New Age Islam
Mon Jan 17 2022, 03:33 AM

Urdu Section ( 28 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

مولانا ندیم الواجدی

24 دسمبر،2021

لشکر اسلام کا معائنہ:

ابھی اُحد تک نہیں پہنچے تھے کہ آفتاب غروب ہوگیا، آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر عشاء کی امامت فرمائی، اس کے بعد پچاس آدمیوں کاانتخاب کیا، اور فوج کی نگرانی کی ذمہ داری ان کے سپر د فرمائی ، ان کی قیادت محمد بن مسلمہؓ کررہے تھے، ذکوان بن عبد قیسؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرے داری کی۔

اس سے پہلے اسلامی لشکر نے سیخین کے مقام پر کچھ دیر قیام کیا، یہ دو ٹیلے ہیں جو مدینے اور جبل احد کے درمیان واقع ہیں، وہاں ایک بوڑھا یہودی او رایک بوڑھی یہودن جو اندھی بھی تھی رہتے تھے ، ان کی مناسبت سے اس مقام کو شیخان کہا جانے لگا۔ عربی میں شیخ عمر رسیدہ شخْص کے لئے بھی بولا جاتا ہے، اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کامعائنہ فرمایا اور جنگ کی تیاری کا جائزہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چند کم سن بچے پیش کئے گئے جو جنگ کے شوق سے نکل آئے تھے ، ان میں سے بعض بچوں کو واپس روانہ کردیا گیا ۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

جبلِ اُحد

------

حضرات اُسامہ بن زید، زید بن ثابت، ابو سعید الخُد ری، عبداللہ بن عمر، اُسید بن ظہیر ، اَوس بن عَرابہَ، بَرا ء بن عازبؓ، زید بن اَرقم رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ یہ سب حضرات اس وقت پندرہ سال سے کم عمر کے تھے ، اس لئے ان کو جنگ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں بھی جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ بڑوں کے لئے بھی سخت آزمائش کا مرحلہ ہوتا ہے۔ صرف دو بچے ایسے تھے جن کو خوش قسمتی سے اجازت مل گئی ان میں سے ایک حضرت رافع بن خَدیج تھے، انہوں نے ہوشیاری کی کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوج کامعائنہ فرمارہے تھے یہ پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے تاکہ دراز قد نظر آئیں، وہ جسامت میں بھی نسبتاً بہتر تھے ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت مرحمت فرمادی، اور یہ بھی فرمایا کہ رافع بہترین تیر انداز ہیں، جن بچوں کو واپس کیا گیا ان میں ایک حضرت سمرہ بن جُنُدُبؓبھی تھے ، یہ حضرت رافع کے ہم عمر تھے ، اجازت نہ ملنے کے باعث رنجیدہ ہوگئے، ان کے والد حضرت مری بن سنانؓ نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو اجازت دے دی او رمیرے بیٹے کو واپس فرما دیا، حالانکہ سمرہ رافع کو کشتی میں پچھاڑ سکتا ہے ۔ دونوں بچوں کی کشتی کرائی گئی، سمرہ نے رافع کو پچھاڑ دیا، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہی کو اجازت عطا فرما دی۔( سیرۃ ابن ہشام :3؍ 22)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے حضرت عبداللہؓ بھی اس وقت نو عمر بچے تھے، ان کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس فرما دیا تھا ، بعد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ایک شاگرد اور آزاد کردہ غلام حضرت نافع سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے استاذ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کن کن غزوات میں شرکت فرمائی تھی، آپ نے فرمایا کہ میرے استاذ بتلایا کرتے تھے کہ جب غزوہ بدر ہوا تو میری عمر تیرہ سال کی تھی ، جب غزوہ احد ہوا تو میں چودہ سال کا تھا ، غزوہ بدر میں تو میں نے شرکت کا ارادہ ہی نہیں کیا، البتہ جب غزوہ احد کی تیاری شروع ہوئی تو میں بھی قافلے میں شامل ہوگیا ، لیکن میری کم عمری کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس فرمادیا، البتہ مجھے غزوۂ خندق میں شرکت کی اجازت مل گئی، اس وقت میں پندرہ برس کا ہوچکا تھا، بعض دوسرے کم سن صحابہ جیسے زید بن ثابتؓ ، اوس بن عرابہؓ اور براء بن عازبؓ کو بھی پندرہ سال کی عمر کا ہونے کے باعث عزوۂ خندق میں شرکت کی اجازت مل گئی تھی، (صحیح البخاری: 3؍177 ، 2664 ، مسند احمد بن حنبل، 8؍287 ، رقم الحدیث :4661)حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کو یہ روایت پہنچی تو انہوں نے یہ قانون بنا دیا کہ صرف ان بچوں کو مجاہدین او رمقاتلین کی فہرست میں شامل کرکے بیت المال سے وظیفہ جاری کیا جائے گا جن کی عمر پندرہ سال یا اس سے زائد ہوگی، ان کے زمانہ خلافت میں لوگ اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے لئے وظیفہ جاری کئے جانے کی درخواست پیش کرتے تھے اور فی الحقیقت وہ بہت چھوٹے ہوتے تھے، لہٰذا وظیفے کے لئے پندرہ سال کی عمر متعین کر دی گئی ، وظیفہ جاری کرنے سے پہلے اس کا اطمینان کرلیا جاتاکہ درخواست دہندہ واقعی اس عمر کا ہے۔( سیرۃ المصطفیٰ :2؍182)

علامہ ابن القیمؒ نے لکھا ہے کہ جن نو عمر صحابہؓ کو واپس بھیجا گیا وہ اپنی کم عمری کی وجہ سے نہیں بلکہ ضعیف اور ناطاقتی کی وجہ سے واپس کئے گئے او ریہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو جنگ میں حصہ نہیں لینا ہے۔ ان کی دلیل حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اندر طاقت دیکھی تو مجھے اجازت مرحمت فرمادی ، مگر یہ خیال صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بدر، اْحد اور خندق کے موقعوں پر اپنی عمر کا حال بیان کیا ہے،ناطاقتی یا ضعف کا کوئی ذکر ان کی روایت میں موجود نہیں ہے۔

ایک اندھے کی اندھی دشمنی:

مقام شیخین سے روانہ ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: کون ہے جو ہمیں ایسے قریبی راستے لے کر چلے جو دشمن کے پاس سے نہ گزرتا ہو، حضرت ابو خیثمہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں لے کر چلتا ہوں، چنانچہ وہ قافلہ کو آگے لے کر چلے ، پہلے بنو حارثہ کے محلّے سے گزرے ،پھر ان کے باغات سے ہوتے ہوئے مَربَع بن قیظی کے باغ میں داخل ہوئے ، یہ شخص اندھا منافق تھا ، اسے جب یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوںکا قافلہ اس کے باغ سے گزررہا ہے تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں مٹی بھری او رکہنے لگا کہ اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو تو میری طرف سے اس باغ میں قدم رکھنے کی تمہیں اجازت نہیں ہے، خدا کی قسم اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ یہ مٹی دوسرے لوگوں تک نہیں پہنچے گی تو میں یہ خاک تمہارے چہرے پر ضرور ڈالتا ۔ اس کی یہ بکواس سن کر صحابہؓ کو غصہ آگیا ، قریب تھا کہ وہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے مت مارنا یہ آنکھ کا اندھا ہی نہیں ہے بلکہ دل کابھی اندھا ہے، ابھی آپ کا حکم لوگوں تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ سعد بن زیدؓ نے تیر مارکر اس اندھے کا سر زخمی کردیا۔( البدایہ والنہایہ :4؍14)

ابودُجانہ رضی اللہ عنہ کو تلوار ملی:

ابھی منزل تک نہیں پہنچے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار اپنے دست مبارک سے لے کر فرمایا کہ اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لینا چاہتا ہے ، بہت سے صحابہؓ نے تلوار لینے کے لئے ہاتھ پھیلادئے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو تلوار نہیں دی، یہاں تک کہ ایک صحابی حضرت ابودجانہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ دشمن پر ایسا وار کرے کہ اس کو دھول چٹا دے، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کا حق ادا کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار ان کو عطا فرمادی۔ حضرت ابودجانہؓ ایک بہادر انسان تھے ، جنگ کے موقع پر شجاعت کے جو ہر تو دکھلاتے ہی تھے، دشمن کو اپنی چالوں سے بھی حیران کردیتے تھے۔ ان کے پاس ایک سُرخ پٹی تھی، جب وہ اسے اپنی پیشانی پر باندھ لیتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اب دشمن کی خیرنہیں۔ انہوں نے تلوار لی اور سُرخ پٹی جیب سے نکال کر پیشانی پر باندھ لی، او رمجاہد ین کی صفوں میں اتراتے ہوئے چلنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حال میں دیکھ کر فرمایا ایسے موقعوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ ایسی چال پسند نہیں فرماتا: ( صحیح مسلم: 4؍128 ، رقم الحدیث :1917 ، مسند احمد بن حنبل: 3؍123 ، مستدرک حاکم: 3؍230 ، تاریخ الطبری:2؍64)

لشکر اسلام کی صف بندی:

صبح فجر کا وقت تھا جب مسلمانوں کا قافلہ جبل احد کی پشت سے میدان کا ر زار میں پہنچا ، جنگی حکمت عملی کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بہتر سمجھا کہ جبل اُحد کو پیچھے اور مدینے کو سامنے رکھ کر جنگ لڑی جائے، کفار ومشرکین کا لشکر اُحد کے دامن میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا، اس کا رُخ مدینے کی طرف تھا ، کفار کی قیادت نے جب مسلمانوں کو جبل اُحد کے پیچھے سے آتے ہوئے دیکھا تو وہ حیرت زدہ رہ گئی ، کفار و مشرکین کے گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ مسلمان اس طرح میدان میں آئیں گے ۔

فجر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ اذان دیں، انہوں نے آج کچھ زیادہ ہی اونچی آواز میں اذان کے کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد صف بندی کا سلسلہ شروع ہوا۔

سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں کا انتخاب فرمایا او رانہیں حکم دیا کہ وہ جبل اُحد کے پیچھے پہاڑی پر چلے جائیں اور وہیں رہ کر ہماری حفاظت کریں ، اگر کفار پیچھے کی طرف سے آکر حملہ کرنا چاہیں تو ان کا مقابلہ کریں، ان تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کاکام صرف جبل اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے، کسی بھی حال میں وہاں سے نہ ہٹیں ،اگر ہم قتل بھی کئے جارہے ہوں او رپرندے ہماری لاشوں پر منڈلا رہے ہوں تب بھی اپنی جگہ سے جنبش نہ کریں، اگر ہم غالب آجائیں، اورمال غنیمت جمع کیا جارہا ہو تب بھی وہیں رہیں ، غرض یہ کہ فتح ہویا شکست ،ہم مغلوب ہوں یا غالب ہر حال میں تم لوگوں کو اسی جگہ ڈٹے رہناہے جہاں تمہیں رہنے کے لئے کہا جارہا ہے، حضرت عبداللہ جن جبیرؓ کو اس پچاس نفری ٹکڑی کا امیر مقرر کیا گیا، جس پہاڑی پر ان پچاس تیر انداز صحابہؓ کو متعین کیا گیا تھا بعد میں اسے جبل الرماۃ (تیر اندازوں کی پہاڑی) کہا جانے لگا، آج بھی یہ پہاڑی اسی نام سے مشہور ہے۔( صحیح البخاری:5؍93 ، رقم الحدیث: 4043 ، فتح الباری :7؍350 ، سیرۃ الحلبیہ:2؍496)۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کو تین حصوں پر تقسیم کیا ، مقدمۃ الجیش، یعنی سامنے رہنے والا دستہ ا س میں ماہر جنگ بازوں کو شامل کیا گیا، کیونکہ دفاعی یا اقدامی بہ ہر صورت اسی دستے کو جنگ کا سامنا پہلے کرنا تھا، دوسرا حصہ میمنہ کا تھا یعنی کچھ لوگوں کو دائیں جانب کھڑا کیا گیا، اس کی کمان منذر بن عمروؓ کے حوالے کی گئی، کچھ صحابہؓ میسرہ یعنی بائیں جانب متعین کئے گئے ، ان کی ذمہ داری زبیر بن العوامؓ کو دی گئی، اور مقدار بن الاسودؓ کوان کا معاون بنایا گیا، حضرت زبیرؓ کو بائیں جانب سے ہونے والے حملوں کو تو روکنا تھا ہی ان کی ایک اضافی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ خالد بن ولید کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں ،اور گھڑ سواروں کو گھاٹی سے گزر کر مسلمانوں کی طرف نہ آنے دیں، اس طرح میدان کا نقشہ مرتب ہوا، مسلمانوں کی تعداد کم تھی، مگر اللہ کی عطا کردہ بصیرت اور اس کی طرف سے ملہم (الہام کی ہوئی) حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کو چار حصوں میں تقسیم کر کے کفار کو چیلنج دے دیا گیا کہ وہ جس طرف سے بھی بڑھیں گے انہیں مسلمانوں کی مضبوط فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔( زاد المعار : 3؍150) (جاری)

24 دسمبر،2021 ، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/mission-remaining-behind-mountain-uhud-part-63/d/126056

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..