New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 09:03 PM

Urdu Section ( 7 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia Part 9 تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

 مولانا ندیم الواجدی

4 دسمبر 2020

قبائل عرب کارد عمل

مثنیٰ نے جو بعد میں مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے، عرض کیا: میں آپؐ کی بات چیت سن رہا تھا، میرا جواب بھی وہی ہے جو ہانی کا ہے۔جہاں تک ہمارا معاملہ ہے ہم اس وقت دو صرایوں کے درمیان ہیں، ایک طرف یَمامہ ہے اور دوسری سَمامہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ صرایہ کیا ہے؟ مثنی نے جواب دیا: کسریٰ کے دریا اور عرب کی نہریں۔ کسریٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی نہ معافی ہے نہ تلافی، اس کے یہاں کوئی عذر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم نے اس سے عہد کیا ہے، ہم کوئی نیا کام نہیں کرسکتے اور نہ کسی اجنبی کو پناہ دے سکتے ہیں اور اے قریشی بھائی! آپؐ جو بات ہم سے چاہتے ہیں وہ بادشاہوں کو پسند نہیں آئے گی، ہاں اگر آپؐ یہاں عرب میں ہم سے کوئی اعانت اور مدد چاہتے ہیں تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ  لوگوںنے اچھا جواب دیا ہے اور سچائی کا پہلو اختیار کیا ہے، یہ اللہ کا دین ہے، اس کی نصرت وہی کر سکتا ہے جس کو اللہ اس کے لئے منتخب کرے، تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دے گا، تمہیں چاہئے کہ اللہ کی حمد و ثنا کرو اور اس کی تسبیح بیان کرو۔ نعمان بن شریک نے کہا اللہ آپ کی زبان مبارک کرے اور ایسا ہی ہوجائے۔ (البدایہ والنہایہ ۳؍۱۴۲، ۱۴۵، سبل الرشاد وللصالحی ۲؍۵۹۶،۵۹۷)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محترم اور مشفق چچا کی وفات کے بعد دعوتِ اسلامی کے لئے مکہ مکرمہ کی فضاناسازگار پائی، جب وہ زندہ تھے توان کی بااثر شخصیت کفار مکہ کی گستاخانہ جرأت کے لئے  سد راہ بنی ہوئی تھی، اگر مخالفین کچھ کرتے بھی تھے تو چھپ چھپا کر کرتے تھے یا محض زبان تک اپنی گستاخیوں کو محدود رکھتے تھے، چچا کی وفات کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو اذیتوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا اورمسلمانوں پر بھی سختیوں میں اضافہ کردیا۔ ان حالات میں دعوت کے کام کی راہ میں مشکلات پیدا ہوگئیں، لوگ اسلام کے سائے میں آنے  سے ڈرنے اور خوف کھانے لگے۔ ضرورت تھی کہ یا تومکہ مکرمہ کی فضا سازگار ہو یا پھر دوسری جگہوں پر جا کر اس کام کا آغاز کیا جائے۔قبائل عرب سے گفتگو کا جہاں یہ مقصد تھا کہ وہ بھی اس نئے دین سے متعارف ہوجائیں وہاں یہ بھی مقصد تھا کہ اگر وہ اس سے متفق ہوں تو اس کے لئے پُرجوش معین و مددگار بھی ہوں اور سرگرم حامی و ناصر بھی، افسوس یہ گفتگو زیادہ نتیجہ خیز نہیں رہی، زیاد ہ تر قبیلوں نے اپنی ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے بے رخی اختیار کی بلکہ بہت سے لوگوں نے جواب دینے میں شرافت کے تقاضے بھی ملحوظ نہ رکھے، صرف بنوشیبان نے شریفانہ لب و لہجہ اختیار کیا اور صحیح طریقے  سے بات چیت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گفتگو کا آغاز اللہ کے حکم سے کیا، محض اپنے اجتہاد سے آپؐ نے یہ قدم نہیںاٹھایا، آپؐ چاہتے تھے کہ کسی ایسے قبیلے کا ساتھ مل جائے جس کے افراد کی تعداد زیادہ ہو، جو جنگی مہارت اور دفاعی قوت بھی رکھتے ہوں، ان کے اندر دوسرے قبیلوں پر اثر اندازہونے کی صلاحیت بھی ہو، ایسے ہی ماحول میں اس دین کی دعوت اپنے پھیلائو کے امکانات تلاش کر سکتی ہے۔ آپؐ یہ بھی چاہتے تھے کہ جن قبیلوں سے آپؐ کا معاہدہ ہو وہ کسی دوسرے بین الاقوامی یا قومی معاہدے کے پابند نہ ہوں بلکہ قریش کی طرح آزاد حکومت اور اختیار کے مالک ہوں، پھر وہ مستقبل میں کسی مادّی فائدے کے حریص بھی نہ ہوں بلکہ دین کی جتنی کچھ اور جو کچھ نصرت وہ کریں محض اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے کریں، دنیوی مال و منال، جاہ و حشم اور سلطنت و حکومت ان کا مطمح نظر نہ ہو بلکہ اخروی زندگی کی فلاح اور کامیابی ان کے سامنے ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اندر جان و مال کی قربانی دینے کا جذبہ بھی موجود ہو۔ چند سال تک یہ سلسلۂ جنبانی چلتا رہا، لیکن کوئی ایسا قبیلہ سامنے نہیں آیا جس کے اندر یہ تمام صفات پائی جاتی ہوں۔اول تو اکثر قبیلے کسی نہ کسی بڑی طاقت کے زیر اثر تھے اور وہ اس کی چشم و ابرو کے بغیر حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر کوئی قبیلہ دوسروں کے اثر سے آزاد تھا بھی تو وہ قوت و شوکت میں بےاثر تھا اور اگر کوئی اس معیار پر پورا اترتا بھی تو اس کے پیش نظر مستقبل کی حکمرانی تھی، اللہ کی رضا و خوشنودی نہ تھی۔

یثرب میں طلوعِ اسلام

نبوت کے بعد مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تقریباً دس سال رہا۔ اس عرصے میں دعوت و تبلیغ کاکام برابر جاری رہا، حضرت جابر بن عبداللہ الانصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں دس برس رہے۔ ا س دوران آپؐ  عُکاظ اور منیٰ جیسے مقامات میں لوگوں سے ان کی قیام گاہوں پر جا کر ملاقات فرمایا کرتے تھے، آپؐ ان سے یہ فرماتے تھے کہ کون ہے جو میری مدد کرے؟ کون ہے جو مجھے ٹھکانہ دے؟ تاکہ میں اپنے رب کاپیغام پہنچائوں۔ اس وقت آپؐ کی قوم کے کچھ لوگ آکر کہتے کہ قریش کے اس جوان سے بچنا، یہ تمہیں بھٹکا نہ دے، وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھوںسے اشارہ بھی کیا کرتے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یثرب سے ہمیںبھیج دیا، ہم نے آپؐ کو پناہ دی، آپؐ کی تصدیق کی، ہمارا کوئی آدمی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپؐ پر ایمان لاتا تو آپؐ اسے قرآن پڑھاتے، وہ اپنے گھر والوں کے پاس آتا، اس کے گھر والے بھی اسلام قبول کرلیتے۔ اس طرح انصار کا کوئی گھرانا ایسا باقی نہیں رہا، جس میںاسلام قبول کرنے والے افراد نہ ہوں۔ (مسند احمد بن حنبل، ۳؍۳۲۲، ۳۳۲)

یثرب کا پہلا مسلمان

مصر، یمن اور عرب کے دوسرے علاقوں سے حجاج اور معتمرین کا سلسلہ لگاتار جاری رہتا تھا اور  آنے والوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا۔ یثرب سے بھی لوگ حج اور عمرے کے لئے مکہ مکرمہ آیا کرتے تھے۔ ایک سال آنے والوں میں وہاں کی ایک معروف شخصیت بھی تھی جن کا نام سوید بن الصامت تھا۔ وہ ایک بہادر، باوقار اور عالی نسب انسان تھے، ان کے مختلف النوع اوصاف کی وجہ سے لوگ انہیں ’’الکامل‘‘ کہا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول کے مطابق سوید کے پاس ان کی قیام گاہ پر تشریف لے گئے، انہیں اسلام کی دعوت دی، سوید نے جواب میں عرض کیا: جس طرح کی باتیں آپ کررہے ہیں، اس طرح کی باتیں میرے پاس بھی ہیں۔ آپ نے پوچھا وہ باتیں کون سی ہیں، تمہارے پاس کیا ہے؟کہنے لگے لقمان کا صحیفہ! آپ نے فرمایا: مجھے سنائو اس میںکیا ہے؟ سویدنے لقمان کے کچھ حکیمانہ اقوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائے، آپ نے فرمایا: یہ باتیں جو تم نے پیش کی ہیں اچھی ہیں مگر میرے پاس ان سے بھی بہتر چیز ہے اور وہ قرآن کریم ہے، جسے اللہ رب العزت نے مجھ پر نازل فرمایا ہے۔ قرآن کریم ذریعۂ ہدایت بھی ہے اور سراپا نور بھی ہے۔ آپ نے کچھ آیا ت پڑھ کر سنائیں اور اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا۔ سوید نے تلاوت سن کر کہا: یہ نہایت خوبصورت کلام ہے، پھر وہ واپس چلے گئے، وطن پہنچے،کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ انہیں قبیلۂ خزرج کے لوگوں نے قتل کردیا۔ سوید بن الصامت کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔ ان کے قتل کا واقعہ جنگ بُعاث سے قبل پیش آیا، جنگ بعا ث یثرب کی مشہور جنگ ہے، جو اوس و خزرج کے درمیان قبل از اسلام لڑ ی گئی، بعد میںیہ دونوں قبیلے مشرف بہ اسلام ہوئے اور ان کے درمیان رشتۂ اخوت و مودت استوار ہوا۔ سوید بن الصامت کی قوم کے لوگوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ ان کی وفات حالت اسلام میں ہوئی۔ (سیرت بن ہشام ۱؍۳۰۹، دلائل النبوۃ للبیہقی ۲؍۴۱۹، البدایہ والنہایۃ، ۳؍۱۴۷)

اِیاس بن معاذ کا قبول اسلام

کچھ اسی طرح کا واقعہ ایاس بن معاذ کے ساتھ بھی پیش آیا، وہ ابوالحَیْسر اَنس بن رافع کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تھے، اس قافلے میںبنی عبدالاشہل کے کچھ اور نوجوان بھی تھے۔ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان لوگوں کی آمد کا پتہ چلا تو ان کی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ ابوالحیسر اور اس کے ساتھیوں کا مقصد سفر یہ تھا کہ وہ خزرج کے خلاف قریش سے کوئی معاہدہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: جس مقصد کے لئے تم یہاںآئے ہو میرے پاس اس سے بھی بہتر ایک چیز ہے۔ انہوںنے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’میں بندگان خدا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، میں لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتاہوں اور ان سے یہ کہتا ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

مجھ پر ایک کتاب اتاری گئی ہے۔‘‘ پھر آپؐ نے اسلام کا تعارف کرایا اور قرآن کریم کی تلاوت کی، اِیاس بن معاذ جو اس وقت کم عمر لڑکے تھے،کہنے لگے: واللہ جو چیز آپ لے کر آئے ہیں وہ واقعی خیر ہی خیر ہے۔ ابوالحیسر نے مٹی بھرکر کنکریاں اٹھائیں اور یہ کہتے ہوئے ایاس کے منہ پر ماریں کہ ایسی باتیں مت کرو۔ ہم اس کام کے لئے نہیں آئے ہیں، ایاس چپ ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاںسے تشریف لے گئے، کچھ دنوں کے بعد یہ لوگ یثرب چلے گئے۔

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایاس کی وفات ہوگئی۔ وفات کے وقت جو لوگ ان کے قریب تھے انہوں نے بتلایا کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے اور حمد و ثناکہتے ہوئے رخصت ہوئے۔ ان کی قوم کے لوگ پورے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ مسلمان ہو کر مرے ہیں۔ انہوں نے اسی مجلس میں اسلام قبول کرلیا تھا جس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت پیش فرمائی تھی۔ یہ واقعہ بھی اوس اور خزرج کی جنگ سے پہلے کا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ۵؍۳۲۷، المستدرک للحاکم ۳؍۱۸۰،، ۱۸۱، الاصابۃ فی تمیز الصحابہ ۱؍۹۳)

مدینہ منورہ میں ظہور اسلام

اسلام سے پہلے یثرب میں دو بڑے قبیلے سکونت پذیر تھے، اَوس اور خزرج، دونوں قبیلوںکا نسبی تعلق یمن کے قبیلے اَزد سے تھا، وہاں سے ہجرت کرکے ان دونوں قبیلوں کے لوگ یثرب میں آ بسے  جہاںپہلے ہی سے یہودی نسل کے کچھ قبائل آباد تھے، جو اگرچہ تعداد میں زیادہ نہ تھے مگر یثرب اور آس پاس کے علاقوں کا کنٹرول انہی کے ہاتھ میںتھا۔ اوس اور خزرج کی آمد سے ان کی حکومت اور اقتدار کو نقصان پہنچا، کیوںکہ مہاجرین بڑی تعداد میں تھے، آہستہ آہستہ یہ لوگ پہلے اقتصادی طورپر مستحکم ہوئے، پھر انتظامی امور میں دخیل ہوئے۔ بعد میں اوس و خزرج میںبھی اتحاد باقی نہ رہا، آپس میں جنگ اور خوں ریزی شروع ہوگئی، جو سالہا سال تک جاری رہی، پہلی جنگ؛ حرب سُمیر ہے اور آخری جنگ حربِ بعاث ہے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے کچھ پہلے لڑی گئی۔ اگر یہ دونوں قبیلے اسلام کے دامانِ عافیت اور سایۂ امن و سلامتی میں نہ آتے تو ہوسکتا ہے باہمی جنگیں ان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالتیں، ان دونوں قبیلوں نے اسلام قبول کیا، اگرچہ خزرج سبقت لے گئے۔ بعد میں یثرب کے باشندوں کو انصار کے لقب سے نوازا گیا۔

قرآن کریم کی سورۂ توبہ میں انصار اور مہاجرین دونوں لفظ ایک ساتھ آئے ہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق یثرب کے مسلمانوں کو یہ لقب سب سے پہلے قرآن کریم نے دیا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لقب عنایت فرمایا، بعد میں قرآن کریم سے اس کی تائید ہوئی۔ (انساب الااشرف بلاذری، ۱؍۲۷۴، صحیح البخاری) (جاری)

nadimulwajidi@gmail.com

4 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/soon-see-that-allah-make-part-9/d/123690


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..