ ہی کی زرہ زیب تن کئے ہوئے تھے ، انہوں نے حضور کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا ، وہ خوشی سے چیخ اٹھے ارے مسلمانو! خوش ہوجاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلامت ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چپ رہنے کے لئے فرمایا: مگر کعب بن مالکؓ کی آواز بعض دوسرے صحابہؓ تک پہنچ چکی تھی آناً فاناً یہ خبر پھیل گئی ، مسلمان خوش بھی ہو گئے ،او رپرجوش بھی، مگر اس عرصے میں بڑا نقصان ہوچکا تھا ، کئی بڑے صحابہ شہید ہوچکے تھے، البتہ جو زندہ تھے ان کے لئے اطمینان اور خوشی کی بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات ہیں۔(سیرت ابن ہشام :3؍39)

ذرا سی دیر میں یہ خبر مدینے بھی پہنچ گئی، جو لوگ غم سے بے تاب تھے وہ خوشی سے چہک اٹھے۔ ایک انصار ی خاتون تھیں، ان کے شوہر، والد، او ربھائی اس غزوہ میں شہید ہوچکے تھے،فطری طور پر انہیں اپنے تین عزیزوں کی موت کا صدمہ تھا ، مگر وہ ضبط کئے ہوئے تھیں، لیکن جب ان تک یہ افواہ پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں تو ان کی کیفیت عجیب ہوگئی ، وہ میدان کی طرف بھاگنے لگیں او رکہنے لگیں کہ کوئی مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت کے بارے میں بتلائے ، لوگوں نے انہیں بتلایا کہ اماں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم خیرت سے ہیں۔ کہنے لگیں کہ مجھے اطمینان اس وقت ہوگا جب میں اپنی آنکھوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لوں گی ۔ چنانچہ وہ جنگ کے میدان میں پہنچیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تب جاکر مطمئن ہوئیں اور یہ کہتے ہوئے واپس ہوئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیرت کے بعد تمام مصیبتیں ہلکی ہیں( الکامل فی التاریخ:2؍113)

میدان سے اُحد کی طرف:

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبل اُحد کی طرف بڑھے ،کیونکہ بظاہر جنگ ختم ہوچکی تھی، اگر چہ اکا دکا جھڑپیں جاری تھیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حارث بن صمہؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حصار میں لے کر چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ فرمایا، مگر چڑھ نہیں سکے، حضرت طلحہؓ نیچے بیٹھ گئے ، آپ ان کے کاندھوں پر پاؤں مبارک رکھ کر اوپر چڑھے ، آپ صلی للہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر انہیں جنت کی بشارت دی۔( سنن الترمذی :4؍201 ، رقم الحدیث: 1692 ، مسند احمد بن حنبل:3؍33 ، رقم الحدیث:1417)آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زخمی بھی تھے اور تھکے ہوئے بھی تھے۔پہاڑ کی ایک وسیع گھاٹی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ،حضرت علیؓ پانی لے کر آئے، چہرہ انور سے خون صاف کیا، سر بھی دھویا ،کیونکہ وہاں سے بھی خون بہا تھا۔ روایات میں ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے بھی چہرہ انور سے خون صاف کرنے او ردھونے میں اپنے شوہر کی مدد کی، جب خون برابر بہتا رہا تو حضرت فاطمہؓ نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا اور ا س کی راکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لگائی تب خون رکا ۔کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا او ربیٹھ کر ظہر کی نماز پڑھائی ، صحابہ کرامؓ نے بھی بیٹھ کر اقتدا کی۔( صحیح البخاری:5؍101 ، رقم الحدیث :4075)

أبی بن خلف کاعبرت ناک انجام:

ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں تشریف فرما ہی تھے کہ أبی ابن خلف وہاں آ دھمکا ۔ اس نے دور سے ہی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ کہاں ہیں محمد، محمد کدھر ہیں، اگر آج وہ میرے ہاتھ سے بچ گئے تو میری خیر نہیں۔ صحابہؓ نے یہ بات سنی تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اجازت ہوتو ہم میں سے کوئی اسے قتل کردے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے یہاں آنے دو، جب وہ قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے ابن الصمہؓ سے ان کانیزہ لیا اور أبی بن خلف کی گردن کے اس حصے پر وار کیا جو زرہ اور خود کے درمیان کھلا ہوا تھا۔ وہ زخم کھا کر پہلے تو زمین پر گرا، پھر چیختا چلاتا اپنے لوگوں کی طرف بھاگا ۔ وہ یہ کہتا ہوا بھاگ رہاتھا کہ لوگو! محمد نے مجھے قتل کر ڈالا، لوگوں نے اس کا زخم دیکھا اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کیوں چلاّ تے ہو، معمولی زخم ہے ، صحیح ہوجائے گا ، کہنے لگا ، تم کیا جانو اس میں کس قدر تکلیف ہے، خدا کی قسم اگر اس تکلیف کو تمام اہل حجاز پر تقسیم کردیا جائے تو وہ سب اس کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوجائیں، لات و عزیٰ کی قسم اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتے تو میں قتل ہوجاتا، کیوں کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کریں گے۔

أبی بن خلف قریش کے نمایاں افراد میں سے تھا، جنگ بدر میں قید ہوا،مگر اسے رہا کردیا گیا، اس احسان کا صلہ اس نے یہ دیا کہ مکے واپس جاکر قسم کھائی کہ میں اپنے اس گھوڑے پر سوار ہوکر محمد کو قتل کروں گا، اس گھوڑے کا نام العُود تھا۔ وہ اسے بڑے ناز و نعم سے پال رہا تھا ،اسے روزانہ مکئی کے دانے کھلائے جاتے جو ا س زمانے میں بڑے قیمتی سمجھے جاتے تھے ، اور جانوروں کے لئے صحت افزا بھی تھے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو ارشاد فرمایا : انشاء اللہ میں ہی اسے کیفر کردار تک پہنچاؤں گا ۔ اُحد کے دن وہ اسی گھوڑے پر سوار ہوکر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں زخم کھاکر بھاگا۔ جب تک وہ زندہ رہا اسی طرح درد سے بلبلا تا رہا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چھ میل پہلے مقام سرف میں پہنچ کر واصل جہنم ہوگیا۔ ( الدالائل للبیہقی :3 ؍259، المستدرک للحا کم:2؍357، رقم الحدیث :3263،البدایہ النہایہ:4؍32)

زخمیوں کی دیکھ بھال:

مسلمانوں کا جانی نقصان بھی بہت ہوا اور وہ زخمی بھی بڑے تعداد میں ہوئے۔زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے مسلمان خواتین میدان میں موجود تھیں، تمام مجاہدین دن بھر کے تھکے ہوئے تھے، بھوکے اور پیاسے بھی تھے۔ حضرت ابوطلحہؓ کی بیوی حضرت ام سُلیمؓ او رام المومنین حضرت عائشہؓ پانی کے مشکیزے بھر بھر کر لاتیں اور مجاہدین کو پلاتیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہؓ بھی یہ خدمت انجام دے رہی تھیں ،بچوں میں حضرت انسؓ بھی دوڑ دوڑ کر پانی لاتے اور زخمیوں کو پلاتے، ان کی عمر اس وقت صرف تیرہ برس تھی۔

مسلمانوں کو اس وقت راحت و آرام کی سخت ضرورت تھی، اللہ نے اپنے ان بندو ں پر اونگھ طاری کردی، جو سکینہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ، حالانکہ یہ وہ وقت نہیں تھا کہ کوئی آنکھ جھپکتی ،کیوںکہ دشمن سر پر کھڑا ہوا تھا ،مگر کچھ لمحوں کے لیے تمام مسلمانوں پر نیند طاری ہوگئی، حال یہ ہوا کہ حضرت ابوطلحہؓ کے ہاتھوں سے بار بار تلوار نیچے گر جاتی تھی، جب اس کیفیت سے باہر نکلے تو تمام مسلمان تازہ دم ہوچکے تھے، ان میں ایک طرح کانشاط پیدا ہوچکا تھا، اور ساری تھکن دور ہوگئی تھی۔(البدایہ والنہایہ:5؍414،صحیح البخاری: 5؍37، رقم الحدیث :3811 ، تفسیر ابن کثیر :2؍144،آیت 154 آل عمران)

کتنے مسلمان شہید ہوئے ؟

غزوہ اُحد میں مشرکین کے کل بائیس افراد مارے گئے ، جب کہ ستر مسلمانوں نے شہادت پائی۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ایک عجیب و غریب بات لکھی ہے کہ بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں مسلمانوں کواختیار دیا گیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو ان تمام قیدیوں کو قتل کردیں او رچاہیں تو ان کا فدیہ لے کر انہیں آزاد کردیں، ساتھ ہی یہ بھی بتلادیا گیا تھا کہ اگر تم نے دوسری صورت اختیار کی یعنی قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کردیا تو آنے والے سال کی جنگ میں تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے ۔مسلمانوں نے فدیہ لیا، کیونکہ اس وقت کے حالات او رمصلحت کا تقاضا یہی تھا، اس لئے غزوہ اُحد میں ستّر صحابہؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا،ان میں زیادہ تعداد انصار کی تھی۔( فتح الباری :7؍351)

ابوسفیان کی دھمکی:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ پر تشریف فرما تھے، کچھ صحابہؓ بھی وہاں موجو د تھے ، اتنے میں قریش کا سردار ابوسفیان وہاں آدھمکا او ربآواز بلند پوچھنے لگا: اے لوگو! کیا محمد زندہ ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب خاموش رہیں، کوئی جواب نہ دے۔ابوسفیان نے تین مرتبہ یہ سوال کیا،تینوں مرتبہ خاموشی رہی، اس نے پوچھا کیا تم میں ابن أبی قحافہ(ابوبکرؓ) زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب خاموش رہیں، کوئی جواب نہ دے، اس نے تین مرتبہ یہ بات پوچھی مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، اس نے پھر پوچھا کیا عمر بن الخطابؓ زندہ ہیں؟ یہ سوال بھی تین مرتبہ کیا، جب اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا تو خوش ہوکر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ یہ سب قتل ہوچکے ہیں، اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے ، اے لوگو! سن لو، لڑائی کا ڈول اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ، آج کا دن بدر کے بدلے کا دن ہے، اس نے ہبل کا نعرہ بھی لگایا ، اور کہا اے ہبل! تو بلند ہو، تیرا دین بلند ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت عمرؓ نے بآواز بلند کہا کہ اللہ ہی سب سے برترواعلیٰ ہے، ابوسفیان کہنے لگا کہ ہماراعزی ہے ، تمہارا کوئی عزیٰ نہیں، حضرت عمرؓ نے جواب دیا اللہ ہمارا آقا ، ہمارا معین  و مددگار ہے ، تمہارا کوئی والی نہیں ہے، ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ ہم اور تم برابر نہیں ہوسکتے ، ہمارے مقتولین جنت میں ہیں او رتمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ اس کے بعد اس نے حضرت عمرؓ سے کہا: اے عمرؓ میرے پاس آؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! جاؤ دیکھو وہ کیا کہنا چاہتا ہے ، جب حضرت عمرؓ اس کے قریب گئے تو اس نے کہا: اے عمر! میں تمہیں قسم دیتا ہوں یہ بتلاؤ کیا ہم نے محمد کو قتل کردیا ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا نہیں ! خدا کی قسم وہ زندہ ہیں او راس وقت بھی وہ تیری باتیں سن رہے ہیں ، ابوسفیان نے مایوسی سے کہا اے عمر، ابن قمیّہ کے مقابلے میں تم میرے نزدیک زیادہ سچے ہو۔(جاری)

28 جنوری،2022، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-told-seventy-men-martyred-part-68/d/126270

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..