New Age Islam
Wed Aug 17 2022, 07:58 AM

Urdu Section ( 17 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Shocking Incident of Bir Mauna but the Holy Prophet Continued To Recite the Qunoot-E-Naazla for a Month Part-79 بئر معونہ کے واقعے سے آپ ؐ کو شدید صدمہ پہنچا اور آپؐ ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھتے رہے

مولانا ندیم الواجدی

15 اپریل، 2022

بئر معونہ کا واقعہ

ان حضرات کا کارواں مدینے سے نکلا، اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوا۔ کئی شب وروز کی مسافت طے کرکے یہ حضرات بئر معونہ پر پہنچے، یہ ایک کنواں ہے، جو بنو سلیم کی ملکیت تھا۔ یہ علاقہ بنو عامر اور حرہ بنو سلیم کے درمیان واقع ہے۔ یہاں پہنچ کر ان حضرات نے کچھ وقت قیام کا ارادہ کیا۔ بنو عامر کی آبادی یہاں سے قریب تھی اور ان کے پاس اس قبیلے کے سردار عامر بن طفیل کے نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی بھی تھا، اس لئے ان حضرات نے حضرت حرام بن ملحانؓ کو یہ مکتوب دے کر اس کے پاس بھیج دیا اور مطمئن ہوگئے۔ حضرت حرامؓ وہاں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اس کو دیا، اس بدبخت دشمن خدا نے خط پڑھے بغیر ہی ایک طرف ڈال دیا اور اپنے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ خط لانے والے کو قتل کردیں، ایسا ہی ہوا، جس وقت حضرت حرامؓ شہید ہوئے ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے: فزت ورب الکعبۃ۔ (ربّ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا) اس کے بعد اس شخص نے شور مچاکر بنی عامر کو اکٹھا کیا اور انہیں بتلایا کہ محمد کے آدمی ہمارے قریب آچکے ہیں، ہمیں ان کا کام تمام کرنا ہے، لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر اس کی بات ماننے سے انکار کردیا کہ ہم ابو براء کا دیا ہوا عہد توڑنا نہیں چاہتے۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۰۶، رقم الحدیث: ۴۰۹۲)

عامر بن طفیل ایک متکبر، جاہ پسند، اور انتہائی مغرور انسان تھا، وہ دیکھ رہا تھا کہ جزیرۃ العرب پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آتے جارہے ہیں، اس سے اس شخص کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح تو اس کی سرداری بھی چھن جائے گی، اس خیال سے پریشان ہوکر وہ مدینے پہنچا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ تین مطالبات رکھے (۱) بالائی علاقے پر مجھے حکومت کرنے دیں اور میدانی علاقوں پر آپؐ حاکم بن جائیں (۲) یا آپؐ پورے علاقے کے بادشاہ بن جائیں اور مجھے اپنا نائب بنادیں (۳) یا پھر میدان جنگ میں مقابلے کے لئے تیار ہوجائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیااور اسے ناکام واپس جانا پڑا۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۰۵، رقم الحدیث: ۴۰۹۱) اس واقعے سے وہ بہت ناراض تھا، اور کسی موقع کی تلاش میں تھا تاکہ مسلمانوں سے انتقام لے کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لے، اس نے اپنی قوم کو بھڑکایا، مگر چوں کہ ابوبراء پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطمینان دلا چکے تھے کہ آپؐ کے صحابہؓ کے ساتھ برا سلوک نہیں ہوگا، میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، اس لئے اس کی قوم مسلمانوں کے خلاف کھڑی نہیں ہوئی۔ اپنی قوم سے مایوس ہوکر اس نے بنوسلیم سے مدد چاہی، قبائل عُصِیۃ اور رعل وذکوان اس پر آمادہ ہوگئے کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کردیں۔ یہ صحابہؓ مطمئن تھے اور اپنے قاصد کی واپسی کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک ان قبیلوں کے جوانوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا، مسلمانوں نے بھی تلواریں نکال لیں، جنگ ہوئی، مسلمانوں نے حملے بھی کئے، مگر دشمن تعداد میں بہت زیادہ تھے اور تیاری سے آئے تھے، اس لئے مقابلہ نہ کرسکے، تین کے علاوہ تمام مسلمان شہید ہوگئے، ان میں سے ایک حضرت کعب بن زید انصاریؓ تھے، حملہ تو ان پر بھی ہوا، حملہ آور ان کو مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے، حالاں کہ وہ زندہ تھے اور بعد تک زندہ رہے، انھوں نے غزوۂ خندق میں شہادت پائی، دو صحابیؓ عمرو بن اُمیۃ الضمریؓ اور منذر بن محمد بن عقبہؓ اس لئے بچ گئے کہ یہ دونوں حضرات جنگل میں مویشی چرانے گئے ہوئے تھے۔ (الکامل فی التاریخ: ۲/۱۷۱، ۱۷۲)

حضرت منذرؓ کی شہادت اور عمرو بن امیہؓ کی گرفتاری

جنگل میں بیٹھے بیٹھے ان دونوں کی نظر آسمان کی طرف اٹھی، جس جگہ ان کا قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اس سمت انہیں آسمان پر پرندے اڑتے ہوئے نظر آئے۔ یہ دونوں حضرات سمجھ گئے کہ ان کے ساتھیوں پر کوئی اُفتاد آپڑی ہے، واپس پہنچے تو دیکھا کہ تمام ساتھی خون میں لت پت پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اونٹ خاموش کھڑے ہیں۔ حضرت منذرؓ نے کہا کہ ہمیں واپس مدینے چلنا چاہئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دینی چاہئے، عمرو بن امیہؓ نے جواب دیا کہ اطلاع تو ہو ہی جائے گی، ہم کیوں شہادت کا موقع اپنے ہاتھ سے جانے دیں۔ اس کے بعد دونوں آگے بڑھے، دشمن کو للکارا، حضرت منذرؓ تو وہیں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے، اور حضرت عمرو بن امیہؓ کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب عامر بن طفیل کو یہ معلوم ہوا کہ عمرو بن اُمیہؓ مضر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں تو اس نے ان کے سر کے بال کاٹ کر یہ کہتے ہوئے آزاد کردیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔ (سیرۃ ابن ہشام: ۳/۱۲۷، ۱۳۰)

آزاد ہونے کے بعد حضرت عمرو بن امیہؓ مدینے روانہ ہوئے، راستے میں ایک جگہ پڑتی ہے، فَرْفَرہ، یہ صحابی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، اتنے میں دو اجنبی شخص وہاں آئے، آپس میں تعارف ہوا، معلوم ہوا کہ دونوں کا تعلق بنی عامر کی شاخ بنی کلاب سے ہے، جب یہ دونوں سو گئے تو حضرت عمرو بن امیہؓ نے موقع پاکر ان دونوں کو قتل کردیا، اور یہ سوچ کر خوش ہونے لگے کہ انہوں نے اپنے شہیدوں کا بدلہ لے لیا ہے، کیوں کہ بنی عامر کا سردار عامر بن طفیل ہی اس پورے سانحے کا ذمہ دار تھا، جب حضرت عمروؓ نے مدینے پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے احوال سنائے اور اپنا یہ کارنامہ بھی بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کیا ،پھر فرمایا اے عمرو! تم نے دو ایسے آدمیوں کو قتل کردیا ہے جن کی دیت مجھے دینی پڑے گی، در اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بنی عامر کے مابین ایک دوسرے کے تحفظ کا معاہدہ تھا، ہوسکتا ہے حضرت عمرو بن امیہؓ اس معاہدے سے ناواقف رہے ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے وہ واقف ہوں مگر قبیلے کے سردار کی اس حرکت سے انھوں نے یہ سمجھا ہو کہ اب معاہدہ باقی نہیں رہا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۰/۳۵۶)

عامر بن فہیرہؓ کی شہادت

حضرت عامر بن فُہَیْرہؓ سے تاریخ اسلام اور سیرت نبوی سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص واقف ہے، وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے ایمان قبول کیا، ہجرت کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دیرینہ رفیق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ مکے سے نکلے تو عامر بن فہیرہؓ واحد شخص ہیں جن کو ان دونوں حضرات نے اپنے ساتھ رکھنے کے لئے منتخب کیا۔ یہ ایک بہادر، جفا کش، ایمان دار اور وفاکیش انسان تھے، رات کے اندھیرے میں جب یہ دونوں حضرات غارِ ثور کی طرف بڑھے تو حضرت عامرؓ ان کے ساتھ تھے، بعد میں جب یہ دونوں غارِ ثور میں روپوش رہے تو تازہ دودھ فراہم کرنے کے لئے حضرت عامرؓ بکریوں کو لے کر آتے اور واپس چلے جاتے، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے نشانات قدم مٹانے کے لئے بھی حضرت عامر بکریوں کو لے کر اسی راستے پر چلتے۔ حضرت ابوبکرؓ کی یہ صاحب زادی جو اس وقت بہت چھوٹی تھیں رات کے اندھیرے میں کھانا لے کر آیا کرتی تھیں، جب ہجرت کرنے والوں کا یہ کارواں غارِ ثور سے یثرب کی طرف بڑھا تو حضرت عامر بن فہیرہؓ راستے کی رہ نمائی کے لئے اور ان دونوں حضرات کی مدد کے لئے اس قافلے کے تیسرے فرد تھے، اس طرح انہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والوں میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

بئر معونہ والے دن زندہ بچ جانے والوں میں صرف حضرت عمرو بن امیہ الضمریؓ تھے، عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا کہ کیا تم اپنے ساتھیوں سے واقف ہو، اگر واقف ہو تو بتلاؤ کہ یہ لوگ جواب لاشوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، کون ہیں، کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کا حسب نسب کیا ہے، حضرت عمروؓ ایک ایک صحابی کو دیکھتے اور بتلاتے کہ یہ فلاں ہیں، اور فلاں قبیلے سے ان کا تعلق ہے، عامر بن طفیل نے پوچھاکیا تمہارے تمام ساتھی یہاں موجود ہیں، یا کوئی کم بھی ہے، حضرت عمروؓ نے بتلایا کہ میرا ایک ساتھی ان میں موجود نہیں ہے، وہ حضرت ابوبکر الصدیقؓ کے آزادہ کردہ غلام تھے، عامر بن طفیل نے سوال کیا، تم لوگوں میں وہ کس حیثیت کے حامل تھے، انھوں نے جواب دیا وہ ہم سب میں افضل تھے، عامر بن طفیل نے بتلایا کہ اس کی لاش تو اوپر آسمان کی طرف پرواز کر گئی ہے۔

بخاری شریف میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ بئر معونہ میں جب تمام صحابہ شہید کردئے گئے تو تنہا زندہ رہ جانے والے صحابی حضرت عمرو بن امیہؓ سے عامر بن طفیل نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے ایک لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ سوال کیا، حضرت عمرو بن امیہؓ نے جواب دیا یہ تو عامر بن فہیرہ ہیں، عامر بن طفیل نے کہا قتل ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کی لاش آسمان کی طرف اٹھالی گئی ہے، میں نے خود اسے آسمان اور زمین کے درمیان دیکھا، پھر اسے لاکر نیچے رکھ دیا گیا۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۰۶، رقم الحدیث: ۴۰۹۳) ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عامر بن فہیرہؓ کی لاش آسمان پر اٹھا لی گئی، جبار بن سلمی نے یہ منظر دیکھا اور اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ سن کر ارشاد فرمایا کہ فرشتوں نے ان کے جثے کو چھپالیا اور اسے علیین میں لے جاکر رکھ دیا۔ (الخصائص الکبری: ۱/۲۲۳)

شہادت کے ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کے دلوں میں شہادت کی بڑی تمنا تھی، بئر معونہ میں جو لوگ شہید ہونے سے رہ گئے تھے وہ زندہ سلامت واپس بھی جاسکتے تھے، مگر انھوں نے زندہ رہنے پر شہید ہونے کو ترجیح دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے شہادت کے اس قدر فضائل بیان کئے ہیں کہ ہر صحابیؓ شہید ہوکر مرنا چاہتا تھا، شہید کو آخرت کی زندگی میں جو اجر وثواب ملنے والا ہے اور اللہ کے نزدیک اس کی جو قدر ومنزلت ہونے والی ہے ہم زندہ لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

رسول اللہ ﷺکو صدمہ

بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ لوگ شہید ہوئے ان کی زبانوں پر یہ الفاظ تھے: اے اللہ! ہمارے اس حال کی خبر ہمارے بھائیوں تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے، چناں چہ بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا کہ تمہارے ساتھیوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ (صحیح البخاری:۵/۱۰۶، رقم الحدیث: ۴۰۹۳) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: یہ ابوبراء کا مشورہ تھا، میں اس کو ناپسند کررہا تھا اور اس سے خائف بھی تھا۔ (سیرت ابن ہشام: ۳/۱۲۹)

روایات میں ہے کہ بئر معونہ کے واقعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید ترین صدمہ پہنچا، آپؐ ایک ماہ تک مسلسل فجر کی نماز کے آخری رکوع میں قنوت نازلہ پڑھتے رہے، اور قبائل رعل وذکوان کے ظالموں کے خلاف بد دعا کرتے رہے، جنھوں نے بے گناہ اور بے قصور مسلمانوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کردیا تھا۔ بئر معونہ کے واقعے سے یہ سنت مسلمانوں کو ملی کہ وہ فجر کی نماز کے آخری رکوع میں سجدے کے اندر جانے سے پہلے ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہوں اور قنوت نازلہ پڑھ کر ظالموں اور دشمنوں کے خلاف بد دعا کریں۔ (اعلاء السنن نقلا عن البخاری ومسلم: ۶/۹۵، ۹۶)

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکی یہ دُعا قبول فرمائی، عامر بن طفیل طاعون کے مرض میں مبتلا ہوکر اپنے آخری انجام کو پہنچا، اور ایک بدکار عورت کے گھر میں جسے بستی والوں نے شہر بدر کردیا تھا ، مردہ پایا گیا۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۰۵، رقم الحدیث: ۴۰۹۱ ) (جاری)

15 اپریل، 2022 ، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

Part: 72 - In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

Part: 73 - The Muslims Were Defeated In Uhud Due to Disobedience to the Prophet's Instructions and Rumours of His Martyrdom Part 73 آپ ؐ کی حکم عدولی اور آپؐ کی شہادت کی افواہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کا سبب بنی

Part: 74 - The Attitude in Madinah Had Shifted, As the Holy Prophet (Pbuh) Had Noted With His Far-Sighted Eyes Part-74 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوربیں نگاہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ مدینہ کی فضا بدل گئی ہے

Part: 75 - The Prophet (Peace Be Upon Him) Said, 'A Believer Is Not Bitten From the Same Hole Twice' Part-75 آپﷺ نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا

Part: 76 - Wine Flowed Like Water in the Streets of Madinah, Soon After its Prohibition Was Revealed Part-76 شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی

Part: 77 - The Holy Prophet Kept an Eye on the Movements of All the Tribes from Madinah to Makkah Part-77 مدینہ سے مکہ تک تمام قبائل کی نقل وحرکت پرآپ ﷺ نظر رکھے ہوئے تھے

Part: 78 - The Companions and Their Unparalleled Love for the Prophet Part-78 آپؐ سے صحابہؓ کی محبت یہ تھی کہ تختۂ دار پر بھی فکر ہوتی کہ آپؐ کو کانٹا بھی نہ چبھے

URL: https://newageislam.com/urdu-section/holy-prophet-bir-mauna-qunoot-e-naazla-part-79/d/126812

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..