
مفتی عبد المالک مصباحی
21 آپریل 2023
عید الفطر خو شی ومسر ت کا وہ عظیم الشان دن ہے جس میں پروردگار
عا لم اپنے اطا عت گذار بندوں کو انعا م خسر وانہ سے نواز تا ہے۔بندہ ایک ماہ تک
اس کے حکم کی بجا آوری میں لگا رہتا ہے کبھی سحر ی کھا یا کبھی افطاری،کبھی تراویح
کی نماز پڑھا کبھی روزہ رکھااورکبھی تسبیح وتہلیل میں منہمک رہا اور جس طرح بھی بن
پڑا بندہ اس کی بارگاہ میں اپنی بندگی اور عاجزی و انکساری کا اظہا رکرتا رہا،یہاں
تک کہ رحمت با ری جوش میں آئی اوراپنے ان وفا شعار بندوں کو انعا م واکرام سے فراز
کرنے کے لیے ایک مقام پرجمع ہونے کا حکم صادرکیا۔اسی اجتما ع، کا نام
”عیدالفطر“ے۔اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کا ار شا دگرامی ہے:
وَ لِتُکْمِلُواالْعِدَّۃَوَلِتُکَبِّرُواللّٰہَ عَلیٰ
مَا ھَدٰیکُم۔ (پارہ ۲،سورہئ بقرہ ۱۸۵)
روزوں کی گنتی پوری کرواور اللہ کی بڑائی بولو کہ اس نے
تمہں ہدایت فرمائی۔
وہ اپنے بندوں کو انعام سے سرفرازبھی کرتاہے اور اس
پرخو شی کے اظہارکی دعوت بھی دیتاہے جیسا کہ ارشادگرامی ہے:
قُلْ
بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰالِکَ فَلْیَفْرَحُوْا۔ (پارہ ۱۱، سورہ یونس ۸۵)
تم فرماؤاللہ عزوجل کے فضل اوراس کی رحمت اور اسی پر
چاہیے کہ خوشی کریں۔
رمضان المبارک میں اللہ عزوجل کی رحمت کی مو
سلادھاربارش ہو تی ہے سعید روحیں اس میں خوب نہا تی ہیں اور اپنے سیاہ اعما ل نامہ
کو منور ومجلیٰ کرتی ہیں۔ اب رمضا ن کا مقد س مہینہ ختم ہوگیا شوال المکرم
کاچاندنظرآگیا مگر اس کریم کے کرم کادروازہ بند نہیں ہوا بلکہ عید الفطر کی رات
بھی بے پناہ نوازشوں سے مالا مال نظر آرہی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیاہے،حضرت
سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
جب عید الفطر کی مبا رک رات آتی ہے تو اسے”اللیلتہ
الجائزۃ انعام کی رات“کے نا م سے پکارا جاتاہے جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ
عزوجل اپنے معصوم فرشتوں کوتمام شہروں میں بھیجتاہے چنانچہ وہ فرشتے زمین پرتشریف
لاتے ہیں اور سب گلیوں اور چوراہوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اوراس طرح ندا کرتے ہیں:
اے امت محمد
ﷺ!اس رب کریم اللہ عزوجل کی بارگاہ کی طرف چلوجوبہت ہی زیادہ عطا کرنے والا
اوربڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے بندوں سے یوں مخاطب
ہوتا ہے۔
اے میرے بندے کیا مانگتے ہومانگو۔میری عزت وجلال کی قسم
آج کے اور اس (عید کے اجتماع)میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کروگے وہ پورا
کروں گا اور جو کچھ اپنے بارے میں مانگوگے اس میں تمھا ری بھلائی کی طرف نظرفرماں
ؤگا۔(وہ معاملہ کروں گاجو تمھارے لیے بہتر ہوگا)میری عزت کی قسم!جب تک تم میرا
لحاظ رکھو گے میں بھی تمھاری خطاؤں پرپردہ ڈالتارہوں گا؛میری عزت وجلال کی قسم،میں
تمہیں محشر والوں میں رسوانہ کروں گا،بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ۔تم
نے مجھے راضی کردیا اور میں بھی تم سے راضی ہوگیا۔ (الترغیب الترھیب ۶۰۲)
سرکار دوجہاں ﷺنے فرمایا:
جس نے عید (بقرعید) کی رات طلب ثواب کے لیے قیام کیااس
کا دل نہیں مرے گا جس دن لوگوں کے دل مرجائیں گے۔ (سنن ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس
ﷺعیدالفطر کے دن کچھ کھاکر نمازکے لیے تشریف لے جاتے اور عیدالضحٰی کو نہ کھاتے جب
تک کہ نمازنہ پڑھتے اور بخاری کی روایت انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ عیدالفطر کے دن
تشریف نہ لے جا تے جب تک چند کھجوریں نہ تناول فرمالیتے اور کھجوریں طاق ہوتیں۔
(ترنذی ابن ماجہ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺعیدکو ایک راستہ سے تشریف لے جا تے اوردوسرے
سے وا پس ہوتے۔ (ترمذی)
انھیں سے مروی
ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن بارش ہوئی تو مسجد میں حضور نے عید کی نماز
اداکی۔ (ترمذی)
عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور
ﷺنے عید کی نماز دورکعت اداکی اس سے پہلے نمازپڑھی نہ بعدمیں۔(بخاری ومسلم)
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حضورکے ساتھ عیدکی نمازاداکی ایک دو
مرتبہ نہیں بلکہ بارہا،نہ اذان ہوئی نہ اقامت۔ (مسلم)
مسئلہ۔عید ین کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ
انہیں پر جن پر جمعہ واجب ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۔بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا گمراہی ہے۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ۔عید کے دن چند باتیں مسنون ہیں حجامت بنوانا،ناخن
ترشوانا، غسل کرنا، مسواک کرنا.اچھے کپڑے پہننا، دھلاہواہونا، انگوٹھی پہننا،خوشبو
لگانا،صبح کی نمازمحلہ کے مسجد میں پڑھنا،عید گاہ جلد چلا جانا،نمازسے پہلے صدقہ
فطر اداکرنا،عید گاہ کو پیدل جانا،دوسرے راستے سے واپس آنا،نمازکو جانے سے پہلے
چند کھجوریں کھا لینا،اگرکھجورنہ ہوتو کوئی میٹھی چیز کھانا۔ (بہار شریعت)
مسئلہ: سورای پر جانے میں کوئی حرج نہیں مگر جس کو پیدل
جانے پر قدرت ہو۔ اس کے لیے پیدل جانا افضل ہے۔ (جوہرہ عالمگیری)
مسئلہ۔عیدگاہ کو نماز کے لیے جانا سنت ہے اگرچہ مسجد
میں گنجائش ہو اور عید گاہ میں منبر بنانے یا لیپانے میں کوئی حرج نہیں۔ (ردالمختار)
مسئلہ۔بعدنمازعید مصافحہ ومعانقہ کرنا جیسا عمومًا
مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اس میں اظہارمسرت ہے۔
Rulings of Sadaqat al – Fitr - Part 29 رمضان کے تیس اسباق: انتیسواں سبق،
صدقہ فطرکے مسائل
URL: https://newageislam.com/urdu-section/rulings-eid-fitr-part-30-/d/129615
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism