New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 03:32 PM

Urdu Section ( 28 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Wine Flowed Like Water in the Streets of Madinah, Soon After its Prohibition Was Revealed Part-76 شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی

 مولانا ندیم الواجدی

25 مارچ،2022

شراب کی حرمت کا حکم

ہجرت کا تیسرا سال غزوۂ احد کی تلخ وشیریں یادوں کے ساتھ اختتام پزیر ہوگیا، باقی ماندہ دو تین مہینوں میں غزوے یا سریہ کا کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی حکومت کی تشکیل میں مصروف رہے، حلت وحرمت کے احکام برابر نازل ہورہے تھے، اسی دوران شراب کی حرمت کا حکم بھی نازل ہوا۔

شراب کے قطعی حرام ہونے کا حکم کب نازل ہوا، اس سلسلے میں اختلاف ہے، ۳، ۴، ۸ تینوں سینین کے بارے میں روایات ملتی ہیں، علامہ قسطلانیؒ نے مواہب لدنیہ میں لکھا ہے کہ شراب کی حرمت  ۳  ھ میں غزوۂ اُحد کے بعد نازل ہوئی۔

عرب میں شراب نوشی کا بڑا چلن تھا، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لوگ عادتاً شراب پیتے تھے، اچھی شراب پلانا اور عمدہ شراب مہمانوں کے سامنے پیش کرنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔  مدینہ منورہ میں اس کا رواج کچھ زیادہ ہی تھا، کیوں کہ یہاں شراب بنانے کے وسائل زیادہ تھے، جس طرح آج کے دور میں شراب انسانی صحت بہ طور خاص عقل کے لیے نقصان دہ ہے اسی طرح اس وقت بھی تھی، لوگ شراب پی کر شعور کھو بیٹھتے تھے اور وہ کام کر گزرتے تھے جو کوئی انسان عقل وشعور کی موجودگی میں کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اسلام جو دین فطرت ہے اور جو عقل وشعور کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، یہ کب گوارا کرتا کہ لوگ شراب پی کر حواس کھو بیٹھیں اور عقل وخرد سے بیگانہ ہوجائیں، اس لئے اس نے شراب کو حرام قرار دیا، مگر تدریجی طور پر اس کی حرمت کے احکام نازل ہوئے، کیوں کہ جو چیز اہل عرب کے رگ وپئے میں سرایت کر چکی تھی اس سے یک لخت روک دینا بھی مناسب نہ تھا۔

سب سے پہلے سورۂ نمل کی آیت ۶۷؍ نازل ہوئی۔ یہ سورہ مکی ہے، اس میں شراب کے ساتھ حلال چیزوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا کہ کھجور اور انگور سے تم نشے کی اشیاء بھی تیار کرتے ہو، اور ان چیزوں کو پاکیزہ رزق کے طور پر بھی استعمال کرتے ہو، گویا شراب کے متعلق یہ ایک طرح کی ناپسندیدگی کا اظہار تھا؛ کیوں کہ اس کو پاکیزہ رزق سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ اس کے بعد مدینے میں کچھ اور آیات نازل ہوئیں جن میں ایک آیت سورۂ بقرہ کی آیت ۲۱۹؍ ہے، اس میں شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا گیا کہ ان دونوں کے بڑے گناہ ہیں، اگرچہ کچھ فائدے بھی ہیں، مگرا ن کے فائدے گناہ اور نقصان کے مقابلے میں کم ہیں۔

اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ سمجھ گئے کہ اسلام نہ شراب کو پسند کرتا ہے اور نہ جوئے کو، مگر اس وقت ان دونوں کو مصلحتاًقطعیت کے ساتھ حرام نہیں کیا گیا۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! شراب کے بارے میں ہمارے لئے واضح احکام نازل فرما۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران یہ اشارہ دیا کہ عنقریب شراب کی حرمت نازل ہونے والی ہے، لہٰذا جس کے پاس شراب ہے وہ اسے فروخت کرکے نفع اٹھالے۔ اسی زمانے میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنے دوستوں کی ضیافت کی، انہیں خوب شراب پلائی، نشے کی حالت میں مغرب کی نماز بھی پڑھی گئی، امام نے جو خود بھی نشے کی حالت میں تھا سورۂ کافرون میں غلطی کی، اس موقع پر سورۂ نساء کی آیت (۴۳) نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھا کریں۔ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب نوشی ترک کردی۔ ایک رات حضرت عتبان بن مالکؓ نے اپنے چند دوستوں کی دعوت کی، خوب کھانا پینا ہوا، نشے کی حالت میں اشعار بھی کہے گئے اور سنے گئے۔ حضرت سعد بن أبی وقاصؓ نے کسی انصاری کی ہجو میں فی البدیہہ کچھ شعر پڑھے تو ان انصاری صحابیؓ کو غصہ آگیا، اور انھوں نے غصے کی حالت میں اونٹ کی ہڈی لے کر حضرت سعد کے سر پر ماردی، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ حضرت سعد نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ حضرت عمرؓ نے جو اس مجلس میں حاضر تھے پھر یہ دُعا کی کہ اے اللہ! شراب کے بارے میں واضح حکم نازل فرما، اس پرسورۂ مائدہ کی آیات ۹۰، ۹۱؍اور ۹۲؍ نازل ہوئیں، ان میں شراب کے قطعی حرام ہونے کا ذکر ہے۔

ان آیات کے بعد شراب کی حرمت کا عام اعلان ہوگیا۔ جس وقت منادی یہ اعلان کررہا تھا کہ اللہ نے شراب حرام کردی ہے حضرت ابو طلحہؓ کے مکان پر ناؤ ونوش کی محفل برپا تھی، حضرت انس بن مالکؓ بھی شریک محفل تھے، جب یہ آواز کانوں میں پڑی تو ان حضرات نے کسی تردد کے بغیر شراب کے برتن توڑ دیئے اور شراب نالی میں بہادی۔ اس روز یہ حال تھا کہ مدینے کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔

عبد اللہ بن أبی کی ذلت اور رسوائی

اس جنگ میں عبد اللہ بن أبی کا کردار سب سے زیادہ شرمناک رہا۔ دیکھا جائے تو یہ اچھا ہی ہوا کہ اس کا اصل منافقانہ چہرہ احد کی جنگ سے پہلے ہی بے نقاب ہوگیا، اور وہ اپنے تین سو ساتھیوں سمیت راستے ہی سے واپس چلاگیا، بہت ممکن تھا کہ وہ محاذ جنگ پر جاکر عین حالت جنگ میں کوئی گھٹیا چال چلتا اور مسلمانوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ منافق چُھپے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب معلوم تھا، لیکن مسلمانوں کی اجتماعی مصلحتوں کی خاطر آپؐ انہیں برداشت کررہے تھے، اب جب کہ وہ کُھل کر سامنے آگئے تھے ان کو برداشت کرنا اور ان کے ساتھ رواداری کا معاملہ کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں تھا۔

مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ عبد اللہ بن أبی اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ اسے اب بھی مسلمان سمجھا جاتا ہے، اور اسے اب بھی وہی درجہ اور مقام ومرتبہ ملے گا جو پہلے ملا کرتا تھا۔ غزوۂ احد سے پہلے اسے مسلمانوں کے درمیان ایک خاص امتیاز حاصل تھا، کیوں کہ وہ اپنی قوم کا سردار تھا، اور ایک بڑی تعداد اس کے ساتھ تھی، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد اس کا یہ مرتبہ ساقط نہیں فرمایا، بلکہ اسے برقرار رکھا۔ مسجد نبویؐ میں اس کے لئے ایک خاص جگہ متعین تھی، وہ اسی مخصوص جگہ پر آکر بیٹھتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے کر منبر سے اترتے تو یہ کھڑا ہوتا اور کہتا: لوگو! یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تمہارے درمیان تشریف لائے ہیں، اللہ تمہیں ان کے ذریعے سے عزت و کرامت عطا فرمائے، تم ان کی مدد کرو، ان کے ارشادات غور سے سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ یہ ہر ہفتے کا معمول تھا، دوسرے مواقع پر بھی وہ اسی طرح تائیدی کلمات کہا کرتا تھا۔

غزوۂ احد سے واپسی کے بعد پہلا جمعہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے مطابق منبر پر تشریف لائے، خطبہ ارشاد فرمایا اور نیچے تشریف لے آئے، عبد اللہ بن أبی بے شرم اور ڈھیٹ بنا اپنی جگہ بیٹھا ہوا تھا، جب آپؐ  منبر پر سے اتر کر نیچے تشریف لے آئے تو وہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور تائید ونصرت اور سمع وطاعت کی وہی باتیں دہرانے لگا جو وہ اکثر کیا کرتا تھا۔ مسلمان اس سے خار کھائے بیٹھے تھے، جیسے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے بولنا شروع کیا، لوگوں نے اس کے کپڑے پکڑ کر کھینچنے شروع کردیئے، چاروں طرف سے یہ آوازیں  آنے لگیں: اے دشمن خدا! بیٹھ جا، چپ کر، تو اس قابل نہیں ہے کہ یہاں کھڑا ہو، تیری زبان سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں، کیا تجھے معلوم نہیں کہ تو نے کس قدر غلیظ حرکت کی ہے اور کس قدر گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔

عبد اللہ بن أبی مسلمانوں کا یہ رویّہ دیکھ کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر کی طرف بھاگا۔ وہ یہ کہہ رہا تھا، میں نے ایسی کون سی بری بات کہہ دی کہ تم لوگ آپے سے باہر ہوگئے، میں تو ان کی تائید کے لئے کھڑا ہوا تھا۔ باہر آیا تو ایک انصاری صحابی اس کا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے اور پوچھنے لگے ارے او بدبخت! تجھ پر کیا مصیبت آپڑی جو تو یوں منہ اٹھائے بھاگا چلا جارہا ہے۔ کہنے لگا کہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کرنے کے لئے کھڑا ہوا تھا، لوگوں نے میرے کپڑے کھینچنے شروع کردیئے اور مجھے برا بھلا کہنے لگے۔ ان صحابیؓ نے غزوۂ احد سے ساتھیوں سمیت اس کی واپسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی مانگ لے، عبد اللہ بن أبی نے نخوت سے کہا کہ مجھے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ پیر پٹختاہوا نماز ادا کئے بغیر چلا گیا۔

حافظ ابن اسحاق یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ جنگ اُحد بڑی جدو جہد، بڑی مصیبت اور ابتلا وآزمائش کی جنگ تھی، اس جنگ میں اللہ نے ان لوگوں کا امتحان بھی لے لیا اور ان کو بے نقاب بھی کردیا جو اپنے دلوں میں کفر چھپائے ہوئے تھے اور زبان سے ایمان کا اظہار کیا کرتے تھے، اور جن کو نوازنا چاہا ان کو شہادت کا درجہ دے کر نواز بھی دیا۔(سیرۃ ابن ہشام: ۳/۶۰)

غزوۂ اُحد کے بعد

اس جنگ میں مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ غزوۂ بدر سے مخالفین کے دلوں پر مسلمانوں کا جو رعب اور دبدبہ قائم ہوا تھا وہ ختم ہوگیا، منافقین، مشرکین اور یہود سب اس خام خیالی میں مبتلا ہوگئے کہ اس وقت مسلمان شکست خوردہ ہیں، اپنے  بہت سے بہادروں کو کھو چکے ہیں، ان کے حوصلے پست ہیں، ان حالات میں ان پر آسانی کے ساتھ قابو پایا جاسکتا ہے۔ مکہ کے مشرکین اگرچہ واپس چلے گئے تھے، لیکن وہ پھر واپس آنے کے ارادے سے گئے تھے، دوسری طرف کچھ اور قبائل مشرکین نے بھی اپنے بلوں سے باہر آنا شروع کردیا، ان میں قبیلۂ بنی اسد پیش پیش تھا، ابو سفیان ہذلی نے بھی اپنے ہم خیال لوگوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں اکٹھاکرنا شروع کردیا تھا، عَضَل اور قارہ کے قبائل بھی موقع کی تاک میں تھے، عامر بن طفیل بھی سازشیں کرنے میں مصروف تھا، بنی نضیر کے یہودی بھی سرکشی پر آمادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہر فوجی قائد اور ایک بہادر سپہ سالار کی طرح ان تمام محاذوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، تمام دشمنوں کی سرکوبی ضروری تھی، جنگ اُحد میں جو کھویا تھا اسے پانے کے لئے آرام کرنے یا زخموں کے پوری طرح مندمل ہونے کا انتظار کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔(جاری)

25 مارچ،2022 ، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

Part: 72 - In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

Part: 73 - The Muslims Were Defeated In Uhud Due to Disobedience to the Prophet's Instructions and Rumours of His Martyrdom Part 73 آپ ؐ کی حکم عدولی اور آپؐ کی شہادت کی افواہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کا سبب بنی

Part: 74 - The Attitude in Madinah Had Shifted, As the Holy Prophet (Pbuh) Had Noted With His Far-Sighted Eyes Part-74 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوربیں نگاہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ مدینہ کی فضا بدل گئی ہے

Part: 75 - The Prophet (Peace Be Upon Him) Said, 'A Believer Is Not Bitten From the Same Hole Twice' Part-75 آپﷺ نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/wine-flowed-water-madinah-prohibition-part-76/d/126676

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..