New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 10:08 AM

Urdu Section ( 26 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت


 مولانا ندیم الواجدی

26 فروری ، 2021

سفر ہجرت کے کچھ اور واقعات

ہجرت کے اس سفر میں حضرت بریدۃ بن الحصیب الاسلمیؓ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی رونما ہوا، یہ اور ان کے قبیلے کے اسّی افراد کسی سفر سے واپس ہورہے تھے کہ کُراعُ الغَمِیْم کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا ہوگیا۔ حافظ ابن عبدالبرؒ نے الاستیعاب میں اس ملاقات کو اچانک ملاقات قرار نہیں دیا، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ حضرت بریدہ اور ان کے رفقاء بھی سراقہ بن مالک کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تھے تاکہ آپؐ  کو پکڑ کر کفار کے حوالے کردیں اور سو اونٹ انعام میں حاصل کرلیں۔بہر حال جب ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ سے سوال کیا : تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا میں بریدہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہمارا کام تو ٹھنڈ ااور اچھا ہوگیا۔

بریدہ؛ برد سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں ٹھنڈا ہونا۔ یہ بات آپؐ نے بہ طور تفاو ل ارشاد فرمائی کہ گھبرانے کی یا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ بریدہ سے مل رہے ہیں، ان شاء اللہ یہ ملاقات اچھی رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی پوچھا تم کس قبیلے سے ہو؟ انہوں نے کہا قبیلہ بنو اسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : ہم سلامت رہے، یہ بات بھی آپ نے بہ طور تفاء ل ارشاد فرمائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم بنو اسلم کی کس شاخ سے تعلق رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا بنو سہم سے، آپؐ نے فرمایا: اے بریدہ! تمہارا حصہ نکل آیا، یعنی اسلام میں تمہارا حصہ بھی نکل آیا جو تمہیں ملنے والا ہے۔ بریدہ نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا :آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں محمد بن عبداللہ، اللہ کا رسول ہوں۔

یہ سن کر حضرت بریدہ نے کلمہ توحید و رسالت پڑھا اور مسلمان ہوگئے، ان کے ساتھ ہی تمام اسّی رفقاء بھی مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ انہوں نے اشاعتِ اسلام کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ حضرت بریدہؓ نے اس واقعے کے پینسٹھ برس بعد حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت میں خراسان میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔

قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کا ایک جھنڈا ہونا چاہئے۔ جب آپؐ مدینے میں داخل ہوں تو وہ جھنڈا آپ کے آگے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز پسند فرمائی، اپنا عمامہ اتار کر بریدہ کو دیا، انہوں نے اسے اپنے نیزے پر باندھ لیا اور قافلے کے آگے آگے لے کر چلے۔ یہ قافلۂ اہل ایمان اس حال میں مدینے میں داخل ہوا کہ اسلام کا جھنڈا حضرت بریدہؓ کے ہاتھ میں تھا اور وہ قافلے کے آگے چل رہے تھے۔ حضرت بریدہؓ کے واقعات میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے نماز ادا فرمائی۔ بریدہؓ اور ان کے تمام ساتھیوں نے بھی نماز ادا کی، بریدہؓ نے مدینے میں داخل ہونے سے پہلے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ میرے مہمان بن جائیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ میری اونٹنی اللہ کی طرف سے مامور ہے، یہ جہاں ٹھہرے گی میں وہیں قیام کروں گا۔  بریدہؓ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ مدینے میں داخل ہونے سے پہلے ہی اللہ کی مدد اور نصرت کا ظہور شروع ہوگیا اور کامیابی ملنے لگی۔ ایک پورا قبیلہ بلکہ بڑا قبیلہ کسی دبائو اور محنت کے بغیر اسلام کے دامن سے وابستہ ہوگیا۔ (الاستیعاب، ۱؍۵۶، الوفاء؍ ۳۹۰،  شرح المواہب، ۱؍۴۰۵)

جب یہ قافلہ مدینے کے قریب ہوا تو دو ڈاکو بھی آکر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی، دونوں نے لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا، ان دونوں سے نام دریافت کئے گئے، انہوں نے کہا کہ ہم مُہانَانً کہلاتے ہیں، اس کے معنی ہیں ذلیل و خوار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! تم تو مُکرمَان ہو، یعنی مکرم و معزز ہو۔ (المجمع الزوائد ۶؍۵۸)

اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ سے بھی ہوئی۔ زبیر ابن العوامؓ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس ہورہے تھے۔ حضرت زبیرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید کپڑے پیش کئے جو آپؓ نے زیب تن فرمائے، اسی طرح کے کپڑے انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو بھی پہنائے۔ (صحیح البخاری، رقم ۳۹۰۶) حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ بھی شام سے واپسی میں آپ سے ملے، انہوں نے بھی کچھ کپڑے ہدئیے کے طور پر پیش کئے۔

 (السیرۃ النبویہ لابی شہبہ، ۱؍۴۹۵)

وقائع ہجرت کا ایک اور ایمان افروز اور سبق آموز واقعہ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ اہل ایمان سے تقریباً خالی ہوگیا تھا، صرف چند مسلمان باقی رہ گئے تھے، جو اپنے بڑھاپے، ضعف یا بیماری کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے تھے، ان میں ایک صحابی تھے حضرت ضمرۃ بن جندبؓ۔ ماشاء اللہ بڑے خاندان والے تھے، خود ان کے چالیس بیٹے تھے، بھائی بھتیجے بھی بڑی تعداد میں تھے، جب ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ کافی بوڑھے ہوچکے تھے، اتنے بوڑھے کہ ان کے لئے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ کی فضا میں اُن کا دم گھٹنے لگا تھا، یوں بھی ہجرت کا حکم نازل ہونے کے بعد وہ مکے سے نکلنا اپنا فرض سمجھ رہے تھے، گو وہ اپنے اعذار کی وجہ سے اس حکم پر بجاآوری کے مکلف نہیں تھے۔ ایک روز انہوںنے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے لئے دو قدم چلنا اگرچہ دشوار ہے، مگر میں یہاں مشرکین کے درمیان رہنا نہیںچاہتا، تم لوگ میری چارپائی اٹھا کر لے چلو اور اسی طرح مجھے یثرب پہنچادو۔ بیٹے بھی والد کے فرماںبردار تھے، فوراً اپنے باپ کی چارپائی اٹھا کر چل دئیے، ابھی مکے سے نکل کر تنعیم تک ہی پہنچے تھے کہ موت کا وقت آ پہنچا اور ہجرت کی آرزو دل میں لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت ضمرہؓ کے انتقال کی خبر دی، قرآن کریم کی یہ آیت انہی صحابی کے بارے میں نازل ہوئی:

’’اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کرنے کے لئے نکلے، پھر اسے موت آپکڑے، تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہوچکا اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ (النساء:۱۰۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو جمع فرمایا اور انہیں ضمرہؓ کی ہجرت اور وفات کے بارے میں بتلایا۔ اس موقع پر آپؐ کی زبان مبارک سے وہ جملہ بھی نکلا جس سے امام بخاریؒ نے اپنی کتاب کا آغاز فرمایا ہے یعنی اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ (الاستیعاب ۲؍۳۰۱) ان صحابی کی خوش بختی کا کیا ٹھکانا کہ ان کے بارے میں ایک آیت بھی نازل ہوئی اور ایک حدیث نبوی بھی ان کی نسبت سے مشہور ہوئی۔

واقعہ ہجرت کی اہمیت

ہجرت کا واقعہ اسلامی تاریخ کا عظیم واقعہ ہے، اگر اسے اسلام کی اشاعت کا نقطۂ آغاز قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا، ہجرت سے پہلے مسلمان مکہ مکرمہ کی وادیوں میں ظلم و ستم سہنے پر مجبور تھے، ہجرت کے بعد مدینہ منورہ پہنچے تو اسلام کے لئے یہ سرزمین نہایت سرسبز و شاداب بن گئی اور کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ اسلام کا وہ چاند جو فاران کی چوٹیوں سے طلوع ہوا تھا یثرب کی بلندیوں پر جگمگانے لگا اور اقصائے عالم میں اس کی کرنیں ضیاپاشیاںکرنے لگیں، یہ صورت حال ہجرت کے واقعے سے پیدا ہوئی، بہ ظاہر ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان مایوس، مجبور بلکہ مغلوب ہو کر ترک وطن کر رہاہے، لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرامؓ کے لئے ہجرت کا سفر غلبہ و ظہور کی طرف پیش قدمی ثابت ہوا، جو دین مکہ مکرمہ میں مغلوب اور محصور تھا وہ مدینہ منورہ کی وسعتوں میں اتنا پھیلا کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی وہ مسلسل پھیل رہا ہے، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسلام دنیا کے ایک سو نوے ملکوں میں پھیلا ہوا ہے، ایک جائزے کے مطابق دنیا کا ہر چوتھاآدمی مسلمان ہے۔

یہ عظیم الشان واقعہ یقیناً اس قابل تھا کہ اسے ہمیشہ ہمیشہ بلکہ ہر لمحہ یاد رکھا جاتا، امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں یہ طے ہوا کہ واقعہ ہجرت کو یادگار بنانے کے لئے اسلامی تقویم کی ابتدا محرم کے مہینے سے کی جائے۔ اسلام سے پہلے عیسوی سال اور مہینوں سے تاریخ لکھی جاتی تھی، مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کا دستور نہیں تھا، حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے جب کہ وہ بصرہ کے گورنر تھے حضرت عمر بن الخطابؓ کو لکھا کہ آپ کی طرف سے مختلف علاقوں کے گورنروں اور فوجی کمانڈروں کو وقتاً فوقتاً خطوط لکھے جاتے ہیں، مگر ان پر کوئی تاریخ درج نہیں ہوتی، حالاںکہ تاریخ لکھنے کے بے شمار فوائد ہیں، ریکارڈ کے لئے بھی خطوط پر تاریخ کا ہونا بے حد ضروری ہے، حضرت عمرؓ کو یہ خیال بے حد پسند آیا، مجلس شوریٰ تک بات پہنچی، غور و فکر ہوا، مختلف تجاویز سامنے آئیں، کسی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے اسلامی سال کے آغاز کا مشورہ دیا، کسی نے نبوت کے سال سے آغاز کرنے کی تجویز رکھی، کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے نیا سال شروع کرنے کے لئے کہا۔ ایک جماعت کی رائے یہ تھی کہ ہجرت سے اسلامی سال کا آغاز ہو، حضرت عمرؓ کو یہ آخری تجویز پسند آئی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ واقعۂ ہجرتِ اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔ اس واقعے کے بعد مسلمانوں کو عروج ملا اور مسلمان عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے۔ (جاری)

nadimulwajidi@gmail.com

26 فروری ، 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13-  The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19-  The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-nadeemul-wajidee/the-holy-prophet-s-migration-and-its-significance-نبی-کریم-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-ہجرت-کا-واقعہ-اور-اس-کی-اہمیت/d/124407


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..