New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 09:04 AM

Urdu Section ( 3 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

مولانا ندیم الواجدی

3 ستمبر ، 2021

میدانِ بدر میں قیام

جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا لشکر بدر کے آخری سرے پر واقع عُقُنْقُل پہاڑی کے پیچھے آکر ٹھہر گیا ہے، آپؐ نے بھی صحابہ کرامؓ کو کوچ کا حکم دیا تاکہ مسلمان بھی میدانِ بدر کے قریب پہنچ جائیں، یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ اس میدان میں پانی کے کئی کنویں تھے اور ایک کنواں تو کافی بڑا اور گہرا تھا، ا س کا پانی بھی نہایت ٹھنڈا اور شیریں تھا۔ صحابہ کرامؓ کا قافلہ وہاں سے روانہ ہوا اور بدر سے کچھ فاصلے پر پہنچ کر ٹھہر گیا، وہاں سے پانی کے کنویں کچھ دور تھے، ابھی مشرکین وہاں نہیں تھے مگر یہ خطرہ بہر حال تھا کہ کہیں وہ لوگ عُقُنْقُلْ ٹیلے سے اتر کر اس میدان پر قبضہ نہ کرلیں۔ ایک صحابی حباب بن المنذرؓ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! اس جگہ پر ہمارا قیام محض اتفاقاً ہوا ہے، یا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں اترنے اور ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔ اس صورت میں تو ہم نہ یہاں سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں؛ یہ میری رائے ہے اور جنگی تدبیر کے تحت میں نے یہاں قیام کا حکم دیا ہے۔ حضرت حبابؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے خیال سے یہ جگہ ہمارے لئے موزوں نہیں ہے۔ آپؐ آگے تشریف لے چلیں اور قریش کے لشکر کے قریب جو کنواں ہے اس کے پاس ٹھہریں، ہم اس کنویں پر قابض ہوجائیں گے اور باقی کنوؤں کو مٹی سے بھر کر انہیں ناقابل استعمال بنادیں گے۔ اس طرح ہمیں پانی ملے گا اور وہ پانی سے محروم رہیں گے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رائے پسند فرمائی اور صحابہ کرامؓ کو اس مقام کی طرف چلنے کا حکم دیا جس کی نشان دہی حبابؓ نے کی تھی۔ رات کے وقت وہاں پہنچ کر صحابہ کرامؓ نے دشمن کے قریب واقع کنویں پر قبضہ کرلیا اور اس کے پاس ایک بڑا حوض بنا کر اسے پانی سے لبریز کردیا، باقی کنوئوں کو مٹی سے بھر کر ناقابل استعمال بنا دیا۔

یہ جگہ جہاں مسلمانوں نے قیام کیا تھاپانی کے لحاظ سے تو مناسب بلکہ بہتر تھی، مگر وہاں کی زمین ریتیلی تھی، چلتے ہوئے پائوں دھنستے تھے، خدا کی شان دیکھئے، اس رات اس قدر بارش ہوئی کہ ریتیلی زمین سخت ہوگئی، اس پر چلنا پھرنا آسان ہوگیا، دوسری طرف جہاں مشرکین تھے بارش کی وجہ سے وہاں پانی جمع ہوگیا، کیوں کہ وہ جگہ نشیب میں تھی، وہاں کی مٹی نرم تھی، اس کی وجہ سے وہاں کیچڑ ہوگیا، چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگی۔

مسلمانوں نے پانی جمع کرنے کے لئے جو حوض بنایا تھا اسے دیکھ کر مشرکین کے خیموں میں غصے اور تشویش کی لہر پیدا ہوگئی، ایک مشرک نے جس کا نام اسود بن عبدالاسد تھا، اپنے قائدین ابوجہل وغیرہ سے کہا کہ میں یہ حوض توڑ دوںگا۔ چنانچہ وہ شخص رات کے اندھیرے میں چھپتا چھپاتا حوض کے قریب آگیا، مسلمانوں نے اسے پہچان لیا اور اس کو قتل کردیا، یہ پہلا شخص تھا جو مسلمانوں کے ہاتھوں بدرمیں قتل ہوا۔ (سیرت ابن ہشام، ۱؍۶۲۰، البدایہ والنہایہ، ۳؍۱۶۷)

چھپر کی تعمیر

حضرت سعد بن معاذؓ اگرچہ کم عمر تھے، مگر اپنے قبیلے کے اجتماعی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر حد درجہ اعتماد تھا، اصابت رائے میں مشہور تھے۔ جب یہ تمام امور انجام پا گئے اور یہ یقین ہوگیا کہ آنے والی صبح میں یہ میدان ایک فیصلہ کن جنگ کا گواہ بنے گا تب جنگ کی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ حضرت سعد بن معاذ نے یہ تجویز پیش کی کہ میدان جنگ میں کسی اونچی جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرمائیں اور وہاں سے جنگ پر نظر رکھیں۔ اس سلسلے میںانہوں نے یہ بھی عرض کیا: یارسولؐ اللہ! وہاں اس ٹیلے پر ہم آپؐ کے لئے ایک چھپر کیوں نہ بنادیں، جس میں آپؐ  ٹھہر جائیں اور ہم میں سے کچھ لوگ آپؐ کی حفاظت پر مامور ہوں، اگر ہم فتح سے ہم کنار ہوئے تب تو کوئی بات ہی نہیں، اگر خدانخواستہ جنگ میں شکست سے دوچار ہوئے تو وہ حفاظتی دستہ آپؐ کو لے کر روانہ ہوجائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کی تحسین فرمائی اور حضرت سعد ؓ کو دعائے خیر سے نوازا، چنانچہ وہاں ایک پہاڑی پر کھجور کی شاخوں اور پتّوں سے چھپر بنا دیا گیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رفیق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ قیام فرمایا، اس چھپر سے جنگ کا پورا میدان نظر آتا تھا، آپؐ  دونوں طرف کی فوجوں کو دیکھ رہے تھے۔ حضرت سعد بن معاذؓ تلوار لے کر چھپر کے باہر کھڑے ہوگئے۔ (اسدالغابہ، ۲؍۱۴۳، تاریخ السلام للذہبی، ۱؍۱۷۹)

جس جگہ پر یہ چھپر بنایا گیا تھا وہاں ترکوں نے اپنے دور حکومت میں ایک مسجد بنادی تھی، الحمد للہ وہ مسجد آج تک موجود ہے بلکہ سعودی حکومت نے اس مسجد کو شہید کرکے نہایت خوبصورت اور کشادہ مسجد تعمیر کردی ہے۔ لوگ بدرکی زیارت کے لئے جاتے ہیں، اس مسجد میں نماز پڑھنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ راقم السطور کو بھی اس مسجد میں حاضری کا اور دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس مسجد سے آج بھی میدان بدر صاف نظرآتا ہے اور وہ کنواں بھی نظر آتا ہے جس میں مشرکین کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں۔

میدانِ جنگ کا معائنہ

جس دن معرکۂ بدر ہونا تھا اس کی شب میں آپؐ نے میدانِ بدر کا معائنہ فرمایا، حضرت عمر بن الخطابؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر میدانِ جنگ کی طرف چلے تاکہ مشرکین مکہ کی قتل گاہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ چنانچہ آپؐ اپنی مبارک انگلی سے اشارہ کرکے فرماتے کہ یہاں فلاں شخص قتل ہوگا، یہ فلاں شخص کے قتل ہونے کی جگہ ہے، وہاں فلاں شخص ہلاک ہو کر گرے گا، آپؐ نے ایک ایک جگہ کی تعیین کی اور مقتولین کے نام بھی لئے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ایسا ہی ہوا جیسا آپؐ نے فرمایا۔ اس میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔ (صحیح مسلم، ۱۴؍۳۶، رقم الحدیث، ۵۱۲۰)

مسلمانوں کا اطمینان اور رسول اللہ کی شب بیداری

کفار کا لشکر بڑا تھا، وہ لوگ زبردست مسلح تھے، مسلمان تعداد میں کم تھے اور تقریباً نہتے تھے، ان حالات میں گھبراہٹ پیدا ہونا طبعی امر تھا، اس لئے جنگ سے مسلمانوں کے دلوں میں ایک طرح کی تشویش اور پریشانی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کا علاج یہ فرمایا کہ ان پر غنودگی طاری کردی، اس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگئی اور ہر طرح کا خوف جاتا رہا۔ قرآن کریم نے جنگ سے پہلے کی اس تدبیر الٰہی کا  بہ طور احسان ذکر کیا ہے:’’یاد کرو جب تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لئے وہ اپنے حکم سے تم پر غنودگی طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا، تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دور کرے، تمہاری ڈھارس بندھائے اور اس کے ذریعے تمہارے پائوں اچھی طرح جمادے۔‘‘(الانفال:۱۱)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بدر کی جنگ سے پہلے کے اپنے دو انعامات کا ذکر فرمایا ہے، ایک تو یہ کہ بارانِ رحمت کا نزول ہوا، جس سے وہ ریتیلی زمین جس پر چلنا دشوار تھا سخت ہوگئی اور پائوں جما کر چلنے میں آسانی ہوگئی، پانی وافر مقدار میں جمع ہوگیا جس سے وضو اور غسل کی سہولت ہوگئی، شیطانی وسوسے بھی ختم ہوگئے۔ دوسرا انعام یہ ہوا کہ مسلمانوں پر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو مسلمانوں کے دل پوری طرح مطمئن تھے، کسی طرح کا کوئی خوف یا کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ ان کے دلوں میں نہیں تھی، جب یہ صورت حال پیدا ہوئی تو اس رات مسلمان اطمینان اور سکون کے ساتھ سوئے جس کی صبح جنگ ہونے والی تھی، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام رات جاگتے ر ہے اور نماز اور دعا میں مشغول رہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ روایت فرماتے ہیں کہ بدر کی رات ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جو سویا نہ ہو، صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام رات جاگتے رہے اور سپیدۂ سحر نمودار ہونے تک دعاء و گریہ زاری میں مشغول رہے جیسے ہی فجر کا وقت ہوا آپؐ نے آوازی ’’الصلاۃ عباد اللہ‘‘ اللہ کے بندونماز کے لئے اٹھ جائو، آپؐ کی آواز سنتے ہی تمام لوگ بیدار ہوگئے، ایک درخت کی جڑ کے پاس کھڑے ہو کر آپؐ نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اللہ کے راستے میںجان کا نذرانہ پیش کرنے کی ترغیب تھی۔ (کنز العمال، ۴؍۹۸، بہ حوالہ سیرۃ المصطفی ۲؍۷۴)

لشکروں کی صف بندی

جمعہ کا دن تھا، رمضان المبارک کی سترہویں تاریخ تھی، دن چڑھے دونوں طرف کی فوجیں میدان میں پہنچ گئیں، مشرکین کا لشکر پہاڑی کے پیچھے تھا، وہ لوگ پہاڑی کے پیچھے سے اتراتے ہوئے اکڑتے ہوئے اوپر چڑھے، پھر نیچے اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا اور یہ دعا فرمائی: اے اللہ! یہ قریش کے لوگ جو کبر و غرور اور اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں یہ تیرا مقابلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں، یہ لوگ تیرے رسول کی تکذیب کرتے ہیں، اے اللہ میں تجھ سے تیری اس مدد کا خواست گارہوں جس کا تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے، اے اللہ تو ان کو ہلاک کر۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی، ۳؍۴، رقم ۸۷۴)

اس کے بعد آپؐ میدان میں تشریف لائے، تمام صحابہ صفیں بناکر کھڑے ہوئے تھے، آپؐ نے ایک فوجی کمانڈر کی طرح ان کا معائنہ فرمایا، تیر آپ کے دست مبارک میں تھا، ایک صحابی تھے حضرت سواد بن غزیرؓ، ان کا سینہ صف سے قدرے باہر کی طرف نکلا ہوا تھا، آپ نے تیر ان کے سینے پر رکھ کر انہیں پیچھے ہٹایا، وہ صحابی درد سے کراہنے لگے اور کہنے لگے یارسول اللہ! آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، آپؐ کو اللہ نے حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، آپ مجھے اس کا بدلہ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت شکم مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: اے سواد! اپنا بدلہ لے لو، وہ صف سے نکلے اور انہوں نے آپؐ کے شکم مبارک پر بوسہ دے کر عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، شاید یہ آخری ملاقات ہو، میں چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش کرنے سے پہلے میرے لب آپؐ کے جسم اطہر سے مس ہوجائیں، یہ سن کر آپؐ خوش ہوئے اور آگے بڑھ گئے۔ (جاری)

3 ستمبر ، 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-------

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prophet-allah-muslims-part-48/d/125311

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..