New Age Islam
Wed Jun 23 2021, 01:32 PM

Books and Documents ( 14 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 9 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت


سید امیر علی

مقدمہ (قسط  ۹)

آئیے اب ہم اس پرُ اسرار اور روحانی ملک۔ عرب۔۔ کی طرف متوجہ ہوں جو اب تک دنیا کی بڑی بڑی قوموں سے الگ تھلگ اور ان کی جنگی اور سیاسی کارروائیوں سے سروکار رکھے بغیر خاموشی وتنہائی کے پردے میں مستور رہا ہے۔ خسرو انِ ایران اور قیصر انِ روم کی فوجیں ملک عرب کی صدیوں کی نیندمیں خلل ڈالے بغیر قرنہا بعد قرن اس کی سرحدوں کے پاس سے کوچ کرتی ہوئی گزرتی رہی تھیں۔بازنطین اور ایوان کو جو طوفان آئے دن اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے تھے اکثر اوقات ان کی گھن گرج اس کے کانوں میں پڑتی تھی، لیکن وہ اپنی گہری نیند سے بیدار نہ ہوا تھا۔ بہر حال اب اس کے جاگنے کا وقت آگیا تھا اور جب وہ جاگا تو اس کے برگزیدہ ترین فرزند کی آواز نے اس کی بیداری کااعلان کیا۔

پہاڑوں کا وہ سلسلہ جو فلسطین سے خاکنائے سویز تک پھیلاہوا ہے اور جو بحیرہ احمر کے متوازی چل کر جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی سرے کو جا چھوتا ہے اسے عربی زبان میں حجاز کہتے ہیں،اور یمن تک جس علاقے سے وہ گزرتا ہے وہ سارا علاقہ اسی کے نام سے موسوم ہے۔ کہیں کہیں تو پہاڑ سمندر کے قریب ہیں اور کہیں کہیں ساحل سے دورہٹے ہوئے ہیں۔ ان کے اور ساحل کے درمیان بنجر اور غیر آباد نشینی زمینیں ہیں جن میں جا بجا سر سبز وادیاں اور شاداب نخلستان ہیں، جو برساتی نالوں کی گزر گاہوں میں خود بخود پیدا ہوگئے ہیں۔ اس سلسلہ کوہ سے پرے او رمشرق کی جانب نجد کا صحرا پھیلاہوا ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض سطح مرتفع ہے، جس میں بیاباں میں گھاٹیاں ہیں اور کہیں کہیں اکاّ دکّا ہرے بھرے شجر زار ہیں جو آنکھوں کو طراوت بخشتے ہیں۔ حجاز میں مکے اور مدینے کے مقدس شہر میں جو اسلام کا مولدادرگہوارہ ہیں۔

یہ وسیع خطّہ چار ملکو ں میں منقسم ہے جن کی حدود بخوبی معیّن ہی۔ شمال کی طرف عرب الحجر (Arabia Petraea) ہے جس میں قدیم اوومیوں (Edomites) اور مدیانیوں (Midianites) کے ملک شامل ہیں۔پھر خاص حجاز ہے جس میں یثرب کامشہور شہر ہے، جو بعد میں مدینۃ النبی (مخفّف مدینہ) کے نام سے سرفراز ہوا۔ خاص حجاز کے جنوب میں تہامہ (Tihama) ہے جس میں مکہ اور جدّے کی بندرگاہ ہے، جہاں حاجی جہاز سے اترتے ہیں۔ چوتھا او رسب سے جنوبی حصہ عسیر (Asyr) کہلاتا ہے اور اس کی سرحد یمن کے سرحد سے ملتی ہے۔ خاص یمن جزیرہ نمائے عرب کا جنوب مغربی گوشہ ہے، جس کے مغرب میں بحیرہ احمر ہے اور جنوب میں بحر ہند شمال میں حجاز اورمشرق میں حضرموت۔یمن کے لفظ کا اطلاق اکثر من حیث العام جنوبی عرب پر ہوتا ہے۔ جب اس کا اطلاق یوں کیا جائے تو اس میں یمن خاص کے علاوہ حضرموت اور اس کے مشرق کا علاقہ مہرہ (Mahra) بھی شامل کیا جاتا ہے۔ مہرہ (Mahra) کے پرے جزیرہ نمائے عرب کے جنوب مشرقی گوشے میں عمان ہے۔ اس کے شمال میں بحرین یا احسا ء جو خلیج فارس کے کنارے واقع ہے۔ موخرالذکر علاقے کو ہجر (Hijr) بھی کہتے ہیں، جو اس کے سب سے بڑے صوبے کا نام ہے۔

نجداس سطح مرتفع کا نام ہے جو حجاز کے کوہستان کے مشرقی حصے سے شروع ہوکر سارے وسطی عرب پر پھیلی ہوئی ہے۔ نجد کا وہ حصہ جو یمن کی سرحد پرواقع ہے نجد الیمن کہلا تا ہے اور شمالی حصہ صرف نجد۔ ان دو حصوں کے درمیان ایک پہاڑی علاقہ ہے جس کا نام یمامہ ہے جو اسلام کی تاریخ میں بڑی شہرت رکھتا ہے۔ نجد کے شمال میں شام کا ریگستان ہے۔ جو فی الحقیقت عرب کا حصہ نہیں،بلکہ اب اس میں عرب کے بدوی قبیلے اپنے قدیم ارامی پیشروؤں کی طرح خانہ بدوشانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کے شمال مشر ق میں عراق کے صحراہیں جن کی سرحد دریائے فرات کے دائیں کنارے پر کالدیہ (Chaldaea) کے علاقے سے ملی ہوئی ہے، جسے وہ عرب کے مزروعہ حصے سے جدا کرتے ہیں۔ مشرق کی جانب نجد اور احساء کے درمیان حدّ فاصل ان ریگستانوں میں سے ایک ریگستان ہے جنہیں اہل عرب نفود کہتے ہیں۔ جنوب کی طرف دہناء (Dahna) کا صحرا ہے جو نجد کو حضر موت اور مہرہ سے جدا کرتا ہے۔

اس وسیع و عریض خطّے میں، جو اپنے عروج کے زمانے میں فرانس سے دُگنے رقبے پر مشتمل تھا، اس وقت بھی دو طرح کے باشندے تھے اور اب بھی ہیں،یعنی شہروں کے لوگ اور بادیہ نشین لوگ یاد بدّو۔ بدوؤں میں جو اچھائیاں اور برُائیاں ہیں، مثلاً ان کی اپنے قبیلے سے محبت، ان کی عجیب و غریب حمیّت، ان کا منچلا پن، ان کا جذبہ ئ انتقام اور ان کی انسانی زندگی کے بارے میں لاپروائی، ان سب کو برٹن (Burton) اور پول (Poole) جیسے مشہور مصنفین نے بڑی عمدگی اور ہمدردی سے بیان کیا ہے۔ لیکن شہریوں اور بدوؤں میں چاہے کتنابھی فرق ہو، دعرب جبلّۃً بادیہ زاد ہیں۔ ان کی پرُجوش حبِّ آزادی او ران کی روحانی بلند پروازی ا ن کے صحر ائی مسکن کی کھلی ہوا اور بیکراں پہنائیوں کا نیتجہ ہے۔اگرچہ مکّے اور عکاظ میں ہر سال میلے ہواکرتے تھے، عرب کے شعوب و قبائل میں کسی قسم کی وحدت نہ تھی۔ ہر قبیلہ مدنی نشو و نما اور مذہب میں دوسرے قبیلو ں سے مختلف تھا۔ یہ تنّوع ان کے مختلف الاصل ہونے کا نتیجہ تھا۔ جزیرہ نما عرب میں مختلف قومیں مختلف زمانوں میں آباد رہ چکی تھیں۔ ان میں سے بہت سی صفحہ ہستی سے مٹ چکی تھیں، لیکن ان کے اچھے یا برُے کارناموں کی یاد ان کے بعد آنے والوں کے ذہنوں میں تازہ تھی۔ یہ روایتیں مجموعی طور پر قوم عرب کی تاریخ تھیں۔ خود عرب ان قوموں کو جو جزیرہ نمائے عرب اور آبادرہ چکی تھیں تین بڑے بڑے گروہوں میں تقسیم کرتے تھے۔

1۔ عرب البائدہ، یعنی وہ عرب جو معدوم ہوچکے تھے اور جن میں وہ حامی (کوشی) قبیلے جنہوں نے سامیوں سے پہلے عرب میں بودوباش اختیار کی تھی اور ان کے علاوہ شام، نفینشیا اور دوسرے علاقوں کی آرامی قومیں۔

2۔ عرب العاریہ یا متعاربہ، یعنی اصلی عرب اور خالص سامی قومیں جو روایت کے مطابق قحطان یا یقطان کی اولاد سے تھے اور جنہوں نے اپنی روبہ جنوب نقل و حرکت کے دوران ابتدائی باشندوں کو تباہ کردیا تھا۔ قحطانی عربوں نے، جو طبعاً خانہ بدوش تھے۔ ان ملکوں کے ابتدائی باشندوں پر، جو حامی النسل ستارہ پرست تھے، اپنا تسلّط قائم کرلیا تھا۔ ان کا اصلی گہوارہ وہ خطّہ تھا جہاں سے نسل ابراہیم بھی آئی تھی اور اس کی حدود کا تعّین قحطان کے دو اسلاف کے ناموں سے ہوتاہے، یعنی ارفحشد (Arphaxad) جس کے معنی ہیں، ”سرحدِ لدیہ“ اور عیبر یا عابر (Eber) جس کے معنی ہیں ”دریاپار سے آیا ہوا آدمی“  یعنی وہ آدمی جو دریائے فرات کے دائیں کنارے سے بابل یا عراق عرب میں آیا تھا۱؎

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Lenormant, Ancient History of the-East, vol, ii, p. 293

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔ عرب المستعربہ یعنی وہ لوگ جو عرب میں آکر آباد ہوئے۔ یہ لوگ ابراہیمی خاندان کے سامی تھے جو یا تو پرُامن مہاجروں یا فوجی آبادکاروں کوحیثیت سے جزیرہ نمائے عرب میں آئے اور قحطانی عربوں کے ساتھ شادی بیاہ کرکے انہی کے ساتھ رہنے لگے۱؎۔یہ تینوں الفاظ عاربہ، متعاربہ اور مستعربہ ایک ہی مادے سے ماخوذ ہیں اور ان کی صرنی شکل سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مختلف گروہ کن کن زبانوں میں آکر سرزمین عرب میں آباد ہوئے۲؎۔

اعراب العاربہ میں جو قومیں تاریخ اسلام کے ضمن میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں وہ بنی عاد۳؎، عمالقہ، وبنی ثمود اور بنی جدیس۔بنی عادجو حامی الاصل تھے، جزیرہ نمائے عرب کے سب سے پہلے آباد کار تھے اور وہ زیادہ تر وسطی عرب کے اس حصے میں آباد تھے جسے عرب مؤرخ اور جغرافیہ دان احقاف الرّمال کہتے ہیں، اور جس کی سرحد یمن حضرموت اور عمان کی سرحدوں سے ملتی ہے۔ اپنی تاریخ کے ایک دور میں بنی عاد ایک طاقتور او ر فاتح قوم تھے۔ ان کے ایک بادشاہ شدّاد نے، جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اپنی حکومت عرب کی حدود کے باہر بھی قائم کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے عراق فتح کیا، بلکہ ہندوستان کی سرحد ت جا پہنچا۔ اس روایت کا اشارہ غالباً بابل اور کالدیا پر عربوں کے حملے کی طرف ہے، جو دوہزار سال قبل مسیح واقع ہوا، اور شاید اسی واقع کو ایرانی روایات میں حملہ ضحاک کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اسی شدّاد نے یا غالباً اس کے کسی جانشین نے اس کا ہم نام مصر پر بھی چڑھائی کی،بلکہ او ربھی مغرب کی طرف جا نکلا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن الاثیر۔جلد اوّل۔صفحہ 55-58

۲؎  کوسیس وپرسیول (Caussin de perceval) باندہ اور عاربہ کو ایک ہی سمجھتا ہے اور متعاربہ کو دوسرا گروہ شمار کرتا ہے۔ بعد کے صفحات میں میں نے اس کی تقسیم پر عمل کیا ہے۔

۳؎  خیال کیا جاتا ہے کہ قحطانی عربوں نے بنی عادپر غلبہ پا کر انہیں معدوم کردیا اور بنی ثمود کو (جو ایک عجیب قسم کے غاروں میں رہنے والے لوگ تھے) خدالاحمر (Khqzar al-Ahmar) کے ماتحت، شوریوں نے ختم کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض مورخین کی رائے میں مصر پر عربوں کا یہ حملہ وہی واقعہ ہے جسے ہکسوں (The Hyksos) کا حملہ بھی کہاگیا ہے۔ اس نظریے کی تائید کسی حد تک اس امر سے ہوتی ہے کہ ان خانہ بدوش حملہ آوروں کو بالآخر تھیبائڈ (The Thebaid) کے بادشاہوں نے اپنے جنوبی ہمسایوں،یعنی جیشلوں اور کوشیلوں کی مدد لے کر افریقہ سے نکلا۔

کہا جاتا ہے کہ بنی عاد کی بیشتر تعداد خشک سالی کاشکار ہوکرتباہ ہوگئی۔ جو تھوڑے سے لوگ بچے رہے ان سے بنی عاد کی نئی قوم کی تشکیل ہوئی جس نے یمن میں کچھ مدت خوشحالی کی زندگی بسر کی۔ بالآخر نئے بنی عاد بھی یقطینی لہر کی لپیٹ میں آکر ختم ہوگئے۔

عمالقہ، جنہیں لنورماں (Lenormant)نسلاً ارامی خیال کرتاہے، بلاشک وشبہ دہی تھے جنہیں یہودی اور عیسائی کتب مقدسہ میں عمالقہ کے نام اور مصری آثار قدیمہ کے کتبوں میں ششو کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جنہیں اشوری بادشاہوں نے بابلیہ سے نکال باہر کیا۔ یہ لوگ عرب میں داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ یمن حجاز، فلسطین اور شام میں پھیل گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصر میں بھی جا پہنچے اور متعدد فراعنہ کی نسل سے تھے۔ حجاز کے عمالقہ بنی جرُہُم کے ہاتھوں یا تو تباہ ہوگئے یا ملک سے نکال دیئے گئے۔بنی جُر ہُم بنی قحطان کی ایک شاخ تھے۔ شروع میں یہ لوگ جنوب میں آباد ہوئے، لیکن بعد میں شمال کی طرف بڑھ کر عمالقہ پر غالب آئے۔

بنی ثمود جو بنی عاد کی طرح نسلاً کوشی یا حامی تھے، ادوم کے سرحدی علاقوں میں آباد ہوئے اور پھر حجر میں، جو عرب الحجر کے مشرق میں حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے۔ یہ لوگ چناٹو ں میں غار کھود کر ان میں رہتے تھے۔ سرہنری لے یارڈ (Sir Henry Layard) Layard نے اپنی کتاب (Early Travels) میں ان کے کوہستانی مسکنوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ چنانچہ زمانہ جدید کے سیّاحوں کے بیان کردہ حالات اور جدید انکشافات سے عرب روایات کا مقابلہ کیا جائے تو بنی ثمود کے وطن کی تعیین کی جاسکتی ہے۔ شام، نجد اور حجاز کے درمیان جتنی تجارت ہوتی تھی وہ سب بنی ثمود کی وسالت سے ہوتی تھی۔ اس تجارت کی  بدولت انہیں اچھی خاصی خوشحالی نصیب ہوئی۔ بالآخر ان کی بیشتر تعداد کو عظیم عیلامی فاتح خزارالاحمر نے شام اور عرب کی مہموں کے دوران ہلاک کر دیا۔ ان غارنشینوں پر جو اپنے سنگین مسکنوں میں رہ کر اپنے آپ کو خدا کے غضب سے محفوظ خیال کرتے تھے، جو ہولناک اُفتاد پڑی اس کا ذکر قرآن میں قریش کی تنبیہ کی غرض سے اکثر کیا گیا ہے۔

اس مصیبت کے بعد جو بنی ثمود بچ رہے وہ خلیج عیلام کے شمال میں جبل سعیر (Mount Seir) کے علاقے میں جاکر پناہ گزین ہوئے،جہاں ان کے آباؤ اجداد حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے زمانے میں رہا کرتے تھے، لیکن بہت جلد وہ ہمسایہ قبیلوں میں جذب ہوکر معدوم ہوگئے اور ان کی جگہ ادومیوں نے لے لی، جنہوں نے جبل سعیر پر کچھ مدت تک اپنا تصّرف جمائے رکھا۱؎۔ معلوم ہوتا ہے کہ بالآخر عربوں کے ایک گروہ نے جسے بنی قحطان نے یمن سے دیس نکالا دیا تھا، ادومیوں کی ریاست پر قبضہ کرلیا۔ ڈیوڈورس سیکولس (Diodorus Siculus)کے زمانے میں یہ لوگ رومی فوجوں کو دستے مہیاکرتے تھے۔

طسم، جدیس اور دوسرے چھوٹے چھوٹے قبیلے کسی ذکر خاص کے مستحق نہیں۔ اس لیے ہم ان سے قطع نظر کر کے بنی جُرہم کا حال بیان کرتے ہیں، جو عرب العاریہ میں شمار کئے جاتے ہیں اور جنہوں نے حجاز میں عمالقہ کو مغلوب اور ہلاک کر کے ان کی جگہ لے لی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نام کے دو قبیلے تھے۔ ایک تو قدیم ترین قبیلوں میں سے اور بنی عاد کاہمعصر تھا اور غالباً کوشی نسل سے تھا،دوسرا  قحطان کی اولاد سے تھا،جس نے سخت خشک سالی کے زمانے میں یمن سے نکل کر حجاز پر قبضہ کیا اور عمالقہ کو وہاں سے ملک بدرکرکے خود ان کی املاک پر قابض ہوگیا۔کہا جاتاہے کہ بنی جُرہُم نے جو قحطانی النسل تھے، اس وقت خروج کیا جب اسمٰعیل نسل کے عربوں نے عمالقہ میں، جن کے ملک میں وہ مدتوں سے رہتے چلے آرہے تھے، نمایاں حیثیت حاصل کرنی شروع کی۔ اسمٰعیلی عربوں نے حملہ آور وں سے سمجھوتہ کرلیا،اور کچھ مدت تک دونوں قومیں امن و امان سے ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو زندگی بسر کرتی رہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  کتاب پیدائش 16۔4اور 6

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن رفتہ رفتہ آل اسمٰعیل کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بنی جُرہُم کا وادی پرقبضہ ڈھیلا پڑتا گیا اور ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ حجاز اور تہامہ کی ولایتیں اولاد ابراہیم کے ہاتھوں میں آگئیں۔ مستعربہ عربوں کی ترقی شاہ بابل کی یورش کے باعث چندے رُک گئی، لیکن جیسا کہ ہم آگے چل کردیکھیں گے ابراہیمیوں نے بہت جلد اپنی کھوئی ہوئی قوت دوبارہ حاصل کرلی اور حجاز،نجد اور عراق دبین النہر ین کے ریگستانوں میں پھیل گئے جہاں انہوں نے قحطانیوں کو، جو ان کے پیش رو تھے، اپنے اندر جذب کرلیا۔

عرب المتعاربہ میں وہ قبیلے شامل تھے جوقحطان بن عابر کی اولاد سے تھے۱؎۔ اور جو زیادہ تر یمن میں مقیم تھے۔ قحطانی قبیلے عرب کے شمال مشرقی کونے سے داخل ہوئے تھے اور پھر رفتہ رفتہ جنوب کی طرف بڑھتے چلے گئے تھے جہاں وہ کچھ مدت تک تو کوشی النسل بنی عاد کے زیر سایہ بودوباش کرتے رہے اور پھر خودصاحب اقتدار بن گئے،لیکن قحطانی نسل کے باشندے صرف جنوبی عرب ہی میں نہ رہتے تھے۔ ان کا ابتدائی گہوارہ بین النہر ین تھا۔ وہاں سے یمن میں نقل سکونت کرنے کے دوران انہوں نے جزیرہ نمائے عرب کے پورے طول کو عبور کیا ہوگیا اور قدرتی طور پر اپنی کچھ بستیاں جا بجا چھوڑ گئے ہوں گے۔

عرب مورخین کا خیال ہے کہ مہاجرین کی جو لہر اس وقت جزیرہ نمائے عرب میں اُمڈ کر آئی اس کے سردار دو بھائی تھے، قحطان اور یقطان جوعابر اور حابر کے بیٹے تھے۔ ان کے نزدیک یمن کا پہلا بادشاہ قحطان کا بیٹا یعرب تھا جس کے نام پر اس کے تمام جانشینوں کابھی اور سارے جزیرہ نما کا بھی نام رکھا گیا۔ کہا جاتاہے کہ یعرب کے بعد اس کا بیٹا یشحب تخت پر بیٹھا، جس نے ولایت کے قدیم دارالحکومت نارب کی بنیاد رکھی اور جو مشہور عبدالشمس طقّب بہ سباکاباپ تھا۔ اس لقب کے معنی ہیں ”ملک گیر“ اور یہ اسے اس کی فتوحات کے صلے میں دیا گیا۔ سبا کے اخلاف قحطانی نسل کے مختلف قبیلوں کے اسلاف بنے، جو عربی روایات میں مشہور ہیں۔ سبا کے دو بیٹے تھے حمیر (Himyar) جس کے معنی ہیں سرخ۲؎۔اور کہلان (kuhlan) اوّل الذ کر اپنے باپ کے تخت پر بیٹھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن الاثیر اسے عابر غابر کہتا ہے۔

۲؎  وہ فراعنہ مصر کی طرح طرح چوغہ پہنا کرتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی کے نام پر خاندان سبا کا نام حمیری پڑا۔۱؎۔ اس کے اخلاف اور اس کے بھائی کُہلان کے اخلاف ظہور اسلام سے ایک صد ی پہلے تک یمن پر باری باری حکمران رہے۔عظیم بادشاہ ذوالقرنین اور مشہور ملکہ بلقیس، جو حضرت سلیمان کے عہد میں یروشلم گئی، دونوں اسی خاندان سے تھے۔۲؎

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  معلوم ہوتا ہے کہ یمن کے حمیری بادشاہ، جن کا لقب تبابس (Tobbas) تھا۔ قدیم الایام سے ایران اور بازنطین کے ساتھ زاہ ورسم رکھتے تھے۔

۲؎  ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں بہت شبہات ہیں۔ بہت سے مسلم مورخین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جس ذوالقرنین کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ سکندر مقدونی تھا، لیکن یہ خیال محّل نظر ہے۔”ذوالقرنین“ کے اصلی معنی ہیں ”دوسینگوں والا“ جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ قدیم سبائی بادشاہ بلال کی شکل کا تاج پہنتے تھے، جو انہوں نے غالباً ذوالقرنین کے زمانہ میں فراعنہ مصر سے مستعار لیا تو اس بارے مایں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ قرآن میں جو اشارہ ہے۔ وہ کسی مقامی خاندان کے بادشاہ کی طرف ہے جس کی وسیع فتوحات کو آئندہ پشتوں کے تخیل نے برھا کر عالمگیر سلطنت بنا دیا۔

لنورما (Lenormant) کا خیال ہے کہ شدّاد، ذوالقرنین اور بلقیس تینوں کوشی نسل کے تھے۔

حمیری بادشاہوں کی رعیت میں یہودیت کابہت زور تھا۔اگرچہ 243ء میں شہنشاہ قسطنطین کے سفیر کی فرمائش پر شاہان یمن نے اپنی ملکیت میں متعدد عیسائی گرجا بنانے کی اجازت دی۔ لیکن آبادی کا بیشتر حصہ قدیم سامی مذہب کا پیروتھا۔

پانچویں صدی عیسوی کے اختتام کے قریب ذونواس نے خونخوار غاصب ذوشناتر (Zu-Shinatira) کو قتل کر کے یمن اور اس کی مقبوضہ لایتوں پرتسلّط جمالیا۔ اس نے یہودیوں کے ایماء پر جن کے مذہب میں وہ داخل ہوچکا تھا، عیسائیوں پر جو مظالم کئے ان کا انتقام اس سے باز نطینی شہنشاہ نے لیا۔ قسطنطنیہ کا اشارہ پاکر حارث کے زیر قیادت ایک حبشی لشکر یمن کے ساحل پراترا اور اس نے ذونواس کو قتل کر کے یمن پرقبضہ کرلیا۔ یہ واقعہ 525ء کا ہے (باقی صفحہ 61پر دیکھیں)

بنی اسمٰعیل نے عرب میں جو ابتدائی بستیا ں بسائیں ان کے بارے میں روایات کا سلسلسہ حضرت ابراہیم کے کالد یا سے جلاوطن کئے جانے یا ترک وطن کرنے کے قصوں سے جا ملتا ہے۔آل اسمٰعیل حجاز میں پھیلتی پھولتی اور بڑھتی رہی۔آخر کا ر بابل کہ ہیبت آفریں بادشاہ بنو خذ نصر (بخت نصر) نے اسے بھی اور اس کے ساتھ بنی جرُہم کو بھی مغلوب کر لیا، بلکہ تقریباً تباہ کردیا۔جتنے بادشاہوں نے عرب کے دل پرحملہ آور ہونے کی کوشش کی ان سب میں یہ اکیلا بادشاہ ہے جو اس پر ضرب کاری لگانے میں کامیاب ہوا۔ مکّہ معظمہ کا سنگ بنیاد غالباً اسی زمانے میں رکھا گیا جب ابراہیمی عرب عربستان میں آکر آباد ہوئے، کیونکہ عرب روایات کے مطابق اس کا موسس ایک جُرہُمی سردار مضامین ابن عمر وتھا، اجس کی بیٹی نے عرب مستعربہ کے جدِّ امجد حضرت اسمٰعیل سے شادی کی۔ اسی زمانے میں کعبے کی تعمیر ہوئی، جس نے مکّے کو عرب کے باقی تمام شہروں پر فوقیت دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقیہ حاشیہ صفحہ 60: تھوڑی مدت بعد (537ء) میں ابرہہ الاشرم نے حارث کو قتل کیا اور حبشیوں کی طرف سے یمن کا وائسرائے مقرر ہوا۔ اسی ابرہہ کی قیادت میں عیسائی حبشیوں نے حجاز کوفتح کرنے کی ناکام کوشش کی۔ یمن تقریبا ً نصف صدی تک حبشیوں کے تصرف میں رہا۔بالآخر معدی کرب (Madi karib)نے اس مشہور سیف بن ذی یزر (Zu'l yezen) کابیٹا تھا، جس کے شجاعانہ کارناموں کے گیت بادیہ نشین عرب آج تک گاتے ہیں، کسریٰ انوشیروان سے فوجی امداد لے کر حمیری خاندان کو 573ء میں بحال کیا۔ جب 597ء میں عیسائیوں نے معدی کرب کوہلاک کردیا،تو یمن پر ایران کی براہِ راست حکومت قائم ہوگئی اور دربار ایران کے امور کئے ہوئے وائسرائے اس کے نظم ونسق کے مختار ہوگئے، انہیں مرزبان کے لقب سے پکارا جاتا تھا پہلا مرزبان وہرز (Wahraz) تھا۔ اس کے تحت یمن حضرت مہرہ اور عمان سلطنت عجم میں شامل کردیئے گئے۔آخر مرزبان بازان تھا، جسے خسرو پرویز نے 606ء میں مامور کیا۔ یمن میں اسلام کی اشاعت بازان کے عہد مرزبانی ہوئی اور وہ خو دبھی مشرف بہ اسلام ہوا۔ ایرانیوں نے یمن پر بڑی نرمی سے حکومت کی۔ تمام مذاہب سے رواداری برتی جاتی تھی اور تمام قبیلوں کے شیخ مرزبان کے زیر نگرانی اپنے اپنے علاقوں میں اپنے اپنے دستوروں کے مطابق انصرام امور کرتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Article:

Part: 1- The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

Part: 2 - The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

Part: 3- The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 4- Sayed Ammer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions Of Iran Before Islam- Part 4 روح اسلام: اسلام سے قبل ایران کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 5- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 5 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 6 - Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 6 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

 Part: 7- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی حالت

 Part: 8- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World-Part 8 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

URL: https://www.newageislam.com/books-documents/spirit-islam-preface-pre-islamic/d/122855


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..