New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 02:38 PM

Urdu Section ( 11 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

مولانا ندیم الواجدی

11 فروری 2022

حضرت عمرو بن الجَموحؓ کی شہادت:

 ان کے پیروں میں لنگراہٹ تھی، اور لنگراہٹ بھی معمولی نہیں، چلنا پھرنا کافی دشوار تھا، ان کے چار بہادر بیٹے تھے، جو ہر جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن الجموحؓ کے دل میں یہ تمنا تھی کہ وہ بھی کسی جنگ میں شریک ہوں اور دشمن سے مقابلہ کریں۔ بیٹوں سے اس کا ذکر کرتے تو وہ کہتے! ابّا! آپ معذور ہیں، آپ پر جہاد فرض نہیں ہے، گھر پر رہیں۔ غزوۂ اُحد کا وقت آیا تو پھر یہی صورت حال پیش آئی۔ باپ جانا چاہتا تھا، بیٹے معذوری کا حوالہ دے کر منع کررہے تھے۔ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں آپ کے ساتھ جنگ میں جانا چاہتا ہوں، لیکن میرے بیٹے مجھے روک رہے ہیں، خدا کی قسم! میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں اپنے لنگڑے پیروں سے جنت کی زمین روندوں گا۔ آپؐ نے ان سے تو یہ فرمایا! کہ تم معذور ہو، اور اللہ تعالیٰ نے معذوروں کو جہاد سے مستثنیٰ رکھا ہے، اور ان کے بیٹوں سے فرمایا، اگر یہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دو، ہوسکتا ہے اللہ انہیں شہادت کی موت نصیب فرمائے۔ چنانچہ وہ جنگ میں شرکت کے ارادے سے نکلے، نکلنے سے پہلے قبلہ رو ہوکر انھوں نے یہ دُعا کی! اے اللہ! مجھے شہادت نصیب فرما اور مجھے گھر والوں کی طرف واپس نہ کر۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عمرو بن جموحؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور یوں عرض گزار ہوئے: یارسولؐ اللہ! آپؐ کی کیا رائے ہے اگر میں قتال کروں اور شہید ہوجاؤں، پھر میں جنت میں گھوموں پھروں، اس حالت میں کہ میرے پاؤں کی لنگراہٹ دور ہوچکی ہو۔ آپؐ نے فرمایا! کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ وہ جنگ اُحد میں شریک ہوئے۔ اللہ نے ان کی یہ تمنا پوری فرمادی کہ وہ شہید ہوجائیں۔ ان کے ساتھ اس جنگ میں ان کے بیٹے خلّاد، اور ان کے برادرنسبتی عبد اللہ بن عمرو بن حرامؓ بھی شہید ہوئے۔ ان کی بیوی ہندہ بنت عمرو بن حرامؓ نے یہ ارادہ کیا کہ ان تینوں کی میتیں ایک اونٹ پر رکھ کر مدینہ لے جائیں اور وہاں لے کرجاکر دفن کریں، لیکن جب وہ مدینے کی طرف اونٹ کا رخ کرتیں تو اونٹ بیٹھ جاتا اور اُحد کی طرف رخ کرتیں تو اونٹ چلنے لگتا۔ ہندہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ قصہ عرض کیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا! کیا عمرو بن الجموحؓ نے مدینہ سے روانگی کے وقت کچھ کہا تھا، ہندہ نے عرض کیا: انھوں نے یہ دُعا کی تھی کہ اے اللہ! مجھے مدینہ واپس مت لے جانا۔ فرمایا: اسی وجہ سے اونٹ چلنے پر آمادہ نہیں ہے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم ضرور پوری کرتا ہے، انہی میں سے عمرو بن الجموحؓ بھی ہیں، میں نے ان کو اسی لنگراہٹ کے ساتھ جنت میں ٹہلتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل: ۵/۲۹۹، رقم الحدیث: ۲۲۵۵۳، سیرت ابن ہشام: ۳/۱۰۱، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: ۲/۵۰۴) ان تینوں حضرات کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔

حضرت اُصَیْرَمؓ کی شہادت:

 ان کا پورا نام عمرو بن ثابت بن وقش ؓہے۔ان کو اسلام کی دعوت دی گئی، مگر وہ اسلام قبول نہ کرپائے، بعد میں غزوۂ اُحد کے موقع پر اچانک دل میں اسلام کا جذبہ پیدا ہوا، اور کفار سے لڑنے پہنچ گئے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اُصیرم اسلام کے سخت مخالف تھے، ایک دن جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے جاں نثار صحابہؓ  اُحد کے میدان میں جمع تھے اصیرم آئے اور پوچھنے لگے! سعد بن معاذؓ کہاں ہیں، ان سے کہا گیا کہ وہ اُحد میں ہیں، انھوں نے پوچھا اور ان کے بھائی بھتیجے کہاں ہیں، انہیں بتلایا گیا کہ وہ بھی اُحد میں ہیں، اپنی قوم کے متعلق پوچھا، لوگوں نے کہا کہ یہاں کوئی نہیں سب میدان جنگ کی طرف نکلے ہوئے ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب اسلام نے ان کے دل کے دروازے پر دستک دی۔ اٹھے، تلوار لی اور گھوڑے پر سوار ہوکر میدان کارزار کی طرف روانہ ہوئے اور مسلمانوں کے بیچ میں گھس گئے۔ لوگوں نے انہیں دیکھا تو کہا! اے اصیرم! ہم سے الگ ہی رہنا۔ انہوں نے کہا! میں ایمان قبول کرکے یہاں آیا ہوں، نہایت بہادری سے لڑے، زخمی ہوکر گرے اور موت کی آغوش میں پہنچ گئے۔ جس وقت لاشوں کی تلاش ہوئی تو بنی عبد الاشہل میں سے کسی کی نظر ان کے مردہ جسم پر پڑ گئی، اس نے لوگوں سے کہا یہ تو اصیرمؓ ہیں۔ اس وقت تک وہ زندہ تھے۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا: اے اصیرمؓ! تم یہاں کیا کررہے تھے، تم تو اسلام کے منکر تھے، کیا تم قومی حمیت کی خاطر ادھر آئے ہو، یا اسلام کی محبت تمہیں یہاں لے کر آئی ہے؟ انہوں نے کہا میں تو اسلام کی محبت میں یہاں آیا ہوں، میں اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں، اسلام لانے کے بعد ہی میں نے تلوار ہاتھ میں لے کر یہاں کا قصد کیا ہے، اگر میں مرجاؤں تو میرا سارا مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، وہ جس طرح چاہیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں۔ لوگوں نے اصیرمؓ کی موت اور وصیت کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا:وہ اہل جنت میں سے ہیں، یہ وہ صحابی ہیں جنھوں نے ایک وقت کی نماز بھی نہیں پڑھی اور جنت کے مستحق بن گئے۔ حضرت ابوہریرہؓ لوگوں سے پوچھا کرتے تھے اس شخص کا نام بتلاؤ جس نے کوئی نماز نہیں پڑھی اور جنت میں چلا گیا۔ ناواقف لوگ خاموش رہتے تو آپ بتلاتے کہ وہ اصیرم بن عبد الاشہلؓ ہیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اصیرمؓ نے عمل کم کیا اجر زیادہ پایا۔ (صحیح البخاری: ۴/۲۰، رقم الحدیث: ۲۸۰۸، السیرۃ النبویہ ابن ہشام: ۳/۱۰۱)

اعمال کا مدار نیتوں پر

حقیقت یہ ہے کہ اعمال کے حسن وقبح اور ان پر ملنے والی جزا وسزا کا مدار نیتوں کے حسن وقبح پر ہے۔ یہاں ہم دو واقعے ذکر کرتے ہیں، ایک مخیریق یہودی کا، اور دوسرا واقعہ قَزْمَان کا، دونوں نے غزوۂ احد میں مسلمانوں کی طرف سے حصہ لیا، دونوں بہادری سے لڑے، دونوں نے دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچایا، دونوں ہی مقتول ہوئے، لیکن ایک کو جنت کی بشارت ملی، اور دوسرے کو دوزخ کی۔

مخیریق کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا تو مدینے کے یہودیوں کو جمع فرمایا اور ان سے کہا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ جنگ میں چلیں کیوں کہ از روئے معاہدہ ان پر مسلمانوں کی اعانت کرنا ضروری ہے۔ یہودیوں نے کہا ہم تو آپ کے ساتھ جانے سے معذور ہیں، آج شنبہ ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ شنبے میں ہم لوگ صرف عبادت کرتے ہیں، وہاں مخیریق یہودی بھی موجود تھا، اس نے کہا، شنبہ ونبہ کچھ نہیں، میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔ چناں چہ وہ جنگ میں شریک ہوا اور جاتے ہوئے یہ بھی کہہ گیا کہ اگر میں جنگ میں کام آجاؤں تو میری تمام دولت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ مخیریق نے دل وجان سے جنگ میں حصہ لیا اور دشمنوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا: مخیریق بہت اچھے یہود تھے۔ بعض علماء نے ان کے اسلام میں اختلاف کیا ہے، علامہ سہیلیؒ نے الروض الانف میں انہیں مسلمان لکھا ہے، ڈاکٹر عبد اللہ الشقاریؒ نے اپنی کتاب ’’الیہود في السنۃ المطھرۃ‘‘ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ مسلمان ہوگئے تھے، اور اسلام کی محبت ہی انہیں میدان قتال کی طرف لے کر گئی، اور اسی جذبے نے انہیں اپنا تمام مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے پر آمادہ کیا، حالاں کہ یہودی فطرتاً مال کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور حصولِ مال کے لیے کتوں کی طرح لڑتے ہیں۔(الروض الانف: ۴/۴۰۸، الیہود فی السنۃ المطہرۃ: ۱/۳۰۶)

دوسری طرف قزمان نامی شخص تھا، اس نے بھی جنگ اُحد میں مسلمانوں کی طرف سے شرکت کی۔ نہایت بے جگری سے لڑا، اس سے قبل جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قزمان کا ذکر آتا، اور اس کی بہادری کی باتیں ہوتیں تو آپؐ فرماتے یہ تو دوزخ میں جائے گا، جب سب لوگ اُحد کے لئے نکلے تو یہ گھر پر تھا، اُحد والے دن عورتوں نے اسے خوب غیرت دلائی تب وہ مسلح ہوکر اُحد کی طرف بھاگا، جس وقت وہ مسلمانوں سے جاکر ملا آپؐ صف بندی فرمارہے تھے، وہ پہلی صف میں جاکر کھڑا ہوگیا۔ پہلا تیر اسی نے دشمن پرچلایا، اس کے بعد تو اس نے تیروں کی بارش کردی، پھر تلوار کے جوہر دکھلائے، تنہا قزمان نے سات یا نو دشمنوں کو ہلا ک کر ڈالا، بالآخر زخمی ہوکر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر قتادہ بن النعمانؓ نے کہا اے ابو الخیداق تجھے شہادت مبارک ہو، دوسرے مسلمانوں نے بھی شجاعت کی داد دی اور اسے جنت کی بشارت سنائی، کہنے لگا: کیسی بشارت اور کہاں کی جنت، خدا کی قسم! میں تو قوم کی عزت و ناموس کی خاطر چلا آیا ہوں، اگر قوم کا معاملہ نہ ہوتا تو میں ہرگز یہاں نہ آتا۔ قزمان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل کو بتلائی گئی۔ آپؐ نے فرمایا! وہ دوزخ والوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کسی فاجر سے بھی کرالیتا ہے۔ (صحیح البخاری: ۴/۷۲، رقم الحدیث: ۳۰۶۲، السیرۃ النبویہ لابن ہشام: ۳/۹۹) (جاری)

11 فروری 2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/jew-muslims-heaven-hell-part-70/d/126355

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..