New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 08:43 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

مولانا ندیم الواجدی

15 اکتوبر،2021

عمرو بن عبداللہ کی رہائی

پورا نام ابوعِزّۃ عمرو بن عبداللہ الجہمی ہے۔ یہ ایک غریب آدمی تھا، کثیر العیال بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپ تو جانتے ہیں کہ میں ایک غریب آدمی ہوں، میں کہاں سے مال پیش کروں، میں آپؐ کی نظر کرم کا محتاج ہوں، مجھ پر احسان فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فدیہ لئے بغیر رہا فرمادیا اور اسے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ رِہا ہونے کے بعد اس نے آپ ؐ کی مدح میں ایک قصیدہ بھی لکھا، رہائی کے بعد وہ مکہ پہنچا، مشرکین سے ملا اور ان کی باتوںمیں آگیا۔غزوۂ احد میں لڑنے کے لئے آیا، گرفتار ہوا اور دوبارہ آپ ؐکی خدمت میں لایا گیا، آپؐ نے اس سے پوچھا کیا تجھ پر پھر احسان کردیا جائے، اس نے عرض کیا :میں دوسری مرتبہ احسان کی درخواست کرکے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا۔ (البدایہ والنہایہ، ۳؍۱۱۳)

سہیل بن عمرو کا قصہ

بدر کے قیدیوں میں سہیل بن عمرو بھی تھے، یہ قریش کے بہترین خطیب تھے، اپنی طلاقت لسانی اور فصاحت بیانی سے لوگوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے تھے اور ان کے خیال و فکر کو متاثر کردیتے تھے، بدر میں گرفتار تو ہوگئے مگر روحاء کے مقام پر اپنے نگراں مالک بن دُخشم کوجُل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ انہیں تلاش کیا جائے ۔  آپؐ بھی ان کی تلاش میں نکلے، یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑ گئی، کوئی اور دیکھتا تو حکم کی تعمیل میں گردن اڑا دیتا، مگر آپؐ نے گرفتار کرنے کا حکم دیا، حضرت عمر بن الخطابؓ نے عرض کیا : اگر اجازت ہو تو ان کے سامنے کے دانت توڑ دوں؟ تاکہ وہ آپ کے خلاف بکواس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ آپؐ نے فرمایا:نہیں، رہنے دو۔  ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے کوئی ایسا کام لے جسے تم پسند کرو۔ آپؐ کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ نکلی، سہیل مشرف بہ اسلام ہوئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد جب رنج و غم کی وجہ سے صحابہ کرامؓ کی عقلیں مائوف ہوچکی تھیں، حضرت ابوبکرؓ نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور یہ آیت پڑھی: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ  … الخ۔تقریر سن کر تمام صحابہؓ ہوش میں آگئے اور ایسا لگا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے، اس وقت حضرت سہیل بن عمروؓ مکہ مکرمہ میں تھے، وہاں بھی صحابہ کرامؓ کا یہی حال تھا۔ اس موقع پر حضرت سہیل بن عمروؓ نے زبردست تقریر کی اور یہ کہہ کر ارتداد کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر بند لگا دیا کہ اے لوگو! تم نے ایمان لانے میں بڑی تاخیر کی تھی، ارتداد میں جلدی کرنے کی غلطی نہ کرو، ہوش سے کام لو۔  اس تقریر سے لوگوں کے لڑکھڑاتے ہوئے قدم رک گئے اور وہ دین حنیف پر جمے رہے، یہی وہ کام ہے جو سہیلؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مکے میں انجام دیا اور جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا ۔ (البدایہ والنہایہ، ۳؍۳۱۱)

تعلیم کے بدلے رہائی

قیدیوں میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس دینے کے لئے کچھ بھی نہ تھا، ان میں سے بعض پڑھے لکھے بھی تھے اور کچھ لوگ فدیہ دے کر رہا بھی ہوسکتے تھے مگر وہ پڑھے لکھے تھے، اس طرح کے تمام قیدیوں کو مکلف کیا گیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، ایک قیدی دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر آزادی کا مستحق قرار پایا۔

عامر الشعبی کہتے ہیں کہ ایک قیدی کا زر فدیہ کم و بیش چار ہزار درہم تھا۔ (طبقات ابن سعد، ۳؍۲۲) اتنی بڑی رقم کے عوض کچھ بچوں کو پڑھا دینا بڑی سہولت اور مالی منفعت کا سبب تھا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں تعلیم کی کس قدر اہمیت تھی، حالاں کہ اس وقت مسلمانوں کو مال کی زیادہ ضرورت تھی، مگر آپؐ نے مال کے بجائے تعلیم کو مقدم رکھا، حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ تعلیم کو اولیت دی ہے اور جہالت کے خاتمے پر زور دیا ہے۔  پہلی وحی کی ابتداء ہی اقرأ سے ہوئی ہے، جو بہ جائے خود تعلیم کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں بھی عرب کے لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے، اگرچہ اکثریت تعلیم سے بے بہرہ تھی، مگر ان میں کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور تھے جو پڑھ بھی لیتے تھے اور لکھ بھی سکتے تھے۔ مثال کے طور پر حضرت عمر ابن الخطابؓ دور جاہلیت میں قبائلی سرداروں سے خط و کتابت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے، مدینہ منورہ میں بھی متعدد اصحابِ رسول لکھنا جانتے تھے، ان حضرات سے قرآن کریم کی آیات لکھنے کا کام لیا جاتا تھا۔

کچھ ایسے بھی تھے

مشرکین کے لشکر میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہوچکے تھے، مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی، جیسے حارث بن زمعہ بن الاسود، ابوالعیش بن الفاکہہ بن المغیرہ، ابوالقیس بن الولید بن المغیرہ، علی بن اُمیہ بن خلف، عاص بن منَبّہ بن الججاج، یہ لوگ ہجرت کر سکتے تھے، ان کے ساتھ کوئی مجبوری نہیں تھی، مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی، اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ یہ تمام لوگ سماجی مجبوریوں کی بنا پر مشرکین کی فوج کا حصہ بنے۔ میدان بدر میں مسلمانوں کے مقابل آئے، اور سب کے سب مارے گئے۔ ایسے لوگوں کے متعلق سوال پیدا ہوا کہ ان کی مغفرت ہوگی یا نہیں؟ قرآن کریم نے صاف طور پر اعلان کردیا کہ ہجرت کی استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہ کرنے والے مسلمان کہلائے جانے کے مستحق نہیں ہیں، پھر اللہ و رسولؐ کے مقابلے پر جنگ میں حصہ لینا بھی ان کے ایمان و اسلام پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ سورۂ نساء میں ہے ’’جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے تم کس حالت میں تھے، وہ کہنے لگے ہم تو زمین میں بے بس بنا دئیے گئے تھے۔ فرشتوں نے کہا کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘ (النساء:۹۷) اگلی آیت میں ان لوگوں کا استثناء بھی ہے جو کسی حقیقی عذر کی بنا پر ہجرت نہ کرسکے۔

ابتدائِ اسلام میں مکے سے مدینے کی طرف ہجرت فرض تھی، فتح مکہ کے بعد یہ فرضیت منسوخ کردی گئی، اب قیامت تک جو ہجرت کی جائے گی وہ مستحب ہوگی۔ (صحیح البخاری، ۹؍۳۴۵، رقم الحدیث ۲۵۷۵، صحیح مسلم، ۷؍۸۳، قم الحدیث، ۲۴۱۲)

مالِ غنیمت کی تقسیم

مشرکین قریش قتل بھی ہوئے، گرفتار بھی کئے گئے اور اپنا قیمتی سامان چھوڑ کر بھی بھاگے ، مقتولین اور گرفتار شدگان کی زرہیں، ان کا اسلحہ وغیرہ بھی مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے طور پر ہاتھ لگا، جنگ کے خاتمے کے بعد بہت سے صحابہ کو مال غنیمت سمیٹنے اور اسے ایک جگہ لا کر جمع کرنے کا کام سونپا گیا، صحابہؓ کی ایک جماعت بھاگنے والوں کے تعاقب میں رہی اور انہیں دور تک کھدیڑ کر واپس ہوئی۔ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مامور کئے گئے، اس خیال سے کہ کوئی ہزیمت خوردہ اور مایوسی کا شکار مشرک رسولؐ اللہ کے خیمے کی طرف نہ آ نکلے، اس طرح تین جماعتیں ہوگئیں، تینوں کی ذمہ داریاں مختلف مگر اہم تھیں، جو لوگ میدانِ جنگ میں بکھرا ہوا یا کفار کے خیموں میں پڑا ہوا سامان اکٹھا کر رہے تھے، انہیں یہ گمان ہوا کہ کیوں کہ ہم یہ سامان جمع کر رہے ہیں، اس لئے اس پر ہمارا حق ہے، دوسری طرف دشمنوں کی تلاش میں نکلے ہوئے صحابہ کا خیال تھا کہ ہمارا کام بھی اہم تھا، ہم دشمنوں کو دور تک بھگانے میں کامیاب رہے۔ رسول اکرم ؐ کی حفاظت پر مامور دستے کا کہنا یہ تھا کہ سب سے اہم کام تو یہ تھا کہ آپ کی ذات گرامی کو کوئی گزند نہ پہنچے اور یہ اہم کام ہم نے انجام دیا ہے۔(مسند احمد بن حنبل، ۵؍۳۲۴، رقم الحدیث ۲۲۷۶۲)یہ پہلی جنگ تھی، اور اس وقت تک مالِ غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا، ہوسکتا ہے قبائلی جنگوں میں یہ صورتِ حال رہی ہو کہ جس کے جو ہاتھ لگے وہ اسی کا ہے، مالِ غنیمت کی تقسیم کے سوال پر صحابہ کرامؓ میں جو بحث ہوئی وہ اس وقت کے ماحول کی مناسبت سے بالکل صحیح تھی۔

اختلافِ رائے کے اس پس منظر میں سورۂ انفال کی پہلی آیت نازل ہوئی، اس میں ایک طرف تو یہ واضح کردیا گیا کہ جو مال غنیمت تم لوگوں کے ہاتھ لگا ہے، وہ سب اللہ اور اس کے رسول کا ہے، لہٰذا تم لوگ اس معاملے سے خود کو الگ رکھو، جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تمام صحابہ نے جو مال و اسباب جمع کیا تھا وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، آپ نے چند صحابہؓ کو اس سامان کا محافظ، نگراں اور ذمہ دار بنا کر آگے روانہ کردیا۔

اس سفر میں اسی سورہ کی ایک اور آیت نازل ہوئی، الحمد للہ تمام صحابہ اطاعت اور استغناء کے امتحان میں کامیاب ہوچکے تھے، سب کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اس مال پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ یہ تو اللہ اور اس کے رسول کا ہے، مگر صحابہؓ کی بہادری، جاں نثاری اور جاں فشانی کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں محروم نہ رکھا جائے، اس لئے مناسب موقع پر یہ حکم نازل ہوا کہ اس مال کو اللہ کے بیان کردہ ضابطے کے مطابق تقسیم کردیا جائے، وہ آیت جو مالِ غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں نازل ہوئی یہ ہے: ’’اور (اے مسلمانو) یہ بات جان لو کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ، اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں  کا حق ہے۔‘‘(الانفال: ۴۱)

مقام صفراء میں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچواں حصہ رکھ کر باقی چار حصے صحابہ کرامؓ میں تقسیم فرمادیئے۔

حضرت عبادہ بن الصامتؓ سے جو ایک مشہور صحابی ہیں سورۂ انفال کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کس پس منظر میں نازل ہوئی، انہوں نے فرمایا ہم بدریین  (اہل بدر)میں مالِ غنیمت کو لے کر اختلاف ہو گیا تھا اور کچھ آوازیں بھی بلند ہوگئی تھیں (عموماً بحث کے دوران ایسا ہوجاتا ہے) اس وقت اللہ رب العزت نے یہ مال ہم سے واپس لے لیا اور یہ حکم نازل فرمایا کہ اب اس پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے، یہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے (مگر بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام مال مسلمانوں کے مابین برابر تقسیم کردیا۔ (مسند احمد بن حنبل، ۵؍۳۲۲، رقم الحدیث، ۲۲۷۴۷)

مال غنیمت میں غیر بدریین کا حصہ

کچھ صحابہؓ ایسے بھی تھے جو بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے مگر ان کو مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا گیا، یہ وہ لوگ تھے جو کسی مجبوری کے تحت جنگ میں شرکت نہ کرسکے تھے، مثال کے طور پر حضرت عثمان بن عفانؓ، ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت بیمار تھیں، ان کی تیمار داری کے لئے مدینے میں حضرت عثمانؓ کا رہنا ضروری تھا، اسی طرح حضرت اُسامہ بن زید بن حارثہؓ بھی جنگ میں شرکت کے متمنی تھے، وہ گھر سے نکل بھی چکے تھے، ان کو راستے سے واپس کیا گیا،ایک تو اس لئے کہ وہ ابھی کم عمر تھے اور دوسرے اس لئے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رقیہؓ کی دیکھ بھال کا حکم دیا تھا۔ (دلائل النبوۃ البیہقی، ۴۶۳۱۸، رقم الحدیث، ۳۲۷۹)

اسی طرح ایک اورصحابی حضرت اُمامہؓ بھی جنگ میں شریک نہ ہوسکے کیوں کہ ان کی والدہ بیمار تھیں، جس وقت مجاہدین کے نکلنے کا سلسلہ شروع ہوا تووہ بھی تیارہو گئے، ابوبردہؓ نے جو ابوامامہؓ کے ماموں تھے، ان سے کہا کہ تم مت جاو، اپنی والدہ کے پاس رہو اور ان کی خدمت کرو، ابوامامہؓ نے جواب دیا، آپ یہاں رکیں، آپ میری والدہ کے بھائی ہیں، آپ کو ان کی دیکھ بھال کرنی چاہئے، دونوں کا معاملہ رسول اکرم ﷺکی عدالت عالیہ میں پیش ہوا، آپ نے ابوامامہ کو حکم دیا کہ وہ رکیں اور اپنی والدہ کی تیمارداری کریں۔ اس طرح ابوبردہ چلے گئے اور ابوامامہ مدینے میں رہ گئے۔ (مجمع الزوائد، ۳؍۳۱)

بعض صحابہؓ ان دنوں کچھ اور طرح کی مہمات میں مصروف تھے، وہ بھی غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے، حضرت ابولبابہؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کی ذمہ داری دے کر راستے سے واپس بھیج دیا تھا، عاصم بن عدیؓ کو مدینے کے بالائی علاقے میں ذمہ دار بنایا گیا تھا، وہ وہاں مصروف تھے، حارث بن حاطبؓ قبیلۂ بنی عمرو بن عوف میں دعوتی مہم پر تھے، حارث بن الصِّمہؓراستے میں گر گئے تھے، ان کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، انہیں بھی واپس بھیج دیا گیا تھا۔ حضرت بن جبیر کے پائوں پر پتھر آپڑا تھا، ان کو بھی مقام صفرا سے واپس کردیا گیا تھا۔ سعد بن مالکؓ راستے میں فوت ہوگئے تھے، صبیح کو بیماری کی وجہ سے واپس ہونا پڑا تھا۔ ان تمام لوگوں کو مال غنیمت میں سے پورا پورا حصہ دیا گیا۔

 جنگ کے دوران چودہ صحابہؓ نے جام شہادت نوش کیا تھا، ان کے اہل و عیال کو بھی مالِ غنیمت دیا گیا، شہداء کی تکریم اور ان کے پس ماندگان کی دل جوئی و دل بستگی کایہ پہلا نمونہ ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیائے انسانیت کے لئے پیش فرمایا۔ (السیرۃ النبویہ لابی الشہبہ، ۲؍۱۷۶)(جاری)

15 اکتوبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/respect-martyrs-part-54/d/125582

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..