New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:06 AM

Urdu Section ( 14 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

مولانا ندیم الواجدی

12 نومبر 2021

کَعْب بن اشرف کا قصہ:

سیرت کی تمام کتابوں میں یہ قصہ نہایت اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور تفصیل کے ساتھ بھی، اس قصے سے صحابہ کرامؓ کی جاں نثاری، بہادری اور بیدار مغزی کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ کعب بن اشرف قبیلۂ طی کی شاخ بنو نبہان سے تعلق رکھتا تھا۔ ایام جاہلیت میں اس کا باپ کسی قتل کا مرتکب ہوگیا تھا۔ قصاص یا دایت سے بچنے کے لئے اس نے مدینے کا رخ کیا اور یہاں آکر بنونضیر کا حلیف بن گیا۔ اس نے عقیلہ بنت حقیق نامی ایک عورت سے شادی کی جس کا نسبی تعلق بنو نظیر سے تھا۔ کعب بن اشرف اسی عورت کے بطن سے ہے، بہترین شاعر تھا، اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر وہ تجارت میں بھی کامیاب رہا اور یہود کی سیادت وقیادت بھی اس کے حصے میں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد جو حالات وواقعات رونما ہوئے اور جس طرح جوق در جوق لوگ اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لینے لگے اس وقت اس نے بھی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیاتھا، مگر اس کا یہ اسلام کسی خاص مصلحت کی بنا پر تھا، دل سے وہ اب بھی پکّا یہودی تھا، اوراسلام دشمنی اس کے رگ وریشے میں بسی ہوئی تھی، بس وہ حالات کی وجہ سے اس کا اظہار نہیں کرپاتا تھا۔

غزوۂ بدر کے وقوع سے پہلے اس کا خیال یہ تھا کہ اس جنگ میں مسلمان ختم ہوجائیں گے اور اہل مکہ کو فتح ملے گی۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا، مسلمان کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور مشرکین مکہ کو ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ بہت سے بڑے بڑے سرداران قریش اس جنگ میں مارے گئے۔ کعب بن اشرف کو مسلمانوں کی فتح اور مشرکین مکہ کی شکست سے بڑا صدمہ پہنچا۔ بدر میں فتح ونصرت کی خبریں مدینے پہنچیں تو وہ یہ کہتا پھرتا تھا کہ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ان بہادروں کو قتل کرسکتے ہیں جن کا نام مقتولین کی حیثیت سے لیا جارہا ہے، اور اگر یہ سچ ہے تو پھر زمین کا باطن اس کے ظاہر سے بہتر ہے، یعنی مر کر زمین میں سما جانا زندہ رہنے کے مقابلے میں زیادہ اچھا ہے۔ جس وقت مسلمان بدر کے اموال غنیمت اور قیدیوں کے ساتھ مدینے میں داخل ہورہے تھے وہ مکہ مکرمہ جانے کے لئے تیار بیٹھا تھا۔ بہ ظاہر تو اس کا مقصد مقتولین بدر کے متعلقین اور بچے کھچے سرداران قریش سے مل کر اظہار تعزیت کرنا تھا، لیکن درحقیقت وہ انہیں یہ سمجھانے آیا تھا کہ وہ اس شکست سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ حوصلہ رکھیں اور ایک نئی جنگ کے لئے تیار رہیں۔ اس نے اہل مکہ کو اپنے مرثیوں سے جو اس نے مقتولین بدر کے غم میں کہے تھے خوب رُلایا اور خود بھی دھاڑیں مار مار کر رویا۔ وہ ایک ایک قبیلے میں جاتا، اور اس قبیلے کے مقتول جوانوں کے مرثیے پڑھتا، اس طرح اس نے چند دن مکے میں گزارے اور اہل مکہ کو یہ یقین دلاکر واپس لوٹا کہ اگر وہ لوگ مدینے پر حملہ آور ہوئے تو مدینے کے یہود اندر سے بغاوت کردیں گے اور اس جنگ میں ان کی بھرپور مدد کریں گے۔

مدینہ واپس آکر اس نے کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کرتا رہتا تھا، ہجو پر مشتمل اشعار کہہ کر انہیں پورے مدینے میں پھیلاتا، مسلم خواتین کے متعلق بھی اس کے تبصرے انتہائی شرم ناک ہوتے۔ ابتداء ً شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابتؓ اس کے ہجو کا جواب دیتے، اور مدح رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل قصیدے کہتے، جن میں کعب کی ہفوات کا جواب بھی ہوتا، لیکن کعب نے جو جنگ چھیڑی تھی یہ اس کا پائیدار حل نہیں تھا، اس کو ایسے جواب کی ضرورت تھی جو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کردیتی اور وہ قیامت تک کے لئے اللہ و رسولؐ کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کے لئے نشان عبرت بن جاتا۔

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرامؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دلائے اور اس کا کام تمام کردے، یہ سن کر ایک صحابی محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہوئے۔ بخاری شریف میں یہ واقعہ ایک مستقل باب کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس بدبخت کو قتل کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں یہ کام انجام دوں گا، آپؐ مجھے اتنی اجازت دیجئے کہ اگر میں مصلحت کے تحت آپؐ کی شانِ اقدس میں کوئی ایسی ویسی بات کہہ دوں تو اس پر اللہ کے یہاں کوئی مواخذہ نہ ہو اور نہ آپؐ ناراض ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: تم کہہ سکتے ہو۔ (صحیح البخاری: ۵/۹۰، رقم الحدیث: ۴۰۳۷، صحیح مسلم:۳/۱۴۲۵، رقم الحدیث: ۱۸۰۱)

ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ کعب بن اشرف مدینے کا اہم ترین شخص تھا، مال داری میں بھی قبیلہ بنی نضیر میں اس کا کوئی ہم پلّہ نہیں تھا، اس نے اس علاقے میں جہاں یہ قبیلہ آباد تھا ایک نہایت مضبوط قلعہ تعمیر کرایا تھا، چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود اس قلعے کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں، مدینہ منورہ کے جنوب مشرق میں بطحان ڈیم کے راستے میں دائیں طرف یہ قلعہ واقع ہے، گرینائٹ پتھروں سے بنا ہوا ہے، تینتیس فٹ لمبا اور تینتیس فٹ چوڑا یہ قلعہ بیس بڑے کمروں اور آٹھ برجیوں پر مشتمل تھا، اب بھی اس قلعے کی چار میٹر اونچی دیواریں موجود ہیں۔ سعودی حکومت نے لوہے کے مضبوط جنگلوں سے اس کو گھیر دیا ہے، آثار قدیمہ اور تاریخی واقعات سے دلچسپی رکھنے والے اس قلعے کو دیکھنے کیلئے جاتے ہیں، اس میں ایک کنواں بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے، اگرچہ اس کا پانی خشک ہوچکا ہے، کعب بن اشرف کی رہائش اسی قلعے میں تھی۔

اجازت ملنے کے بعد محمد بن مسلمہ ؓتن تنہا اس کے قلعے میں پہنچے، اس سے ملاقات کی، اور اپنی کچھ اقتصادی پریشانیوں کا ذکر کیا، انھوں نے کعب بن اشرف سے کہا کہ میں تمہارے پاس کچھ قرض لینے کے لئے آیا ہوں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صدقہ مانگ مانگ کر ہمیں کنگال کردیا ہے، ہم اس شخص سے پریشان ہوچکے ہیں، یہ سن کر کعب بن اشرف کی بانچھیں کھل گئیں۔ وہ چاہتا ہی یہ تھا کہ محمد کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوں۔ محمد بن مسلمہؓ کی زبان سے یہ باتیں سن کر اس کی دلی مراد بر آئی۔ وہ پُرجوش ہوگیا اور کہنے لگا، واقعی! محمد ہیں ہی ایسے، مجھے یقین ہے تم ان سے عاجز آچکے ہوں گے، اگر ابھی تک نہیں آئے تو بہت جلد تم ان سے عاجز آجاؤگے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: عاجز تو ہیں مگر کیا کریں، حالات غیر یقینی سے ہیں، ہم انہیں چھوڑ بھی نہیں سکتے، کیوں کہ ایسا کرنا مصلحت کے خلاف ہوگا، فی الحال تو میں سخت پریشان ہوں، میرے جیسے کچھ لوگ اور بھی ہیں، ہم ضرورت لے کر تمہارے پاس آئے ہیں، اگر کچھ غلّہ وغیرہ بہ طور قرض دے دو تو تمہارا بڑا احسان ہوگا۔

کعب بن اشرف نے کہا: قرض تو میں تم لوگوں کو ضرور دوں گا، لیکن تم کو میرے پاس کچھ نہ کچھ رہن رکھنا ہوگا، محمد بن مسلمہؓ نے پوچھا کیا چیز رہن رکھی جائے، اس بد باطن نے کہا ایسا کرو کہ تم اپنی عورتوں کو میرے پاس چھوڑ دو، جب میرا قرض واپس کرو تب اپنی عورتوں کو واپس لے جانا، محمد بن مسلمہؓ نے جواب دیا: بھلا ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس کیسے چھوڑ سکتے ہیں، تم مدینے کے حسین ترین لوگوں میں سے ہو۔ اس نے کہا اگر عورتوں کو رہن نہیں رکھ سکتے تو اپنے بیٹوں کو رہن رکھ دو۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: یہ بھی ہمیں منظور نہیں، ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں، یہ ہمارے لئے باعث ننگ وعار ہوگا، ہمارے مرنے کے بعد بھی لوگ ہمارے بچوں کو راستوں میں روک روک کر یہ کہا کریں گے کہ تم وہی ہو جو چند کلو غلّے کے بدلے میں رہن رکھے گئے تھے۔ اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے ہتھیار اپنے پاس رکھ لو، میں اور میرے ساتھی اپنے ہتھیار لاکر تمہارے پاس جمع کرادیں گے۔ ہم تمہارا قرض لوٹاکر یہ ہتھیار واپس لے جائیں گے۔ اس قصے کے راوی کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہؓ نے یہ تجویز جان بوجھ کر رکھی تھی، اس کے قلعے میں ہتھیار لے کر جانے کی یہی ایک صورت تھی۔

کعب بن اشرف نے یہ تجویز منظور کرلی، ایک دو دن کے بعد محمد بن مسلمہؓ اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ کعب بن اشرف کے قلعے میں پہنچے، یہ ایک چاندنی رات تھی۔ کعب محو استراحت تھا کہ اس کے کانوں میں ابو نائلہؓ کی آواز پڑی، ان کا اصل نام سلکان بن سلامہؓ ہے، کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی ہیں، ان کی آواز سنتے ہیں کعب اپنے بستر سے اٹھا۔ اور باہر کی طرف جانے لگا، اس کی بیوی نے کہا کہ میں اس آواز میں خون کی بو محسوس کررہی ہوں۔ تم اس طرح رات کے وقت تنہا باہر مت جاؤ، تمہارے ہزاروں دشمن ہیں۔ کعب نے کہا کہ میں کیسے نہ جاؤں، مجھے ابو نائلہؓ نے آواز دی ہے، جو میرا رضاعی بھائی ہے، ویسے بھی مردوں کو جب آواز دی جاتی ہے تو ان کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس آواز پر لبیک کہیں۔ کعب باہر گیا، ابونائلہؓ کے ساتھ محمد بن مسلمہؓ، عباد بن بشرؓ، حارث بن اوسؓ اور ابو عمیس بن جبر ؓبھی تھے، یہ سب اپنے اپنے ہتھیار لے کر آئے تھے تاکہ کعب کے پاس گروی رکھواکر کچھ غلّہ وغیرہ حاصل کرسکیں، کعب نے ان کو خوش آمدید کہا اور انہیں لے کر قلعے میں آیا۔

کعب اس وقت چادر اوڑھے ہوئے تھا، اس کے بدن سے خوشبو آرہی تھی، محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ تمہارے جسم سے جس طرح کی خوشبو آرہی ہے میں نے ایسی خوشبو آج تک نہیں سونگھی۔ اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں، یہ دل فریب خوشبو تمہارے سر کے بالوں میں بسی ہوئی ہے، اس نے اجازت دے دی، محمد بن مسلمہ نے اس کا سر پکڑ کر اپنی طرف کیا اور اسے اچھی طرح سونگھا، کچھ دیر تک یہ سب لوگ محل کے باغیچے میں ٹہلتے رہے اور چاندنی رات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ابھی یہ لوگ ٹہل ہی رہے تھے اور کعب بن اشرف سے اس کی شاعری سن رہے تھے کہ محمد بن مسلمہؓ نے اس سے پھر کہا کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک مرتبہ اور آپ کا سر سونگھ لوں، یہ کچھ عجیب طرح کی خوشبو ہے جو مجھے بے خود کئے دے رہی ہے، کعب نے فخر ومسرت سے ان کی طرف دیکھا اور اپنا سر پھر نیچے کی طرف جھکا دیا، تیسری مرتبہ بھی محمد بن مسلمہؓ نے یہی خواہش کی، اس مرتبہ بھی کعب نے ان کی خواہش پوری کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا، اس بار سب نے اس کا سر سونگھا، جب محمد بن مسلمہؓ کا نمبر آیا تو انھوں نے اس کے سر کو اچھی طرح جکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس کا کام تمام کردیں، چناں چہ انھوں نے اس پر خنجروں سے حملہ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا، واقدی کی روایت ہے کہ ان حضرات نے اس کا سر تن سے جدا کیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (صحیح البخاری: ۵/۹۰ رقم الحدیث: ۴۰۳۷، الواقدی کتاب المغازی: ۱/۱۹۵)

حافظ ابن اسحاقؒ نے اس قصے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس رات محمد بن مسلمہؓ اور ان کے رفقاء نے کعب بن اشرف کے قلعے کی طرف جانے کا منصوبہ بنایا تھا اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رخصت کرنے کے لئے اس مقام تک تشریف لائے جہاں آج جنت البقیع واقع ہے، آپ نے ان حضرات کو رخصت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام پر قدم اٹھاؤ، پھر یہ دعا فرمائی، اے اللہ! ان کی مدد فرما، اس کے بعد آپ اپنے گھر تشریف لے گئے، اس رات چاند پوری طرح روشن تھا، اور ہر طرف چاندنی بکھری ہوئی تھی، یہ لوگ کعب کے قلعے تک پہنچے، ابونائلہ نے اسے آواز دی، اس کے بعد وہی قصہ ہے جو ابھی مذکور ہوا۔ (جاری)

12 نومبر 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی               

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/kab-bin-ashraf-prjophet-said-part-58/d/125770

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..