New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 09:35 PM

Urdu Section ( 31 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

مولانا ندیم الواجدی

29 اکتوبر،2021

 حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علیؓ کا نکاح:

غزوۂ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہؓ کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ بن أبی طالب سے کیا۔ اس مبارک نکاح کا ایک طویل قصہ ہے جسے اختصار کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے، اس کے راوی خو د حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ فرماتے ہیں:

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہؓ کے لئے پیغامات آنے لگے، میری ایک آزاد کردہ باندی نے مجھ سے کہا کہ آپ فاطمہؓ کے لئے پیغام کیوں نہیں دیتے، میں نے جواب دیا، بھلا میرے پاس کیا رکھا ہے، میں شادی کس طرح کرسکتا ہوں، کہنے لگی آپ ضرور جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاطمہؓ کے لئے درخواست کریں، مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی درخواست ضرور منظور کرلیں گے۔ میں پس وپیش میں رہا، وہ میری ہمت بڑھاتی رہی اور مجھے اکساتی رہی، اس کے بے حد اصرار پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا، مگر آپ کی شخصیت کا رعب اور ہیبت اس قدر تھی کہ میں کچھ نہ بول سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھ کر پوچھا: اے علی کیسے آنا ہوا، کیا تمہیں کوئی کام ہے؟ میں چُپ بیٹھا رہا، آپؐ نے پھر پوچھا، میں تب بھی خاموش رہا، پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم فاطمہؓ کے لئے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے، میں نے عرض کیا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، فرمایا: وہ زرہ کیا ہوئی جو تمہیں بدر کی غنیمت میں ملی تھی، میں نے عرض کیا: وہ تو میرے پاس ہے، فرمایا ٹھیک ہے۔

پھر  میں نے اپنی وہ زرہ حضرت عثمانؓ کو چار سو درہم میں فروخت کردی، اور تمام درہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیئے، آپؐ نے ان میں سے کچھ درہم اٹھا کر دیئے اور فرمایا کہ ان سے فاطمہؓ کے لئے خوشبو اور کپڑے خرید لو، کیوں کہ عورتوں کو ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور فاطمہؓ بھی عورتوں میں سے ہیں۔‘‘ (التاریخ الکبیر امام بخاری: ۲/۶۱، البدایہ والنہایہ: ۳/۳۴۶، شرح المواھب: ۲/۳)

حضرت علیؓ کے پاس کوئی ایسا مکان نہیں تھا جس میں وہ اپنی زوجۂ محترمہ کو لے جاکر رکھ سکیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا کہ کسی مکان کا انتظام کرلو، مکان کی تلاش شروع ہوئی، کسی نے مشورہ دیا کہ حارثہ بن النعمانؓ سے ان کا مکان مانگ لو، حضرت علیؓ نے فرمایا مجھے تو ان سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے، حضرت حارثہؓ کو پتہ چلا تو وہ خود دوڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مکان عروسین کے لئے پیش کردیا۔

 ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہؓ کے لیے کمرہ تیار کیا جائے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہم نے کمرہ تیار کرنا شروع کیا، اس کام میں ام سلمہؓ بھی میری معاون تھیں، ہم نے بہترین قسم کی مٹی منگوائی اس سے کمرے کی دیواروں کی اور فرش کی لپائی پتائی کی، کھجور کی چھال سے دو گدے تیار کئے، خرما اور منقی کا حلوہ بنایا، پینے کے لیے میٹھا پانی مہیا کیا اور اس کمرے کے ایک کونے میں لکڑی گاڑ دی تاکہ اس پر کپڑے اور مشکیزہ لٹکایا جاسکے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے فاطمہؓ کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔ (سنن ابن ماجہ : ۱/۶۱۶، رقم الحدیث: ۱۹۱۱)

حضرت فاطمہؓ کا مہر پانچ سو درہم مقرر کیا گیا، رخصتی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر کو یہ چیزیں عطا فرمائیں، ایک بڑی چادر، چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال یا اذخر( خوشبو دار گھاس) بھرا ہوا تھا، آٹا پیسنے کی ایک چکی، ایک مشکیزہ، اور دو گھڑے۔ (مسند احمد بن حنبل: ۲/۱۹۱،رقم الحدیث: ۸۱۸)

یہ جہیز نہیں تھا، جسے بنیاد بنا کر جہیز دینے کی رسم چل پڑی ہے، بلکہ ضرورت کی چند چیزیں تھیں، جو اس لئے دی گئیں کہ حضرت علیؓ نہ صرف یہ کہ آپؐ کے چچا زاد بھائی تھے، بلکہ حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد آپ ہی ان کے سرپرست اور مربی ّ تھے۔ ایک عرصے تک حضرت علیؓ آپؐ ہی کے گھر میں اولاد کی طرح رہے ہیں، آپؐ نے ضرورت کی ان چیزوں کا انتظام دلہا دلہن کے سرپرست اور مربی ہونے کی حیثیت سے کیا تھا بلکہ بعض روایات میں تو یہ بھی ہے کہ یہ تمام چیزیں حضرت علیؓ کے پیسوں سے خریدی گئی تھیں۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند آن لائن، فتویٰ نمبر ۱۷۳۴۴۷) ۔ حضرت فاطمہؓ کی رخصتی بھی نہایت سادگی سے ہوئی۔ آپ کے لئے نہ کوئی ڈولی منگوائی گئی، نہ کسی دوسری سواری کا انتظام کیا گیا، بلکہ وہ حضرت ام ایمنؓ کے ساتھ پیدل چل کر اس مکان میں پہنچ گئیں جو دلہا دلہن کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور جس کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا۔

غزوۃ الکُدْر:

غزوہ بدر سے واپس ہوئے ہفتہ بھر ہی ہوا تھا کہ یہ خبر پہنچی کہ بنو سُلَیْم جنگ پر آمادہ ہیں، اور اس مقصد کے لئے وہ کسی ایک مقام پر اکٹھے ہورہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں حضرت عُرفَطَۃ الغفاریؓ یا عبد اللہ ابن ام مکتومؓ کو حاکم مقرر فرمایا اور خود ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے بنو سُلَیم کی طرف بڑھے، ابھی کُدْر نامی چشمے کے قریب ہی پہنچے تھے کہ دشمنوں کو یہ خبر مل گئی کہ افواج اسلام ان کی طرف بڑھ رہی ہیں، یہ سنتے ہی دشمن میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کا جدھر سینگ سمایا اُدھر چلا گیا، اکثر لوگ پہاڑوں میں روپوش ہوگئے۔ ان میں مسلمانوں کا اس قدر خوف تھا کہ وہ اپنے اونٹ بھی ساتھ نہ لے جاسکے، تقریباً پانچ سو اونٹ تھے، ایک چرواہا ان کی دیکھ بھال پر مقرر تھا، مسلمانوں نے اونٹ اپنے قبضے میں لئے اور چرواہے کو گرفتار کرلیا۔ مدینے سے تین میل پہلے ایک جگہ صَرار کے نام سے ہے، وہاں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پانچواں حصہ الگ کرکے تمام اونٹ صحابہ میں تقسیم کردیئے۔ چرواہے کو جو بطور قیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا تھا،  رہا کردیا گیا۔ رہا ہونے کے بعد وہ شخص مسلمان ہوگیا، اس غزوے کا نام قَرْقَرَۃُ الْکُدْر بھی ہے، بعض کتابوں میں قَرارَۃُ الکُدْر بھی لکھا ہوا ہے۔

اس غزوے سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال اور ذوالقعدہ کے دو مہینے مدینہ منورہ میں ہی گزارے ، اس عرصے میں آپ نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہائی کے احکامات دیئے۔ (سیرت ابن ہشام: ۳/۵، الطبقات الکبریٰ: ۲/۳۱، المغازی للواقدی: ۱/۱۹۶)

بنو قَیْنقَاع کی عہدشکنی:

مدینہ منورہ میں اس وقت یہودیوں کے تین بڑے قبیلے آباد تھے، ان میں سے ایک قبیلہ بنو قَیْنقَاع تھا، جو خَزْرَج کا حلیف سمجھا جاتا تھا، دو قبیلے بنو النَّضِیْر اور بنُو قُرَیْظَہ تھے، یہ دونوں قبیلے اَوْس کے حلیف تھے۔(تفسیر ابن کثیر: ۱/۱۷۶) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف آوری کے بعد ان تینوں قبیلوں سے مصالحت کرنے میں پہل فرمائی، ان کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا، جس میں یہ عہد بھی شامل تھا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے، اور بیرونی حملہ آوروں کے خلاف دونوں مل کر لڑیں گے۔ اسی دوران غزوۂ بدر پیش آیا، مسلمانوں کی غیر متوقع اور شان دار فتح سے یہودی بوکھلا گئے، ابھی تک تو وہ مصلحتاً خاموش تھے اور اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کررہے تھے کہ وہ معاہدۂ امن کی خلوصِ دل کے ساتھ پاسداری کررہے ہیں، لیکن فی الحقیقت وہ اپنے دل میں نفرت، حسد، کینہ اور عداوت کی آگ سلگائے بیٹھے تھے۔ جنگ بدر میں بے مثال کامیابی کے بعد مسلمانوں کو جو قوت اور شوکت حاصل ہوئی اس نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا، دن بہ دن ان کی خباثتیں ظاہر ہونے لگیں، پہلے وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف در پردہ سازشیں کرتے تھے، اب کُھل کر کرنے لگے، انہوں نے معاہدۂ امن سے نکلنے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن ان کی ایک ایک حرکت اور عمل  سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ عہد شکنی اور بد عہدی پر آمادہ ہیں۔

جب صورت حال زیادہ سنگین ہوگئی یا یہ کہئے کہ پانی سر سے اونچا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جمع فرمایا اور نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ بغاوت سے باز آجائیں، معاہدہ  کی پابندی کریں، خود بھی امن سے رہیں اور ہمیں بھی سکون سے رہنے دیں۔

بنو قینقاع مدینے کے مضافات میں کسی جگہ رہتے تھے، اس علاقے کا نام ہی ان کے نام سے معروف ہوگیا تھا، عام طور پر ان کا پیشہ سونے چاندی کے زیورات بنانا تھا، کچھ لوگ لوہے وغیرہ سے گھریلو سازو سامان اور آلات حرب بھی تیار کیا کرتے تھے، بہادر اور جری تھے، خود ان کی اپنی فوج تھی، جو ۷۰۰؍ جوانوں پر مشتمل تھی، بنو قینقاع کو اپنے جوانوں پر بڑا ناز تھا، غالباً اسی لئے انھوں نے سرکشی اور بغاوت کی طرف قدم بڑھایا تھا، اس طرح بنو قینقاع کے یہودی نقض عہد کے اوّلین علم بردار بن گئے، اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے حالات پیدا کرنے میں سبقت کرنے والے بھی یہی لوگ قرار پائے۔ (دلائل البیہقی: ۳/۱۷۴، عیون الاثر: ۲/۴۴)

روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود ان کے محلّے میں تشریف لے گئے، انہیں جمع کیا اور ان کو رشد وہدایت کی تلقین فرمائی، آپؐ نے ارشاد فرمایا: اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ایسا عذاب نازل ہوجائے جیسا عذاب، بدر والے دن قریش پر آیا تھا، اسلام قبول کرلو، تم جانتے ہو اور تمہاری کتابوں میں بھی لکھا ہوا ہے کہ میں اللہ کا نبی اور اس کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے تمہاری قوم سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤگے اور میری نبوت ورسالت کا اعتراف کروگے۔ یہود آپ کا وعظ سن کر غصّے سے تلملا اٹھے، اور کہنے لگے: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپؐ اس مغالطے میں نہ رہیں کہ ہم قریش جیسے بزدل او ر ناتجربہ کار ہیں، آپؐ ان کی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھا کر ان پر غالب آگئے، ہم سے  سابقہ پڑا تو آپ یہ بات جان لیں گے کہ ہم بزدل نہیں ہیں بلکہ شیر دل مرد ہیں۔ (سنن أبی داؤد: ۳، ۱۵۴، رقم الحدیث: ۳۰۰۱، تفسیر الطبری: ۳/۱۲۸، سیرۃ ابن ہشام: ۳/۱۰)۔

مسلم عورت سے بدسلوکی

اس دوران ایک انتہائی قابل مذمت واقعہ یہ پیش آیا کہ یہودیوں نے اپنے محلّے میں ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا اور اس کی بے حرمتی کی۔

 ہوا یوں کہ مدینے کی ایک مسلمان خاتون اپنے زیورات بنوانے یا لینے کے لیے کسی یہودی سُنار کی دکان پر گئی، اور دکان مالک سے بات چیت کرنے لگی، اتنے میں ایک دوسرا یہودی چپکے سے آیا، اور ایک کانٹا اس عورت کی پشت کے لباس سے اٹکا دیا، جب وہ عورت واپس جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو کانٹے کی وجہ سے اس کا لباس سرک کر نیچے کی طرف آگیا، یہ دیکھ کر دکان دار اور آس پاس کے یہودی ہنسنے لگے، عورت اپنی بے پردگی پر غصے سے تلملا اٹھی اور چیخنے چلانے لگی، اس کی چیخ پُکار سن کر ایک مسلمان جو پہلے سے بازار میں موجود تھا وہاں آگیا، اس نے دکان دار کو قتل کردیا، یہودیوں نے انتقاماً اس مسلمان کو قتل کرڈالا، مقتول مسلمان کے ورثاء اور اہل خاندان یہ معاملہ لے کر مسلمانوں کے پاس پہنچے، اہل اسلام میں اس بدترین واقعے سے غصہ اور ناراضگی پھیل گئی، دوسری طرف بنو قینقاع کے یہودیوں نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے پابند نہیں رہے۔ (سیرت ابن ہشام: ۳/۸) (جاری)

29 اکتوبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/o-nation-jews-allah-chastisement-part-56/d/125685

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..