New Age Islam
Tue Jun 15 2021, 09:44 AM

Books and Documents ( 7 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 6 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات


سیّد امیر علی

مقدمہ (قسط ۵)

عیسائیت کا جودعویٰ ہے کہ اسے تمام مذاہب سے بڑھ چڑھ کر بلکہ کسی دوسرے مذہب کی شرکت کے بغیر یہ حق ہے کہ وہ ساری نوع انسانی کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کرے اور اس کے ضمیر پر فرماں روائی کرے اس دعوے پر منصفانہ رائے قائم کرنے کی خاطر ضروری ہے کہ ان اسباب کو ذہن نشین کرلیا جائے جو شہنشاہ قسطنطین کی تخت نشینی سے پہلے دین ناصری کی اشاعت میں ممدو معاون ہوئے۔حضرت عیسیٰ کے دوبارہ دنیا میں آنے کی بشارت نے اور اس خوش خبری نے ان کے آنے کے ساتھ ہی خدا کی بادشاہی قائم ہوجائے گی، جس میں غریبوں کو سرفرازی حاصل ہوگی اور دولت منڈانویز (Dives) کی جگہ غریب لعزر (Lazarus) جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھائے گا، ادنیٰ طبقوں کے دلوں میں امیدوں کی ایک ہل چل برپا کررہی۔ حضرت عیسیٰ کے قریبی حواریوں اور پیروؤں کی ولولوں سے بھری ہوئی امیدوں نے آس پاس کے لوگوں کو بھی متاثر کیا اور جیسے جیسے دین عیسوی کے مبلغوں کی تعداد بڑھتی گئی ویسے ویسے یہ پرُ جوش عقیدہ دور دراز علاقوں میں پھیلتا گیا۔ قدرتی امر تھاکہ ایک ایسے مذہب کو بوعدم مساوات، زیادتیوں اور بے انصافیوں کو بہت جلد رفع کرنے کا و عدہ کرتا تھا عوام میں فوراً ہر دلعزیز ی حاصل ہوجائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  Dill's Roman Socicty from Naro to Marcus Aurellus. Chapter V and rivals of chiristiancity vol (ii) p. 87.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آتے ہی خدا کی بادشاہی قائم ہوجائے گی لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ اگر چہ اس عہد کا ایفا،جس کے بارے میں یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ابتدائی حواریوں کی زندگی ہی میں ہوجانے کامستقبل کی دھندلی دوریوں میں آنکھوں سے دور ہٹتا چلا گیا۔ تاہم جن توقعات اور امیدوں کو اس نے جنم دیا تھا ان کا زور اس وقت تک کم نہ ہوا جب تک عیسائیوں کو صلیبی جنگوں میں حتمی شکست نہ ہوئی۔ ایک ہزار سال کی مدت کے بعد، جو پہلے مصائب کا اور پھر کامیابی کا دور تھی، دین عیسوی کے غاری اپنے آقا کے ظہور ثانی کا پختہ عقیدہ دل میں لیے ایک دوسرے مذہب کے نام لیواؤں کو نیست و نابود کرنے کے ارادے سے میدان میں آئے۔

اس کے علاوہ او ربھی اتنے ہی قومی اسباب تھے جو عیسائیت کے اس صورت میں پھیلنے کے کفیل ہوئے جو اس نے حضرت عیسیٰ کی وفات یا ابیونی اور مسلم عقیدے کے مطابق ان کے پردہ غیب میں چھپ جانے، کے بعد اختیار کی۔

جیسا کہ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں یہودیوں کے سوا ایشیا ئے کو چک، شام اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں کے تمام لوگو ں میں ایک مرکر جٹے ہوئے خدا اور ایک تثلیث قدسیہ کا تصور عام تھا۔ مصریوں کے سراپسی مذہب کا یہ ایک لازمی رکن تھا۔ لہٰذا آئی سس کی پوجا کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ رومی سلطنت کے ہر حصے میں تثلیت کا تصور سرایت کرتاچلا گیا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد عیسائیت نے جن عقائد کو صورت اختیار کر لی ان کے مانے جانے کے رستے میں نہ کوئی جذباتی اور نہ کوئی مذہبی رکاوٹ تھی۔

ساتھ ہی ساتھ فلسفیوں نے بھی عیسائیت کو کمک پہنچائی،اگرچہ غیر شعوری طور پراور اس کی حمایت کرنے کے ارادے کے بغیر،بلکہ ہوسکتا ہے کہ اس کے عقائد ے واقف ہوئے بغیر انہوں نے فطرت الہٰی اور حیات بعد المات کے بارے میں جو قیاس آرائیاں کیں ان کا اثر یہ ہوا کہ آئی سس اور متھرا کے پر اسرار اور پرانے مسلکوں کی رسومات و عبادات پر بہت سے صاحب فکر لوگوں کایقین متزلزل ہوگیا، بلکہ شائستہ طبقوں کے لوگ دین عیسوی کے انقلابی نظریات کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور اسکندریہ کے خداؤں او رسورج دیوتا نے ان کے دلوں پر کچھ اس طرح تسلط قائم کر رکھا تھا کہ تقریباً صدیو ں تک عیسائیت کی اشاعت اور اَن پڑھ اور غیر متّمدن طبقوں تک محدود رہی۔ جب تک عیسوی کلیسا نے اپنے عظیم اور مسخر القلوب حریفوں سے بہت سے ایما ن یاتی مسائل اور ان کے تقریباً تمام قاعدے، رسمیں عملیات اور اصحاب فرہنگ و ثقافت میں مقبولیت حاصل نہ ہوئی پھر جب یہ لوگ مذہبی جبر یا سلطانی حکم کے دباؤ سے کلیسا کے حلقے میں داخل ہوئے تو وہ اپنے ساتھ وہ تمام عناصر لے کر آئے جنہوں نے جدید عیسائیت اور اس کے لاتعداد فرقوں کی تشکیل کی ہے۔۱؎۔ بہر حال دین عیسوی کی نشوونما کے ابتدائی دور میں اس بے پناہ جبر و تشددنے جو صدیوں تک جاری رہا، عقائد ونظریات میں ایک طرح کی وحدت برقرار رکھی۔

عوام الناس میں آئی سس پوجا نے مریم پرستی کی شکل اختیار کرلی۔ حضرت عیسیٰ کی والدہ حضرت مریم مصری دیوی کی جگہ ”امن کا ملجا“ اور ”رحم کا مادیٰ“ بن گئیں۔ اب ان کی پرستش  ”خدا کی ماں“ (Modrede dios) کے طور پر ہونے لگی، جیسی کہ آج تک لاطینی نسلوں میں ہوتی ہے۔

ترک دنیا خدایان اسکندریہ کے پرستاروں کا ایک مرغوب دستور تھا۔ فیشا غورس اور آرفیس کے مسالک کے تابعین اس پرعمل کرتے تھے اور انہو ں نے اسے گنگاکے ڈیلٹے کے پروہتوں سے، جن یہاں یہ عام تھا کہ،اکتساب کیا تھا۔ عیسوی کلیسا نے اسے اختیار کیا اور مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے اسے مقدس قرار دیا۔ بتپسمہ دینے والے یوحنّا کے یہاں بتپسمہ کی رسم بالکل سیدھی سادی تھی۔ آئی سس پوجا کے زیر اثر وہ ایک پرُ تکلیف اور پرُ اسرار رسم بن گئی۔ داخلے کی رسم کی جگہ شرکت عشانے ربّانی کا قاعدہ رائج ہوگیا۔ اور تو اور آئی سس کی سّری عبادات سے جو عقیدہ متعلق تھا کہ مرے ہوئے خدا کا لہو شراب میں تبدیل ہو جاتا ہے وہ بھی عیسوی نظام کاایک لازمی جزد بن گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  Doll's Roman Sociely from Nero to Marcus Aurclius, Chapter,V.

عیسوی کلیسا کے سرمُنڈے سفاچٹ داڑھیوں والے پادریوں کو، سفید پوش خادموں کو، رسومات کی شان و شوکت کو عشائے ربّانی کے طریقوں کو، روزوں اورضیافتوں کی مدتوں کو تاریخ میں عینک لگاکر دیکھئے تووہ قدیم تر مذہب جن کی جگہ عیسائیت نے لی اپنے سارے طمطراق اور دھوم دھڑ لّے کے ساتھ آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں۔ عیسوی کلیسا کے مکالماتی دعائیہ سنگیتوں (litanies) میں ہمیں وہ من موہنے بھجن سنائی دیتے ہیں جو ہزاروں سفید پوش لڑکے لڑکیاں مل کر اسکندریہ کی دیوی (یعنی مغربی غیر اہل کتاب دنیا کی ”مادرغمخوار“)کے حضور گایا کرتے تھے اور سینٹ پیٹر یا سینٹ پال کے گرجا سے سراپیوم کے مندر تک خیالی سفر کرنے کے لئے کسی خاص کوشش کی ضرورت نہیں پڑتی۔

حضرت عیسیٰ کے بڑے بڑے حواریوں نے ان کے مذہب کو جس صورت میں پیش کیا اس میں صرف یہ مستعار دلکشیاں ہی نہ تھیں، بلکہ وہ بذات خود بھی چند ایسی امتیازی صفات سے متصّف تھاجو ایسے لوگوں سے خراج عقیدت وصول کرسکتی تھیں جو روحانی تصورات اور مذہبی عقائد کے طوفان میں اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر کوئی ایسی امان گاہ ڈھونڈرہے تھے جہاں اعلیٰ اور ادنیٰ، عالم اور جاہل سب ہمسری کی سطح پر کھڑے ہوسکیں۔اس کے اعلیٰ پہلو آئی سس اور متھرا کے مسلک کی بہ نسبت زیادہ پرُ زور طور پر نہیں تو زیادہ یقین آور طور پر ضرور نوع انسانی کے اشرف ترجبلی تقاضوں سے خطاب کرتے تھے۔ زندگی معاد کے بارے میں اس کا وعدہ ان کے وعدوں سے کم مبہم اور پر ُ اسرار تھا، اور اس کے نظریے فلسفیوں کی مجرّ د قیاس آرائیوں کی بہ نسبت زیادہ ٹھوس اور مثبت تھے۔ وہ تمام پا مال ستم لوگو ں کے لیے راحت و تسکین کا پیغام اور ساری نوع بشر کے لیے اخوت ومساوات کاوعدہ لایا، (اگرچہ یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا) علاوہ بریں اس نے تمام ایمان لانے والو ں کو چاہے وہ امیرہوں یا غریب،نجات اُخروی کا یقین دلایا۔ اگرچہ اس کے مبلّغوں کی اذعافیت اور ادعّائیت نے کبھی ملکی قوت کی مدد سے او رکبھی اس کی مدد کے بغیر استفسار کرنے والوں کے ہونٹ سی دیئے۔ پھر بھی جو لوگ پرُانے مذہبوں کی سرّیت اور فطرت پرستی کی مستور بے حیائیوں سے متنّفرد ہوکر اس یقین کے مثلاشی تھے کہ دینوی زندگی کسی وسیع تر زندگی کا ایک حصہ ہے ان کی تمناؤں کی اس نے تسکین کی۔ مختصر یہ کہ ساری مغربی دنیا کی مثبت او ربلاواسطہ الہامی انکشاف کے لیے چشم براہ ور گوش برآواز تھی، اور ماضی کی تمام تعلیمات نے اسے دعوت حق پر لیبک کہنے کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ دین گلیلی نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنے پیشر وؤں اور حریفوں کی چھوڑی ہوئی رسوماتی ونظریاتی میراث کو اپناکررفتہ رفتہ ان قوموں کوجو رومہ کی حلقہ بگوش تھیں اپناگرویدہ بنالیا۔آیا حضرت عیسیٰ کی سیدھی سادی تعلیمات کی یہ تحریف جو اس مقصد سے کی گئی انہیں زیادہ قابل قبول بنایا جائے، ترقی تھی یا رجعت، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہم سردست نہیں دیتے، لیکن حضرت عیسیٰ کے تابعین کو جو الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے دین عیسوی کاحلیہ بگار دیا وہ الزام بالکل بے بنیاد نہیں۔

حضرت عیسیٰ کی تبلیغ کے بے وقت خاتمے نے اور اس امرنے کہ ان کی تعلیمات میں کوئی ترکیبی نظام نہ تھا ایک طرف توتخیل کو زیادہ وسیع میدان بہم پہنچایا اور جیسا کہ ابتدائی عیسائیوں کی زندگی سے ظاہر ہے عقیدہ وعمل کی زیادہ آزادی عطا کی 1؎۔ لیکن دوسری طرف مسائل و عبادات کے بارے میں ہی نہیں بلکہ خود حضرت عیسیٰ کی فطرت کے بارے میں بھی بحث ونزاع کا معرکہ زار کر دیا۔ یہودیوں اورعیسائیوں کا یروشلم سے نکالا جانا جہاں حضرت عیسیٰ کے بارے میں ایک انسان کی حیثیت سے بہت سی روایات تھیں۔ حضرت عیسیٰ کے تابعین کا غیر یہودی لوگوں سے مخلوط ہوجانا، جوانہیں چار وں طرف سے گھیر ے ہوئے تھے اور جن کے یہاں نظم ونسق کائنات سے متعلق نوفیثا غورسی یا افلاطونی خیالات رائج تھے،حضرت عیسیٰ کی شخصیت کا جو دھندلانقشہ ان کے تابعین کے تضور میں تھا۔۔ ان سب چیزوں نے مل کر طرح طرح کے نظریوں اور فرقوں کو جنم دیا۔ قرنہا بعد قرن حضرت عیسیٰ کاایک ایسا خیالی بت تراشا گیا جس کے نقش ونگار انسانوں سے کوئی مشابہت نہ رکھتے تھے اور جس کا سرایا محض مثالی اور خیالی صفات کا ایک مجموعہ اور ایک اوتار کا سراپا تھا۔ ان کی زندگی کے گروانسانوں کا ایک ایسا تارو پوُ دبنُ دیا گیا کہ اب ہمارے لیے یہ جاننا ناممکن ہوگیا ہے کہ وہ درحقیقت کیسے تھے اور انہوں نے کیا کیاکیا۔

ظہور اسلام سے پہلے کی صدیوں میں عیسائیت نے جو عجیب و غریب روپ بدلے وہ دلچسپ بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ غناسطی عقائد جو یہودی الاصل عیسائیوں کے خیالات کی عین صند ہیں، پہلی صدی عیسوی کے اختتام کے لگ بھگ رائج ہوئے، یعنی تقریباً اس زمانے میں جب قیصر ہیڈرین (Hadrian)نے یروشلم کو فتح اور برباد کیا۔ سرنتھس (Corin thus) نے جو اس صدی کے سطی معلّمو ں میں سب سے ممتاز تھا، اپنے پیروؤ ں میں آسمانی باپ او ر آسمانی بیٹے کی دوگانہ پرستش رائج کی۔ وہ باپ اور بیٹے کویسوع، یعنی دنیا کے پیدا کرنے والے، سے بالکل جدا ہستیاں تھا۔

سینٹ پال کی تنگ نظر عیسائیت نے اور اس نے اپنے نظریوں اور اسکندیہ کے دلستانوں کے فلسفے میں مطابقت پیدا کرنے کی لا حاصل کوششیں کیں انہوں نے اسی زمانے کے لگ بھگ ایمونیس ساکس (Ammonius Saccas) کی نوافلاطونی اخذنیت (Eclecticism) کو جنم دیا، جسے بعد میں اوریجن (Origen) اور دوسرے ممتاز عیسائیو ں نے اختیار کیا۔اس ہر فن مولا مصنف نے، جس کااثر ابتدائی صدیو ں کے تقریباً تمام عیسائی مفکرین کی تحریروں میں پایا جاتا ہے، تمام فرقوں اور عقیدوں میں ایک عام مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بعض باتوں کے اعتبار سے ایمبونیس مانی کا پیشرو تھا او راپنے تمام ہمعصر وں میں سربر آوردہ تھا۔ اس نے ایک دبستان قائم کیا لیکن اس کی تعلیمات نے کسی خاص جماعت کے اخلاق یاعقائد کی تشکیل نہ کی۔

Related Article:

Part: 1- The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

Part: 2 - The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

Part: 3- The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 4- Sayed Ammer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions Of Iran Before Islam- Part 4 روح اسلام: اسلام سے قبل ایران کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 5- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 5 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

URL: https://www.newageislam.com/books-documents/spirit-islam-preface-social-religious/d/122574


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..