New Age Islam
Sun Oct 17 2021, 03:45 PM

Urdu Section ( 3 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

مولانا ندیم الواجدی

1 اکتوبر،2021

مقتولین بدر کا انجام

بالآخر جنگ اختتام کو پہنچ گئی، جن کو بھاگنا تھا وہ بھاگ گئے، جن کو گرفتار ہونا تھا وہ پا بہ جولاں ایک طرف کو بٹھا دئیے گئے، مقتولین کی لاشیں جو پورے میدان میں بکھری پڑی تھیں اکٹھی کی گئیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تنہائے مردہ کے پاس تشریف لائے۔ آپؐ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ اپنے نبی کے بڑے ہی برے رشتے دار تھے، تم نے مجھے جھٹلایا، دوسروں نے میری تصدیق کی، تم نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا، دوسروں نے میری مدد کی، تم نے مجھے وطن سے نکال دیا، دوسروں نے مجھے پناہ دی۔ (سیرت ابن ہشام، ۹؍۶۳۹)

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاشوں کو ایک کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا، چنانچہ تعمیل حکم میں مقتولین کی تمام لاشیں ایک کنویں میں پھینک دی گئیں۔ امیہ بن خلف کی لاش زرہ میں پڑی پڑی پھول گئی تھی، جب اسے اٹھانے کی کوشش کی گئی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، اس لئے اس کی لاش وہیں چھوڑ دی گئی اور اس پر مٹی اور پتھر ڈال دئیے گئے۔اس کے بعد آپؐ نے کنویں کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا : اے عتبہ ابن ربیعہ، اے شیبہ ابن ربیعہ، اے فلاں شخص، اے فلاں شخص: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ہے۔ حضرت عمر ابن الخطابؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپ مرے ہوئے لوگوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میری بات ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، فرق صرف یہ ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ (صحیح مسلم، ۱۴؍۳۷، رقم الحدیث۵۱۲۱، سنن النسائی، ۷؍۲۱۵، رقم الحدیث ۲۰۴۸، صحیح البخاری، ۱۲؍۳۷۵، رقم الحدیث ۳۶۸۲)

مکہ پہنچی شکست کی خبر

مکہ مکرمہ کے مشرکین پر شکست کی خبر بجلی بن کر گری، اوّل لحظہ میں تو انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ محمد(ﷺ) اور ان کے ساتھی جو انتہائی کمزور ہیں ہمارے بہادروں پر غالب آجائیں، مگر جب شکست کی خبریں تواتر کے ساتھ پہنچیں تو انہیں یقین کرنا ہی پڑا، سب سے پہلے یہ خبر حَیسُمَان بن عبداللہ الخزاعی کے ذریعے ملی، جیسے ہی وہ مکہ پہنچا، لوگوں نے اسے گھیر لیا اور پوچھنے لگے: وہاں کی کیا خبر ہے؟ تم نے ہمارے لوگوں کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا کہ تمام سردارنِ قریش اور زعمائِ قوم قتل کردئیے گئے۔ لوگوں نے پوچھا: تم کن سرداروں کی بات کر رہے ہو؟ اس نے نام لینے شروع کئے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالحکم بن ہشام، امیہ بن خلف، زمعۃ بن الاسود، نبیہ بن الحجاج، منبہ بن الحجاج، ابوالبختری بن ہشام، ابھی یہیں تک پہنچا تھا کہ صفوان بن امیہ نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا کہ میرے خیال سے تو اس کی عقل ماری گئی ہے، وہ ہوش میں نہیں ہے، اس سے میرا نام لے کر پوچھو کہ اس کا انجام کیا ہوا، لوگوں نے پوچھا: اچھا صفوان ابن امیہ کے بارے میں کچھ کہو، حَیسُمان نے کہا وہ تو زندہ حطیم میں بیٹھا ہوا ہے، البتہ اس کا باپ بھی مارا گیا ہے اور بھائی بھی۔ (سیرت ابن ہشام، ۱؍۶۰۶)

حضرت ابورافع جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادہ کردہ غلام ہیں، وہ ان دنوں مکہ مکرمہ ہی میں تھے اور عباس بن عبدالمطلب کی خدمت میں رہتے تھے، کہتے ہیں کہ اسلام ہمارے گھر میں داخل ہوچکا تھا، میں نے اسلام قبول کرلیا تھا، عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ام الفضل بھی مسلمان ہوگئی تھیں، عباس بھی مسلمان تھے، مگر انہوں نے اسلام چھپا رکھا تھا، ایک تو اس وجہ سے کہ وہ قوم میں بڑی عزت اور حیثیت کے مالک تھے، اسلام لانے کی خبر سے ان کی یہ حیثیت متاثر ہوسکتی تھی۔ دوسرے اس لئے کہ ان کا بڑا سرمایہ لوگوں میں بطور قرض پھیلا ہوا تھا، اس کے ڈوبنے کا خطرہ بھی تھا، ابورافع کہتے ہیں کہ ابولہب نے بدر کی جنگ میں شرکت نہیں کی تھی، بلکہ اپنی جگہ عاص بن ہشام کوبھیجا تھا، جب جنگ ختم ہوگئی اور قریش کی شکست کی خبریں ہمارے کانوں تک پہنچیں تو ہمیں بے حد خوشی ہوئی اور ہمارے چہرے فخر و مسرت سے کھل اٹھے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں ایک کمزور انسان تھا، محنت مزدوری کرکے پیٹ پالتا تھا، عباس گھرانے کی خدمت میں لگا رہتا تھا، ایک روز میں زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھا ہوا پیالے بنا رہا تھا، ام الفضل بھی وہاں بیٹھی ہوئی تھیں، ہم لوگ شکست کی خبروں پر تبصرہ کر رہے تھے اور بے حد خوش تھے، اتنے میں ابولہب وہاں آیا اور زمزم کے اوپر جو خیمہ تنا ہوا تھا اس کی طناب کے پاس آکے بیٹھ گیا، میری پشت اس کی پشت کی طرف تھی، لوگوں نے اسے وہاں بیٹھا ہوا دیکھا تو اس سے کہنے لگے کہ یہ ابوسفیان بن الحارث بن عبدالمطلب بدر سے آیا ہے، ابولہب نے اس سے کہا: یہاںمیرے پاس آکر بیٹھو، خدا کی قسم تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبریں ضرور ہیں، ابوسفیان نے کہا: خدا کی قسم جب جنگ چھڑی تو انہوں نے (مسلمانوں) نے ہمیں جس طرح چاہا ہنکایا، جس طرح چاہا مارا، جس طرح چاہا ہماری مشکیں کسیں، اللہ کی قسم ہم نے سفید چہرے والے لوگوں کو دیکھا جو زمین و آسمان کے درمیان چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے، نہ وہ کسی کو چھوڑ رہے تھے اور نہ کوئی ان کے سامنے ٹک رہا تھا، ابورافع کہتے ہیں کہ میں فرط مسرت سے بول اٹھا کہ یہ عام انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے۔ ابولہب میری بات سن کر آگ بگولہ ہوگیا اور مار مار کر مجھے بے حال کردیا، میں ایک کمزور شخص تھا، ام الفضل میرے دفاع میں اٹھیں اور ابولہب کو دھکا دے کر اُسے میرے اوپر سے اٹھایا اور اس کے سر پر دونوں ہاتھ مار کر کہنے لگیں کہ اگر اس کا مالک (عباس)یہاں نہیں ہے تو تُو اسے کمزور اور بے سہارا سمجھ کر پیٹ رہا ہے۔ ابورافع کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ روز بعد ابولہب طاعون میں مبتلا ہو کر کتے کی موت مر گیا۔ (سیرت ابن ہشام، ۱؍۶۰۶)

بہرحال شکست کی خبروں نے تمام مشرکین مکہ کو غم و اندوہ اور مایوسی میں مبتلا کردیا، ہر گھر پر سوگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی، در و دیوار سے ماتم اور نوحوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ابوسفیان ،جو اس تجارتی قافلے کا سر غنہ تھا اس خبر سے سکتے میں رہ گیا، اس نے قسم کھائی کہ وہ اس شکست کا بدلہ ضرور لے گا۔ اس کی بیوی ہندہ بھی اپنے باپ، بھائی اور چچا کے غم میں واویلا کرنے لگی اور کہنے لگی کہ میں حمزہؓ اور علیؓ سے ان تینوں کی موت کا بدلہ ضرور لوں گی۔(سیرت ابن ہشام، ۱؍۶۰۷)

مدینے میں جشن کا سماں

جنگ کے خاتمے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہؓ اور زید بن حارثہؓ کو مدینہ منورہ روانہ کیا تاکہ وہ دونوں وہاں جا کر مسلمانوں کو جنگ میں فتح یابی کی خوش خبری سنا دیں۔ مسلمانانِ مدینہ کو یہ خبر مل چکی تھی کہ اس وقت اہل اسلام اور کفار کے لشکر آمنے سامنے ہیں اور جنگ برپا ہونے والی ہے، فتح و نصرت کی دعائیں ہورہی تھیں، مگر تشویش بھی تھی کیوں کہ مسلمان تعدادمیں کم تھے اور وہ جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے، ان کے کان کسی خبر کے منتظر تھے اور نگاہیں بدر سے آنے والے راستے پر ٹکی ہوئی تھیں کہ یہ دونوں قاصد تیز رفتاری کے ساتھ مدینے پہنچ گئے، عبداللہ ابن رواحہؓ نے مدینے کے بالائی علاقوں میں جا کر فتح کی خوش خبری سنائی اور زید بن حارثہؓ نے نشیبی حصوںمیں یہ خبر پہنچائی کہ ہم جیت گئے ہیں۔

حضرت زید بن حارثہؓ کے بیٹے حضرت اُسامہؓ مدینہ منورہ میں ہی تھے، حضرت عثمان غنیؓ کی اہلیہ بنت رسولؐ حضرت رقیہؓ بیمار تھیں، حضرت عثمانؓ بھی اسی لئے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ حضرت اسامہؓ جو چھوٹے بچے تھے وہ بھی حضرت رقیہؓ کی خدمت میں لگے ہوئے تھے، حضرت اسامہؓ کہتے ہیں کہ جس وقت فتح کی خبر مدینے پہنچی ہم لوگ حضرت رقیہؓ کو جنت البقیع میں دفن کرکے واپس آئے تھے، عجیب موقع تھا، ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم المرتبت صاحب زادی کی وفات کا حادثہ تھا اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں یقینی طور پر اس بات کا احساس ہر دل میں رہا ہوگا۔

دوسری طرف ٹھیک ان کی تدفین کے وقت مسرت انگیز خبر پہنچی کہ مسلمان کفار پر غالب آچکے ہیں، حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ جب میں اپنے والد زید بن حارثہؓ کے پاس پہنچا تو وہ مسجد نبویؐ میں کھڑے ہوئے تھے اور ان کے چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تھا، وہ کہہ رہے تھے لوگو! عتبہ مارا گیا، شیبہ مارا گیا، ابوجہل مارا گیا، انہوں نے بہت سے مشرکوں کے نام لئے، میں نے کہا: اباجان! کیا یہ سچ ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں: اے بیٹے: خدا کی قسم یہ سچ ہے۔

حضرت اسامہؓ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ میں لوگوں کی آوازیں سن کر گھر سے باہر آیا تو دیکھا کہ میرے والد زید بن حارثہؓ فتح و کامرانی کے واقعات بیان کر رہے تھے، خدا کی قسم! مجھے ان کی بات کا یقین نہیں ہوا، جب تک ہم نے قیدیوں کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا، ہم یہی سمجھتے رہے کہ وہ شاید ہمیں تسلی دے رہے ہیں اور شکست کی خبریں چھپا رہے ہیں۔ دوسری طرف عبداللہ ابن رواحہؓ ایک گھوڑے پر سوار یہ آواز لگا رہے تھے، اے گروہِ انصار! خوش ہوجائو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں، بہت سے مشرکین قتل کردئیے گئے ہیں اور بہت سے قیدی بنا لئے گئے ہیں۔

عاصم ابن عدی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن رواحہؓ سے پوچھا: کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اللہ کی قسم، کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں کو لے کر تشریف لائیں گے، عبداللہ ابن رواحہؓ نے ایک ایک انصاری کے دروازے پر پہنچ کر یہ خوش خبری سنائی۔

بدر میں تین دن تک قیام

جنگ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام رفقاء سمیت تین دن میدانِ بدر میں ٹھہرے رہے، جیسا کہ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت سے پتہ چلتا ہے۔

بہ ظاہر تین دن تک بدر میںقیام کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ تمام رفقاء جنہوں نے جنگ میں جی جان سے محنت کی اور مشقت برداشت کی تھوڑا سستا لیں اور آرام کرلیں، اس کے بعد لمبا سفر ہے، اس دوران آرام کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملے گا۔ دوسرے شہداء کی تدفین کے لئے بھی وقت درکار تھا، کچھ صحابہ زخمی بھی تھے، ان کی مرہم پٹی بھی ضروری تھی، مالِ غنیمت بھی اکٹھا کرنا تھا،مشرکین کی تلواریں، تیر، خَوْدْ اور دوسرے ہتھیار میدان میں بکھرے پڑے تھے، ان کو سمیٹنا بھی تھا۔ پہاڑی کے پیچھے ان کے جانور اور سامانِ سفر وغیرہ تھا، جسے وہ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ یہ سب اموالِ غنیمت تھے، چناںچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کے ذریعے یہ تمام سامان جمع کرایا اور عبداللہ ابن کعب الانصاریؓ کو اس کا ذمہ دار بنا کر یہ تمام مال ان کے سپرد کردیا۔ستر کے قریب قیدی بھی تھے، ان کو دیکھنا بھی تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے، ان کو ساتھ لے کر جانا بھی تھا، اس کا انتظام بھی کرنا تھا، ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے بدرمیں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہنا وقت کا تقاضا تھا، اس لئے آپؐ نے تین روز تک وہاں قیام فرمایا، اس کے بعد مدینے کی طرف روانہ ہوئے۔

تین دن کے بعد روانگی ہوئی، تمام قیدی صحابہؓ کی تلواروں کے سائے میں ساتھ تھے۔ کئی شب و روز سفر کرتے ہوئے اور مختلف وادیوں اور قبیلوں سے گزرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑتا ہوا مدینہ منورہ پہنچا، دشمنوںپر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی، بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا، عبداللہ ابن اُبی منافق اور اس کے ساتھی بھی جنگ بدر میں اس بے مثال کامیابی سے ڈر کر بہ ظاہر مسلمان ہوگئے۔ (زاد المعاد، ۳؍۱۴۵)

قیدیوں کیساتھ سلوک پر مشورہ

اس جنگ میں قریش کے ستر افراد مارے گئے اور ستر ہی قید بھی ہوئے، ان قیدیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب، چچا زاد بھائی عقیل بن ابی طالب اور داماد ابوالعاص بن الربیع بھی تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ مطلب یہ تھا کہ ان کو مار ڈالا جائے یاان کو زر فدیہ لے کررہا کیا جائے؟

حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ سب لوگ آپ کے چچازاد بھائی اور خاندان کے لوگ ہیں، میری رائے ہے ان کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت سے نواز دے اور یہ لوگ کفار کے خلاف ہماری قوت اور طاقت بن جائیں۔ حضرت عمربن الخطابؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ لوگ کفر و شرک کے سرغنہ اور گروہ مشرکین کے لیڈر اور پیشوا ہیں، ان کو چھوڑنا صحیح نہ ہوگا، ہم میں سے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہے وہ اسے آخری انجام تک پہنچا دے۔ (صحیح مسلم، ۹؍۲۱۴، رقم الحدیث ۳۳۰۹) (جاری)

1 اکتوبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/badr-makkah-madinah-part-52/d/125500

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..