New Age Islam
Tue Sep 28 2021, 06:21 PM

Urdu Section ( 13 Jun 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims Part-36 جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

 مولانا ندیم الواجدی

11 جون 2021

حضرت عثمان غنیؓ نے بئر رومہ خرید کر وقف کیا

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے صحابہؓ ہجرت کرکے مدینے آئے تھے، کچھ حضرات جو حبشہ وغیرہ میں مہاجر کی حیثیت سے مقیم تھے؛ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر سن کر مدینے آگئے تھے۔  آنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی، یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مدینہ منورہ میں جمع ہوگئی۔ ان دنوں اس شہرکے اکثر کنوئوں کا پانی کھارا تھا، صرف ایک کنواں ایسا تھا جس کا پانی شیریں تھا۔ اس کنویں کو ’’بئر رومہ‘‘ کہتے تھے۔ یہ ایک یہودی کی ملکیت تھا، وہ اس کا پانی فروخت کیا کرتا تھا، مسلمان بے چارے اپنی جمع پونجی لٹاکر آئے تھے، اس لئے وہ یہ میٹھا پانی خریدنے سے عاجز تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بڑا احساس تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بئر رومہ خرید کر ان نادار مسلمانوں کے لئے وقف کرے گا اور اس کے پانی میں ان کے ڈول دلوائے گا اس کے لئے جنت ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کردیا۔ ابتداء میں انہوں نے نصف کنواں خریدا، کیوں کہ یہودی پورا بیچنے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔ آپؓ نے بارہ ہزار درہم میں آدھا کنواں خریدا اور اس سے طے کرلیا کہ ایک دن کنویں پانی مَیں نکالوں گا اور ایک دن تجھے اس کا حق ہوگا۔ یہودی اس پر تیار ہوگیا، حضرت عثمانؓ نے اپنی باری والے دن پانی مفت کردیا، لوگ آتے اور دو دن کا پانی بھر کر لے جاتے، اگلے روز کوئی بھی نہ آتا، یہ دیکھ کر یہودی نے کہا تم نے تو میرا دھندہ ہی چوپٹ کردیا، تم باقی نصف بھی خرید کر میری چھٹی کرو، حضرت عثمانؓ نے بارہ ہزار دے کر اس کا حصہ بھی خرید لیا اور پورا کنواں وقف کردیا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث ۳۶۹۹، سنن النسائی، رقم الحدیث ۳۸۰۳)

یہ کنواں مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں مسجد نبوی سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر مجمع السیل کے قریب عقیق الکبریٰ کے میدان میں آج بھی موجود ہے، اس محلے کا نام، جہاں یہ کنواں واقع ہے ’’الازہر‘‘ ہے، اس کی چوڑائی چار میٹر اور گہرائی بارہ میٹر ہے۔ کنویں کا پانی چودہ سو سال سے اسی طرح جاری ہے، صاف اور شیریں بھی ہے۔

اُس وقت کی سیاسی صورتحال

تعمیر مسجد اور قیام مواخات کے بعد ہجرت کے پانچویں مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور اہم قدم اٹھایا، ہم بتلا چکے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل یہاں بت پرست مشرکین اور اہل کتاب یہود رہتے تھے، مشرکین کے دو قبیلے تھے اوس و خزرج، ان کو بنو قیلہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہود کے تین بڑے قبائل تھے، بنو النظیر، بنوقینقاع اور بنو قریظہ۔ ان کے علاوہ بھی چھ سات چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ اوس و خزرج حالاںکہ بت پرست تھے، یہود کے مقابلے میں ان کو متحد ہونا چاہئے تھا مگر یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمہ وقت متحارب ہی رہا کرتے تھے۔ ان کے درمیان کئی بڑی بڑی جنگیں بھی برپا ہوئیں، جنہوں نے ان کو مادّی اور عددی ہر اعتبار سے برباد کرکے رکھ دیا۔ آخری جنگ بعاث نے تو بالکل ہی تباہ کردیا، تمام بڑے بڑے سردار اور طاقتور جنگجو مارے گئے، معاشی اعتبار سے ان دونوں قبیلوں کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی، نتیجتاً  وہ سیاسی اعتبار سے بھی کمزور پڑ گئے اور معاشی طور پر بھی تباہ ہوگئے۔ یہود اپنے مکر و فریب سے ان دونوں قبیلوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرتے تھے اور انہیں جنگوںمیں الجھا کر اپنا الوسیدھا کیا کرتے تھے، ایک وقت وہ آیا کہ یہ دونوں قبیلے یہود کے محتاج، دست نگر اور ماتحت ہو کر رہ گئے۔ اللہ نے ان کی قسمت اچھی کی، ان میں سے کچھ لوگ مکہ مکرمہ پہنچ کر مشرف بہ اسلام ہوگئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفاقت و نصرت کا معاہدہ کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے، بیعت عقبہ کے بعد ایک سال تک ان لوگوں کے درمیان حضرت مصعب بن عمیرؓ موجود رہے جنہوں نے اس قوم کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت کے نتیجے میں دونوں قبیلوں کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا اور ہر گھر میں یہ دین اپنی شعاعیں بکھیر نے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان دونوں قبیلوں کے باہمی معاملات میں کافی سدھار آیا، سب لوگ مل کر اسلام کے نام پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں یکجا ہوگئے، پھر مہاجرین کے ساتھ رشتۂ اخوت قائم ہوا، اس نئے رشتے نے ان کے اندر ایثار، ہمدردی اور مواسات جیسی اخلاقی قدروں کو پروان چڑھایا، اوس و خزرج کے مزاج اور عمل میں یہ تبدیلیاں دیکھ کر یہود حیرت زدہ رہ گئے، انہیں اندازہ ہوگیا کہ اب ان کی سیاسی اور مذہبی برتری کا وقت گزر چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک وحدت بنا کر نئی طاقت بخش دی ہے۔

یہود کی تیرہ بختی

یہ عجیب بات ہے کہ نبی آخر الزماں خاتم النبیین والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل وہ ان کی آمد کی پیشین گوئیاں کیا کرتے تھے، تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بشارتیں آئی ہیں وہ تقریباً تمام یہودیوں کو ازبر تھیں اور اس حوالے سے وہ بنی قیلہ کو ڈراتے دھمکاتے بھی رہتے تھے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو ہم ان کی قیادت میں جمع ہو کر تمہارا حشر خراب کردیں گے، یثرب سے تمہیں نکال دیں گے ، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب وہ (آپؐ) تشریف لے آئے تو اس یقین کے باوجود کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ہم اور ہماری گزشتہ نسلیں ایک مدت سے انتظار کر رہی تھیں،  انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا بلکہ معدودے چند خوش قسمت افراد کو چھوڑ کر تمام قبیلوں کے یہود آپ کی مخالفت بلکہ مخالفت سے بڑھ کر دشمنی پر اتر آئے، اندر ہی اندر سازشیں کرنے لگے، منافقین کے ساتھ مل گئے، مشرکین مکہ سے ربط ضبط بڑھانے لگے، افواہیں پھیلا کر لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر یہودیوں کی ان تمام حرکتوں پر تھی، اوس و خزرج کے لوگ بھی ان کی حقیقت سمجھ چکے تھے، اللہ کے رسول چاہتے تو وہ یہود کو ان کی اوقات یاد دلا دیتے مگر سیاسی حکمتِ عملی کا تقاضہ یہ تھا کہ فی الحال ان کے ساتھ نرم رویہ رکھا جائے اور انہیں سدھرنے کا موقع دیا جائے، اسی حکمت عملی کے پیش نظر آپؐ  نے مدینے کی تمام اکائیوں کو ایک مرکز کے تحت لانے کی کوشش کی اور ایک ایسا میثاق یا معاہدہ مرتب فرمایا جس کے سب پابند ہوں اور اس کی روشنی میں زندگی گزاریں۔

میثاقِ مدینہ یا مملکت اسلامیہ کا دستور اساسی

سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں اس معاہدے کو مختلف نام دئیے گئے ہیں، بہ ظاہر یہ ایک معاہدہ تھا لیکن درحقیقت یہ اس مملکت اسلامیہ کا بنیادی دستور تھا جو خدا کے فیصلے کے مطابق وجود میں آنے والی تھی۔ یہ معاہدہ اس لئے کیا گیا تاکہ مسلمانوں کو تحفظ ملے اور جو اسلامی ریاست وجود میں آنے والی تھی وہ اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ ہو اور  اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھے۔ اس میں یہودیوں کو اس لئے شامل کیا گیا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کواپنے وجود کیلئے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے ان کو یہ یقین دلانا مقصود تھا کہ اگر آپ لوگ اس معاہدے پر خلوص دل سے عمل کریں گے تو آپ کیلئے یہاں نہ کسی قسم کاکوئی  خطرہ ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی پریشانی، آپ پر کوئی زیادتی بھی نہیں ہوگی،آپ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے۔

معاہدے کی دفعات

اس معاہدے میں ۵۳؍دفعات شامل ہیں، جن کی تفصیل سیرت ابن ہشام، البدایہ والنہایہ اور قاضی عبید کی کتاب الاموال میں موجود ہے، یہاں ہم اس کے کچھ اہم بنیادی نکات بیان کرتے ہیں:

 (1) یہ تحریری دستاویز اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے، یہ ایک عہد نامہ ہے جس میں قریش اور یثرب کے اہل ایمان اور وہ یہود شامل ہوں گے جو مسلمانوں کے تابع ہو کر ان کے ساتھ الحاق چاہیں اور ان کے ساتھ جنگ میں حصہ لیں، یہ تمام لوگ امت واحدہ متصور ہوں گے اور اس حیثیت سے وہ ان امور کے پابند ہوں گے۔

(2) مہاجرین ِ قریش قصاص، خوں بہا اور دیت وغیرہ کے معاملات میں اپنے اپنے قبیلوں کے طے شدہ اصولوں اور ضابطوں کی پیروی کریں گے اور عدل و انصاف سے کام لیں گے۔

(3) یثرب کے تمام مسلمان قبیلے؛ بنو عوف، بنو ساعدہ، بنو حارث، بنو جشم، بنو نجار،بنو عمرو بن عوف، بنو االنبیت اور بنو الاوس اپنی حالت پر قائم رہیں گے اور خوں بہا کا جو طریقہ ان کے یہاں قائم ہے، اس پر عمل کریں گے، ہر قبیلہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے قیدیوں کو زرفدیہ دے کر چھڑائے گا۔

(4) اہل ایمان؛ فدیہ، دیت، زرتاوان اور قرض ادا کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور کسی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑیں گے۔

 (5) ظلم و زیادتی اور برائی کے مقابلے میں تمام مسلمان متحد ہوں گے اور  اس طرح کے حالات میں مل جل کر مقابلہ کریں گے۔ اس سلسلے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی خواہ وہ کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

 (6) کوئی مسلمان کسی کافر کے مقابلے میں اپنے مسلمان بھائی کو قتل نہیں کرے گا اور نہ وہ مسلمان کے خلاف کسی کافر کی مدد کرے گا، اہل ایمان ایک دوسرے کے مقابلے میں بھائی اور مددگار ہیں۔

(7) ایک ادنیٰ درجے کا مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دے سکتا ہے، اس سلسلے میں ادنیٰ و اعلیٰ سب کا حق برابری کی بنیاد پر ہوگا۔

(8) جو یہود مسلمانوں کے تابع ہو کر رہیں گے ان کی حفاظت کی جائے گی، ان کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے، ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے گی۔ (جاری)

11 جون 2021 ، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-usman-ghani-muslims-part-36/d/124971

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..