New Age Islam
Fri Nov 26 2021, 04:06 PM

Urdu Section ( 30 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj Part-5 رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

 مولانا ندیم الواجدی

30اکتوبر،2020

سفر کی رفتار پر اعتراض

سب سے بڑا اعتراض سفر کی رفتار پر کیا جاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ زمین سے اتنا لمبا سفر اس قدر برق رفتاری سے اور اتنے کم وقت میں کرلیا جائے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جو سائنس کی ترقیات پر تو آنکھ بند کرکے یقین کرلیتے ہیں لیکن خدا کی لامحدود طاقت اور قوت پر ذرا بھی ایمان نہیں رکھتے، حالاں کہ اگر ہم خدا کی صرف ایک تخلیق روشنی کے سفر پر غور کرلیں تو ہمارا یہ اعتراض بھی ہوا ہوجائے۔ سائنس کے طالب علم یہ بات جانتے ہیں کہ زمین سے سورج کا فاصلہ ۱۵۰؍ ملین میل ہے اور اس کی روشنی زمین تک صرف آٹھ منٹ میں پہنچ جاتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات میں ایک ایسی چیز موجود ہے جو محض چند سیکنڈ میں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرلیتی ہے۔ چنانچہ سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ روشنی کی رفتار تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے۔ اگر ہم روشنی کی دوگنی رفتار سے سورج جتنے فاصلے پر موجود کسی ستارے یا سیارے پر جا کر پلٹ آئیں توہمارے آنے جانے کا یہ سفر صرف آٹھ منٹ میں طے ہوجائے گا۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا روشنی سے زیادہ تیز رفتار کسی چیز کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی سائنس داں دے چکے ہیں۔ ایٹم کے سو چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں، ان میں سے ایک نیوٹرینو (New Trino) ہے جو تمام کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتا ہے، سائنس دانوں کے تجربوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی سے بھی زیادہ ہے۔ جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے حیرت انگیز چیزیں دریافت کر سکتا ہے اور ان کو بہ روئے کار لاسکتا ہے تو کیا کائنات کا خالق و مالک اپنی لامحدود قوتوں کے ذریعے لمحوں میں معراج کا سفر طے نہیں کرا سکتا؟ اس کی لامحدود قوتوں کاراز ہماری عقل میں نہیں سما سکتا بلکہ اس طرح کی آیات ہمیں ان قوتوں کی ادنیٰ سی جھلک دکھلاتی ہیں: وَمَا اَمْرُنَا اِلاَّ وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ بِالْبَصَر (القمر:۵۰) ’’اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپکنا۔‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس اپنے عروج کے باوجود یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اس نے کائنات کے تمام سربستہ راز جان لئے ہیں۔ سائنسداں اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ انسان ابھی تک صرف اپنی پانچ فی صد صلاحیتیں استعمال کرکے یہاں تک پہنچا ہے، ابھی خزانۂ غیب میں بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ کائنات کے پچانوے فیصد راز ہیں جن تک پہنچنے کے لئے قدرت کی ودیعت کردہ بے پناہ صلاحیتوں اور قوتوں کی ضرورت ہے۔ اب آپ غور کیجئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا نام جس سے آپ معراج پر تشریف لے گئے تھے، براق تھا۔ یہ لفظ برق سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں ’بجلی‘۔ اس کی رفتار بھی روشنی ہی جتنی ہے، عجب نہیں کہ اس براق میں بجلی سے بھی کئی گنا زیادہ سرعت اور تیز رفتاری رہی ہو! بعض اہل علم کہتے ہیں کہ براق برق کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں کئی بجلیاں، اس سے معلوم ہوا کہ اس سواری کی رفتار کئی بجلیوں کے برابر تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہماری عقل بے کار ہوجاتی ہے  اور ہمارے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا کہ ہم کائنات کے مالک اور خالق کی لازوال اور لامحدود قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور اعتراف کرلیں کہ وہ جو چاہے تو اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز عجائبات ظہور پزیر ہوسکتے ہیں۔

ماضی میں ایسا ہوا بھی ہے۔انبیاء سابقین کی مقدس زندگیوں میں بہت سے حیرت ناک واقعات پیش آئے، انہیں معجزات کہا جاتاہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بدن پر آگ اثر انداز نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی فطرت کے برخلاف ان پر گل و گلزار بن گئی۔ ایک پرندے کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے الگ الگ جگہوں پر رکھا گیا اور جیسے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے آواز دی وہ زندہ سالم ہو کر سامنے آگیا۔ حضرت مریم علیہا السلام بغیر باپ کے محض نفخ روح سے پیدا کی گئیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوںکو زندہ کردیا کرتے تھے اور ان کے دست مسیحائی سے لاعلاج مریض شفایاب ہوجاتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یدبیضاء عطا کیا گیا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوائوں کو مسخر کردیا گیا۔ وہ لائو لشکر کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھتے اور ایک ماہ کی مسافت چند گھنٹوں میں طے کرلیا کرتے تھے۔ ان کے والد حضرت دائود علیہ السلام کے دست مبارک میں لوہے کو اس کی فطرت کے برخلاف موم کی طرح نرم بنا دیا گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پہاڑ کا سینہ چیر کر نکلی۔ حضرت یونس علیہ السلام چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ پڑے رہے۔ معراج بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ معجزہ کہتے ہی ہیں حیرت انگیز اور عجوبۂ روزگار واقعہ کو۔ایسے واقعات کو دیکھ کر یا ان کی تفصیل سن کر آنکھیں کھلی اور عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔

نظریۂ اضافت اور معراج

سفر معراج پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اتنے کم وقت میں اس قدر طویل سفر کیسے ممکن ہے؟ آپ تشریف بھی لے گئے، انبیاء کی امامت بھی فرمائی، ایک ایک کرکے تمام آسمانوں پر قدم رنجہ فرمایا، وہاں موجود انبیاء کرام سے ملاقات فرمائی، ان سے بات چیت کی، بہت سے مناظر دیکھے، مستقبل کے بہت سے واقعات مثالی صورتوںمیں ملاحظہ فرمائے، سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے، و ہاں سے آگے بھی گئے، اپنے رب سے ہم کلام ہوئے، نمازیں کم کرانے کے لئے کئی مرتبہ آمد و رفت ہوئی، یہ سب کچھ ہوا، واپس تشریف لائے تو رات ابھی باقی تھی۔ بعض کمزور روایات میں تویہ بھی ہے کہ بستر گرم تھا، دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی اور( عشاء کی نماز کا) وضو کا پانی ابھی تک خشک نہیں ہوا تھا۔ اس اعتراض کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خدا کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے، دن رات کی تمام گردشیں اس کے دستِ قدرت میں ہیں، وہ چاہے تو ان کی گردشیں روک کر وقت کو ٹھہرا سکتاہے، اس کے حکم سے یہ کائنات چلتے چلتے رک بھی سکتی ہے، وہ خود اس بات کا اعلان کر ر ہا ہے۔

ترجمہ :(اے پیغمبر! ان سے) کہو: ذرا یہ بتلاو کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لئے قیامت تک مسلط کردے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے، بھلا کیا تم سنتے نہیںہو، کہو: ذرا یہ بتلاو کہ اگر اللہ تم پر دن کو ہمیشہ کے لئے قیامت تک مسلط کردے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں وہ رات لا کر دے دے جس میں تم سکون حاصل کرو، بھلا کیا تمہیں سجھائی نہیں دیتا؟‘‘(القصص:۷۱-۷۲)

ہم اپنی دنیا میں بھی رات دن اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ کائنات کی کچھ چیزیں کبھی ایسی ہوجاتی ہیں جیسے ٹھہر گئی ہوں، انسان اپنی محدود  قدرت کے دائرے میں بہت سی چیزوں کو روکنے پر قادر ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے گھر میں بجلی آرہی ہے، تاروں میں بجلی کا کرنٹ دوڑ رہا ہے، اس سے بلب جل رہے ہیں،پنکھے چل رہے ہیں، ایئرکنڈیشن ٹھنڈک پھینک رہے ہیں، ٹی وی پر پروگرام نشر ہورہا ہے،کپڑوں پر استری کی جارہی ہے، وغیرہ،  اس طرح کے بہت سے کام ہیں جو بجلی کی مدد سے انجام دئیے جارہے ہیں، اچانک کوئی شخص اٹھ کر مین سوئچ بند کردیتا ہے، ہر چیز اسی جگہ ٹھہر جاتی ہے جہاں وہ تھی، اب کسی میں کوئی حرکت نہیں، کوئی ہلچل نہیں، یہ سب اس شخص کا کمال ہے جس نے مین سوئچ بند کیا تھا۔ اس کائنات کا مین سوئچ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ چاہے تو اسے آف کرکے کائنات کی تمام سرگرمیاں جزوی یا کلی طور پر مختصر یا طویل وقت کیلئے معطل کر سکتا ہے، ہوسکتا ہے اس نے معراج کی رات کائنات کا مین سوئچ آف کرکے کائنات کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہو، پھر آپ کی واپسی کے بعد  کائنات کا مین سوئچ دوبارہ آن کیا ہو۔

البرٹ آئن اسٹائن کے ’’نظریۂ اضافت‘‘ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ وقت کسی ایک جگہ ٹھہر سکتا ہے اور شب و روز کی یہ گردشیں رک سکتی ہیں۔ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافت کے دو حصے ہیں، جن میں سے ایک خصوصی نظریہ اضافت ہے جس کی رو سے وقت میں تاخیر واقع ہوتی ہے، جب کسی چیز کی رفتار بے انتہا بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ جب روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں پر ایک سیکنڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اس عرصے میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔ نظریہ اضافت کا دوسرا حصہ عمومی نظریہ اضافت کہلاتاہے۔ اس کی رو سے معاملہ برعکس بھی ہوسکتا ہے یعنی جب روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والوں پر کئی گھنٹے گزر گئے ہوں تو زمینی باشندوں پر صرف ایک لمحہ گزرا ہو، ہم پھر اپنی بات دہرائیں گے کہ سائنسی نظریات ہمیشہ قابل تغیر رہتے ہیں، آج ایک سائنس داں ایک نظریہ پیش کرتا ہے، کل دوسرا سائنس داں اس کی مخالفت میں دوسرا نظریہ سامنے رکھ دیتاہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سائنس اپنی حیرت انگیز ترقیات کے باوجود آج بھی کائنات کے صرف پانچ فیصد رازہائے سربستہ کھول سکی ہے۔ پچانوے فیصد ابھی بھی اس سے مخفی ہیں اور وہ سب خدائے لم یزل ولا یزال کے علم میں ہیں، اسی کی دسترس میں ہیں۔ وہ چاہے تو ان میں سے کسی ایک رازِ سربستہ کو منکشف کرکے اپنی لامتناہی قدرت کا نظارہ کرا سکتا ہے۔ معراج کا واقعہ بھی اس کی قدرت کا ایک ایسا منظر پیش کرتاہے جس کی حقیقت کا ادراک ہماری عقلوں سے ماورا ہے۔ (جاری)

30اکتوبر،2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

nadimulwajidi@gmail.com

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-infinite-power-allah-almighty-part-5/d/123325


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..