New Age Islam
Fri Jun 25 2021, 04:25 AM

Books and Documents ( 18 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 2- The Prophet’s Migration Towards Madina Part 16 روح اسلام : دوسرا باب: مدینہ کی طرف رسول اللہ کی ہجرت

سید امیر علی

(قسط 16 )

ہجرت

محمد سید الکونین والثقلین          والفرقین من عرب و من عجم

بنی اُمیہ اور دوسرے مخالف قبائل نے کچھ تو اس وابستگی کی بناء پر جو انہیں اپنے قدیم مذہب سے تھی اور کچھ ہاشموں سے حسد و نفرت کی بناء پر،اسلام کو مکہ میں کچل دینے کا یہ موقع غنیمت جانا۔ابوطالب کے ذاتی رسوخ اور نیک سیرتی نے ان کے غصہ کو اب تک حد سے نہ بڑھنے دیا تھا۔ ابوطالب کے وفات پاتے ہی انہوں نے اپنا ظلم و ستم دگنی شدت سے شروع کردیا۱؎۔

اپنے محترم سرپرست او راپنی محبوب بیوی کی وفات سے آپؐ کو جو صدمہ ہوا،اور قریش کوبُت پرستی ترک کرنے پر آمادہ کرنے سے آپؐ کو جو نا امید ی تھی، اس کے باوجود آپؐ کے دل میں اپنی تبلیغ کی صداقت کا پوراپورا یقین تھا۔ چنانچہ آپؐ نے اس کے لیے کوئی نیا میدان تلاش کرنے کا تہیہ کرلیا۔ اہل مکہ نے تو خدا کے کلام کو رد کردیا تھا۔ ممکن تھا کہ اہل طائف اس پر کان دھریں۔اپنے وفادار خادم زیدؓ کو ساتھ لیے ہوئے آپؐ بنی ثقیف کے یہاں پہنچے۲؎۔ آپؐ نے انہیں اپنی رسالت سے مطلع کیا، ان کی برُائیوں پر تمنبہ کیا اور انہیں خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔آپؐ کی تقریر سے غیظ و غضب کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن الاثیر

۲؎  یعنی ساکنانِ طائف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے کہا کہ یہ خبطی شخص کون ہے جو انہیں ان خوبصورت دیوتاؤں کی پوجا کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہے جن کی پرستش وہ اتنی سبُک دلی اور اخلاقی آزادی سے کیاکرتے تھے۔ انہوں نے آپؐ کو شہر سے نکال دیا۔ آوارہ لوگوں اور غلاموں کاایک گروہ آواز ے کستا ہوااور پتھر برساتا ہوا آپؐ کے پیچھے دوڑا، یہاں تک کہ شام ہوگئی اور وہ لوگ آپؐ کا پیچھا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ زخموں سے چوُر، آبلہ پا اور تھکے ماندے،آپؐ کھجور ں کے درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارے:”الہٰی میں اپنی بے بسی اور تدبیر کی ناکامی اور لوگوں کے ہاتھوں اپنی توہین کا شکوہ تیرے ہی حضور کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رَبّ ہے اور میرا بھی۔ اے پروردگار! تو مجھے چھوڑ کر کسے سونپ رہا ہے،جو مجھے او ربھی کمزور بنادیں گے؟ مجھے میرے دشمنوں کے حوالے نہ کر۔ اگر تو میری اس حالت میں بھی مجھ پر خفا نہیں تو میں مطمئن و مصؤن ہوں۔میں تیرے اس نور کی روشنی میں رہنا چاہتا ہوں جس نے ظلمات کو منوّر بنا رکھا ہے اورجس کے پر تو سے دنیااور آخرت دونوں کی صلاح حاصل ہوتی ہے۔ الہٰی! اپنے غضب کو مجھ کر نازل نہ فرمااور جس طرح تو چاہے میری مشکلات حل کردے۔ اللہ کے سوا کوئی قدرت ہے، نہ کوئی طاقت۱؎۔

آنحضرتؐ نہایت آزردہ خاطر سے مکے واپس آئے۔ یہاں آپؐ کچھ مدت تک لوگوں سے الگ تھلگ رہے۔ آپؐ کبھی کبھی تبلیغ فرماتے تھے، لیکن آپؐ کی کوششیں زیادہ تر ان اجنبیوں تک محدود تھیں جو حج کے موقع پر مکے اور اس کے قرب وجوار میں ہر سال جمع ہوتے تھے۔ طبری کے قول کے مطابق آپؐ کو امید تھی کہ ان اجنبیوں میں آپؐ کو کچھ ایسے لوگ مل جائیں گے جو آپؐ پر ایمان لائیں گے اور پیغام حق لے جاکر اپنے ہم وطنوں تک پہنچائیں گے۔

ایک رو ز جب آپؐ یوں غمزدہ لیکن پھر بھی دل میں امید لیے ہوئے ان نیم تاجروں اور نیم حاجیوں کو تبلیغ فرمارہے تھے تو آپؐ کو یثرب کے دور و دراز شہر کے چھ باشندے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے۔ آپؐ نے فرمایا ”بیٹھ کر میری بات سنو“ اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن ہشام۔ابن الاثیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپؐ کے جوش و خلوص اور آپؐ کے کلام کی صداقت سے متاثر ہوکر وہ لوگ ایمان لے آئے۔(یہ 620ء کا واقعہ ہے۱؎) چنانچہ اپنے وطن واپس جاکر ان لوگوں نے بجلی کی سی سرعت کے ساتھ یہ خبر پھیلادی کہ عربوں میں ایک پیغمبر پیدا ہواہے جو لوگوں کو خداکی طرف بلائے گا اور ان کے صدیوں پرُانے جھگڑوں کاخاتمہ کردے گا۔

دوسرے سال یہ ثیربی اپنے ساتھ اپنے چھ ہم شہریوں کو لے کر آئے جو شہر کے دو سب سے بڑے قبیلوں ۲؎ کے نمائندے تھے۔

جس مقام پر پہلے چھ ثیربی ایمان لائے تھے وہیں ان نوواردوں نے اسلام قبول کیا۔ اس پہاڑی کے نام پر جہاں یہ واقعہ ہوا اسے بیعت عقبہُ ادلیٰ کہتے ہیں ۳؎۔ ان لوگوں نے مندرجہ ذیل اقرار کئے، ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔، ہم چوری نہ کریں گے، زناکاری نہ کریں گے، ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے، باہم بہتان طرازی سے اپنا دامن بچائیں گے، ہم ہر امر معروف میں رسولؐاللہ کی اطاعت کریں گے اور شادی و غم میں ان کے وفادار رہیں گے۴؎۔“

بیعت کے بعد جب یہ لوگ اپنے وطن واپس گئے تو اپنے ساتھ آنحضرتؐ کے ایک صحابیؓ کو لے گئے تاکہ وہ انہیں ارکان دین کی تعلیم دیں۔ چنانچہ اس طرح اسلام یثرب کے باشندوں میں بڑی تیزی سے پھیل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن ہشام۔طبری

۲؎  اوس اور خزرج

۳؎  تاریخ اسلام میں اس بیعت کو بیعت النساء بھی کہا گیا ہے تاکہ اسے عقبہ کی دوسری بیعت سے ممتاز کیا جاسکے جس میں یثرب کے مندوبین نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو دشمنوں کے حملوں اور توہین آمیز حرکتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جنگ بھی کریں گے۔

۴؎  ابن ہشام۔ ابن الاثیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی اور دوسری بیعت کا درمیانی وقفہ رسالت محمدؐی کا نازک ترین دور ہونے کی وجہ سے بڑی اہمیت رکھتاہے۔ آپؐ کا کامل توکّل علی اللہ اور آپؐ کا علوئے ہمت جس طرح اس دور میں نمایا ں ہوا، اس طرح اور کسی دور میں نہ ہوا۔ آپؐ اپنی قوم کوبت پرستی کی لعنت میں بُری طرح مبتلا دیکھ کر رنجیدہ ہوتے۱؎۔آپؐ کے غم کو یہ امید تسکین دیتی کہ انجام کا ر حق باطل پر غالب آئیگا۲؎۔ ممکن ہے کہ آپؐ کی زندگی اس وقت تک وفانہ کرے، لیکن باطل کاحق کے سامنے کافوی ہوجانااسی طرح یقینی ہے جس طرح تاریکی کا سورج کی کرنوں کے سامنے غائب ہوجانا۔ اس دور کے بارے میں میور کی زبان سے غیر شعوری طور پر ذیل کے کلمات تحسین بے اختیار نکل گئے ہیں۔ محمدؐ اس طرح اپنی قوم کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے، فتح کی اُمید میں انتظار کرتے ہوئے، بظاہر بے یارومددگار،اپنے حامیوں کی چھوٹی سی جماعت کے ساتھ گویا شیر کے منہ میں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس قادر مطلق پر بھروسہ کئے ہوئے جس کا پیغامبر وہ اپنے آپؐ کو سمجھتے تھے اور اس بھروسے کی بندولت ثابت قدم اور مضبوط۔۔۔۔۔۔ یہ انسانی عظمت کا ایک ایسا نظارہ ہے جس کی مثال صحائف مقدسہ میں صرف پیغمبر اسرائیل پیش کرتاہے۔ جب وہ اپنے آقا سے شکوہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں،صرف میں، تن تنہا رہ گیا ہوں ۳؎“۔

بیتابانہ انتظار کا یہ زمانہ اس رویائے معراج کی بدولت بھی قابل تذکرہ ہے جس نے شاعروں اور رادیان حدیث کی تخیئلی فطانت کے لیے زرّیں خوابوں کی اقلیمیں مہیا کردیں۔ ان لوگوں نے قرآن کے ان سادہ الفاظ پر خوبصورت اور شاندار قصوں کے حاشیے چڑھا دیئے ہیں:”پاک ہے وہ جو ایک رات اپنے بندے کو مسحد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔حقیقت میں وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۴؎“۔ (بنی اسرائیل۔1) قرآن کہتا ہے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  سورۃ الانعام۔،10

۲۔  المومن۔78

۳؎  Life of Mahoment, vol. ii,p. 228

۴؎  معراج کی نسبت جس چیز پر کہ مسلمانوں کو ایمان لانا فرض ہے (باقی حاشیہ 128 پرملاحظہ فرمائیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد کرو ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے رب نے انسانوں کو گھیرے میں لے رکھاہے، اور ہم نے تمہیں جو کچھ دکھایا وہ آزمائش تھا۔“(بنی اسرائیل۔60)۔ راویوں نے اس واقعہ کو جو خوبصورت لباس پہنایا ہے اس کے باوجود ”یہ ایک عظیم الشان رویاء ہے، جو پرُ شوکت تمثالیں Imagery اور عمیق معنی لیے ہوئے ہے۔۔۲؎

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ 127) وہ اس قدر ہے کہ پیغمبر خدانے اپنا مکّہ سے بیت المقدس پہنچنا ایک خواب میں دیکھا اور اسی خواب میں انہوں نے درحقیقت اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں مشاہدہ کیں۔“ (سرسید احمد خان۔آنحضرتؐ کی سیرت طیبہ کے متعلق بارہ تحقیقی اور تنقیدی مقالات۔مقالہ یا زدہم)۔ میور لکھتا ہے:“ اوّلین روایات ایک واقعی جسمانی سفر کی طرف نہیں بلکہ محض ایک رویا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔“ ابن ہشام نے جو ابتدائی روایات پیش کی ہیں وہ اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں۔ میرے خیال میں منصفانہ طور پر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ عیسائی، جو حضرت عیسیٰ کے دوبارہ زندہ ہوجانے اور ایلیاہ بنی کے جسمانی طور پر آسمان کا سفر کرنے پر اعتقاد کرتے ہیں،ان مسلمانوں کو جو حضرت محمدؐ کے جسمانی معراج پر ایمان رکھتے ہیں اپنے ہے کم عقلیت پسندکیوں سمجھتے ہیں۔

۱؎  Stanley Lane Poole, Introduction to Selection from the Koran,p. 56

۲؎  مصنف نے مسئلہ معراج میں عقلیت پسندانہ انداز تعبیراختیار کیا ہے۔ جمہور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ پرواز اور اسراء کا یہ نہج جسمانی تھا۔ ہمارے نزدیک اس بحث میں سارا الجھاؤ اس چیز سے پیدا ہوا ہے کہ یار لوگوں نے مدرسییت کے تتبع میں انسان کو جسم روح کے دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حالانکہ انسان محض ایک ”انا“ ہے جس میں جسم و روح کی دونوں سطحیں برابر شامل ہیں۔ اس کے ظہور کی ایک خارجی سطح جسم کہلاتی ہے اور داخلی سطح روح۔۔ انسان بہر حال ایک ہے اور اس کے کسی بھی فعل کر محض جسمانی یار وحانی قرار نہیں دے سکتے۔ اس نقطہئ نظر سے دیکھئے تو مسئلہ بہت آسان ہوجاتاہے۔ معراج کے معنی یہ ہوں گے کہ حضورؐ کی ”انا“ کو جس میں جسم بھی داخل ہے اللہ تعالیٰ نے سیر و اسراء کے ذریعہ ان تمام بہرہ مندیوں سے نوازا کہ (باقی حاشیہ صفحہ 129 پر ملاحظہ فرمائیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئندہ سال(622ء میں)وہ ثیربی جنہوں نے اسلام قبول کیا تھاپچھتر (75) کی تعداد میں اپنے بُت پرست بھائی بندوں کو ساتھ لیے ہوئے مکّے میں آئے تاکہ رسول اللہؐ کو اپنے شہر مکہ میں آنے کی دعوت دیں ۱؎۔ لیکن بُت پرستوں کو اپنے ساتھیوں کاعلم نہ تھا۔

رات کی خاموشی میں ۲؎، جب تمام مخالف عناصر سوئے ہوئے معلوم ہوتے تھے، اسلام کے یہ پہلے علمبردار اسی پہاڑی کے دامن میں جمع ہوئے جہاں بیعت اولیٰ لی گئی تھی۔آنحضرتؐ اپنے چچا عباس کی معیت میں آئے۔ حضرت عباس ؓ نے ابھی اسلام قبول نہ کیا تھا، لیکن اس کی ترقی میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ آپ نے مذاکروں کا افتتاح کیا اور ثیربیوں کو ان خطرات سے واضح طور پر آگاہ کیا جن میں وہ اپنے آپ کو اسلام قبول کر کے وہ معلم اسلام کو اپنے شہر میں آنے کی دعوت دے کر ڈال رہے تھے۔ ان لوگوں نے ایک زبان ہوکر جواب دیا کہ انہوں نے ان خطرات کی پوری آگاہی کے ساتھ اسلام اختیار کیا تھا اور کہا”یا رسولؐ اللہ آپؐ اپنے اور اپنے خدا کے لیے ہم سے جو عہد لیناچاہیں لے لیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ 128) جن کاتعلق اسرار دین اور موز کائنات کے عجیب و غریب انکشافات سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے واشگاف الفاظ میں اسراء کو اپنے ”عبد“ کی طرف منسوب ٹھہرایا ہے! امام بخاری نے بھی صحیح بخاری میں صلوٰۃ، حج، انبیاء توحید، مناقب اور ادب و تفسیر کے متعدد ابواب میں جو الفاظ ذکر کئے ہیں وہ اس انداز کے ہیں۔ خرج بالبنی، عرج بی، یا حیث عرج بہ۔ترمذی اور مسند امام احمد بن حنبل میں بھی واقعہ معراج کے لیے اسی طرح کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ معراج کا تعلق ایک بلند تر ”انا“ سے ہے، گرامی قدر ذات اور شخصیت سے ہے۔ صرف روح اور اس کے کوائف سے نہیں۔ قابل غوربات یہ ہے کہ سورہ بنی اسرائیل میں قرآن نے اس کو ایسا رویہ اقرار دیا ہے کہ جس نے لوگوں کو کفر و ایمان کی آزمائش میں ڈال دیا۔ظاہر ہے کہ رویا کے معنی محض خواب ہی کے ہوتے تو اس میں انکار ہی کیا تھا اور اس کے ادراک کے لئے صرف حضرت صدیق ؓ ہی کے ظرف عالی کو یہ توفیق کیوں نصیب ہوتی کہ وہ اس کو بلاتامل مان لیں۔ مزید برآں واقعہ معراج کے بعد اختلاف کا جو طوفان اٹھا، اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تاریخ کا غیر معمولی واقع تھے۔ محض خواب نہ تھا۔ (ادارہ)

۱؎  ابن ہشام، الجلی ’انسان العیون‘

۲؎  رسومات حج ادا کرنے کے بعد تین دن کی جو مدّت تشریق ہوتی ہے اس کے پہلے اور دوسرے دن کی درمیانی رات۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آنحضرتؐ نے اپنے معمول کے مطابق چندآیات قرآنی کی تلاوت سے آغاز کلام کیا۔ اس کے بعدآپؐ نے خدا کی عبادت کی دعوت دی اور اسلام کی برکات تفصیلاً۱؎ بیان کیں۔ ثیربیوں نے اپنے عہد کو دہرایا،کہ وہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے، اسلام کے احکام کو بجالائیں گے، ہر امر معروف میں آنحضرتؐ کی ہدایات پر عمل کریں گے اور آپؐ اور آپؐ کے متعلقین کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح اپنے بیوی بچوں کی کرتے ہیں۔

پھر انہوں نے دریافت کیا”اگر ہم راہ حق میں جانیں دے دیں تو ہمیں کیا صلہ ملے گا“؟ جواب ملا ”عقبیٰ کی راحت ۲؎“ انہوں نے مزید پوچھا۔”ایسا تو نہ ہوگاکہ آپؐ کامیابی اور خوشحالی کے وقت میں ہمارا ساتھ چھوڑ کر اپنی قوم کے پاس واپس چلے جائیں گے“؟ پیغمبر خدا نے مسکراکر جواب دیا۔”نہیں، ہر گز نہیں‘ تمہارا خون میرا خون ہے۔ میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو۔“وہ بولے ”تو اپنا ہاتھ بڑھائیے۔“ آنحضرتؐ نے دست مبارک بڑھایا اور ہر ایک نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر خدا اور رسولؐ کی اطاعت کاحلف اٹھایا۔ معاہدہ ابھی مکمل ہوا ہی تھا کہ ایک مکّی کی آواز آئی جو دور بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس آواز نے، جو رات کی فضا میں لہراتی ہوئی آئی، ان جاں نثار وں کے دل دہلادیئے۔ لیکن آنحضرتؐ کے تفویت بخش الفاظ نے ان کی ڈھارس بندھائی۔

اس کے بعد آنحضرتؐ نے ان لوگوں سے رائے لے کر ان میں سے بارہ افراد انتخاب کئے جو صاحب مرتبہ افراد تھے او رانہیں اپنا نقیب مقرر کیا۳؎۔ اس طرح دوسری بیعت عقبہ انجام پذیرہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن ہشام ابن الاثیر

۲؎  ابن الاثیر

۳؎  ابن ہشام۔ اس معاہدے میں پچھتر افراد (مرد اور عورتیں) شریک تھے۔ یہ معاہدہ ماہِ ذی الحجہ میں ہوا اور آنحضرتؐ نے اس مہینے کے باقی دن اور محرم و صفر کے مہینے مکّے میں گزارے۔ربیع الاوّل میں آپؐ مدینہ تشریف لے گئے۔ابن الاثیر۔جلد دوم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکّی مخبر نے اس معاہدے کی خبر سارے شہر میں پھیلادی تھی۔ قریش آنحضرتؐ کی جرأت پر متعجب ہوئے اور اکٹھے ہوکر ثیربی کارواں پر پہنچے تاکہ آنحضرتؐ سے معاہدہ کرنے والوں کی حوالگی کامطالبہ کریں، لیکن ان لوگوں کا سراغ نہ مل سکا، اس لیے انہوں نے کارواں کو بلامزاحمت واپس چلے جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن قریش کی یہ ظاہری بُردباری آنحضرتؐ اور ان کے متبعین پر ظلم و تشدد کی تمہید تھی۔دین حق کے علم برداروں کی حالت روز بروز زیادہ خطرناک ہوتی چلی گئی۔ آنحضرتؐ کے دل میں قتل عام کا اندیشہ پیدا ہوا۔ اس لیے آپؐ نے اپنے پیرؤوں کو ثیرب میں پناہ لینے کی ہدایت کی۔ چنانچہ تقریباً ایک سو خاندان دودوتین تین کی ٹولیوں میں چپ چاپ مکّے سے ثیرب چلے گئے، جہاں ان کا خیر مقدم بڑے تپاک سے کیا گیا۔اس طرح شہر کے بت سے محلے خالی ہوگئے۔عتبہ بن ربیعہ نے ان خالی مکانوں کو دیکھ کر،جن میں کبھی چہل پہل تھی، ایک ٹھنڈاسانس بھرا اور ایک پُرانا شعر پڑھا کہ”ہر مکان، چاہے اس میں کتنی ہی مدت تک برکت و خوشحالی رہی ہو، ایک نہ ایک دن رنج و غم اور خستہ حالی کا موجب بنتا ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے بھتیجے کا کیا دھرا، جس نے ہماری انجمنوں کو منتشر کردیا ہے، ہمارے معاملات کو خراب کردیاہے اور ہم میں پھوٹ ڈال دی ہے“۔

جو معاملہ حضرت عیسیٰؑ کو پیش آیا تھا وہی حضرت محمدؐ کو پیش آیا۔ فرق اتنا تھا کہ حضرت عیسیٰؑ نے خود فرمایا: ”یہ خیال نہ کرو کہ میں دنیا میں امن پھیلانے آیا ہوں۔ میں امن لے کر نہیں آیا بلکہ تلوار لے کر آیا ہوں۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ بیٹے کو باپ سے،بیٹی کو ماں سے اور بہوں کو ساس سے جداکروں ۱؎۔“ لیکن حضرت محمدؐ کو ان کے ایک بدترین دشمن نے خاندانوں میں تفرقہ ڈالنے کاالزام دیا۔

اس تمام مدت میں جب کہ طوفان اپنے عروج پر تھا اور ممکن تھا کہ کسی وقت ٹوٹ پڑے، آنحضرتؐ نے ہمت نہ ہاری۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کے سوا آپؐ کے تمام صحابی یثرب جا چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ متی ب10۔34اور35

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان دو رفیقوں کی معیت میں آپؐ نہایت بہادری سے اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔

دریں اثناء بادل گھرگھر کر آرہے تھے۔آنحضرتؐ کے بچ کر نکل جانے کے خوف سے قریش نے بعجلت تمام دارالنددہ میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں دوسرے قبائل کے چند افراد بھی مدعو کئے گئے۔معاملہ اب زندگی او رموت کا مسئلہ بن چکا تھا۔ جلسے میں بڑاگرما گرم مباحثہ ہوا۔کیونکہ قریش کے دلو ں میں خوف گھر کرچکا تھا۔ عمر قیداور شہر بدر کرنے کی سزاؤں پر باری باری سے بحث کی گئی۔ اس کے بعد قتل کی تجویز کی گئی۔ لیکن قتل اگر ایک آدمی کے ہاتھ سے ہوتا تواسے اور اس کے خاندان کو خون کا خطرہ لاحق ہوجاتا۔ بالآخر ابوجہل۱؎ نے یہ تجویز پیش کرکے یہ مسئلہ حل کردیا کہ مختلف خاندانوں کے چند چیدہ منچلے مل کر آنحضرتؐ پرحملہ کریں اور بیک وقت اپنی تلوار یں آپؐ کے سینے میں پیوست کردیں تاکہ سب مجموعی طور پر اس عمل کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں اور آنحضرتؐ کا خاندان اس طرح انتقا م لینے سے معذور رہ جائے۔ یہ تجویز منظور کرلی گئی اور چند نوجوان امیر زادے اس کام کے لیے منتخب کئے گئے۔ کچھ رات گذرے قاتلوں نے آنح ضرتؐ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ یہ لوگ ساری رات تاک میں بیٹھے رہے تاکہ جب آنحضرتؐ صبح سویرے گھر سے نکلیں تو آپؐ کو قتل کردیں۔وقتاً فوقتاً وہ کواڑوں کی دروازوں میں سے جھانک کر اطمینان کرلیتے تھے کہ آپؐ ابھی بستر پر آرام فرمارہے ہیں۔ لیکن حفظ ِ ذات کی اس جبلّی حسِ نے جس نے بسا اوقات بنی ناصری کو اپنے دشمنوں سے بچ کر نکل جانے میں مدد دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن ہشام۔ابن الاثیر، القرآن سورہئ انفال۔30۔ ابن ہشام لکھتا ہے کہ ابوجہل کی اس تجویز کی تائید ایک اجنبی نے کی جو نجد کے ایک معززشیخ کے بھیس میں آیا تھا اور جسے روایت خود شیطان کہتی ہے۔ ابوجہل آنحضرتؐ کے بدترین دشمنوں میں تھا۔ اس کا نام عمر و تھا او رچالاکی و ہوشیاری کی بنا ء پر اس کا لقب ابوالحکم تھا۔ آنحضرتؐ نے اس کے تعصب او رہٹ کی بناء پر جس کی وجہ سے اسے اسلام میں کوئی خوبی نظر نہ آئی تھی، اسے ابوجہل کا لقب دیا۔ جہالت نے ہر زمانے میں اپنے آپ کو راسخ العقیدگی کے سرپرست کے لباس میں پیش کیا ہے۔ چنانچہ اس طرح ابوجہل کا نام ایک ضرب المثل بن گیا ہے۔ مشہور شاعر حکیم سنائی نے ذیل کے شعر میں ابوجہل کی اسی خوبصوصیت کی طرف اشارہ کیا ہے:

احمد مرسل نشتہ کی روادار و خرو             دل اسیرسیرت بوجہل کا فر واشتن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنحضرتؐ کو بھی خطرے سے آگاہ کردیا۱؎۔قاتلوں کی توجہ کو بستر مرکوز رکھنے کی خاطر آپؐ نے اپنی سبز چادر حضرت علیؓ کو اوڑھادی اورانہیں اپنے بستر پر لٹا دیا۲؎۔ اور خود”حضرت داؤد ؑ کی طرح کھڑکی میں سے باہر نکل گئے“۔ گھر سے نکل کر آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے مکان پر گئے۔وہاں سے دونوں چپ چاپ مکّے سے روانہ ہوگئے۔ کئی دنوں تک وہ کوہ ثور کے ایک غار میں چھپے رہے جو مکّے کے جنوب میں واقع ہے۔

قریش کے غضب کی اب کوئی حدنہ رہی۔ اس خبر نے کہ قاتل ناکام واپس آگئے تھے اور آنحضرتؐ بچ کر نکل گئے تھے ان کے تمام جذبات دشمنی کو بیدار کردیا۔ آس پاس کے سارے علاقے میں سوار دوڑائے گئے اور آپؐ کے قتل کے لئے انعام ۳؎ کا اعلان کیا گیا۔ ایک دو مرتبہ تو خطرہ اس قدر قریب آپہنچا کہ حضرت ابوبکر ؓ کادل خوف سے لرز گیا۔ انہوں نے کہا، ”ہم صرف دو ہیں“۔ آنحضرتؐ نے فرمایا، نہیں ہم تین ہیں، خدا بھی ہمارے ساتھ ہے“۔ اور خدا فی الواقع ان کے ساتھ تھا۔ تین دنوں کے بعد قریش کی تگ دو وسست پڑگئی۔ اس تمام عرصے میں حضرت ابوبکر ؓ کی ایک بیٹی آپؐ دونوں کو رات کے وقت کھانا لاکر دیتی رہیں ۴؎۔تیسرے دن شام کے وقت آنحضرتؐ اور حضرت ابوبکرؓ غار سے نکلے اور بڑی مشکل سے دو اونٹوں کا انتظام کر کے غیر آباد راستوں سے ثیرت کی طرف روانہ ہوئے لیکن یہ راستے بھی خطروں سے خالی نہ تھے۔ آپؐ کے قتل کے لیے جو بھاری انعام مقرر کیا گیا تھا اس کے لالچ میں کئی سوار مکّے سے نکل پڑے تھے اور ابھی تک ان بے یارومددگار مسافروں کی تلاش میں تندہی سے مصروف تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ابن ہشام، ابن الاثیر

۲؎  ایک سو اونٹ۔ابن ہشام۔ ابن الاثیر

۳؎ایک سو اونٹ۔ابن ہشام۔ابن الاثیر

۴؎  ابن الاثیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ان میں سے ایک نے، جو ایک وحشی اور تندخوسپاہی تھا، آنحضرتؐ اورحضرت ابوبکرؓ کو دیکھ لیا اور ان کا تعاقب کیا۔ پھر ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ کادل ڈوب گیا اور وہ بولے،”اب ہم نہیں بچ سکتے۔“! رسول اللہؐ نے فرمایا،”ڈرو نہیں، خدا ہماری حفاظت کرے گا۔“ جب سوار آنحضرت ؐ کے قریب پہنچا تو اس کا گھوڑا چراغ پا ہوگیا اور وہ اس کی پیٹھ پر سے گرادیا۔ سوار پر ایسا خوف طاری ہوا کہ جس شخص کا وہ تعاقب کررہا تھا اسی سے اس نے گڑگڑاکر معافی کی التجا کی اور معافی کی نشانی مانگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک ہڈی پر معافی نامہ لکھ کر اسے دے دیا۔۱؎۔

اس کے بعد آنحضرتؐ ابوبکرؓ کو کوئی خطرہ پیش نہ آیا اور دونوں تین دن کے سفر کے بعد ثیرب کے علاقے میں پہنچ گئے۔ جون 622ء کا ایک گرم دن تھا جب آنحضرتؐ نے اپنی اونٹنیسے اتر کر اس سرزمین پر قدم رکھا جو آئندہ آپؐ کا مسکن و مامن بننے والی تھی۔ سب سے پہلے ایک یہودی نے، جو ایک مینار پر تاک لگائے کھڑا تھا،آپؐ کو دیکھ کر پہچانا ۲؎۔چنانچہ یوں قرآن کے یہ الفاظ پورے ہوئے:”جن لوگوں پر کتابیں اُتری ہیں وہ اسے اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں۔“ (الانعام۔20) آپؐ نے اور حضرت ا بوبکرؓ نے چند۳؎ روز تک ۴؎ قبا نام کے ایک گاؤں میں قیام کیا، جو ثیرب سے دو میل جانب جنوب واقع ہے اور اپنی خوبصورتی وزرخیزی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں حضرت علیؓ آپؐ سے آملے۔کفار کو آنحضرتؐ کے قتل میں جو ناکامی ہوئی تھی اس کا بدلہ انہوں نے حضرت علیؓ کو سخت اذّیتیں پہنچا کر لیا تھا ۵؎۔ حضرت علیؓ قریش کے خوف سے دن کو چھپتے ہوئے اور رات کو سفر کرتے ہوئے مکّے سے پیادہ پا آئے تھے۶؎۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ ابن ہشام، ابن الاثیر

۲؎ ابن ہشام

۳؎ پیر، منگل،بدھ اور جمعرات۔ابن ہشام اور ابن الاثیر

۴؎ ابن الاثیر                  ۵؎  ابن الاثیر

۶؎  کوسیس دی پرسیوال، ابن ہشام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بنی عمر بن عوف نے، جو اس گاؤں کے مالک تھے، آنحضرتؐ کو کچھ اور عرصہ قیام کرنے کی دعوت دی، لیکن آپؐ کا فرض آپؐ کو آگے بلا رہا تھا۔ چنانچہ آپؐ اپنے متبعین کی ایک جماعت کو ساتھ لیے ہوئے ثیرب کو روانہ ہوگئے۔ آپؐ جمعہ 16 ربیع الاوّل (مطابق 2جولائی 622ء) کی صبح کو شہر میں داخل ہوئے۔

اس طرح آپؐ کی ہجرت واقع ہوئی، جسے یورپی تواریخ میں ”محمدؐ کے فرار“ کا نام دیا گیا ہے اورجس سے سنین اسلامی کی ابتداء ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے باب پر نوٹ۱؎

سن ہجری کااجراء ہجرت کے سترہ سال بعد خلیفہ دوم کے حکم سے ہوا۔ لیکن اس کی ابتداء آنحضرتؐ کے مکّے سے رخصت ہونے کے وقت سے نہیں ہوئی، عبو4۔ربیع الاوّل کو واقع ہوئی، بلکہ سال قمری کے پہلے مہینے یعنی محرم کے پہلے دن سے۔ جب سال سے سنِ ہجری جاری ہوااس سال میں یکم محرم کی 15جولائی تھی۔

لیکن اگرچہ حضرت عمر ؓ نے سن ہجری کا اجراء کیا تاہم واقعات کے متعلق یہ کہنے کا قاعدہ کہ وہ ہجرت سے قبل یا بعد ہوئے چندروائتوں کے مطابق خود آنحضرتؐ کا ایجاد کردہ ہے۔۔ یہ ایک قدرتی امر تھا، کیونکہ رسالت محمدؐ ی کی تاریخ میں ہجرت کا واقعہ سب سے بڑا بحران تھا۔ مقابلے کے لیے دیکھئے الحلبی ’انسان العیون‘

دوسرے باب پر نوٹ۲؎

بارہ اسلامی مہینے حسب ذیل ہیں:۔ محرم (متبرک مہینہ)! صفر (سفر۱؎ کا مہینہ) ربیع الاوّل، (موسم بہار کا پہلی مہینہ) ربیع الثانی (موسم بہار کا دوسرا مہینہ)،جمادی الاوّل (پہلا خشک مہینہ) جمادی الثانی (دوسرا خشک مہینہ) رجب (یعنی جس کی تعظیم کی جاتی ہو اسے رجب المرجب بھی کہتے ہیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  ”صفر“ کے معنی ”روانگی“ نہیں،بلکہ یہ لفظ توشہ دان کرخالی کردینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مترجم

۔۔۔۔۔۔۔۔

شعبان (کو نپیں پھوٹنے کا مہینہ)،رمضان (گرمی کامہینہ)، شوال (اتّصال کا مہینہ)‘ ذوالقعدہ‘ (صلح، امن اور آرام کا مہینہ)‘ ذوالحج (حج کا مہینہ)‘قدیم عرب قمری سال پر کاربند تھے جس میں 354 دن، آٹھ گھنٹے اور 48ثانیے اور جوباری باری سے انتیس اور تیس دنوں کے بارہ مہینوں پر تقسیم کیا جاتاہے۔ اپنے قمری سالوں او ریونانیوں اور رومیوں کے شمسی سالوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی خاطر اور اس غرض سے بھی کہ ہر مہینہ صحیح موسم میں آئے، عرب لوگ ہر تیسرے سال میں ایک مہینے کااضافہ کردیا کرتے تھے۔ لوند کا یہ مہینہ بڑھانے کا عمل نسیئ کہلاتا تھا۔ اس سے حساب بالکل ٹھیک تو نہ بیٹھتا تھا، لیکن پھر بھی اتنا فائدہ ہوتا تھا کہ مہینہ کے ناموں اور موسموں میں قدرے مطابقت قائم رہتی تھی۔ چونکہ لوندکے سال (سال کبیہ) میں عرب لوگ رسومات قبیحہ مناتے تھے، اس لیے یہ قاعدہ ترک کر دیا گیا۔ اس وقت سے مہینوں کے ناموں اور موسموں میں کوئی مطابقت باقی نہیں رہی۔

Related Article:

Part: 1- The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

Part: 2 - The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

Part: 3- The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 4- Sayed Ammer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions Of Iran Before Islam- Part 4 روح اسلام: اسلام سے قبل ایران کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 5- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 5 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Part: 6 - Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 6 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

 Part: 7- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی حالت

 Part: 8- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World-Part 8 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Part: 9-  Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 9 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Part: 10- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 10 روح اسلام: ماقبل اسلام عرب کی مذہبی اور سماجی حالت 

Part: 11- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Messenger of Allah -Part 11 روح اسلام: پہلا باب پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی

Part: 12- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Prophet’s Life and Prophet-hood -Part 12 روح اسلام: رسول اللہ کی زندگی اور رسالت

Part:-13 - Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Chapter 1- The Revelation of the Quran and Declaration of Prophethood -Part 13 روح اسلام:نزول وحی کی ابتدا اور اعلان نبوت

Part: 14- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 14 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

Part: 15- Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 15 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

URL: https://www.newageislam.com/books-documents/syed-ameer-ali-prophet-migration-towards-madina/d/123186


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..