New Age Islam
Mon Sep 20 2021, 10:28 PM

Urdu Section ( 28 May 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

مولانا ندیم الواجدی

28 مئی 2021

حضرت سلمان فارسیؓ کا قصہ

پادری نے کہا: گرجا گھر میں آجاو، میں اس کے ساتھ چلا گیا، وہ ایک بُرا آدمی تھا۔ لوگوں سے کہتا مال صدقہ کرو، پھر ان سے صدقات لے کر اپنے پاس رکھ لیتا، غریبوں اور مسکینوں کو محروم رکھتا، اس طرح اس نے سات مٹکے سونے کے سکوں سے بھر لئے تھے، مجھے اس کی یہ حرکت اچھی معلوم نہیں ہوئی اور میں دل ہی دل میں اس سے سخت نفرت کرنے لگا، جب وہ مر گیا تو نصاریٰ اس کی تجہیز و تکفین کے لئے آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ پادری انتہائی بُرا آدمی تھا، آپ لوگوں کو صدقات کی ترغیب دیتا تھا اور آپ سے صدقات لے کر اپنے لئے ذخیرہ کرلیتا تھا، غریبوں اور مسکینوں کو کچھ بھی نہ دیتا تھا۔ انہوں نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ ہمارے دئیے ہوئے صدقات چھپا لیتا تھا؟ میں نے کہا میرے ساتھ آئو، میں تمہیں اس کے خزانے کا پتہ بتلاتا ہوں۔ تب میں نے انہیں وہ سات مٹکے دکھلادئیے جو سونے چاندی کے سکوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ لوگ کہنے لگے، خدا کی قسم! ہم اب اس کو دفن نہیں کریں گے، اس کے بعد ان لوگوں نے پادری کی لاش کو سنگسار کیا اور سولی پر لٹکا دیا اور اس کی جگہ پر دوسرے شخص کو لے آئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ نمازیں پڑھتا ہے،دُنیا سے بے رغبتی رکھتاہے، آخرت کی فکر میں گھلا رہتا ہے اور  دن رات یادِ الٰہی میں مشغول رہتا ہے، مجھے اس سے غیر معمولی محبت ہوگئی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت قریب آگیا، میں کے قریب گیا اور کہا کہ میں آپ سے بے حد محبت کرتا ہوں، میں دیکھ رہا ہوں کہ اب آپ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، میرے لئے کیا حکم ہے، آپ کے بعد مجھے کہاں جانا چاہئے اور کس کے دامن میں پناہ لینی چاہئے، پادری نے کہا اچھے لوگ رخصت ہوگئے ہیں، جو باقی ہیں انہوں نے اپنا دین بدل لیا ہے، اس وقت میری نظر میں صرف ایک شخص ہے جو ابھی تک اپنے اصل دین پر قائم ہے، وہ شخص موصل میں رہتا ہے، تم وہاں جا کر اس سے ملو۔ اس کے مرنے کے بعد میں موصل گیا، پادری کے بتلائے ہوئے شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ مجھے فلاں شخص نے آپ کے پاس بھیجا ہے، اپنی موت کے وقت انہوں نے مجھے یہ بتلایا تھا کہ آپ حق پر قائم ہیں اور اسی دین پر ہیں جس پر وہ تھے، اس لئے مجھے اپنے پاس رہنے کی اجازت دیں۔ میں نے اسے بہترین انسان پایا، جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو میں نے اس سے بھی وہی بات کہی جو میں نے شام والے پادری سے کہی تھی، اس نے کہا ہمارے دین پر قائم رہنے والا تو بس اب ایک ہی شخص ہے جو نصیبین (عراق کا ایک بڑا شہر) میں رہتا ہے، میرے بعد تم اس کے پاس چلے جانا۔ اس کے انتقال کے بعد  مَیں نصیبین جا کر اس شخص سے ملا جس کے پاس جانے کی مجھے موصل والے شخص نے وصیت کی تھی، نصیبین والے شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے مجھے عموریہ (ترکی کا ایک شہر) بھیج دیا، میں کچھ وقت اس کے پاس رہا، اب میرے پاس کچھ بھیڑ بکریاں اور گائیں وغیرہ بھی ہوگئی تھیں۔ جب عموریہ والا شخص مرنے لگا تو میں نے اس سے بھی یہی پوچھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے اور تلاش حق کے لئے کہاں اور کس کے پاس جانا چاہئے؟ اس نے کہا: بیٹے! جہاں تک مجھے معلوم ہے روئے زمین پر اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں ہے جو صحیح دین پر قائم ہو، البتہ اب نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت قریب آچکا ہے، وہ دین ابراہیمی پر مبعوث ہوں گے، عرب کی سرزمین میں ان کا ظہور ہوگا، وہ سیاہ پتھروں والے پہاڑوں سے گھری ہوئی زمین کی طرف جہاں کھجور کے باغات ہوں گے ہجرت کریں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ صدقے کا مال نہیں کھائیں گے، البتہ اگر کوئی ان کو ہدیہ دے گا تو وہ لے لیں گے،ان کے دونوںشانوں کے قریب مہر نبوت ہوگی، اگر تم وہاں جا سکو تو ضرور جانا۔ یہ کہہ کر وہ پادری انتقال کر گیا۔

میں کچھ عرصے تک عموریہ شہر میں ٹھہرا رہا، اتفاق سے تاجروں کا ایک قافلہ عموریہ میں آکر رکا، اس کا رخ عرب کی طرف تھا، میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ مجھے اپنے ساتھ لے لو، اس کے عوض میں تمہیں اپنی بکریاں اور دوسرے جانور دے دوں گا، وہ لوگ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہوگئے، میں نے حسب وعدہ انہیں اپنی سب بکریاں وغیرہ دیدیں، جب وہ لوگ وادیِ قریٰ میںپہنچے تو ان کی نیت بدل گئی، انہوں نے مجھ پر ظلم کیا، میرے ساتھ بدعہدی کی اور مجھے غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔

وہ یہودی مجھے اپنے ساتھ ایسی بستی میں لے گیا جہاں کھجور کے باغات تھے، مجھے خیال ہوا کہ شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی آخرالزماں ہجرت کرکے تشریف لائیں گے، ابھی اسی خیال میں تھا کہ اس یہودی کا ایک چچا زاد بھائی بنوقریظہ سے آیا اور مجھے خرید کر اپنے ساتھ مدینے لے آیا، یہاں آکر  میں فوراً ہی پہچان گیا کہ خدا کی قسم یہ تو وہی شہر ہے جس کے بارے میں عموریہ کے پادری نے مجھے بتلایا تھا، میں اس کے پاس ٹھہرا رہا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلمان فارسیؓ اس عرصہ  میں کم از کم دس مرتبہ فروخت ہوئے۔

حضرت سلمان فارسیؓ بعد کے واقعات بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مبعوث ہوئے، ایک مدت تک آپؐ نے وہاں قیام فرمایا، لیکن کیوں کہ میں غلامی کی زندگی بسر کر رہا تھا، اس لئے میں نے وہاں کے حالات نہیں سنے، پھر آپؐ ہجرت کرکے مدینے تشریف لے آئے، ایک روز میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا کچھ کر رہا تھا، میرا یہودی آقا درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں اس کے چچا کا لڑکا وہاں آیا اور کہنے لگا: خدا بنی قیلہ (اوس و خزرج) کو ہلاک کرے یہ لوگ قبا میں ایک شخص کے پاس جمع ہیں جو آج ہی مکہ سے یہاں آیا ہے، ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شخص اللہ کا نبی ہے۔

میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا، مجھے لگا کہ شاید میں اپنے آقا کے اوپر گرپڑوں گا، میں درخت سے نیچے اترا اور آقا کے چچا زاد بھائی سے پوچھنے لگا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ میرے آقا نے گھور کے مجھے دیکھا اور ایک چانٹا رسید کرتے ہوئے کہا، تجھے ان باتوں سے کیا؟ تو اپنا کام کر۔ میں نے کہا: کچھ نہیں، میں تو ویسے ہی معلوم کر رہا تھا۔ کام ختم ہوا، شام ہوئی تو جو کچھ پیسے ویسے میرے پاس جمع تھے میں وہ لے کر قبا کی طرف چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نیک انسان ہیں اور آپ کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ غریب اور ضرورت مند ہیں، میرے پاس یہ کچھ صدقے کی چیزیں ہیں، میرے خیال میں آپ حضرات اس صدقے کے زیادہ مستحق ہیں، یہ کہہ کر میں نے وہ چیزیں آپ کی طرف بڑھائیں، آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ یہ چیزیں لے کر کھالو، میں نے اپنے دل میں سوچا چلو ایک نشانی تو صحیح ثابت  ہوئی۔

میں اپنے مالک کے واپس آگیا اور پھر کچھ جمع کرنا شروع کیا، جب آپؐ قبا سے مدینے تشریف لے آئے تو ایک شام میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے، یہ جو میں لایا ہوں ہدیہ ہے صدقہ نہیں ہے، آپ تناول فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہدیہ قبول فرما لیا، خود بھی اس میں سے کھایا اور رفقاء کو بھی کھلایا، میں نے اپنے دل میں کہا یہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی۔ کچھ دنوں کے بعد میں پھر حاضر خدمت ہوا، آپؐ اس وقت اپنے کسی ساتھی کے جنازے میں شرکت کے لئے بقیع تشریف لائے ہوئے تھے، آپؐ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی، آپؐ ان سب کے درمیان تشریف فرما تھے، آپؐ کے جسد اطہر پر ایک چادر پڑی ہوئی تھی، میں نے آپؐ کو سلام کیا اور میں آپ کی پشت مبارک کی طرف اُچک اُچک کر دیکھنے لگا تاکہ مجھے وہ مہر نبوت نظر آجائے جس کا ذکر میرے رفیق نے کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات محسوس فرمائی کہ میں مہر نبوت دیکھنا چاہتا ہوں، چنانچہ آپؐ نے اپنی پشت مبارک سے چادر سرکائی۔ اس طرح میں نے مہر نبوت کی زیارت کرلی، میں نے اٹھ کر مہر نبوت کو بوسہ دیا اور رونے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سامنے آو، میں سامنے آیا اور میں نے اپنا پورا واقعہ اسی طرح آپ کو سنایا جس طرح، اے ابن عباسؓ،  میں نے تمہیں سنایا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر یہ واقعہ آپ کی موجودگی میں تمام  صحابہؓ کو بھی سنایا اور مشرف بہ اسلام ہوگیا۔

چونکہ حضرت سلمانؓ ایک یہودی کے غلام تھے اس لئے قبول اسلام کے بعد واپس اسی کے پاس چلے گئے اور اس کی خدمت میں مشغول ہوگئے۔ اسی دوران بدر کا معرکہ بھی پیش آیا، احد کی جنگ بھی ہوئی، مگر حضرت سلمان فارسیؓ مسلمان ہونے کے باوجود ان دونوں جنگوں میں شرکت نہ کرسکے کیوںکہ وہ بوجہ غلامی ایک یہودی کے پابند تھے۔ حضرت سلمانؓ مزید فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے سلمان! تم اپنے آقا سے مکاتبت کرلو، یعنی اس سے کچھ رقم طے کرلو اور اسے ادا کرکے غلامی سے آزاد ہوجاو، میں نے اپنے آقا کے سامنے مکاتبت کی تجویز رکھی، اس نے کہا کہ اگر تم مقام فقیر (خیبر کے قریب ایک جگہ) میں تین سو درخت کھجور کے لگادو اور وہ پھل دینے لگیں تب میں تمہیں آزاد کر سکتا ہوں، اس کے ساتھ ہی تمہیں چالیس اوقیہ سونا بھی ادا کرنا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم سب لوگ اپنے بھائی کی مدد کرو، چنانچہ صحابہؓ نے کھجور کے پودے دے کر میری مدد کی، کسی نے تیس پودے دئیے، کسی نے بیس،کسی نے پندرہ، کسی نے دس، غرضیکہ جس کے پاس جتنے پودے تھے اس نے مجھے دے دئیے، یہاں تک کہ میرے پاس تین سو پودے جمع ہوگئے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اے سلمان! جاو، گڑھے کھودو، جب تم فارغ ہوجائو تو مجھے بتلانا، میں خود اپنے ہاتھوں سے پودا لگاوں گا۔  میں نے گڑھے کھودے، صحابہؓ نے بھی میری مدد کی، اس کام سے فراغت کے بعد میں نے سرورؐ کائنات کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ گڑھے تیار ہیں، آپؐ میرے ہمراہ چلے، ہم ایک ایک کرکے پودا آپؐ کو پیش کرتے رہے اور آپؐ اپنے دست مبارک سے انہیں لگاتے رہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ان تین سو پودوں میں سے ایک بھی پودا نہ مرجھایا، نہ خشک ہوا، تمام پودے بارآور ہوئے اور ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ پھل دینے لگے۔تین سو درختوں کی شرط پوری ہوگئی، اب چالیس اوقیہ سونے کا معاملہ رہ گیا، ایک روز آپؐ کی خدمت مبارکہ میں ایک انڈے کے بہ قدر سونا پیش کیا گیا، آپؐ نے فرمایا: وہ مسکین مکاتب کہاں ہے؟ چنانچہ مجھے بلایا گیا، آپؐ نے وہ سونا مجھے دیا اور فرمایا اے سلمان اب جو قرض تم پر باقی رہ گیا ہے وہ اس سے ادا کردو۔  (جاری)

28 مئی 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-salman-farsi-true-religion/d/124900


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..