New Age Islam
Sun Jun 20 2021, 12:08 PM

Books and Documents ( 27 May 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 2, Chapter 4, The Preaching jihad of Islam- Part 29 سید امیرعلی کی کتاب روح اسلام، دوسرا حصہ،چوتھا باب، اسلام کا تبلیغی جہاد

سید امیر علی

(قسط 29)

28 مئی 2021

لااکراہ فی لدین۔۔۔

ان الذین آمنو والذین ھادو ا والصّابؤن والنصاریٰ آمن باللہ والیوم الاٰخرعمل صالحاً فلاخوف علیھم والاھم یحزنون۔

”یقین جانو کہ مسلمان ہوں یا یہودی،صابی ہو یا عیسائی،جو لوگ بھی اللہ اورروز آخرت پر ایمان لائیں گے اورنیک عمل کریں گے ان کے لئے نہ کوئی خوف کامقام ہے نہ غم کا۲؎۔(المائدہ۔69)

جس معمولی سُرعت سے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین روئے زمین پر پھیلا وہ مذاہب کی تاریخ کا سب سے حیرت انگیز واقعہ ہے۔ عیسائیت صدیوں تک گوشہ گمنامی میں اپنا سرچھپاتی رہی۔جب تک اس نے غیر اہل کتاب کے مذہب کو اپنے اندر جذب نہ کرلیا جب ایک غیر اہل کتاب حکمران نے فرمانو ں اور منشوروں کے ذریعے اس کی مددنہ کی،اس وقت تک وہ مذاہب عالم کی محفل میں سر اٹھا کر قابل نہ ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ البقرۃ 2؎۔256

۲؎ اس کے مقابلے میں عیسائیت کا انتھیثرین ضابطہ عقائد The Athanasian۔منکروں کو بجلی کے کڑکوں کے ساتھ عذاب آخرت کا خوف دلاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٰاسلام اپنے معلّم کی وفات کے تیس سال کے اندر اندر لاکھوں انسانوں کے دلوں میں گھر کر چکا تھا۔ ایک صدی بھی نہ گذری تھی کہ معتکف حرا کی آواز تین برِّ اعظم پار کر کے فضائے عالم میں گونج گئی۔قیصر و کسریٰ کی فوجیں جنہوں نے عرب سے آشکار ہونے والی اس نئی جمہوریت کے ریلے کو روکنے کی کوشش کی،بادیہ نشینوں کے ہاتھوں تباہ وبرباد ہوگئیں۔ اسلام کی شاندار کامیابی اور لوگوں کے دلوں پر اس کی حیرت انگیز حکومت نے اسے اس الزام کامورد بنایا ہے کہ وہ تلوار کا مذہب ہے جو تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا اور تلوار ہی کے بل بوتے پر قائم رکھا گیا۔ لہٰذا ہم اس امر کی تحقیق کرنے کی خاطر کہ آیا یہ الزام حق بجانب ہے۔ اسلام کے ظہور سے متعلق حالات و واقعات کا بامعان نظر جائزہ لیتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درودِ مدینہ کے وقت اوس و خزرج کے قبیلوں کی برسو ں پُرانی تباہ کن جنگ ابھی ابھی ایک کھوکھلی صُلح کی شکل میں تھمی تھی۔ قوی امکان تھا کہ وہ کسی لمحے آگے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ نئے سرے سے شروع ہوجائے گی۔ یہودیوں نے حملہ جبلہ(Jabala) کے بعد اعراب مدینہ کی باجگزاری (Clientage) تو قبول کر لی تھی، لیکن بسرعت تمام نئے سرے سے زور پکڑ رہے تھے اور کھلم کھلا اپنے مشترک ہم وطنوں کو مسیحا ئے موعود کے غضب کی دھمکیاں دے رہے تھے، جس کے ظہور کی انہیں ہر لمحہ توقع تھی۔ آس پاس کے قبیلے جن پر قریش کااثر و نفوذ غالب تھا،اپنی پوری بدویانہ جنگجوئی کے ساتھ مدینے پر پل پڑنے کے لئے تلے کھڑے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے میں داخل ہوتے ہی وہ خطرات جو نئے دین کو درپیش تھے ظاہر ہوگئے۔ مکّے کے صحابہ جنہوں نے اپنے آقا کی خاطر اور اس نور کی خاطر جس سے اس نے ان کے سینوں کو روشن کردیا تھا پہلے موت کا مقابلہ کیا تھا اور اب غریب الوطنی میں ناداری و تنگدستی کا سامنا کررہے تھے۔گنتی کے چند لوگ تھے جن میں مقادمت کی زیادہ تاب نہ تھی۔مدینے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروزادہ تعداد میں نہ تھے او رجنتے تھے وہ بھی قبائلی خصومتوں کے باعث مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان کا ایک اہم گروہ جس کا سرخیل ایک بار سوخ سردار تھا جس کی نگاہیں مدینے کے تخت پر جمی ہوئی تھیں، کفّار کی حمایت میں خفیہ طور پر کارروائیاں کررہا تھا۔ یہودی،جو متحد او رمضبوط تھے،زہر اور دنیا کے اوچھے ہتھیار لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلاکت کے درپے تھے او رہر ممکن طریقے سے آپ کی مخالفت کررہے تھے۔لیکن وہ دل جو قریش کی قاتلانہ دھمکیوں سے نہ ڈرا ایسی حالت میں کیونکر ڈرسکتا تھا جب بہت سے دوسرے لوگوں کی زندگی اس کی زندگی سے وابستہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ان متفرق لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رایت تبلیغ کے سائے میں جمع ہوئے تھے ایک منظم جماعت میں متشکل کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ قبائل کے قدیم طریقہئ قصاص کی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باہمی مناقشوں کو طے کرنے کی خاطر ثالث معین کئے۔ اوس و خزرج کا باہمی اختلاف مٹا دیا،یہودیو ں اورعیسائیوں کو اپنی چھوٹی سی دولت متحدہ میں شامل کیا او رسب مسلمانوں میں دوستی و برادری کے تعلقات قائم کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیاکہ جو شخص بھی چاہے وہ یہودی یا صابی یا عیسائی،خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتاہے اس کے لئے کسی قسم کے خوف کا مقام نہیں۔ ایک ایسی قوم کے جو بدترین قسم کے کفر و شرک میں مبتلا تھی او رجس کے لیے خونریزی فطرت ثانیہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکبازی، راستی، ضبط نفس، عطا و احسان اور ہمدردی بنائے جنس کا سبق سکھایا۔ آپ کا ارشاد تھا کہ ”اگر کوئی شخص اپنے حق قصاص سے دست بردار ہوجائے گا تو یہ خدا کے نزدیک کفّار ہ شمار ہوگا۔“ ”جس شخص بھلائی کی سفارش کرے گا اسے بھلا اجر لے گا اور جو بُرائی کی سفارش کرے گا وہ اس بُرائی میں سے حصہ پائے گا۔“ (النساء 4،85)

ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں انسانیت پیدا کرنے،اسے قعر مذّلت نے نکالنے،اور خبائث سے پاک کرنے کے مقدّس کام میں مصروف تھے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے رحم دشمن انتقام کے منصوبے تیار کررہے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک او رآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تباہ کرنے کاحلف اٹھارکھا تھا۔ قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کو اپنے آبائی مذہب سے مرُتد شمار کرتے تھے او رانہیں یہ امر بے حد کھٹکتاتھا کہ ان مرتدوں نے مکہ کے حریف شہر میں پناہ لے رکھی تھی تاکہ وہاں رہ کر اپنے انقلابی مذہب کی داغ بیل ڈالیں۔ ان کے نزدیک متحدہ عرب کا یہ فرض تھا کہ ان سر پھرے جوشیلوں کو نیست و نابود کردیں جنہوں نے گھر بار او رمال و دولت کواس مقصد سے خیر باد کہی تھی کہ ایک ایسے ان دیکھے خدا کا پیغام دنیا کو پہنچائیں جواپنی عبادت کے معاملے میں اتنا سخت گیر تھا اور جو محبت،صلہ رحم، احسان پاک اندیشی اور نیکوکاری کے عام فرائض پر اتنا اصرار کرتا تھا۔ جس لمحہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں قدم رکھا، اسی لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی تقدیر خصوصاً ان لوگوں کی تقدیر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی و ناکامی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی و موت کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلاکت کے معنی تھے ان تمام لوگوں کی ہلاکت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم کے نیچے جمع ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے ارد گرد دشمن اورغدّار گھیر ا ڈالے ہوئے تھے۔سارا عرب قریش کے کوس جنگ کے لیے گوش بر آواز تھا،کیونکہ وہ قوم کے خداؤں کے قدیم خادم تھے او ران خداؤں کے منکرو ں کو مٹانے کابیڑا اٹھائے ہوئے تھے،ایسے میں اگر وہ اپنے تحفظ کے لیے تلوار ہاتھ میں نہ لیتے تو ان کی تباہی ناگریز تھی۔پھر بھی جن تک ان کے دشمن پیش قدمی کر کے ان پرحملہ آور نہ ہوئے اس وقت تک یہ اعلان نہ ہوا کہ ”کفّار مومنوں کے معاملے میں نہ خون کے رشتے کا، نہ عہد وپیمان کا خیال رکھتے ہیں۔ جب وہ صلح کے عہدوں کوتوڑیں او ر تم پرحملہ آور ہوں تو اپنی حفاظت کرو۔“

”تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جوتم سے لڑتے ہیں لیکن زیادتی نہ کرو، کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (البقرہ۔2۔190)

مسلمانوں کے لیے مدافعانہ کارروائی اپنے تحفظ کامعاملہ بن گئی تھی۔ ان کے لئے دوہی صورتیں تھیں،یاتو یہ کہ دشمنوں کے آگے اپناسررکھ دیں یا یہ کہ جب دشمن ان پرحملہ آورہوں تو ان کامقابلہ کریں۔ انہوں نے مؤخر لذ کر طریقہ اختیار کیا اور ایک طویل کش مکش کے بعد دشمنوں پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوئے۔

یہودیوں کی جانی دشمنی،ان کی مکّرر بدعہدیاں او رحلف شکنیاں،ان کی مسلسل غدّاریاں او ران کی متواتر کوششیں کہ مسلمانوں کو دغابازی سے کفّار کے حوالے کردیں، ان سب حرکتوں کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سخت سزائیں دینی پڑیں۔ یہ سزائیں برسبیل انتقام نہ تھیں بلکہ مسلمانوں کی قلیل او رکمزور جماعت کے تحفظ کے لیے انسداد ی تنبیہیں تھیں۔

ہمیں یہ فرض کرلینے کا کوئی حق نہیں کہ چونکہ دنیا میں جو رہبر عہد بہ عہد آئے ان میں سے چندایک نے مخالف حالات سے مادّی طورپر شکست کھاکر جام شہادت نوش کیا۔چونکہ چندایک نے ناممکن الحصول مثالی دنیاؤں کے نقشے تیار کئے،چونکہ دور و دراز خواب دیکھنے والے دنیامیں رہ چکے ہی،چونکہ چندجوش وولولہ رکھنے والوں نے تکلیفیں اٹھائی ہیں، اس لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ ان لوگوں کی مثال کی تقلید کرتے اور اپنا تبلیغی کام انجام دینے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کسی طرح لازم نہ تھا کہ اپنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اس ساری جماعت کو جس کی سرداری انہوں نے قبول کی تھی ایک ایسی چیز کی بھینٹ چڑھادیتے جسے ہم آج کل کے زمانے میں ایک ”آئیڈیا“ (IDEA) ایک انداز فکر کہیں گے۔

آئیے ہم مسلمانوں کے ان مدافعانہ غزووں کا جو انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے لڑے ان خونیں جنگوں سے مقابلہ کریں ہو یہودیوں اورعیسائیوں نے،بلکہ اور تو اور نرم مزاج پارسیوں نے بھی،اپنے اپنے مذہب کی اشاعت کی خاطر کیں۔ یہودیو ں کے معاملے میں تو زیادتی پیش قدمی اور ہلاکت مذہبی فریضے تھے،اگر وہ اپنے مخالف کی جان بخشی کرتے تو ملعون قرار دیئے جاتے۔

جہاں تک عیسائیو ں کا تعلق ہے، عاجزی و فروتنی کا وہ نظریہ جس کی تعلیم بنیئ ناصری نے دی تھی حکومت و اقتدار کے ملتے ہی فراموش کردیاگیا۔ جس وقت عیسائیت کو ایک مانی ہوئی قوت کی حیثیت حاصل ہوئی،یعنی وہ ایک جماعت کی اکثریت کامذہب بنی، اسی وقت اس میں جارحیت اور جبرو تشدّد پیدا ہوگیا۔ مختلف مصنفّین نے حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کامواز نہ کیا ہے۔ ان میں سے جن مصنّفین کے دلوں میں حضرت عیسیٰؑ کی الہٰیت کا راسخ عقیدہ تھا،انہوں نے ان ”ارضی“ وسائل کو جو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امّت کی احیاء و اصلاح کے لئے اختیار کئے شیطان کی سجھائی ہوئی تدبیریں کہا ہے اور امر کو کہ بنیئ ناصری نے ایسے وسائل استعمال نہیں کئے (غالباً اس لیے کہ انہیں اس کاموقع ہی نہیں ملا) ان کی خدائی کا ثبوت خیال کیا ہے۔ ہم مدلّل طور پر واضح کریں گے کہ اس قسم کے موازنے غیر منصفانہ ہیں، کیونکہ ایسے مقدمات پر مبنی ہیں جو صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ انسانی فطرت کے نقطہ نگاہ سے بھی باطل ہیں۔

حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے حضرت عیسیٰ کا اثر و نفوذ ان کی مختصر بعثت کے دوران پیروؤں کے ایک چھوٹے سے حلقے تک محدود رہا او ریہ لوگ زیادہ تر اسفل طبقوں کے اَن پڑھ لوگ تھے۔ اس سے پیشتر کہ یہ پیرو تعداد یا رسوخ میں اتنی ترقی کرتے کہ ان کی ہدایت کے لیے عمل قاعدوں کی ضرورت محسوس ہوتی، اس سے پیشتر کہ وہ روحانی تعلیم کی خاطر یا حکمرانوں کے مذہبی تشدّد سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو ایک منظم جماعت میں تبدیل کرتے حضرت عیسیٰؑ ان خشمناک جذبات کا شکار ہوگئے جو انہوں نے پیشہ ور مذہبی لوگوں کی بے جان رسم پرستی کے خلاف صدائے لعنت و ملامت بلند کر کے اُکسائے تھے۱؎۔چونکہ حضرت عیسیٰؑ کے پیرو ایک ایسی جماعت کے افراد تھے جو باضابطہ قوانین کے تحت تھی، جن کی بجا آوری کی ضامن اقتدار اعلیٰ رکھنے والی حکومت روا تھی،اس لیے انہیں اس کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی کہ اپنے آپ کو ایک منظم جماعت بنائیں۔ علیٰ ہذالقیاس ان کے معلّم نے بھی یہ ضروری نہ سمجھا کہ ان کی ہدایت کے لیے مثبت اخلاقی قوانین وضع کریں۔یہ ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب عیسائیوں کی جماعت بڑی ہوگئی اور ایک ایسے عالم نے جو جدید افلاطونی علوم کا ماہر تھا اس انفرادیت اور سادگی کو تباہ کردیا جو معلّم اصلی کی تعلیمات کی خصوصیت تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ مغربی محققین اس بارے میں جو نظریہ عام طور پر تسلیم کرتے ہیں، میں یہ اسی کی بنا ء پر کہہ رہا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ نے صلیب پروفات نہیں پائی بلکہ معجزاء طور پر غائب ہوگئے، اور ان کے عہد میں جو روایات رائج تھیں،یہ عقیدہ ان سے مطابقت رکھتا تھا۔ اگرچہ اس نظریئے کو ایک مشکوک الاصل غناسطی روایت کہا جاتاہے اور یہ عام عیسائی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا،لیکن تاریخی اعتبار سے دونوں نظریوں کی صداقت کا مساوی امکان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت عیسیٰؑ کی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی تبلیغی و اصلاحی زندگی کے آغاز ہی سے اپنی قوم کی مخالفت کاسامناکرنا پڑا۔ ان کے پیرو میں ابتداء میں قلیل التعداد اور کمزور تھے، ان کے پیش روبھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے بُت پرستی کے بندھن توڑے تھے اور اپنے بطون میں چشمہئ حیات کی موسیقی سُنی تھی۔ انہوں نے بھی نرمی،صلہ رحمی اور محبت کی تعلیم دی۔

لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاظہور ایک ایسی قوم میں ہوا جو بربریت وجہالت میں ڈوبی ہوئی تھی، جس کے لیے جنگ وجدل مقصد زندگی تھا۔ وہ ایک ایسی قوم تھی جو یونانیوں اوررومیوں کے مادّیت آفریں اور انحطاط انگیز اثرات سے بھی اوران کے انسانیت آموز اثرات سے بھی دور تھی۔ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تحقیر و تضحیک کے ساتھ او ربعد میں انتقامی غیظ و غضب کے ساتھ سنی گئی۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروؤں کی تعداد اور قوّت بڑھتی چلی گئی۔تاکہ آنکہ اہل مدینہ کی دعوت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان کارنامے کو تاجِ کامرانی پہنایا۔ جس لمحے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امن میں قدم رکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریف النفس میزبانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی یا ناکامی اہل مدینہ کی کامیابی یا نا کامی سے وابستہ ہوگئی۔ اسی لمحے سے بُت پرستوں اور ان کے معاونوں کی مخالفت اتنی بڑ ھ گئی کہ مسلمانوں کے لیے ہر وقت بیدار و ہوشیار رہنا ضروری ہوگیا۔ ایک اکیلے شہر کو عرب کے کثیر التعداد قبائل کی مجموعی یورشوں کا مقابلہ کرنا پڑا اِن حالات میں اس چھوٹی سی خداداد مملکت کا وجود قائم رکھنے کی خاطر اکثر مستعداد اقدامات کی ضرورت پیش آتی تھی۔ جب امن و آشتی کی حُجتیں تمام ہوجاتیں تھیں تو دباؤ سے کام لینا پڑتا تھا۔

تحفظ ذات کا وہ جبلّی داعیہ جو بنی ناصری کے سینے کے اندر سے اس وقت پکارا تھا جب انہوں نے اپنے حواریوں کو یہ تلقین کی تھی کہ اپنے آپ کو تحفظ کے آلات سے لیس کریں ۱؎، اسی داعئے نے ستم رسیدہ مسلمانوں کو مجبور کیا کہ جب ان کے بے رحم دشمن ان پر حملہ آور ہوں تو ہتھیار وں سے ان کامقابلہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ لوقا۔ ب 22۔256)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رفتہ رفتہ محبت وشفقت اور مستعدانہ محنت و ہمت کی بدولت بکھرے ہوئے عرب قبیلے پر متاران حق کی جماعت میں شامل ہوگئے اور ملک میں امن وامان کا دور دورہ ہوگیا۔حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تھے تو ایک ایسی قوم کے فرزند جس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ مشتعل مزاج قوموں میں ہوتا ہے،جو جبلۃً اس وقت بھی اتنی ہی طوفانی وہیجانی تھی جتنی اب ہے او رجس کے جذبات اس کے صحرا کو تپانے والے سورج کی طرح بھڑکیلے تھے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کو ضبط نفس اور افکار نفس کی ایسی عادتیں سکھائیں جن کی کوئی نظیر تاریخ نے اس سے پہلے پیش نہ کی تھی۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت بین الاقوامی مروّت کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔ جب قومیں یا قبیلے ایک دوسرے سے جنگ کرتے تھے تو اس کا نتیجہ عموماً یہی ہوتا تھا کہ جو لوگ لڑنے کے قابل ہوتے تھے وہ سب کے سب تہِ تیغ کردیئے جاتے تھے۔ معصوم عورتوں او ربچوں کو غلام بنالیا جاتا تھا اور دشمنوں کے گھرو ں میں جو بُت ہوتے تھے وہ اپنے سازو سامان سمیت لُوٹ لیے جاتے تھے۔

اگرچہ اہل روما نے تیرہ صدیوں کی مدّت میں ایک ایسا ضابطہئ قوانین مرتّب کیا جو اتنا ہی جامع تھا جتنا وہ بلند تھا۱؎۔لیکن وہ بھی بین الاقوامی اخلاق یا انسانیت کے فرائض کا ادراک نہ کر سکے۔ وہ جنگ صرف اس مقصد سے کرتے تھے کہ آس پاس کی قومو ں کو اپنا مطیع و منقاد بنائیں۔ جہاں جہاں انہیں کامیابی ہوئی انہوں نے مسخّر قوموں پر اپنی مرضی علی الاطلاق عائد کردی۔ معاہدو ں کے تقدّس کاکوئی احساس نہ تھا۔ معاہدے کئے جاتے تھے اور عندالضرورت توڑ دیئے جاتے تھے۔ اہل روما کی نظروں میں دوسری قوموں کی آزادی کوئی وقعت نہ رکھتی تھی۲؎۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ سامی نسلوں سے ناانصافی ہوگی، اگر میں یہاں یہ بیان نہ کردوں کہ روم کے تقریباً تمام قانون ساز سامی النسل تھے،یعنی فنسیقی یا سوری یا قرلاجنی۔Dollinger,

۲؎ اس موضوع پر دیکھئے۔

The Gentide and the Jerv.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مذہب عیسوی کے آنے سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ بین الاقوامی مراعات کے بارے میں اہل روما کا جوعندیہ پہلے تھا،اب بھی وہی رہا۔لڑائیاں انہی انسانیت سوز اور ہلاکت آفریں طریقوں سے لڑی جاتی رہیں جو پہلے رائج تھے۔ فتحمند فوجیں اسی طرح بے دریغانہ ہزیمت خوردہ لوگوں کو غلامی کی بیڑیا ں پہناتی رہیں۔ میثاق او رمعاہدے اسی طری ہوتے رہے او راسی طرح کسی مقامی سردار کی سہولت کے پیش نظر توڑ ے جاتے رہے۔ عیسائیت کا یہ دعویٰ ہی نہ تھا کہ اسے بین الاقوامی اخلاق سے کوئی سروکار ہے۔ چنانچہ اس نے اس بارے میں اپنے پیروؤں کی ہدایت کے لیے کوئی مشعل روشن نہ کی۔

جدید مفکرین نے یہ نہیں کیا کہ اس افر کو عیسوی نظام کا ایک حقیقی تسلیم کریں اور جو اس قدرتی سبب سے رہ گیا کہ اس نظام کا بانی اپنا کام پایہئ تکمیل کو نہ پہنچا سکا۔ اس کے بجائے انہوں نے اس کی حمایت کی ہے اور اس کے جواز کی دلیلیں پیش کی ہیں۔ عقلِ انسانی بھی کبھی کبھی اپنے آپ کو کیسی کیسی کج بحثیوں میں الجھا لیتی ہے! ایک ہی کام فرد سے سرز د ہوتو صحیح سمجھا جاتا ہے اور جماعت سے سرزد ہوتو غلط۔اسی طرح ایک ہی کام جماعت سے سرزد ہوتو صحیح سمجھا جاتا ہے اور فرہ سے سرزد ہوتو غلط۔مذہب اور اخلاق جو متبادل الفاظ ہیں، دونوں قانون کی اقلیم سے علٰیحدہ رکھے جاتے ہیں۔ مذہب جو افراد کے حلائق کی ضابطہ بندی کا مُدعی ہے، نو ع انسانی کے مختلف گروہوں کے باہمی تعلقات سے اپنے آپ کو بری الذمّہ کہتا ہے۔ چنانچہ یوں مذہب محض جذباتیت ہوکر رہ جاتا ہے،یعنی پرُ جوش جذبات کے اُنڈیلنے کی ایک ناند،یا مجالس مذاکرہ میں باہمی قصیدہ خوانی کا ایک موضوع،اگرچہ یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی وہ فلسفہ اخلاق کی رفعت بھی حاصل کرلیتا ہے۔

بین الاقوامی فرائض کی حقیقی بنیاد یہ ہے کہ اقوام کو افراد کی سی حیثیت دی جائے او ریہ بات ملحوظ خاطر رکھی جائے کہ اقوام اور افراد کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ معیار قائم نہیں کئے جاسکتے کیونکہ جس طرح افراد کے مجموعی کا نام اقوام ہے اسی طرح اقوام کے مجموعے کا نام ہے نوعِ انسانی، اور اقوام کے درمیان جو رابطہ حقوق و فرائض ہے وہ اس رابطہ حقوق و فرائض سے جو افراد کے درمیان ہوتا ہے کسی طرح مختلف نہیں ۱؎۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ مقابلے کے لئے ملاحظہ کیجئے:David Urquharts (باقی حاشیہ 343 پر ملاحظہ فرمائیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ درست ہے کہ جب مغرب میں لاطینی کلیسا قائم ہوگیا اور روم کے اسقفوں کو مزید اختیارات حاصل ہوگئے تو عیسائی دنیا کے لاطینی حصے میں کسی حد تک بین الاقوامی ذمہ شناسی پیدا ہوگئی۔ لیکن یہ ذمہ شناسی تمام وکمال کلیسا ئے روم کے تابعین تک محدود تھی۔البتہ کبھی کبھی یونانی عیسائیت کو بھی اس سے مستفید کردیا جاتا تھا۔جہاں تک محدود تھی۔ البتہ کبھی کبھی یونانی عیسائیت کوبھی اس سے مستفید کردیا جاتا تھ۔ جہاں تک باقی دنیا کا تعلق تھا، وہ غیر مشروط طور پر اس کے استفادے سے محروم رکھی گئی۔”مذہب کے نام کو کمزور قوموں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا عذر او رجواز سمجھا جاتاتھا او راس کی خاطر ان قوموں کو لوٹ مار اور غلام سازی کا سورد بنا یا جاتا تھا۔“ ہر جابرانہ اور متشّددانہ عمل پر کلیسا کی مہر تقدیس ثبت ہوجاتی تھی۔ انتہائی ظلم کی صورت میں کلیسا کا پروانہ بریت ظالم کی راہ نجات کو ہموار کرنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔قتل عام کے ان معرکوں سے شروع کر کے جو شارلمینCharbemagne نے کلیسا کی پوری پوری رضا مندی کے ساتھ برپا کئے امر یہ کے فرنجان و مرنج اصلی باشندو ں کے کُشت و خون اور بردہ فروشی تک بین الاقوامی فرائض کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی پامالی کا ایک غیر منقطع سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ جنسی ہمدردی کے اوّل اصول سے اس اعراض ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کے جن تابعین نے کلیسا سے اختلاف رائے کی جسارت کی ان پر ستم توڑے گئے۱؎۔

پروٹسٹنٹ مسلک کے رونما ہونے سے کوئی فرق نہ پڑا۔عیسائیت کے مختلف فرقوں کے درمیان جو مجادلے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے پر جو ظلم روا رکھے،وہ بجائے خود ایک مکمل تاریخ کا مواد بن سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ 342)

Essay on the Effects of the Contempt of Interntional Law reprinted from The East and West, feb, 1867

۱؎ مقابلہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: Milman, Latin Christianity, vol. i, and Lecky, History of Rationalism in Europe,(Persecutide)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہیلم (Hallam) کا قول ہے کہ:

”متعصبانہ تشّدد اصلاح یافتہ کلیسا کا سب سے بڑا فطری گنا ہے۔ یہ اس کی وہ خصوصیت ہے جس کے باعث ہر دیانت دار آدمی کے دل میں اس کی حمایت کا جوش ٹھنڈا پڑجاتا ہے، اسی حد تک جس حد تک اس کے مطالعے میں وسعت آتی جائے ۱؎۔“

مختلف نوازئیدہ کلیسا ایمانیات و دینیات کے معاملے میں ایک دوسرے سے یا کلیسائے روم سے چاہے کتنے ہی مختلف الّرائے ہوں،جہاں تک ان قوموں کے ساتھ جو کلیسا کے وائرے سے باہر تھیں اشتراک حقوق ومفادات کی تعلق تھا وہ سب باتفاق رائے اس کے مخالف تھے۲؎۔

اس کے برعکس اسلام کی روح علٰیحدگی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ بے تعلقی کو پسندنہیں کرتی۔ اگرچہ تہذیب و شائستگی نے ابھی بہت کم ترقی کی تھی اور دنیا معاشرتی و اخلاقی تاریکی میں بھٹک رہی تھی، لیکن رسول پاک نے مساوات کے ان اصولوں کی تعلیم دی جن کا محض ایک ادھورا سا ادراک دوسرے مذہبوں میں پایا جاتا ہے او ر ایسے قوانین نافذ کئے جو وسیع المشربی اور شریف النفّسی کے اعتبار سے ہر دوسرے مذہب کے قوانین سے حریف مقابلہ ہوسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ Hallam's Consitutional History of England, vol, i. oii. p. 62

لیکی کہتا ہے کہ جب کیلون نے سرویٹس کو تثلیث کے بارے میں ملحدانہ خیالات کی بناء پرنذر آتش کیا تو پروٹسٹنٹوں کے تمام فرقو ں نے اس کام کو سراہا۔۔۔ انگلستان میں کیتھولکون غیر مقلّدون اور ارباب بدعت کے برخلاف جو تعزیراتی قوانین رائج تھے اگر کوئی راست میں شخص ان کا مطالعہ کرے تو اس کے دل و دماغ کو دھّکا سا لگتا ہے۔

۲؎ گرویٹس (Grotius) نے جو غالباً یورپ میں بین الاقوامی قانون کا بانی مبانی تھا،مسلمانوں کو باضابطہ طور پر مغربی اقوام کے ساتھ اشتراک حقوق سے خارج قرار دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ایک مقابلہ مصنف کہتا ہے کہ ”اسلام اپنے عقائد کی تبلیغ کرتا تھا، لیکنانہیں کبھی جبراً تسلیم نہیں کراتا تھا، اور جو لوگ ان عقائد کوقبول کرلیتے تھے انہیں فاتحین کی جماعت کے برابر حقوق حاصل ہوجاتے تھے۔

اسلام نے مفتوحہ ملکوں کو ان تمام پابندیوں اور شرطوں سے آزاد رکھا جو ابتدائے عالم سے لے کر ظہور اسلام تک ہر فاتح عائد کرتاچلا آیا تھا۔

اسلام کے قوانین تمام مذاہب کے پیروؤں کو جو اسلامی حکومت کے زیر سایہ تھے نہ صرف آزادی ضمیر اور آزادی عبادت عطا کرتے تھے بلکہ ان آزادیوں کے ضامن بھی ہوتے تھے۔ قرآن کا ارشاد کہ لااکراہ فی الدنین (دین کے معاملے میں کوئی جبرنہ ہونا چاہئے۱؎)رواداری و احسان کے ان اصولوں پر شاہد ہے جن کی تعلیم اسلام نے دی۔ ”اگر تیرا خدا چاہتا تو تمام دنیا کے لوگ بہ یک وقت ایمان لے آتے، پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟ کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا۔“(یونس۔99،100)

یہ ہیں اس معلم کی ہدایات جس پر مذہبی تشدد اور تعصب کا بہتان باندھا گیا۔ یہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کے اقوال نہیں جو محض ایک اپنا ہی خون جگر کھانے والا مذہبی دیوانہ یا ایک تخیل پرست فلسفی تھا جسے مخالف قوتوں کے غلبے نے مفلوج کردیا تھا، بلکہ یہ اس شخص کے اقوال ہیں جو اپنی قوت کے عروج پر تھا،جو ایک ایسی مقتدر او ربہمہ وجوہ منظم مملکت کا تاجدار تھا جس میں اتنی طاقت تھی کہ بزورشمشیر اس کے احکام کا لوہا منوا سکتی تھی۔

کیا مذہب اور یا سیاست،دونوں میں افراد اور گروہوں نے رواداری کی تلقین اور عملی تاکید صرف اس وقت تک کی ہے جب تک وہ کمزور اور بے بس تھے۔ جہاں ان میں اتنی طاقت آئی کہ مخالف قوتوں سے جنگ آزما ہوسکیں، وہیں جبر و تشّدد نے رواداری کی جگہ لے لی۔ جب قسطنطین (Constantine) قیصر ان روم کے تخت پر متمکن ہوا تو عیسائیت آزار رسائی سے مصؤن ہوگئی اسی وقت سے مذہبی و تعدّی کا ایک منظم سلسلہ شروع ہوگیا جس کی نظیر صرف یہود کے یہاں ملتی ہے۔لیکی (Leeky) کہتا ہے کہ:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ البقرہ۔257۔ مہؤرت:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”جس لمحہ کلیسا کو قسطنطینکے زیر سایہ سیاسی اقتدار حاصل ہوا،اسی لمحے استبداد کا عام اصول مسلّم ہوگیا اور اس پر یہودیوں ملُحدوں اور مشرکوں کے خلاف عمل در آمدشروع ہوگیا۱؎۔“ ان لوگوں کوبے رحمی کے نہایت لطیف طریقوں سے ایذائیں پہنچائیں گئیں: انہیں دھیمے دھیمے جلنے والی آگ میں جلایا گیا تاکہ انہیں کلیسا ئے مسیح کی رحمدلی اور انسان نوازی پرغور کرنے کاموقع ملے۔ آبائے کلیسا نے یکے بعد دیگرے مذہبی تشدد کے تقّدس کے فتوے دئیے۔ کلیسا کے اولیاء میں سے ایک برگزیدہ ترین ولی نے،ایک ایسے ولی نے جو زہدو تقویٰ میں بے نظیر تھا“ جبرو اکراہ کے شقی ترین طریقوں کی حمایت میں دلائل پیش کئے۔ اُنیسویں صدی کے آغاز میں یورپ جن عظیم جنگوں کا معرکہ زار دبنا ان کو چھوڑ کر کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب کلیسا ئے مسیحی نے، جو عیسوی رسولوں سے استنا د اور کسب اختیار کا مدعی ہے، جنگ بازی کی حوصلہ افزائی میں تامّل کااظہار کیا ہو۱؎ مذہب کے نام پر مسیح کی عظمت برقرار رکھنے کی خاطر بدعت یا انکار کے مرتکب لوگوں کو تہس نہس کرنے کی مہمیں منظور کرنے میں پش و پیش کیا ہو۔ عیسوی انسان نوازی یا آئین اقوام پر ان لوگوں کو کوئی حق نہ پہنچتا تھا او رنہ آج کل بے چاری سیاہ فارم قوموں کو پہنچتا ہے۔ پندرھویں صدی میں پاپائے روم نے ایک خصوصی منشور حقوق جاری کیا جس کی رو سے غیر عیسائی دنیا پر تگیزوں او رہسپانیوں میں برابر تقسیم ہوگئی او رانہیں مکمل اختیار دے دیا گیا کہ جن طریقوں سے بھی چاہیں اپنے اپنے حصے کے باشندوں کو عیسائی بنائیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ پرتگیزوں اور ہسپانیوں نے کس فراخدلی سے اس منشور کی تفسیر کی۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ جبر وتشدد اور غیر عیسائیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں جتنے جتنے فتنہ انگیز مسائل ہیں وہ سب حضرت عیسیٰؑ کے سر منڈھ دیئے جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ مقابلہ کے لیے ملاحظہ کیجئے: Hallam, Constitutional History of England, vol. i. chap. ii. p. 98

۲؎ بیسویں صدی کی عظیم اور تباہ کن جنگ میں، جس میں عیسوی دنیا کی تمام بڑی بڑی قوموں نے شرکت کی(یعنی پہلی عالمی جنگ میں مترجم) اطراف کے مذہبی ارباب اختیار نے جنگ کی آگ بھڑکانے میں پرُ جوش و خروش کردار ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مثلاً ان کے ان الفاظ کا مطلب ماؤف کردیا جاتا ہے کہ انہیں ”داخل ہونے پر مجبور کرو۔“

اپنی شاندار کامیابی کے عروج پر، جب رسول عربی نے حرم کعبہ میں داخل ہوکر وہاں کے بُت توڑ ڈالے،اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی غیظ و غضب میں نہیں،بلکہ ازوارہ رحم و کرم ارشاد فرمایا کہ ”حق آپہنچا ہے تاریکی رخصت ہوتی ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کااعلان کیا، کمزوروں اور غریبوں پر ظلم کرنے کی ممانعت کی اور انصار میں جو لوگ غلام تھے انہیں آزادی بخشی۔

ٖحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رواداری کی محض تلقین ہی نہیں کی،بلکہ اسے قانون کی صورت میں متشکل کردیا۔ تمام مفتوحہ قوموں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی۔اپنے طریقہ عبادت پر عمل کرنے کی اجازت کامعاوضہ انہیں صرف ایک برائے نام جزیے کی صورت میں ادا کرنا پڑتا تھا۔ جس وقت کوئی غیر مسلم گروہ جزیہ دینے کا اقرار کرتاتھا، اسی وقت سے اس کے مذہب یا اس کی آزادی ضمیر میں کسی قسم کی مزاحمت یا مداخلت شرِع اسلامی کی خلاف روزی سمجھی جاتی تھی۱؎۔کیا یہ بات کسی دوسرے مذہب پر صادق آتی ہے؟ تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعاً ناگوار تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مذہبی مناقشوں سے نفور تھی۔ بار بار ارشاد ہوتاہے: ”جس بات کے بارے میں تم کچھ نہیں جانتے اس پر کیوں بحث کرتے ہو؟ نیکی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔جب تم اللہ کے حضور پلٹ کر جاؤگے تو اس وقت وہ تمہیں ان تمام باتو ں کی حقیقت بتادے گاجن کے بارے میں تمہارے باہمی اختلافات تھے۔“

آئیے اب ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے غزدات کاجائزہ لیں۔ ہم دیکھ آئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعین اور اطراف مدینہ کے قبیلوں میں جو چپقلشیں ہوئیں ان سب کا باعث بُت پرستوں کی جارحانہ اور سفّا کانہ عداوت تھی جس نے مسلمانوں کو مدافعانہ اقدامات پر مجبور کردیا۔جنگ موتہ اور مہم تبوک،جو دونوں کسی غیر ملکی سلطنت کے خلاف سب سے پہلی کارروائیاں تھیں، اس لیے ضروری ہوئیں کہ یونانیوں نے مسلمانوں کے ایک سفیر کوقتل کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ ملاحظہ کیجئے کتاب ہذا کا باب بعنوان ”اسلام کی سیاسی روح“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اگر مسلمان مشرقی عیسائیوں کو اس جرم کی سزانہ دیتے غالباً اسلام کے بزورشمشیر پھیلائے جانے کاالزام سننے میں نہ آتا۔ غزوہ ئموتہ فیصلہ کن ثابت نہ ہو۔ او رمہم تبوک جو محض ہر قل (Hera clius) کی فوجوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے شروع کی گئی، خالصتہً مدافعانہ تھی۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یونانیوں کو اپنے جرم کی سزانہ دی جاسکی۔ لیکن ان کے جانشینوں نے اس جرم کو فراموش نہ کیا اور اس کا کما حقہ معاوضہ وصول کیا۔

یونانی سلطنت کے ڈانڈے مسلمانوں کی مملکت سے یوں ملے ہوئے تھے کہ مخاصمت کی بدولت مسلمان عیسائی دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کے ساتھ بر سر جنگ ہوگئے۔ مزید بریں بازنطینی شہنشاہوں کے رو بہ زوال اقتدار کے تحت صوبوں کے حاکم کچھ ایسے خود مختار ہوگئے تھے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ معاہدہ کر کے مسلمان اس صورت حال کا علاج نہ کرسکتے تھے۔ ابھی ایک کو شکست دے کر اس سے معاہدہ نہ ہوچکاہوتا تھا کہ کوئی دوسرا کسی مخاصمانہ کارروائی کا مرتکب ہوجاتا تھا او رمسلمانوں کے لیے ضروری ہوجاتا تھا کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کریں۔ چنانچہ جب یونانیوں سے معاندت شروع ہوئی، تو مسلمان نتیجۃً ساری عیسائی دنیا سے ایک محاربہئ عام میں مبتلا ہوگئے۱؎۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ ملاحظہ کیجئے: Urquhart, Islam as a Political System,

میرا منشا یہ دعویٰ کرنا نہیں کہ مسلمانوں نے کبھی جارحیت یا ہوس ملک گیری کے زیر اثر عمل نہیں کیا۔ اس قسم کا دعویٰ انسانی فطرت پر لے درجے کی جہالت کااظہار ہوگا۔ یہ ممکن نہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے دشمنوں اور حملہ آوروں کے مقابلے میں جو بے نظیر اور شاندار کامیابیاں حاصل کی تھیں او راس طرح انہیں اپنے قرب و جوار کی قوموں کی کمزوری کا جو علم حاصل ہوا تھا اس کے باوجود وہ جادہئ اعتدال پر ثابت قدم اور قانونی حدود کے اندر محصور رہتے۔ میں اس امر سے بھی تجاہل نہیں کہ تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروؤں نے آپس میں لڑائیاں لڑیں اور وہ لڑائیاں اتنی ہی بے رحمی سے لڑی گئیں جتنی عیسائیوں کی باہمی جنگیں۔لیکن مسلمانوں کی یہ لڑائیاں خاندانی جنگیں تھیں۔ مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے ایک دوسرے پر جو تشدّد کئے وہ بھی زیادہ تر انہی اسباب کا نتیجہ تھے۔ مثلاً اہل بیت نیوی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی اولاد علی ؓ و فاطمہؓ،پرجو ستم (باقی حاشیہ صفحہ 349پر ملاحظہ فرمائیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح عیسائیوں کے یہاں اسی طرح مسلمانو ں کے یہاں بدنیت مقامی سرداروں نے اکثر مذہب کو اپنی حُبّ جاہ کی تسکین کا وسیلہ اور بہانہ بنایا ہے۔ جس طرح عیسائی فقہا اور علمائے دین نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیاہے، یعنی کفر کی دنیا اور عیسائیت کی دنیا، اسی طرح مسلم و فسطائیو ں نے بھی دارالحرب اور دارالاسلام میں فرق قائم کیا ہے لیکن اگر ان اصولوں کا جن پر مسلم حکومتوں اور غیر مسلم مملکتوں کے باہمی تعلقات مبنی کئے گئے اور بین الاقوامی آئین کے موضوع پر عیسائی مصنفّین کی تحریروں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوجائے گا کہ اوّل الذکر میں مؤخر الذ کر کی بہ نسبت کہیں زیادہ فراخ دلی اور عالی طرفی ہے۔ عیسائی حکومتوں نے تو ابھی حال ہی میں اور حالات کے دباؤ کے تحت غیر مسلم مملکتوں کو قوموں کی برادری میں داخل کیا ہے۔اس کے بر خلاف مسلم فقہا ء نے حالت جنگ اور حالت امن کے درمیان تفریق کی چنانچہ دارالحرب میں صرف وہ ملک شامل ہیں جن سے مسلمان برسر جنگ ہوں جن ملکوں سے ان کی صلح ہو وہ دارالامان کے حصے شمار کئے جاتے ہیں۔ ایک حربی یعنی دارالحرب کا باشندہ خالصۃً و کلیتہً ایک غیر ملکی تصور کیا جاتاہے۔ اسے اس کا حق نہیں ہوتا کہ صریح اجازت کے بغیر اسلامی مملکتوں میں قدم رکھے۔ لیکن اگر غریب سے غریب مسلمانوں بھی اسے امان دے یعنی اس کی حفاظت کا ذمہ دار بنے،تو پورے ایک سال تک وہ ہر قسم کی مداخلت سے مصؤن ہوتا ہے۔ ایک سال گزرنے کے بعد ضروری ہے کہ وہ اسلامی مملکت سے چلاجائے۔ دارالامان کا رہنے والا مستا من ہوتا ہے۔ اسے جو امان دی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہوسکتی ہے یا ایک محدود مدّت کے لیے، لیکن جب تک امان قائم رہے مستامن کے ساتھ جو سلوک کیا جائے گا وہ اس معاہدے کی شرائط کے عین مطابق ہوگا جو اسلامی مملکت اور اس ملک کے درمیا ن  ہو۔ مستامن لوگوں پر ان کے اپنے قوانین عائد کئے جاتے تھے، انہیں جزیے سے معاف رکھا جاتا تھا اور انہیں اور رعائتیں بھی دی جاتی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ 348) بنی اُمّیہ نے روارکھے ان کا سرچشمہ (جیسا کہ میں آگے چل کر واضح کروں گا۔) قریش کی وہ پُرانی دشمنی تھی جو انہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بنی ہاشم سے تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس ضابطہ قوانین نے آئین بین الاقوامی کو احکام شرعی کا ایک جزو بنالیا اس میں جارحیت کا شابُر بھی کیونکر ہوسکتا تھا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرواپنے اقتدار کے عروج پر بھی ہمیشہ اپنے مخالفوں سے یوں خطاب کرنے کو تیار تھے۔ ”ہماری مخالفت ترک کر دو اور ہمارے حلیف بن جاؤ تو ہم تم سے اپنا حلف پورا کریں گے، یاہمیں جزیہ ادا کرو اور ہم تمہارے تمام حقوق کا تحفظ کریں گے، یا ہمارا دین قبول کرو اورہمارے سارے حقوق میں ہمارے برابر کے شریک بنو۔“

آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بڑی بڑی ہدایات جن پر اسلامی قوانین رزم مبنی ہیں،اسلامی نظام کی دانشمندی اور انسان نوازی پر شاہد ہیں:۔

”اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اگر وہ تم پر حملہ کریں تو انہیں ہلاک کردو۔ لیکن اگر وہ باز آئیں تو جان لو کہ ظالموں کے سوا کسی پر دست درازی روا نہیں۔“ (البقرۃ۔190تا192)

مسلمانوں نے ایران پر جو لشکر کشی کی تو یہ حالات کا تقاضا تھا۔ نیم عرب بادشاہوں کا ایک خاندان یعنی خاندان بنو منذر،جو شہنشاہ ایران کے زیر سایہ حکمران تھا،یوں تو سلطنت بازنطین کا سیاسی مخالف تھا،لیکن اس کے ساتھ مذہب اور مفادات کے رشتے میں منسلک تھا۔ یونانیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جو پہلی آویز ش ہوئی اس کا ردّ عمل اہل حیرہ پر ہوا۔جو بنو منذر کے باجگزارتھے۔ حیرہ کی قلمرو ایک وسیع قلمرو تھی،جو دریائے فرات کے کنارے سے مغرب کی طرف پھیلی ہوئی تھی اور دشت عراق کو پار کرتی ہوئی بازنطینی سلطنت کے باجگزار غسّانی عربوں کی چراگاہوں تک کا پہنچتی تھی۔

حیرہ کی حیثیت ایرانیوں کے تحت تقریباً وہی تھی جو قیصر ان روم آگسٹس (Augustus) اور ٹائبیریس (Tiberias) کے تحت یہودیہ کی تھی۔ مسلمانوں کی فتح کے وقت شہنشاہ ایران کا مامور کیا ہوا ایک سردار حیرہ پرحکمران تھا لیکن کسریٰ نے ایک ایرانی مرزبان اس کی نگرانی پر مقّرر کر رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسریٰ دل ہی دل میں بنو منذر کے جانشینوں پر رشک کرتاتھا، جن کی رعایا اتنی ہی شورید ہ سر تھی جتنے اس کے اخلاف آج کل ہیں اور آئے دن ہمسایہ قبیلوں پر چڑھا ئیاں کرتی رہتی تھی۔ انہی چڑھائیوں کے نتیجے میں اہل حیرہ نے مسلمانوں سے دشمنی مول لے رکھی تھی۔ اسلامی حکومت اس وقت ایک واحد فرماں روا یعنی خلیفہ کے تحت مضبوط ہوچکی تھی او رآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بدوی قبائل کی سرکوبی کرکے ایک قوی حکومت بن چکی تھی۔ اس کے لئے نا ممکن تھا کہ ایک لڑکھڑاتی ہوئی سلطنت کے ایک ا دنیٰ سردار کی گستاخیاں برداشت کرتی چلی جاتی۔ چنانچہ ایک مسلم فوج حیرہ روانہ ہوگئی۔ مرزبان بھاگ کر مدائن چلا گیا جو سلطنت ایران کا دارالحکومت تھا اورعرب سردار نے کسی قسم کی مزاحمت کئے بغیر مسلم سپہ سالار حضرت خالد ؓ بن ولیدؓ کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔

فتح حیرہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ولایت کیانی کی دہلیز تک جا پہنچے۔ایران کو خانہ جنگی کی ایک طویل مدّت کے بعد،جس کے دوران لاتعداد و حشانہ خونریزیاں اور سفّا کیاں ہوئیں، بالآخر ایک قابل اور مستعد حکمران یعنی یزد گرد نصیب ہوا تھا۔ اس حکمران کے زیر ہدایت ایرانی سپہ سالار ایک لشکر جّرار لے کر مسلمانو ں کے مقابلے کونکلا۔ فاروق اعظم نے،جو اس وقت مسند خلافت پرجلوہ افروز تھے،ایرانیوں کی دعوت مبازرت قبول کرنے سے پہلے اپنے ایلچیوں کے ذریعے حسب معمول صلح دامن کی شرائط پیش کیں تاکہ جنگ کی نوبت نہ آئے۔ یہ شرائط حسب ذیل تھیں:۔

قبول اسلام جس کے معنی تھے ان سیاسئی خرابیوں کی اصلاح جنہوں نے حکومت ساسانی کی حالت اتنی پست کررکھی تھی۔ ان تعدّی آمیز محصولوں او ربالائی آمدنیوں ۱؎ میں تخفیف جو قوم کا خون چوس رہی تھیں اور آئین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عدل و انصاف، جس کی نگاہوں میں رعایا کے تمام افراد بلا امتیاز رُتبہ ومنصب مساوی تھے۔ ان شرائط کی متبادل شرط یہ تھی کہ حفاظت کے معاوضے کے طور پر خراج ادا کیا جائے۔ایرانی بادشاہ نے حقارت کے ساتھ یہ شرائط ردّ کردیں جس کا منطقی نتیجہ تھا معرکہ قادسیہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ عشرِ اراضی اور 2-1/2 فیصد زکوٰۃ کے سوا، جس کی تقسیم خود بادشاہ اور اس کے افسروں کی مرضی پرچھوڑدی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فتح مدائن کے بعد خلیفۃ المومنین نے قطعی حکم دیاکہ مشرق کی سمت مسلمان کسی قسم کے حالات میں بھی دریائے دجلہ پار نہ کریں اور دریائے فرات کو ہمیشہ کے لیے عجمی اور مسلم مملکتوں کے درمیان حدّ فاصل سمجھا جائے۔ ان کی شرائط پر ایک عہد نامہ صلح پر دستخط کئے گئے،لیکن ایران کو سرزمین بین النّہرین (Meso op tamia)سے نکل جانے کا بہت رنج تھا۔ ایرانیوں نے معاہدے کی جو خلاف ورزیاں یکے بعد دیگرے کیں ان کا نتیجہ معرکہ نہاوند کی صورت میں رونما ہوا۔ کسریٰ کی طاقت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ اس کے سردار اور موبد،جن کا مفاد اس میں تھا کہ بدنظمی او رظلم و ستم کادور دورہ قائم رہے،اس سے منقطع ہوگئے اور وہ خود اپنے پیش روداریوش (Darius) کی طرح ایک غریب الوطن پناہ گیر بن گیا۔ ایرانیوں نے من حیث القوم مسلمانوں کا استقبال ۱؎ نجات دلانے والوں کے طور پر کیا۔ مسلمانوں نے دجلہ سے لے کر البرزتک اور لبرز سے لے کر ماؤ رالنہر ر(Transoxiana) تک جو پیش قدمی کی وہ با عتبار فوعیت و حالات اس پیش قدمی سے مختلف نہ تھی جو اہل برطانیہ نے ہندوستان میں کی۔

ایرانیوں کا مجموعی طور پر مسلمان ہوجانا بسا اوقات اسلام کے عدم رواداری کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن تعصب میں اتنی کو رچشمی ہوتی ہے کہ اس کے زیراثر اہل علم بھی ان حالات کو فراموش کردیتے ہیں جن کے تحت مسلمان ایران میں داخل ہوئے۔ مذہبی زندگی کا ایک شمّہ بھی ایرانیوں میں باقی نہ تھا۔ عوام النّاس ایک ایسی خرابی کی چکی میں پیسے جارہے تھے جس سے بڑی خرابی کسی ملک کو لاحق نہیں ہوسکتی،یعنی مذہبی اجارہ داروں کی ایک زوائل میں مبتلا جماعت اور ایک فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی اقلیتی حکومت۔ مزوک و مانی کے پھیلائے ہوئے کفر نے معاشرے کے سارے جوڑ بند ڈھیلے کردیئے تھے۔ کسریٰ نوشیروان نے قومی شیرازے کے بکھر جانے کو صرف تھوڑی مدّت کے لیے ملتوی کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ داریوش کی طرح یزدگرد اپنی ہی قوم کے ہاتھوں قتل ہوا۔دیکھئے:Short History of the Caracens, p. 32

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جب مسلمان قاعدہ قانون اور امن و امان کے نقیب بن کر ایران میں داخل ہوئے تو ان کے داخل ہوتے ہی سارے ایراینوں نے اسلام قبول کرلیا،اور ایران ہمیشہ کے لیے دائرہ اسلام میں آگیا۱؎

جو شخص واقعات کا منصفانہ تجزیہ کرے وہ خود اس امر کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ میور کے قولِ ذیل میں کتنی صداقت ہے: ”اسلام کی بقا ئے دائمی کے لیے ضروری تھا کہ جو جارحانہ طریقہ اس نے اختیار کیا تھا وہ مسلسل طور پر جاری رکھا جائے اور عالم گیر قبول یا کم از کم عالم گیر فضیلت کے بارے میں اس کا جو ا دّعا تھاوہ بزدر شمشیر تسلیم کرایا جائے۲؎۔“ ہر مذہب اپنے دوران حیات میں کسی نہ کسی مرحلے پر اپنے پیروؤں کے میلانات و رجحانات کے مطابق جارحیت پر کار بند رہا ہے۔ اس سے اسلام مستثنیٰ نہیں، لیکن ہم یہ ماننے سے قطعاً انکار کرتے ہیں کہ اسلام نے کبھی بھی بالجبر تبلیغ کو پیش نظر رکھا یا دوسرے مذاہب سے زیادہ جارحیت کا ثبوت بہم پہنچا یا۳؎۔

اسلا م نے صرف اپنے تحفظ کی خاطر تلوار نیام سے نکالی او راپنے تحفظ ہی کی خاطر اسے اپنے ہاتھ میں رکھا، اور وہ ہمیشہ ایسا کرے گا۔لیکن اسلام نے کبھی کسی مبنی بر اخلا ق مذہب کے اعتقاد ات و یقینیات میں دخل اندازی نہیں کی، اس نے کبھی تشدد سے کام نہیں لیا، اس نے کبھی کوئی مجلس مواخذہ (Inquisition) قائم نہیں کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ مسلمانوں کے مقاصد کی بلندی کی شہادت میں ہم ذیل کی عبارت گبّن (Gibbon) سے پیش کرتے ہیں: ”ایران کے نظم و نسق کی بنیاد انسانوں،مویشیوں اور زمینوں کی پیدوار کے جائزے پر رکھی گئی۔ اس طرح جو شاندار انتظامی عمارت کھڑی کی گئی اور جو خلفاء کی بیدار مغزی کی گواہی دیتی ہے وہ ہر زمانے کے فلسفیوں کے لیے ایک سبق بن سکتی تھی۔“

Decline and Fall of the Roman Empire, vol. v, p. 97

نیز ملاحظہ کیجئے سیوطی‘ ”تاریخی الخلنار“

۲؎ Muir, Life or Mahomet, vol, ii, p. 251

۳؎ مقابلہ کے لیے ویسے:

Mebuhrm Descriptish de I' Arabia,

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اختلاف رائے کو دبانے، انسانی ضمیر کاگلا گھونٹنے یا بدعت کا قلع قمع کرنے کے لئے کوئی تعذیبی شکنجہ ایجاد نہیں کیا، نہ اس نے لوگوں کو کھونٹوں سے باندھ کر آگ میں زندہ جلایا ہے۔ کوئی ایسا شخص جو تاریخ سے واقفیت رکھتا ہے اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ عیسوی کلیسا نے دعویٰ تو کیا مطلق معصومیت کا لیکن ”تاریخ انسانی کے کسی اور ادارے سے بڑھ کر خوان معصوماں بہایا۔“ جس مرد یا عورت نے کلیسا سے انحراف کیا یا کسی اور مذہب کو عیسائیت پر ترجیح دی اسے ایسی سزاملی جو اگرموت نہ تھی تو موت سے بہتر بھی نہ تھی۱؎۔ 521ء میں چارلس پنجم نے تمام اہل بدعت کے لیے موت اور قرقی املا کا فرمان جاری کیا۔ شرکت عشائے ربّانی سے انکار کی عمومی سزا تھی آگ میں زندہ جلاتا،پھانسی پر لٹکا نا، زبان کا گدُّی سے نکال دینا۔جب انگلستان نے پروٹسٹنٹ مذہب اختیار کیا تو یکے بعد دیگرے متعدد حکمرانوں کے عہد میں پربسیٹیرینوں (Presbyterians) کو قید کیا گیا، گرم لوہے سے داغا گیا،لولا لنگڑا بنا دیا گیا،ان کے کوڑے لگائے گئے اور انہیں شکنجوں میں کس کر تشہیر کیا گیا۔ سکاٹ لینڈ میں وہ فراری مجرموں کی طرح ڈھونڈ ڈھونڈ کر پکڑے گئے،ان کے کان جڑ سے کھینچ نکالے گئے، انہیں گرم لوہوں سے داغا یا۔ انگلیاں مروڑ نے کے آلے سے بھینچ کر ان کی انگلیاں توڑ دی گئیں، کالبُوتوں کے اندر جکڑ کر ان کی ٹانگوں کی ہڈیاں چور چور کردی گیں۔عورتوں کو سر بازار کوڑے لگائے جاتے تھے۔کیتھو لکوں کواذّیتیں پہنچائی گئیں اور پھانسی پر لٹکا یا گیا۔ ان بپٹیوں (Anabaptists) اور ایرینوں (Arians) کو زندہ نذر آتش کیا گیا نوعیسائی فرقوں کے باہمی سلوک کا حال تھا۔ رہے غیر عیسائی،تو ان اتفاق رائے تھا۔ مسلمان او ریہودی عیسائیت کے دائرے سے، یعنی انسانیت کے دائرے سے خارج تھے۔ انگلستان میں یہودیوں کو عذاب کا تختہ مشق بناگیا اور پھانسیاں دی گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ بیان کیا جاتا ہے کہ سترھویں صدی میں ایک نوجوان کو صرف اس لیے پھانسی دی گئی کہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا آدمی کہنے سے انکار کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Article:

The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Sayed Ammer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions Of Iran Before Islam- Part 4 روح اسلام: اسلام سے قبل ایران کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 5 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 6 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی حالت

 Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World-Part 8 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 9 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 10 روح اسلام: ماقبل اسلام عرب کی مذہبی اور سماجی حالت 

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Messenger of Allah -Part 11 روح اسلام: پہلا باب پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Prophet’s Life and Prophet-hood -Part 12 روح اسلام: رسول اللہ کی زندگی اور رسالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Chapter 1- The Revelation of the Quran and Declaration of Prophethood -Part 13 روح اسلام:نزول وحی کی ابتدا اور اعلان نبوت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 14 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 15 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 2- The Prophet’s Migration Towards Madina Part 16 روح اسلام : دوسرا باب: مدینہ کی طرف رسول اللہ کی ہجرت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 3- The Prophet’s Life in Madina Part 17 روح اسلام : تیسرا باب: رسول اللہ کی زندگی مدینہ میں

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 4- Enmity Between Quraish and Jews-Part 18 روح اسلام : چوتھا باب ،قریش اور یہود کی دشمنی

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 5- The Attack of Quraish on Madina-Part 19 روح اسلام : پانچواں باب ، قریش کا مدینے پر حملہ

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 5- The Attack of Quraish on Madina-Part 20 روح اسلام : پانچواں باب ، قریش کا مدینے پر حملہ

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 6- Mercifulness and Kindness of the Prophet Muhammad pbuh-Part 21 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام : چھٹاباب، آنحضرتؐ کی رحم دلی

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 7, The Spread of Islam - Part 22 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، ساتواں باب ، اشاعت اسلام

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 8, The year of delegates - Part 23 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، آٹھواں باب ، عام الوفود

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 9, The Perfection of Muhammad’s Prophethood - Part 24 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، نواں باب ، رسالت محمدیؐ کی تکمیل

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 1, Final Chapter 10, The Subject of Caliphate - Part 25 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دسواں باب، مسئلہ خلافت

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 2, Chapter 1, The ideal goal of Islam - Part 26 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دوسرا حصہ، پہلا باب، اسلام کامثالی نصب العین

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 2, Chapter 2, The religious spirit of Islam - Part 27 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دوسرا حصہ، دوسرا باب، اسلام کی مذہبی روح

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 2, Chapter 3, The concept of life after death in Islam - Part 28 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دوسرا حصہ، تیسرا باب، اسلام میں حیات بعد الممات کاتصور

URL: https://www.newageislam.com/books-documents/syed-ameer-ali-preaching-jihad-islam/d/124893

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..