New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 01:08 AM

Urdu Section ( 20 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

مولانا ندیم الواجدی

17 ستمبر،2021

 ابوجہل کے قتل کے سلسلے میں دو روایتیں او ربھی ہیں،ایک روایت میں یہ ہے کہ ابوجہل کو معاذبن عفراؓء او رمعاذ بن عمر بن جموحؓ نے قتل کیا۔ معاذ بن عمر بن جموح نے اس کے قتل کی تفصیل بھی بیان کی ہے کہ انہوں نے ابوجہل کی پنڈلی پر زور سے تلوار ماری،جس سے اس کی ٹانگ کٹ گئی اور وہ زمین پر گر گیا، ابوجہل کے بیٹے عکرمہ نے یہ منظر دیکھا تو تیزی سے آیا اور معاذ بن عمر بن جموحؓ کے کاندھے پر زور سے تلوار ماری، اس کی ضرب سے معاذ کا بازو کٹ کر لٹک گیا، مگر وہ اسی حال میں لڑتے رہے، جب لٹکا ہوا بازو زیادہ تکلیف دینے لگا تو انہوں نے ایک جھٹکے سے وہ بازو اپنے کاندھے سے الگ کر کے پھینک دیا اور جب تک جنگ جاری رہی، وہ اسی طرح لڑتے رہے۔(سیرت ابن ہشام، 635/1) دوسری روایت حضرت انس بن مالک ؓ کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی ہے جو جاکر دیکھے او رآکر بتلائے کہ ابوجہل کا کیا حال ہوا ہے؟ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن ابن مسعودؓ میدان میں گئے، دیکھا ابوجہل زمین پر گرا پڑا ہے او رسسک رہا ہے، اس کو اس حال پر عفراء کے دونوں بیٹوں نے پہنچایا تھا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: میں نے ابوجہل کی داڑھی پکڑ کر کھینچی او راس کے سینے پر پیر رکھ کر کہا: اے دشمن خدا! اللہ تجھے رسوا کرے اور ذلت سے ہم کنار کرے۔ابوجہل نے آنکھیں کھولیں او رکہنے لگا کہ اے بکریوں کے چرانے والے، تو نہایت بلند مقام (میرے سینے) پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا تمام تعریفیں اس ذات پاک کے لئے ہیں جس نے مجھے تیرے سینے پر چڑھ کر بیٹھنے کی قدرت عطا کی۔ اس نے پوچھا: کون غالب رہا؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غالب رہے۔اس نے کہا:اب تیرا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: تیرا سر قلم کروں گا۔کہنے لگا: یہ میری تلوار لے، اس سے میرا سر دھڑ سے جدا کرنا،یہ بہت تیز ہے۔ اس سے تیرا مقصود بھی پورا ہوگا اور میری سرشانوں کے پاس سے کاٹنا تاکہ دیکھنے والوں کی ہیبت ناک معلوم نہ ہو او رمحمد سے کہنا کہ میرے دل میں گزشتہ دنوں کی بہ نسبت آج تمہارے لئے بغض اور عداوت زیادہ ہے، اس کے بعد میں نے اس کاسرقلم کیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا کٹا ہوا سر دیکھ کر پہلے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”ھذا فرعون ھذہ الامۃ“ یہ اس امت کا فرعون تھا۔(مسند امام احمد بن حنبل، 60/9، رقم الحدیث 4025، صحیح السیرۃ النبویہ، ص: 242)

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر نام نہاد ابوجہل کو قتل کرنے کا شرف کس نے حاصل کیا؟ اس سلسلے میں شارحین حدیث نے مختلف روایات کے درمیان جمع و تطبیق سے کام لیا ہے، چنانچہ مشہور شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ معاذ بن عفراءؓ او رمعوّذ بن عفراءؓ نے ابوجہل پر ایک ساتھ حملہ کیا او راسے شدید طور پر زخمی کردیا، پھر معوذ بن عمر و بن جموحؓ ادھر سے گزرے، انہوں نے ابوجہل پر زبردست وار کیا او راسے ڈھیر کردیا، یہ لوگ اسے مردہ سمجھ کر واپس ہوگئے،لیکن وہ زندہ تھا، حضرت عبداللہ بن مسعو دؓ اس کا حال جاننے کے لئے قتل گاہ میں آئے تو اس وقت تک اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہوں نے اس سے بات بھی کی، اس حالت میں بھی اس کی انانیت اور سرکشی برقرار تھی۔ عبداللہ بن مسعودؓ اس کا سر کاٹ کر لے گئے۔(فتح الباری،296/7) شارح مسلم امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ معاذبن عفراءؓ، معوذبن عفراءؓ اور معاذ بن عمرؓ و بن جموح تینوں ابوجہل پر حملہ کرنے میں شریک تھے۔ زیادہ مہلک وار معاذ بن عمرؓو نے کیا، اس لئے مقتول کی زرہ انہیں دی گئی۔عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا، اس لئے ا س کی تلوار انہیں دی گئی۔ (شرح مسلم للنووی،63/12) حافظ ملا علی قاریؒ کی بھی یہی رائے ہے کہ زیادہ کاری وار حضرت معاذ بن عمرؓو نے کئے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلوار پر لگے خون کی کیفیت دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ ابوجہل معاذ بن عمروؓ کی ضرب سے اس حال کو پہنچا ہے، اسی لئے انہیں مقتول کی زرہ انعام دی گئی، دوسرے بہت سے محدثین نے بھی ا س کی صراحت کی ہے۔ (عمدۃ القاری، 66/15، المستدرک للحا کم، 281/13، رقم الحدیث 5824، مسند احمد، 95/4، رقم الحدیث، 5824)

اُمیہ بن خلف او را س کے بیٹے کا انجام

بدر کے دن مسلمان کفار ومشرکین کو چن چن کر قتل کررہے تھے، یہ صورت حال دیکھ کر مکہ کے اشراف جو اپنے وطن میں فرعون او رنمرود بنے رہتے تھے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر بھاگے پھررہے تھے، انہی میں امیہ بن خلف او راس کا بیٹا علی بن امیہ بھی تھے، یہ دونوں بھی جان بچا نے کے چکر میں پریشان پھر رہے تھے، اچانک حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ پر ان کی نظر پڑ گئی، وہ اس وقت مقتولین کی زر ہیں نکال کر لے جارہے تھے، امیہ نے انہیں آواز دے کر بلایا اورکا کہ اے ابن عوف، ان زرہوں کے چکر میں مت پڑو، ہم تمہارے لئے ان زرہوں سے بہتر ہیں، اس کا مقصد یہ تھا کہ تم زرہیں پھینک دو او رہمیں قیدی بنا کر لے چلو، اس طرح ہم قتل ہونے سے بچ جائینگے او رتمہیں فدیہ مل جائے گا، جو ان زرہوں سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ مکہ مکرمہ میں امیہ کے دوست تھے، وہ کہتے ہیں ہم دونوں نے کسی وقت میں یہ معاہدہ بھی کیا تھا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ان کی حفاظت کرے گا اور میں مدینہ منورہ میں اس کی جان بچاؤں گا۔ اس لئے جب اس نے مجھ سے فریاد کی تو میں نے زرہیں پھینک دیں او ران دونوں کا ہاتھ پکڑ لیا۔

حضرت بلالؓ بھی وہیں کہیں موجود تھے، انہوں نے دیکھا کہ امیہ اور اس کا بیٹا علی: عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جارہے ہیں تو و ہ چیخ اٹھے، برادران انصار ادھر آؤ،یہ دیکھو امیہ کو، اگر آج یہ بچ گیا تو میری خیر نہیں۔حضرت بلال ؓ کے اس قدر غضب ناک ہونے کی وجہ یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں حضرت بلالؓ اسی کے غلام تھے، اسلام لانے کی پاداش میں وہ ان پر ظلم ڈھاتا تھا یہاں تک کہ انہیں چلچلاتی دھوپ میں گرم ریت پر لٹا دیتا تھا اور ان سے ترکِ اسلام کا مطالبہ کرتا رہتا تھا، مگر حضرت بلالؓ صبر و استقامت کے ساتھ یہ ظلم سہتے او راحد احد کہتے رہتے، آج اسے اس حال میں دیکھا تو اس وقت کے سارے مناظر ان کی نگاہوں کے سامنے آگئے جب امیہ ایک خون خوار اور وحشی درندے کے طرح ان کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا کرتاتھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے ساتھ انہیں دیکھ کر وہ انصار کو مدد کیلئے پکار تے ہوئے آگے بڑھے، عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے دہائی دی کہ ان لوگوں پر حملہ نہ کرو، یہ اس وقت میری قیدی ہیں، مگر انہوں نے ایک نہ سنی،یہی کہتے رہے کہ اگر آج یہ بچ گیا تو میری خیر نہیں۔ سب نے مل کر دونوں باپ بیٹوں پر حملہ کردیا۔ اس طرح حضرت بلالؓ جو ایک کمزور غلام تھے اپنے وقت کے مغرور متکبر او رانتہائی طاقتور انسان سے اپنا بدلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔(صحیح البخاری، 8/87، رقم الحدیث 1237، البدایہ و النہایہ، 5/132)

عبیدۃ بن سعید العاص کا قتل

اس شخص کو حضرت زبیر بن العوامؓ نے کیفر کردار تک پہنچایا، یہ شخص بدر والے دن سر سے پاؤں تک لوہے میں چھپا ہوا تھا، اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں، اپنے اس لباس میں وہ پہچانا بھی نہیں جارہا تھا، گھمنڈ میں آکر کہنے لگا میں ابوذات الکرش ہوں،یہ اس کی کنیت تھی، حضرت زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے تاک لگا کر اس کی آنکھ میں نیزہ مارا، میرا نیزہ اس کی آنکھ میں گڑ گیا اور وہ مر گیا، پھر میں نے اپنا نیزہ نکالنا چاہا تو وہ اندر تک گڑا ہوا تھا۔ میں نے پورا زور لگا کر اسے نکالا، نیزہ تو نکل گیا مگر طاقت لگانے کی وجہ سے اس کے کنارے مڑگئے، بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وہ نیزہ بہ طور یادگار اپنے پاس رکھنے کیلئے طلب فرمایا، میں نے پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد وہ نیزہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہا، ان کے بعد حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اس نیزے کو جنگ بندر کی یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھا۔ (صیحح البخاری 12/392، رقم الحدیث 3697)

جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت

جس وقت جنگ زوروں پر تھی او راسلام کے شیر مشرکین پر تابڑ توڑ حملے کررہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر میدان بدر میں تشریف لے آئے اور صف اعداء پر بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے، حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے شدید لمحات میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹ لے رہے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر بے جگری سے لڑرہے تھے کہ بعض اوقات مشرکین کے حملوں سے بچنے کیلئے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے جاتے تھے۔ (مسند امام احمد بن حنبل،2/125،رقم الحدیث 619)(جاری)

مٹھی بھر سنگ ریزے او رمٹی

عین اس وقت جب جنگ پورے شباب پر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم دعا او رمناجات سے فارغ ہوکر میدان جنگ میں تشریف لائے اور وہاں سے تھوڑی سی خاک او رکچھ سنگ ریزے اٹھا کر شاہت الوجوہ پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف پھینکے، اللہ تعالیٰ نے وہ کنکر یاں دشمنوں میں سے ہر ایک کی آنکھ میں ڈال دیں، جس سے ان میں افراتفری مچ گئی۔ قرآن کریم میں اس واقعے کی طرف مندرجہ ذیل آیت کریمہ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے:”(اے پیغمبر) جب تم نے اس پر مٹی پھینکی تھی تو وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔“ (الانفال:17) حقیقت یہ ہے کہ اللہ اگر چاہتا تو خود بھی ان کی آنکھوں میں دھول مٹی اور کنکر ڈال کر انہیں ناکارہ بنا سکتا تھا، لیکن ا س نے یہ کام خود نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے کرایا، حالانکہ وہ چاہتا تو اپنے دشمنوں کو اپنی قدرت سے خود بھی ہلاک کرسکتا تھا مگر اس کا دستور یہ ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے او ریہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعے انجام دلواتا ہے او ریہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر و ثواب حاصل ہو، دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں او روسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے ہو۔ آیت مذکورہ کے باقی حصے میں پہلی وجہ بیان کی گئی ہے کہ اہل ایمان کو اجر و ثواب حاصل ہو او را س سے اگلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کافروں کی ساری تدبیریں اور ساری سازشیں تارعنکبوت کی طرح بکھر نے والی ہیں۔ (آسان ترجمہ و تفسیر توضیح القرآن، 1/527) (جاری)

17 ستمبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prophet-muhammad-handful-panic-part-50/d/125401

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..