New Age Islam
Mon Jun 14 2021, 02:58 AM

Books and Documents ( 24 May 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 2, Chapter 1, The ideal goal of Islam - Part 26 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دوسرا حصہ، پہلا باب، اسلام کامثالی نصب العین

سید امیر علی

(قسط 26 )

25 مئی 2021

ھُلم الیّ لا تفصدّ سِوائی

اَنَاالمنّانُ فاطلُبنی تجدفی

اتذکرلیلتہً نادیت سراً

فلم اسمعک ناطلبنی تجدنی

اذا المضطّرقال الاترانی

مرے درپہ آ، کوئی دوسرا تو نہ کر تلاش مرے سوا                 میں ہوں صاحب کرم مدعطا، تو جو مجھ کو ڈھونڈ ھے تو پائے گا۔

تجھے یاد ہے کوئی اسی شب، تیرے دل نے جب مری کی طلب       تو سنی نہ میں نے تری صدا، مجھے ڈھونڈ، تو مجھے پائے گا

جو کبھی پکارے کوئی حزیں ”تجھے کیا تلاش میر نہیں؟“             تو میں اس کو دیتا ہوں یہ ندا ”مجھے ڈھونڈ تو مجھے پائے گا“

کوئی بندہ جب مرے حکم سے کرے سرکشی تو بُلا مجھے               ہے سریع میرا مواخذہ، مجھے ڈھونڈ تو مجھے پائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت عیسےٰ نے جس مذہب کی بنیاد رکھی وہ ان کے نام سے مناسبت سے عیسائیت اور ان کے لقب کی مناسبت سے مسیحیت کہلاتا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ او رمہاتمام بدھ  جو مذاہب لائے وہ انہی کے ناموں سے موسوم ہیں، لیکن حضرت محمدؐ جس مذہب کے معلّم تھے اس کا نام ان کے نام سے متعلق نہیں، اور وہ نام ہے ”اسلام“۔

دین محمدؐی کے مناسب طور پر سمجھنے کے لیے ضر وری ہے کہ ہم لفظ ”اسلام“ کے صحیح معنوں سے کما حقہ، واقف ہوں۔ سَلَمَ کے ابتدائی معنی ہیں سکون،قرار، فرض سے عہدہ برآئی،قرض سے سبکدوشی، کامل امن وا ٓشتی۔ اس کے ثانوی ہیں اس ہستی کے آگے سر تسلیم خم کرنا جس سے انسان نے رابطہئ آشتی قائم کررکھا ہے۔ اس مادّے سے جو اسم ماخوذ ہے اس کے معنی میں امن، سلام، سلامتی،نجات۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس لفظ میں مشیت ایزدی کے سامنے مکمل سپراندازی کا مفہوم مضمر ہے، لیکن یہ خیال غلط ہے۔ اس کے برعکس اس لفظ کا مطلب ہے حصول تقویٰ کی خاطر جدوجہد۔

اسلام میں جواخلاقی اصول مضمرد مجسّم ہیں ان کا لُبِّ لباب قرآن کے دوسرے سُورے نے ذیل کے الفاظ میں پیش کیا ہے:۔

”اس کتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ یہ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اس پر او ر ان کتابوں پرجو تم سے پہلے نازل کی گئی ہیں ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی ہدایت سے فیض یابن ہیں۔“ (البقرۃ۔1تا5)

(1) خالق کل کی وحدتی، غیر مجسّمیت، قدرت او رہمہ گیر محبت پر ایمان (2) نوع انسانی میں باہمی اخوت و ہمدردی(3) جذبات سفلی کی تسخیر۔(4) تمام نعمتوں کے بخشنے والے کا شکریہ احسان۔ (5) حیات بعد المات میں تمام انسانی اعمال کی باز پُرس۔ذات باری کی قدرت و محبت کے جو اعلیٰ اور عظیم الشان تصورات قرآن نے پیش کئے ہیں ان کے مقابلے کی کوئی چیز دنیا کے کسی زبان میں نہیں ملتی۔ خدا کی وحدت، اس کی غیر مادیت، اس کی عظمت و جبروت او راس کا رحم وکرم قرآن کی سب سے فصیح وبلیغ اورروح میں ہیجان پیدا کردینے والی عبارتوں کے مستقل او ر متناہی موضوع ہیں۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ زندگی، نور اور روحانیت کا ایک دریا ہے جو رُکے تھمے بغیر موجزن ہے، لیکن اذعانیت و ادّعائیت کا شائبہ بھی موجود نہیں۔ شروع سے آخر تک کہیں کوئی دعویٰ بے دلیل نہیں پایا جاتا۔ ہر بات میں صرف انسان کے شعور باطنی اور اس کی عقل وجدانی سے خطاب کیا گیا ہے۔

آئیے اب ہم ان مذہبی تصّورات پر ایک نگاہِباز پسیں ڈالیں جو اس وقت اقوام عالم میں رائج تھے جب پیغمبر اسلامؐ نے اپنی پیغام رسانی کا آغا ز کیا۔ کفّارعرب کے یہاں خدائی کا تصورات افراد و قبائل کے تمدّنی اختلافات کے پہلو بہ پہلو مختلف تھا۔ بعضوں کے یہاں وہ فطرت کو لباس خدائی پہنانے کی حد تک مقابلتًا بلند تھا او ربعضوں کے یہاں خالی حولی بُت پرستی کی حد تک گرا ہوا،مثلاً گندھی ہوئی مٹی یا ایک مکڑی یا ایک پتھر کی پوجا۔بعض ایک آئند ہ زندگی پر اعتقاد رکھتے تھے او ربعضوں کو اس کا سان گمان بھی نہ تھا۔ زمانہئ قبل اسلام کے عربوں کے یہاں سُوری فینقیوں (Syro-phoenicians)کی طرح مقّدس کنج تھے،ایسے درخت تھے جن سے استخارہ کیا جاتا تھا، او رغیبی بشارتیں دینے والی پجاریں تھیں۔آلات تناسل کی پوجا سے بھی وہ نا آشنا نہ تھے۔ چنانچہ پتھر او رلکڑی کے مندر بنابنا کر عساکر سمادی کی طرح تولیدی قوتوں کی پرستش کی جاتی تھی۔ یہ قرین قیاس نہیں کہ جب یہ غیر متّمدن بادیہ نشین ہوا کے وہ جھکّڑ دیکھتے تھے جو پورے کے پورے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے تھے یا جب ان کی نظر واہمہ کے بنائے ہوئے ان حسین مناظر پر پڑتی تھی جو مسافر کو دھوکہ دے کر تباہی کی طرف لے جاتے تھے، تو ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہوتا ہو کہ یہ کسی دستِ غیب کی شعبدہ طرازیاں ہیں۔ چنانچہ ایک برترین خدایعنی ایک خدائے خدایان کا ناقابل فہم او رمبہم سا تصّور عربوں کی شعوری دنیا کی فضامیں منڈلانے لگا۔

غالباً یہودیوں نے،جنہیں عموماً تاریخ میں نظریہ وحدانیت کے بہت بڑے محافظ خیال کیا جاتاہے، اس کا تصور کی تشکیل میں مدد دی ہوگی۔لیکن خود انہوں نے اس حقیقت کا عملی مظاہرہ کیا کہ جب کسی قوم کے ضابطہئ دینی میں کوئی تاریخی اورعقلی عنصر موجود نہ ہو جو اسے ثبات بخش سکے تو اس کے خیالات میں کیسا عجیب وغریب قلب ماہیت واقع ہوجاتاہے۔

یہودی مختلف ادوار میں اور مختلف واقعات کے زیر اثر عرب میں داخل ہوئے تھے چنانچہ قدرتی امر تھا کہ ان میں تارکین وطن، پناہ گزینوں اور نو آبادکاروں کے جو مختلف گروہ تھے ان کے افکار و خیالات میں بہت سی گوناگوئی ہو۔جن لوگوں کو اہل آشور اوراہل بابل نے دیس نکالا دیا تھا لازمی تھا کہ ان کی تصّور خدائی میں ان لوگوں کے تصّور خدائی کی بہ نسبت جنہیں۔قیصر ان روم ویسپینزین (Vespasian)ٹریجن (Trajan) او رہیڈرین (Hadrian) نے جلاوطن کیا تھا انسان سے جسمانی مشابہت۱؎اور جذباتی مماثلت۲؎ کا عنصر زیادہ ہو۔ بنی اسرائیل کے جن خواص طبعی نے انہیں اپنے اصلی وطن میں جہاں ان کی بے راہ روی کی مذمت کرنے والے ارباب بصیرت موجود تھے،بار باریت پرستی کی لعنت میں مبتلا کیا تھا وہ انہیں عربوں کے الحادوشرک سے کیوں کو محفوظ رکھ سکتے تھے؟ قدرتی بات تھی کہ وہ خدائے ابراہیم کے تصّور میں خداکے مادی تصّور کی آمیزش کرلیں۔چنانچہ انہوں نے حرم کعبہ کے اندر حضرت ابراہیم کا ایک بُت نصب کیا، جس کے پہلو میں ایک مینڈھا قربانی کے لئے تیار کھڑاتھا۔

جو یہودی بعد کے ادوار میں آئے تھے ان میں شمائیوں (Shammaites) اور غلاۃ (Zealots) کی بہت بڑی اکثریت تھی۔ ان گروہوں میں قوانین دینی کی اطاعت بت پرستی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قانون نولیوں (Scribes) او رربّیوں کا احترا پرستش سے لگّا کھانے لگا۔ یہ حضرات اپنے متعلق یہ خیال کرتے تھے کہ وہ اُمت کے مربیّ و محافظ،قانون وروایت کے برقرار رکھنے والے اور قوانین الہٰی کے عین مطابق زندگی بسر کرنے کے جیتے جاگتے نمونے اور آئینے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  غیر انسانی اشیاء و اشخاص (بالخصوص خدا) کوانسان کی جسمانی صفات سے متصف کرنا۔Anthropomorphism

۲؎  غیر انسانی اشیار واشخاص (بالخصوص خدا)سے انسانی جذبات و احساسات کا منسوب کرنا۔ Anthropopathism

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے آپ کو زُبدہئ اُمّت سمجھتے تھے او رعام عقدوہ یہ تھاکہ خدا سے راہ ورسم رکھنے کی بدولت وہ مستقبل کے بارے مںب بشارتںہ دینے کاملکہ بھی رکھتے ہںآ۔ واقعہ تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو اور لوگ بھی ان کے خاص الخاص منظور نظر تصّور کرتے تھے جو زیفس (Josephus) کے قول کے مطابق یہودیوں کے دلوں مںص حضرت موسیٰ کااحترام اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ خدا کے نام کے بعد ان کی عزت کرتے خاندان کاsنی کے عہد مںب یہودی قانون اور زندگی کو نشاۃ ثانہی بخشی۔

مزید بریں قا س غالب ہے کہ یہود کے عامۃ الناس نے ”ترےافم“ (Teraphim)کی پوجا مکمل طور پر ترک نہ کی تھی، جو ایک طرح کے خاندانی دیوتا تھے جن کے بُت انسانی شکل پر بنائے جاتے تھے اور جن سے ہر موقع پر شگون لا  جاتا تھا، بلکہ جنہں  اغلباً روموmں کے Penates کی طرح محافظ دیوتا خاےل کا  جاتا تھا۔ یہ بت پرستی یناڑ  کفّار عرب سے مس کی بدولت اور بھی استوار ہوگئی ہوگی۔

جب یہودیہ مںن حضرت عیسیٰؑ کا ظہور ہوا تو صرف ایک قوم تھی، یینی یہوہ کے پرستاروں کی قوم، جو اللہ کی وحدت کا نظریہ اور یہ تصّور کہ ایک افضل و اعلیٰ ادارہئ ذاتی ساری کائنات کو اپنے حطہج قدرت ورحمت مںک لےی ہوئے ہے،قبول کرتی تھی۔ اس قوم کے یہاں ہر طرح کی انسدادی کوششوں کے باوجود الوہتی کا تصور یا تو کافر قوموں سے مس کے باعد مسّخ ہوچکا تھا،یا غرن اہل کتاب قوموں کے فلسفے کے زیر اثر متغّیر ہو گاج تھا۔ ایک طرف تو کلدافی مجوسی (Chaldaeo Magian) فلسفے نے یہودی روایات پر اپنی متضرفانہ انگلووں کے ان مٹ نشان چھوڑے تھے اور دوسری طرف یہودیوں کے بہترین دماغوں نے جہاں یونانی اور رومی فلسفواں کو ایک عظما سبب اوّل کے تصّور سے آشناکاڑ تھا وہاں خود اسکندریہ کے مکتبوں مںد ایسے ایسے افکار،وخاےلات بھی سکھے  تھے جو ان کے وحدانی مذہب کے ساتھ کوئی مطابقت نہ رکھتے تھے۔

کہںس ہندو اپنے دیوتاؤں اور دیویوں کے جّم غفرک کو لےل ہوئے تھے،کہں  مجوسی زروشتی اپنے دو مخالف خداؤں کو لےر ہوئے جو ایک دوسرے پرغلبہ پانے کے لےو برسرِ پکاور تھے،کہںہ یونانی،رومی او رمصری اپنے اپنے دیومنڈل (Pantheon) لےن ہوئے،جن کے افراد اخلاق مںو اپنے پجاریوں سے پست تر تھے۔۔۔ یہ تھی مہذب دناں کی حالت اس وقت جب حضرت عیسیٰؑ نے اپنی تعلمP وتلقنے کا آغاز کا ۔۔۔اپنے تمام حسن  خوابوں او راپنی تمام دور دراز اُمنگوں کے باوجود حضرت عیسیٰؑ کا ذہن ان سب اِدّعاؤں سے مبّرا تھاجو ان کے مجنونانہ جوش رکھنے والے پرموؤں نے ان سے منسوب کئے ہںے۔ انہوں نے کبھی خدا کا تتّمہ یاذات خداوندی ہونے کا دعویٰ نہںم کاو۔

اگرچہ عہد حاضر کی عسامئتک مںا ایک فکری رفعت پدوا ہوگئی ہے لکنؤ اس کے باوجود گزشتہ قرنوں کی تشبت۔۔۔ Anthropomorphism کے ورثے کا جُوا اتار رہا ہے، جس کانتجہا یہ ہے کہ اس کی شخصتف انسانوں کے ایک طورمارمںی گم ہوکر رہ گئی ہے اور تو اور نئی انجلت بھی ایک صدی تک مراقبے مںا رہنے کے باوجود اس بزرگ ہستی کے چہرے پر سے توہمّات کی دھند کا پردہ ہٹا نہںک سکی۔ روز بروز یہ خا ل کہ اس کی زندگی ”ابدیت کبریٰ کے سنےے مںے ایک ابدیت صغریٰ“ تھی، زور پکڑ تاجارہا ہے، تا آنکہ نسی کی کونسل The Council of Nice مںج خاال کو ایک شکل اور ٹھوس پن بخشتی ہے او راسے ایک ادعائی عقدتے مں  مجسم کردییا ہے۔

بہت سے ذہن عالمگر  باپ کی دور افتادگی سے گھبرا کر ایک انسانی شخصت  مںہ، جسے وہ الٰہیت کا درجہ بخشتے ہںک، ایک درما نی منزل تلاش کرتے ہںے۔ ایک قرییر معبود کی یہ ضرورت ہی وہ چزک ہے جس نے جدید عساآئتں کو مجبور کاسہے کہ وہ ایک مثالی چزن کو نام دے،اسے گوشت و پوست کاپر۔ہن پہنائے اور ایک بشر نما خدا (man-God) کے طور پر اس کی پرستش کرے۔

”جدیدی عسا ئتم کے نقائص“(The Defects of Modern Christanity) کے فاضل مصنّف کا خا ل ہے کہ جس تواتر و اصرار سے بنی ناصری نے خدا کا بٹای ہونے کا دعویٰ اور خدا کی طرح معبود بنائے جانے کا تقاضا کا  ہے وہ بجائے خود اس کی الہٰیت کا ثبوت ہے۔ ہم اس امر سے مطلق انکار کرتے ہںل کہ حضرت عیسیٰؑ نے کبھی اپنے آپ کو خداکا بٹاک کہا،ان معنوں مںے جن معنوں مںا عساکئی علمائے الہٰیات اورمتکلین نے ان الفاظ کو سمجھاہے۔میتھیوآرنلڈ نے حتمی طور پر ثابت کان ہے کہ نئی انجلک کی عبارات کئی امور کے اعتبار سے کا ملاً ناقابل اعتماد ہں ۔ جہاں تک حضرت عیسیٰؑ کی خدائی کا تعلق ہے ہمںی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ افسانہ کوتنکر تدریجاً گھڑا گات۔ لکن  اگر یہ فرض بھی کرلا  جائے کہ جو الفاظ حضرت عیسیٰؑ سے منسوب کئے جاتے ہںص وہ انہوں نے فی الواقع استعمال کئے ہںط، پھر بھی کاج ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے خداکااکلوتا بٹای ہونے کادعویٰ کاا؟ کا  عساہئی متکلّین نے خود خدا ہونے کا دعویٰ کاک تھا؟ اس نے کہا تھا ”انا الحق“ یینت ”مںا خداہوں، مںٹ سچائی ہوں۔“چنانچہ مسلم علماء نے یہودی سنہدریوں (Sanhendrim) کی طرح اسے کفر کا مجرم گردانا او رسزائے موت کا حکم سنادیا۔ اس طرح ایک سارہ لوح انسان، جس کا سنہد جوش معرفت سے لبریز تھا، موت کے گھاٹ اتاردیا گاے۔ بابودں کا اب بھی یہ عقدںہ ہے کہ ان کا آقا ”الباب“ (یینف حالت ابدی کا دروازہ) قتل نہںو کان گاا تھا بلکہ ایک معجزانہ طریقہ سے آسمان پر پہنچادیا گائ تھا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب ابول مغثق ۱؎ الحّلاح نے اپنے کو ”حق“ اور باب نے اپنے آپ کو ”جنت کا دروازہ“کہا تو ان کامنشا یہ دعویٰ کرناتھا کہ وہ خدا کے شریک ہںا؟ او راگر ان کو یہ منشا تھا بھی تو کاّ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان کا دعویٰ بجائے خود دلل  ہے۔؟ لکنت جسا  کہ ہو اوپر کہہ آئے ہںر،ہم ہرگز یہ تسلما نہںک کرتے کہ حضرت عیسیٰؑ نے، جن کے تصّورات مں ، جب ہم انہںا ان کے پرلوؤں کے چڑھائے ہوئے ملّمع سے پاک کرکے دیںھآ ، ان کی اپنی صفات یا شخصتی کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ ابومغث۔ بن منصورالحّلاج عنک جوانی مں  مارا گاے۔ وہ پاکزفہ سرصت،سادہ دل اور غریبوں کا دوست تھا، لکن  تخّیل پرست او رجوشلاا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارے مں۔ مبالغہ کا شائبہ تک نہںک پایا جاتا، کسی موقع پر بھی ایسے الفاظ استعمال کئے جن سے انادّعاؤں کا جواز دستاھب ہوسکے جو ان کے پرکوؤں نے ان کے سر منڈھ دیئے ہں ۔ ان کا خدا کی ابوت کے بارے مں  جو تصّور تھا وہ ساری نوع انسانی پر حاوی تھا۔ ان کے نزدیک تمام انسان خدا کے بچے تھے اوروہ خود ابدی باپ کے بھجےل ہوئے ایک معلّم تھے۱؎۔ اس طرح عساوئو ں کے سامنے بشری فضیلت کی ایک زندہ مثال موجود تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بنی ناصری کی تعلمی سے عساائی خدا کا ایک منزّہ تر تصّور اخذ کرتے۔ لکن  ہوا یہ کہ چھ صدیوں کے مرورنے حضرت عیسیٰؑ کی شخصتی کے ارد گرد ایسے قصّوں کاایک ہالہ ساڈال دیا جنہوں نے ان کے اپنے ارشادات کے علی الرّغم انہںت الوہتل کا مجسّمہ یینا خدا کا اوتار دبنادیا۔ دنام نے آقا کی جگہ بندے کی پرستش شروع کردی۔عوام الناس مں  اتنی صلاحتن نہ تھی کہ جدید فثاک غورستا(Neo pythagoreanism) افلاطونتک،یہودی،یونانی فلسفے اور حضرت عیسیٰؑ کو ایک مجسم خدا کے طور پر پوجنا شروع کردیا، یا قدیم زمانہ کی تبرّکات پرستی کی طرف عود کاد،یا حضرت عیسیٰؑ کی والدہ مطّہرہ کو جھوٹی ٹپا ٹاپ والی ایک دیوی بناکر پوجنے لگے۲؎۔۔۔۔کالرددیوں‘(Collyridians) کے اہم فرقے نے تو یہاں تک ۳؎ غلو کاک کہ عسا ئو ں کے دیو منڈل مںپ سے خدا کو خارج کر کے اس کی جگہ حضرت مریم کو دے دی او رایک بل وار ککa کا چڑھا وا چڑھا کر ان کی پوجا کرنے لگا۔ اس بل وار ککن کو Collyris کہتے تھے، جس پراس فرقے کا نام رکھا گاگ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  خدا کی نسبت باپ کے لفظ کا استعمال اسی وجہ سے نہںن کاد گا  کہ اس زمانہ کے عسارئواں نے ابوت الہٰی کے تصّور کو بگاڑ دیا تھا۔

۲؎Isaurian بادشاہوں نے اسلام سے بالواسطہ متاثر ہوکر ایک صدی سے زیادہ مدّت تک عساعئتس کے تنزّل کے خلاف جدوجہد کی اور اس امر کی کوشش مںخ پورا زور لگا دیاکہ وہ کسی طرح اپنے معلّم عظمط کی تعلمادت کی طرف عود کرجائے۔ لکنف ان کی تمام کوششںش رائگاو ں گئں ۔

۳؎  موشمu کی تاریخ کلساس (Moshenim's Ecclesiastical Hist.) جلداوّل صفحہ 432)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نس۔ کی کونسل (The Council of Nice) مںح جہاں حضرت عیسیٰؑ کی ماہت  و جبلّت کے بارے مںد آخری فصیلہ کا  گاو، بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کا عقدوہ یہ تھا کہ (God the father) آسمانی باپ کے علاوہ اور خدا ہںو یین  حضرت مسحآ اور حضرت مریم۔کہا جاتاہے کہ رومی کلسای والے اب بھی حضرت عیسیٰؑ کی والدہ کو تثلثٰ کا تکملہ تصّور کرتے ہںا۔

توتہم کی طویل رات مںu عساکئی بنی ناصری کی تعلمک سے بہت دور بھٹک گئے تھے۔ بتوں، ولوسں اور متبرک باقاںت کی پرستش دین عسوای کا ایک جزوِلانیفک بن چکی تھی۔ وہ سب طور طریقے جن کی حضرت عیسیٰؑ نے مذمت کی تھی، وہ سب خبائث و ر ذائل جن کو انہوں نے ممنوع قرار دیا تھا ایک ایک کر کے ان کے مذہب مںا داخل ہوگئے تھے۔ وہ مقدّس سرزمنؑ جس پر اس محترم معلّم نے زندگی کے دن گذارے تھے، معجزوں اور خارق عادت شعبدوں کے بادلوں مںک گھر گئی تھی اور عسازئونں کے داغی اعصاب تقلدل اور اندھا دھند اعتقاد کی بدولت مفلوج ہوگئے تھے۱؎۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  موشم۔ کی تاریخ کلسای (Mosheim's Eeclesiastical Hist.) جلداوّل صفحہ 423مزید ملاحظہ کجئےں ہیلم کی ”انگلستان کی دستوری تاریخ Constitutionsl Hist fo England باب۲ صفحہ 75۔ ان کتابوں کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو دعویٰ کا  جاتا ہے، کہ اسلام مںی جو جو اچھی باتںn ہں  وہ سب اس نے یہودیت یا عساہئت  سے اخذ کںل، اس دعوے مںگ کہا ں تک صداقت ہے۔ ڈوئس Deutsch کہتا ہے: یہ ایک عام قاعدہ بن گاگ ہے کہ اسلام مںا جوجو خوباتں ہں  انہںی عساکئتں سے منسوب کاھ جائے۔ ہماراخانل ہے کہ یہ نظریہ دیانت وارانہ تحقق  کے نتائج سے مطابقت نہںج رکھتا۔ کو نکہ محمدؐ کے زمانہ مںں جزیرہ عرب کی عساتئتی ناگفتہ بہ حالت مںک تھی۔۔۔ اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ اس کے مقابلے مںم تو جدید مہری Modern Amharic عساسئت  بھی، جس کے بارے مںن ہم نے تخیر انگزی قصّے سنے ہں  خالص او راعلیٰ معلوم ہوتی ہے۔ کوارٹرلی ریویو نمبر 954صفحہ نمبر 315۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو بہوبدگار ں ہم نے اوپر بانن کی ہںا ان سب کا قلع قمع حضرت محمد صلی اللہ علہی وسلم کامقصد زندگی تھا۔ جب بھی اس ملک الکلام نے (جس لقب سے اسے بجا طور پر ملّقب کاگ گاہ ہے) اپنا آوازہئ حق بلند کاے، جس مںق کلام خدا کی الہامی گونج ہوتی تھی، تو چاہے اس کے مخاطب عرب کے بُت پرست قبلےم ہوں یا مسخ شدہ عسا ئتا او ریہودیت کے پر،و، اس نے کبھی عقل کی سرحدوں سے تجاوز نہ کاہ او رہمشہی ان لوگوں کو اپنے عقائد کی انسانتل سوز مہملیت پر شرمندہ کاا۔ وحدت اللہ کا داعیئ اعظم محمد صلی اللہ علہت وسلم اس طرح تاریخ کے مدقان مں  انسان کے اس رجعت پسندانہ رجحان سے کہ وہ مخلوق ہستودں کو خالق کائنات کا شریک گردانے سرگرم جہاد دکھائی دیتا ہے۔ قرآن مںب بار بار ذیل کی عبارتوں کی سی جوش و خروش اور آتش نوائی سے بھری ہوئی عبارتںو نظر آتی ہںظ:۔

”تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، رات اور دن لگاتار ایک دوسرے کے بعد آسمانوں اور زمن  کی بناوٹ مںل، رات اور دن کے لگاتار ایک دوسرے کے بعد آنے مںہ ان کشتوخں مںپ جو انسان کے نفع کی چزےیں لےو ہوئے سمندر وں مں  چلتی ہںت، بارش کے اس پانی مںع جسے ابر آسمان سے برساتا ہے اور جس نے ذریعے وہ مردہ زمنن کو نِت نئی زندگی بخشتا ہے او رپھر زمنں پر ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھلاکتا ہے، ہواؤں کی گردش مںر، اور ان بادلوں مں  جو آسمان و زمنں کے درمامن مطعر فرمان بنا کررکھے گئے ہںت۔۔۔ ان سب چزنوں مںم سمجھدار لوگوں کے لےا اللہ کی نشانانں ہں ۔ لکند ان کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہں  جو اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا خدا بناتے ہںک او ران کے ساتھ اییو ہی محبت رکھتے ہںا جی ک انہںہ خداسے رکھنی چاہئے۱؎۔“ (البقرۃ 163۔164۔165)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎ نوٹ:۔ اگرچہ قرآن مجد) کی انہی عبارتوں کا ترجمہ پشے کاچ گاق ہے جن کا انگریزی ترجمہ مصنّف نے اقتباساً دیا ہے، تاہم اس نے جو حوالے دیئے ہں  وہ بڑی حد تک غلط ہںن اس لےس ان کی تصیحح ضروری سمجھی گئی ہے۔ اردو ترجمہ کی جسارت مترجم نے خود کی ہے۔ (مترجم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان الفاظ مںک گمراہ لوگوں کے ساتھ کتنی گہریہ ہمدردی مضمر ہے!

مکّرر:۔

”وہی ہے جو تمہںط بجلاکں دکھاکر ڈراتابھی ہے او راُمدسیں بھی دلاتاہے او رجو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتاہے۔بادلوں کی گوج اس کی خوبواں کی اور فرشتے اس کی ہبت  کی تسبح  کرتے ہںت۔۔۔ وہ کرکتی ہوئی بجلا ں بھجتاہ ہے او رجب لوگ اللہ کے بارے مںے جھگڑرہے ہوتے ہں  تو اس وقت ان بجلوفں کو جس پر چاہتا ہے گرادیتا ہے۔۔۔

اسی کو پکارنا حق ہے۔ وہ دوسری ہستاتں،جنہں۔ یہ لوگ اسے چھوڑ کر پکارتے ہںو، ان کی دعاؤں کاکوئی جواب نہںو دے سکتںم۔انہںھ پکارنا تو ایسا ہی ہے جسےش کوئی شخص پانی کی طرف پھلاںکر یہ سمجھے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے گا، حالانکہ وہ کبھی اس تک نہں  پہنچ سکتا“۔ (الرّعد 12تا14)

”اس نے آسمان و زمن  کو برحق پدباکاطہے اور وہ بہت بالابرتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔ اس نے انسان کو ایک ننھّی سی بوند سے پد اکاپ۔۔۔۔ او رانسان کو دیکھو کہ وہ کھلے بندوں جھگڑا لو او ربڑبولا بن گاف۔ اس نے چوپائے، جن سے تمہںر گرم پوشاک بھی حاصل ہوتی ہے، خوراک بھی، اور دوسرے فائدے بھی۔ جب تم انہںل چرنے کو بھجتےب ہو اور شام کو گھر واپس لاتے ہو تو وہ تمہارے لےب سرمایہئ جمال بنتے ہںی۔۔۔“(النحل 3۔4۔5۔6)

”اور اس نے رات اور دن،سورج اور چاند کوتمہارے کاموں پر مامور کر رکھاہے، اور تمہارے ستارے بھی اس کے تابع فرمان ہں ۔۔۔ وہی سے جس نے سمندر کو تمہارے لےت مسخّر کر رکھا ہے۔۔۔ اورتم دیکھتے ہو کہ جہاز سمندر کا سنہل چرںتے ہوئے چلتے ہںی۔۔۔ تاکہ تم اس کے شکر گذار بنو۔۔۔ پھر کام یہ ممکن ہے کہ جو پدیا کرتا ہے اور وہ جو کچھ پدیا نہںہ کرتے ایک برابر ہوں؟ کاو تم اتنابھی نہںک سمجھتے؟اگر تم اللہ کی نعمتوں کوگننا چاہوں تو گن نہںس سکتے۔ اللہ فی الحققتد بڑا بخشنے والا اور رحمپ ہے۔ وہ تمہارے کھلے اورچھپے دونوں کاموں سے واقف ہے۔ رہںو وہ ہستااں جنہںی لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہںہ، وہ کچھ پدتا نہںا کرتں ،بلکہ خود مخلوق ہں ، وہ مردہ ہں  نہ کہ زندہ۔“(النحل 11۔12۔14۔17۔18۔19۔20)

”اللہ، جس کے سوا کوئی خدا نہںر، زندہ جاوید ہے اور کائنات کا قائم رکھنے والا ہے۔ اُسے نہ نندر آتی ہے،نہ اونگھ لگتی ہے۔زمنگ و آسمان مںھ جو کچھ ہے اس کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغرب اس کی جناب مں  کوئی سفارش کرسکے؟ جو کچھ بندوں سے اوجھل ہے اسے بھی اور جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتاہے۔ جو کچھ اس کے علم مں  ہے وہ ان کے حیطہئ اوراک مں  نہںر آسکتا،سوائے اس صورت کے کہ وہ خود کسی چز  کا علم انہں  بخشے۔ اس کی کرسئہ حکومت آسمانوں اور زمنس دونوں کومحطل ہے، اور ان کی نگہبانی اس کے لے  کوئی تھکادینے والا کام نہںں۔۔“(البقرۃ 255)

”وہ دن کو رات کے پردے سے ڈھانپ دیتا ہے اور پھر رات دوڑتی ہوئی اس کا تعاقب کرتی ہے۔ سورج، چاند اور تارے اس کے مطعخ ہں ۔خبر دار رہو کہ اُسی کا کام ہے خلق کرنا اور حکم فرمانا۔ بڑا بابرکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔“ (الاعراف 54)

”کہو کہ اللہ ایک ہے اور کسی کا محتاج نہںہ۔ نہ اس نے کسی کو او رنہ اس کو کسی نے جنا، اس کا کوئی ہمسر نہںی۔“۔(الاخلاص)

”سب تعریف اللہ ہی کے لےا ہے، جو سارے جہانوں کا ربّ ہے، رحمٰن اور رحمس ہے اور روز جزاکا مالک ہے۔ ہم ترکی ہی عبادت کرتے ہںی اورتجھی سے مدد مانگتے ہںت۔ ہمں  سداھا راستہ دکھا یین  لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کاے، جو تر ے معتوب نہںی ہو ئے اور جو بھٹک نہںن گئے۔“ (الفاتحہ۔1تا7)

”مںف پناہ لتا7 ہوں خدائے صبح کی ہر اس چزی کے شر سے جو اس نے بنائی۔“ (الفلق 1۔2)

”تم چاہے پُکار کر بات کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات کو بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات کو جانتا ہے۔“ (طہٰ۔7)

”ان سے پوچھو کہ آسمان و زمنب مں  جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ کہو سب کچھ اللہ کا ہے، جس نے رحم وکرم کا شو ہ اپنے اوپر لازم کرلاں ہے۔“ (الانعام۔12)

”اس کے پاس غبک کی کنجامں ہں ، جن سے اس کے سواکوئی واقف نہںش۔ وہ جانتا ہے کہ بحروبرمںل کا  کچھ ہے۔ کوئی پّتا ایسا نہںم جھڑتا جس کا اسے علم نہ ہو۔زمنا کے تاریک پردوں مںک کوئی چھپا ہوادانہ ایسا نہں  اور کوئی ہری یا سوکھی چزھ اییہ نہںل جو اس کی کھلی ہوئی کتاب مںر درج نہ ہو۔ وہی ہے جو رات کو تمہاری روحںی قبض کرلتان ہے اور دن کے وقت تم ہوکام دھندا کرتے ہو اس سے واقف ہے۔ پھر دوسرے روز وہ تمہں۔ اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری زندگی کی مقررہ معامد پوری ہو۔ آخر کار تم اس کی طرف لوٹ کر جاؤگے،اور اس وقت وہ تمہںز بتادے گا کہ تم کا  کاک کرتے رہے ہو۔“ (الانعام 59۔60)

”وہ اللہ ہی ہے جو دانے اور گٹھلی کو پھوڑتا ہے، زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے۔ یہ ہے اللہ! تم کدھر بہکے چلے جاتے ہو؟“ (الانعام 95)

”وہی پردہئ شب کو چاک کر کے صبح نکالتاہے، اسی نے آرام کے لےہ رات بنائی اور اسی نے سورج اور چاند کو دن اور رات کے حساب کے لےک پداا کار۔ یہ ہے وہ اہتمام جواس توانا و دانارب نے کات ہے“۔(الانعام 97)

”یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار۔ اس کے سوا کوئی خدا نہںآ، وہی ہر چزک کا خالق ہے۔ لہٰذا اس کی بندگی کرو، کوھنکہ وہ چز5 کا کفلن ہے۔“ (الانعام 102)

”نگاہںہ اس کو نہںو پاسکتںی لکن  وہ نگاہوں کو پالتاا ہے،کوقنکہ وہ نہایت بارک ہں  او رباخبر ہے۔“ (الانعام 103)

”کہو کہ مرلی نماز، مرپی عبادت، مرنا جناو،مروا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمند کے لےہ ہے۔“ (الانعام 162)

”کاو تجھ کو معلوم نہں  کہ اللہ کی تسبحر کررہے ہںی سب وہ جو آسمانوں اور زمنو ں مںد ہںا، اور وہ پرندے بھی جو پرَپھلا3ئے اُڑ رہے ہںک؟ سب کو اپنی اپنی دعا اور اپنی اپنی تسبحں معلوم ہے۔ آسمانوں اور زمنا کی بادشاہی اللہ ہی کے لےک ہے، اور اسی کی طرف ہر ایک کو پلٹنا ہے۔“ (النّور۔24۔41۔42)

”وہی زمن  اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہںا۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔“ (الاعراف۔158)

”وہی ازل سے ابد تک زندہ رہنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہںک۔ تم سب ایمان خالص سے اسے پکارا کرو۔“ (المؤمن۔65)

”مریی نماز او رمرنی عبادت، مرئی زندگی اور مرتی موت، سب اللہ ربَّ العٰلمین کے لےل ہے جس کا کوئی شریک نہںپ۔“ (الانعام 162۔163)

”وہی ہے جس نے تمہںم بنا کھڑا کاد، جس نے تمہں  کان اور آنکھںم دیں ا ور دل بھی دیا لکنج کتنے کم ہںم وہ ل لوگ جو اس کے شکر گزار ہں5! وہی ہے جس نے تمہںن زمنے مںل پھلاییا اور اسی کی ذات کی طرف تم اکٹھے لوٹوگے۔“ (الملک۔23۔24)

”اے خدا مجھے ان گناہ گار قوموں مںں داخل نہ کر۔“ (المومنون۔94)

”وہی ہے جس نے رات تمہاری اوڑھنی کے طور پر بنائی اور نند  تمہارے آرام کی خاطر، اور جس نے دن تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کی خاطر بنایا۔“(الفرقان 47)

”کون ہے اس کے سوا جو مصبتم زدوں کی پُکار سنتا ہے جب وہ اسے پُکارتے ہںک،اور ان کی گتھارں سُلجھا دیتا ہے اور جو تمہںط روئے زمن“ پر اپنا نائب بناتاہے۔“(النحل 62)

”۔۔۔۔ اللہ زبردست،ہر چزن کا جاننے والا، گناہ کا بخشنے والا اورتوبہ کا قبول کرنے والا۔۔۔۔۔“ (المؤمن۔1۔2)

”کہو کاس مںا اللہ کے سوا کسی اور کو رَبّ بنانے کے لے۔ تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چزب کا مالک ہے۔ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کاذمہ دار وہ خود ہوتا ہے۔کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہںو اٹھاتا۔بالآخر تم سب کو اپنے رَبّ کی طرف لوٹنا ہے۔ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حققتد تمہںو جتلادے گا۔“(الانعام 165)

”وہ ہر چھپی اورکھلی چز5 کا جاننے والا،بہت بڑا اور سب سے اونچا ہے۔۔۔۔ چاہے کوئی چپکے سے بات کہے یا پکار کر، چاہے کوئی رات کی تاریی۔ مںو چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی مںس سربازار پھر رہا ہو، اس کے لےر سب یکساں ہںک۔“ (الرّعد 8۔9)

”اللہ آسمانوں اور زمن  کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال اییس ہے کہ جسےک ایک طاق ہو جس مںع ایک چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک ششے  مںو ہو او رششہ  ایک طاق مںں رکھا ہو، ششےک کی یہ شان ہو کہ جسےو موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا۔ وہ ایک مبارک (کثرو المنافع) درخت یینا زیتون کے تلک سے روشن کاش جاتا ہو، جو نہ کسی آڑ کے مشرق کی طرف ہو نہ مغرب کی طرف اور جس کے تلہ سے روشن کاس جاتا ہو، جو نہ کسی آڑ کے مشرق کی طرف ہو نہ مغرب کی طرف اور جس کا تلس ایسا بھڑک اٹھنے والا ہو کہ اگر اس کو آگ نہ بھی لگے تو پھر بھی وہ خود بخود جل پڑے اورجب اس کو آگ لگ جائے تو نور علیٰ نور ہوجائے۔ اللہ اپنے اس نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنما ئی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کی ہدایت کے لےل یہ مثالںن بامن فرماتا ہے۔ وہ ہر چزن کوخوب جاننے والا ہے۔“ (النّور۔35)

”وہ ایسے گھر وں مں5 عبادت کرتے ہںا جنہں  بلند کرنے کا اور جن مںب اپنے نام کا ذکر کرنے کا اللہ نے حکم دیاہے۔ ان گھروں مںر وہ صبح وشام اللہ کی تسبحو کرتے ہں ۔“ (النّور۔36)

”جن لوگوں کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز ادا ئے زکوٰۃ سے غافل نہںل کردییا وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہںو جس مںہ بہت سے دل او ربہت سی آنکھںھ اُلٹ جائں  گی۔ انجام ان لوگوں کا یہ ہوگا کہ اللہ انہںے ان کے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا او رمزید اپنے فضل سے نوازے گا۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب دیتا ہے۔“ (النّور۔37۔38)

”جن لوگوں نے کفر کاس ان کے اعمال کی مثال اییا ہے جسےم ایک چٹیل مدلان مںے سراب جسے پاتسادور سے پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ بھی نہ پایا،بلکہ قضائے الہٰی کو پایا، چنانچہ اللہ نے اس کا پورا پوراحساب چکادیا۔ اللہ کو حساب لتے  دیر نہںے لگتی۔“ (النّور۔39)

”یا پھر ان کی مثال اییا ہے جسے بڑے گہرے سمندر مںس اندرونی اندھربے جن پر ایک مؤج چھائی ہوئی ہے، اس پر ایک اور موج،او راس کے اوپر بادل۔غرض اوپر تلے بہت سے اندھراے ہی اندھرےے ہںم،ایسے اندھر ے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔جسے اللہ نور نہ بخشے اسے کہںا سے بھی نور میّسر نہںد ہوسکتا۔“ (النّور۔40)

”کار تم نہںں دیکھتے کہ اللہ کی تسبحہ کررہے ہںو وہ سب جو آسمانوں اور زمنک مں  ہں  اور وہ پرندے جوپرَ پھلاتئے اُڑ رہے ہں ۔ ان مں۔ سے ہر ایک اپنی اپنی دعا او راپنی اپنی تسبحی جانتاہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہں  اللہ اس سے واقف ہے۔“(النّور۔41)

”کا  تم کو یہ معلوم نہں  کہ اللہ ایک بادل کو دوسرے بادل کی طرف آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر ان کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتاہے اور انہںھ سمٹے کر ایک کثف  ابربنادیتا ہے؟ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس بادل کے خول مںر سے بارش کے قطرے ٹپکتے ہںے او روہ آسمان سے اولوں کے پہاڑ برساتا ہے۔پھر وہ جن پر چاہتا ہے انہںر گراتا ہے او رجنہںع چاہتا ہے ان سے بچالتاو ہے۔ اس کے کوندے کی لپک کا یہ حال ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جسےہ وہ اب آنکھںت نکال لے جائے گی۔“(النّور۔43)

”رات اوردن کا اُلٹ پھرر وہی کررہا ہے۔ اس مںت آنکھوں والوں کے لےے ایک سبق ہے۔“(النّور۔44)

پغمبر  اسلامؐ نے قرآن کی شکل مںر مظاہر فطرت سے خدا کی قدرت و حکمت کی جو شہادتںغ پش۔ کںن ان کی بہترین مثالوں مںغ سے ایک مثال سورہئ الرحمٰن ہے، جسے مغربی مصنّفین نے بجا طور پر اسلام کی ”بلندستی“ (Benedicite) کہا ہے:۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  عہد نامہ عتقب کے باب ”سلماجن کی غزل الغزلات“ کی ایک مناجات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں اور بوٹیاں اور پیڑ اسے سجدہ کرتے ہیں اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا اور ایک ترازو متعین کی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو اور انصاف سے سیدھی ترازو تو لو اور تول کو نہ گھٹاؤ۔ اسی نے خلقت کے واسطے زمین بنائی جس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل پر غلاف ہوتاہے اور غلّہ ہے جس میں بھُس بھی ہوتاہے اور خوشبو دار پودے بھی ہیں۔“ (الرحمٰن۔5تا 12)

”اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھتاتی ہوئی مٹی سے بنایااو رجنّات کو خالص آگ سے۔“ (الرحمٰن۔15)

”پھر اس نے آسمان بنانے کی طرف توجہ کی، جو اس وقت محض ایک دھوآں سا تھا۔۔“ (حمٰ۔11)

”وہ دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔۔۔“ (الرحمٰن۔17)

”اس نے دو درویاؤں کویوں پہلو بہ پہلو چلایا کہ وہ بظاہر باہم ملے ہوئے معلوم ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے درمیان ایک ایسا پردہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتے۔“(الرحمٰن۔19۔20)

”ان دونوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتاہے۔“ (الرحمٰن۔22)

”اسی کے ہیں وہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں۔“ (الرحمٰن۔24)

”ان میں سے ہر ایک فانی ہے اور صرف تمہارے عظمت و احسان والے خدا کا چہرہ باقی رہے گا۔“ (الرحمٰن۔26۔27)

”سب آسمانوں اور زمین والے اسی سے اپنی اپنی حاجتیں مانگتے ہیں۔ وہ روز ایک نیاکام کرتاہے۔“ (الرحمٰن۔29)

”ہرانسان کی تقدید کی تختی ہم نے اس کے گلے میں لٹکا رکھی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اس کا نوشتہئ اعمال دکھائیں گے، جسے وہ ایک کھلی کتاب کی طرح پائے گا۔“ (بنی اسرائیل۔13)

”قسم ہے انسان کی روح کی اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا او راسے بدکرداری و پرہیزگاری دونوں کی تمیز بخشی، یقینا مراد کو پہنچا جس نے اپنی روح کو پاک کرلیا اور نامُراد ہوا وہ شخص جس نے اسے خاک میں ملادیا۔“ (الشمس۔7تا 10)

”کیا تجھے خدائے رحمٰن کے بنائے ہوئے میں کچھ خلل دکھائی دیتا ہے؟ دوبارہ نگاہ ڈال۔ کہیں بھی تجھے کوئی نقص نظر آتا ہے؟ ایک بار پھر نگاہ ڈال۔ تیری نگاہ عیب نکالنے میں ناکام ہوکر او رتھک کو لوٹ آئے گی۔“ (الملک۔3۔4)

”وہ مری ہوئی زمین کو دوبارہ زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم دوبارہ زندہ کئے جاؤگے۔“ (الروم۔19)

”یہ آسمان اور یہ زمین دونوں اس کے حکم  سے قائم ہیں۔بالآخر جب وہ تمہیں پکارے گا تو تم زمین کے اندر سے نکل کر کھڑے ہوجاؤگے۔“(الروم۔25)

”جب سورج تہ کردیا جائے گا، جب تارے گرپڑیں گے، جب پہاڑ چلنے لگیں گے، جب اونٹنیاں بے مہار پھریں گی، جب جنگلی جانوروں میں ہلچل مچ جائے گی، جب سمندر اُبلنے لگیں گے، جب رُوحوں کے جوڑے بندھیں گے، جب ان بیٹیوں سے جو جیتی گاڑدی تھیں یہ پوچھا جائے گاکہ وہ کس گناہ کی پاداش میں ماری گئیں، جب اعمالناموں کے ورق کھولے جائیں گے، جب آسمان چھلکے کی طرح اُتار دیئے جائیں گے، جب دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی او رجب جنّت قریب آجائے گی، اس وقت ہر روح کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کیا ساتھ لے کر آئی ہے۔“(التکویر۔1تا14)

”(اے محمدؐ) تمہیں اس گھڑی کا کیا علم ہے؟ اس کا علم صرف تمہارے خدا ہی کو ہے، تمہارا کام تو صرف اتناہے کہ تم ایسے لوگوں کو جو ڈرنے والے ہیں اس سے ڈراؤ۔“ (النّٰزعٰت 43۔44۔45)

”تمہیں کیا خبر ہے کہ وہ ہوکر رہنے والی چیز کیسی ہے؟ ثموداور عاد نے اس کھڑکے والی چیز کو جھُٹلایا۔ چنانچہ ثمود تو ایک زدر کی آواز سے ہلاک کردیئے گئے اور عاد ایک تیز تُند ہوا سے برباد ہوگئے۔“(الحاقّہ۔3تا6)

’پھر بھی‘ اس قدرت و جبروت کے باوجود اس کی ربوبیت ورحمہ گیر ہے۔

”قسم ہے چڑھتی دھوپ کی اور چھائی ہوئی رات کی کہ تمہارے رَبّ نے نہ تمہارا ساتھ چھوڑا او رنہ تم سے بیزار ہوا۔یقینا تمہارا مستقبل ماضی سے بدر جہابہتر ہوگا۔ بالآخر وہ تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ تمہارا دل خوش ہوجائے گا۔ کیا اس نے تمہیں ایک یتیم نہیں پایا او رپھر تمہیں ٹھکانانہیں دیا؟ تمہیں بھٹکتا نہیں پایا اور پھر ہدایت نہیں دی؟ تمہیں نادار نہیں پایا او رپھر تمہیں مالدار نہیں بنایا؟ (اس کے شکریئے میں) یتیم پر سختی نہ کرو اورسائل کونہ جھڑکو اور خدا کے احسانوں کا تذکرہ کرتے ہو۔“ (الضحیّٰ)

”کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں یونہی (کسی حکمت کے بغیر) پیداکردیا ہے اورتم ہمارے پاس واپس نہیں لائے جاؤگے؟“(المومنون۔115)

”اے ہمارے رَبّ،ہم سے مواخذہ نہ کر، اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے۔۔۔ہم سے درگزر اور ہمیں بخش دے۔۔۔“(البقرہ۔286)

”اے مولا،ہم پر عفوورحم کر، کیونکہ تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔“ (مومنون۔118)

”کوئی شخص کسی اور کے گناہ کابوجھ نہیں اٹھاتا او رہم کبھی سزانہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔“(بنی اسرائیل۔15)

”قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں اُتارا۔ہم ہیں آگاہ کرنے والے۔“ (الدخان۔2۔3)

”ہم نے قرآن تم پراس لیے نہیں اتارا کہ تمہارے لیے باعث تکلیف ہو۔“ (طہٰ۔2)

یوں رواں دواں چلی جاتی ہے یہ معجزکتاب، جس کا خطاب انسان کے اشرف جذبات سے ہے، یعنی اس کے شعور باطنی سے اور اس کی حِسّ اخلاقی سے، اور یوں یہ بُت پرستانہ عقائد کی انسانیت سوزی کو بے نقاب اور ثابت کرتی ہے۔ کوئی سورت ایسی نہیں جس میں خدا کی قدرت، رحمت اور وحدت کے موضوع پر کوئی پرُ جوش و خروش عبارت نہ ہو۔ قادر مطلق کے بارے میں اسلام کا جو تصور ہے اس کے متعلق عیسائی مصنّفین غلط فہمیوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ وہ خدا ئے اسلام کو یوں پیش کرتے ہیں کہ گویا وہ ”ایک بے رحم اورجابر حاکم ہے، جو انسانوں سے شطرنج کے مہروں کی طرح کھیلتا ہے اوراپنی بازی کانقشہ جماتے وقت اس امر کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا کہ مہروں کا کیا حشر ہوگا۔“ آئیے ہم یہ دیکھیں کہ آیا یہ خاکہ درست ہے۔ اسلام کا خدا قادر مطلق ہے، عالم کل ہے، عادل کامل ہے، رَبّ العٰلمین ہے، آسمانوں اور زمین کا صانع ہے،زندگی او رموت کا خالق ہے جس کے قبضہئ اختیار میں حکومت ہے اوراٹل قّوت، اور جو عرش معلی کا مالک اور ساری موجودات پر حاوی ہے۔قوی ہے، متعال ہے، خّلاق ہے،صناّع ہے، صورت گر ہے، حکیم ہے، عادل ہے، حق ہے، سریع الحساب ہے۔ وہ ہر شخص کی نیکی و بدی کی چیونٹی کے برابر مقدار سے بھی واقف ہے اور اس کے فرمانروابندے جس انعام کے مستحق ہیں۔اس کے ایک ذرّہ سے بھی وہ انہیں محروم نہیں رکھتا۔ لیکن قادر مطلق او رعلیم و حکیم ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وہ بادشاہ ہے، ایک مقّدس ہستی ہے، امن قائم رکھنے والا ہے،وعدے کاپکّا ہے، اپنے بندوں کا محافظ ہے،یتیموں کا ملجاہے، محروموں کو دلاسادینے والا ہے، مصیبت زدوں کا آسرا ہے۔ وہ نعمتوں کا مالک ہے، ایک آقائے کریم ہے، رحمٰن ہے،سمیع ہے، غنہ رگ سے بھی قریب تر اس سے بھی زیادہ محبت ہے جتنی ایک مادہ پرندے کو اپنے بچوں سے ہوتی ہے۔

قادر مطلق کا رحم وکرم قرآن کے سب سے شاندار مرضوعوں میں سے ایک موضوع ہے وہ لقب یعنی الّرحمٰن، جس سے ہر سورت شروع ہوتی ہے اور جس سے خدا بارہا پکار ا جاتا ہے، بجائے خود اس امر کامظہر ہے کہ اس رحمت ربّی نے ساری موجودات کو اپنے وامن میں سمیٹ رکھاہے کیسا صمیمی ایمان قرآن کی روح میں جاری و ساری ہے۱؎۔

پہلے دو مذاہب کے پیروؤں کی اخلاقی پستی کو دیکھ کر معلّم اسلام کے دل کو انتہائی رنج ہوتا ہے۔ چنانچہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے نبیوں کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو تم ہم پر ستانہ رسمیں اپنے یہاں رائج کی تھیں وہ سخت الفاظ میں ان کی مذمت کرتا ہے۔ مذہبی جوش کی وہ آگ جو اشعیاہ (Ishaiah) او ریرمیاہ (Jeremiah) کے سینوں میں دہکتی تھی ازسر نو ایک اور شخص کے سینے میں بھڑک اٹھی جو ان سے بھی بڑا انسان تھا۔ اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کی زبرد توبیخ کی، لیکن انسانیت کے انحطاط کو دیکھ کر جو دردناک آواز، جو صدائے شیون، اس کے منہ سے نکلی اس کے ساتھ ہی اس سے بھی بلند تر امید کی ایک صلائے عام تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  الفرقان۔50۔القصص 73۔الشوریٰ 3وغیرہ وغیرہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن یہودیوں کو چھوٹے خداؤں اور بتوں کی پوجااو رعزیز (عزرا)(ezra) کی مبالغہ انگز  تعظمس پر اور عسا ئونں کو حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی پرستش پر نہایت سختی کے ساتھ ملامت کرتا ہے۔

”کاپ تم نے ان لوگوں کا حال نہںے دیکھاجنہںا کتاب کے علم مںر سے تھورا سا حصہ دیا گا  ہے۔ وہ بُتوں اور طاغوت کو مانتے ہں  او رکافروں کے بارے مںس کہتے ہںن کہ وہ ایمان والوں کے مقابلہ مںا زیادہ صححت راستے پر ہںل“۔ (النساء۔51)

”یہودی کہتے ہںگ کہ عزیز اللہ کا بٹاا ہے اور عساہئی کہتے ہںر کہ مسح۔ اللہ کابٹام ہے۔ یہ لمبے بنا د باتں  ہں  جویہ لوگ اگلے منکروں کی تقلدا مں۔ منہ سے نکالتے ہںو۔۔۔۔ انہوں نے اپنے عالموں او رراہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رَبّ بنالا ہے۔۔۔ یہ لوگ چاہتے ہں  کہ اللہ کے نور کو پھونکو ں سے بجھادیں۔۔۔“(التوبہ۔30۔31۔32)

”یہودی اور عسانئی کہتے ہں  کہ ہم اللہ کے بٹےت او رچہتے  ہںت۔“ (المائدہ۔18)

”ان اہل کتاب مں  سے بہتراے دل سے یہ چاہتے ہں۔ کہ تمہں  تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کافر بنادیں۔۔۔ نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور تم جونکا کام بھی اپنی بھلائی کے واسطے اپنے آگے بھجواگے  اسے اللہ کے پاس پہنچ کر پاؤگے۔“ (البقرہ۔109۔110)

”وہ (یہودونصاریٰ) کہتے ہںا کہ یہودونصاریٰ کے سواکوئی جنت مںر داخل نہ ہوگا۔۔ ان سے کہو کہ اگر وہ سچے ہںب تو اس پر اپنی دللے لائںت۔ حق یہ ہے کہ جو شخص بھی خدا کی طرف دل سے متوجہ ہو او رنکوےکار بھی ہو اس کے رَبّ کے پاس اس کا اجر ہے۔“(البقرہ۔111۔112)

”اے اہل کتاب، اپنے دین مںم غلو نہ کرو او راللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو۔ مسح۔ عیسیٰ ابن مریم اس کے سواکچھ نہ تھاکہ وہ اللہ کا رسولؐ تھااور اس کا کلام (یینو حکم)۔۔لہٰذا تم اللہ او راس کے رسولؐاللہ او راس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ تنر (خدا) ہںچ۔ بازآجاؤ اس بات سے۔۔۔ مسحا نے کبھی اس بات کوناگوار نہ سمجھا کہ اسے اللہ کا ایک بندہ کہاجائے۔“(النساء171۔172)

”کسی انسان کی مقدرت نہںت کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکمت اورنبوّت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم مراے بندے بن جاؤ۔ وہ توییو کہے گا کہ تم کامل ربّانی بن جاؤ جساہ کہ اس کاکتاب کا تقاضاہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔“ (آل عمران۔79)

ذیل کی عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے تصورات کے بارے مں  قرآن کا کاے خاول تھا:۔

”وہ کہتے ہںا کہ خدا کے ہاں بٹا  ہوا ہے۔ یہ انتہائی بے ہودہ بات ہے جو تم لوگوں نے کہی ہے۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمنہ شق ہوجائے، اور پہاڑ گرجائںر، اس بات پر کہ لوگ رحمٰن سے اولاد منسوب کرتے ہںو۔ حالانکہ رحمٰن کے شایان شان نں ج کہ اس کے کوئی بٹا  ہو۔ زمن  اور آسمانوں مںا کوئی ایسا نہںس جو بندے کی حتنک  سے اس کے حضور پشن ہونے والانہں ۔ وہ سب پر محطن ہے۔“ (مریم۔88۔89۔90۔91۔92۔93۔94)

لکنڑ یہ صاحب الہام مبلّغ جو حق کی اشاعت کے لے  مبعوث ہوا اچھے اور بُرے لوگوں مںر تمزن کرتا ہے۔

”لکنج سب اہل کتاب یکساں نہںو ہںے۔ ان مںک کچھ لوگ ایسے ہںو جو راہ راست پرگامزن ہںب۔ وہ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہں8، اس کے آگے سربسجود ہوتے ہں ،اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہںں،نیمب کی تلقنی کرتے ہںل اور بُرائو ں سے روکتے ہںن ا ور نکئ کاموں مں8 سرگرم رہتے ہںو۔ ان لوگوں کا شمار صالحنں مںل ہوتا ہے۔“(آل عمران۔113۔114)

یہودیوں اور عسا ئوںں کی باہمی منافرتںو،نسطوریو(Nestorians) اور مونوفزتیوں (monophysites) کی وحشا نہ لڑائا9ں،مختلف فرقوں کے مہمل مناقشے،باز نطیاو پادریوں کے روح فرسا لفظی تنازعے یہ سب عبارت ذیل کی قسم کا ملامتو ں کے مور دبنتے ہںت:۔

”عیسیٰ ابن مریم اور دوسرے رسوُلوں کو ہم نے روشن نشانا ں عطا کںر۔۔۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان کے بعد ان کی اُمّت کے جو لوگ ہوئے وہ آپس مںک لڑتے جھگڑتے لکن  اللہ کو جو منظور ہوتاہے وہ دہی کرتاہے۔“(البقرہ۔253)

”ایک زمانے مںڑ سب انسان ایک ہی طریقے پر تھے۔پھر اللہ نے اپنے پغمبر بھجےک،جو خوشخبریاں بھی دیتے تھے اور ڈراتے بھی تھے او رہر ایک کے ساتھ ایک کتاب برحق نازل کی تاکہ لوگوں کے درماون جو اختلافات ہوں ان کا فصلہ۔ کردے۔ لکنم اختلاف کئے تو صرف ان لوگوں نے کئے جن کو وہ کتاب عطا کی گئی تھی، اور محض اس لےی کہ ان مںف باہمی ضداضدی تھی۔۔۔“ (البقرہ۔213)

”اے اہل کتاب،تم ابراہمن کے بارے مںو کوےں حجت کرتے ہو؟۔۔۔ اییہ بات پر کو ں جھگڑتے ہو جس کا تمہںا کچھ علم نہںا؟“ (آل عمران۔64۔65)

”نئے مذہب کا بنا دی مقصد یہ تھاکہ نوع انسانی کے دل مںی اس حققتک وصداقت کا ایک جتاگ جاگتا اوراک پدےاکرے یا از سر نو بروئے کار لائے جو زندگی کے عام علائق و روابط مںک جلوہ گر ہوتی ہے۔ ایک مشہور مصنّف کے الفاظ مں  ”اس نئے صحفہا آسمانی کا اخلاق مقصد غائی عام انسانی فرائض اور باہمی شفقت و محبت کے جانے پہچانے طریقوں کی حدود کے اندر مقرر کام گاا۔“

”وہ کچھ لوگ تھے جو گذر گئے۔ انہوں نے جو کچھ کمایاوہ ان کا حصہ ہے۔ جو تم کماؤ گے وہ تمہارا حصہ ہوگا۔ ان کے کے  کی پرستش تم سے نہ کی جائے گی۔“ (البقرہ۔134)

”اللہ کسی متنقّس پراس کی طاقت برداشت سے بڑھ کر بوجھ نہںح ڈالتا۔ جس نے جو نیحص کی اس کا پھل اسی کو ملتا ہے اور جس نے جو بدی کی اس کی سزااسی کو دی جاتی ہے۔“(البقرہ۔286)

”مبارک ہے وہ شخص جو اپنا مال اپنے آپ کو پاک کرنے کی خاطر (حق داروں کو) دے دیتا ہے اور جو کسی پر احسان کرتاہے تو اس لے  نہںص کہاس کابدلہ ملے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر۔“ (الضحیٰ۔17۔18۔19۔20)

”نکک بخت ہںا وہ لوگ جو از راہِ شفقت مسیکنوں،یمون ں اور قدضیوں کو کھاناکھلاتے ہں9 یہ کہہ کر کہ تم جو تم کو کھانا کھلارہے ہںو تو صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر۔ ہم تم سے نہ اس کا بدلہ چاہتے ہںہ نہ شکر گزاری۔“ (الدّہر۔8۔9)

”خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔،رشتہ داروں،یموو ں اور مسکنودں سے مہربانی کاسلوک کرو، لوگوں سے راست بازانہ بات کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔“ (البقرہ۔83)

”اپنے والدین کے ساتھ عاجزی اور احترام کاسلوک کرو اور نرمی ورحم کے ساتھ ان کے حق مں  یہ دعا مانگا کرو کہ ’پروردگار‘ ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن مںن پالا تھا، جب مںہ بالکل بے بس تھا۔“ (بنی اسرائلد۔24)

”اگر تم صدقات علانہپ طور پر دو تو یہ بھی اچھا ہے،لکن  اگر چھپا کر دو تو یہ تمہارے حق مںو بہتر ہے۔“ (البقرہ۔271)

”تمہںں جو کچھ دیا گات ہے اس مںل سے دوسروں کو دو اس سے پشترر کہ وہ دن آئے جب نہ کوئی تجارت ہوگی، او رنہ کوئی دوستی کام آئے گی، نہ کوئی سفارش“۔(البقرہ۔254)

”کاہ تم جانتے ہو کہ گھاٹی کاکایمطلب ہے؟ وہ کسی کی گردن کا غلامی سے چھڑادینا ہے، یا کسی یم ر رشتہ دار کو یا کسی خاک نشنت کو فاقے کی حالت مںا پٹا بھر کر کھانا کھلانا ہے،(جس نے ایسا کا؟ وہ) ان لوگوں مںم شمار ہواجو ایمان والوں کو صبر اور رحم کی تلقنم کرتے ہںے۔“ (البلد۔11تا17)

”حفہ ہے ان لوگوں پر۔۔۔ جو اتقّاء کامظاہرہ کرتے ہںس او رمحتاجوں کی مدد کرنے سے انکار کرتے ہںو۔“

”اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتا کر اوردل دکھا کر خاک مںو نہ ملادو۔“(البقرہ۔264)

”مٹھا بول اور چشم پوشی اس خرحات سے بہتر ہے جس کے بعد آزار پہنچا یاجائے۔“ (البقرہ۔263)

”سود خواری ترک کردو۔۔“ (البقرہ۔278)

”جو شخص اپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کے لےے خرچ کرتاہے اس کی مثال اییا ہے جیلب ایک چٹا ن تھی جس پر مٹی کی تہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور سے منہ  برساتو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ  اس کے برعکس جولوگ اپنا مال محض اللہ کی خوشنودی کے لےی دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہں ، ان کے خرچ کی مثال اییر ہے جسےی کسی ٹلےل پر ایک باغ ہو،اس پرزور کی بارش ہوجائے تو وہ دونا چوگناپھل لائے۔ او راگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ہلکی پھوار ہی اس کے لےہ کافی ہو۔“ (البقرہ۔264۔265)

”اے داؤد،ہم نے تجھے زمنس پر اپنا خلفہ  مقرر کاک ہے۔لوگوں پر عدل و انصاف سے حکومت کر اور اپنی ہوا وہوس پر نہ چل تاکہ تو اللہ کی راہ سے بھٹک نہ جائے۔“ (صٓ۔26)

”جو کچھ اللہ نے تم مںم سے کسی کو دوسروں کے مقابلے مںر زیادہ دیاہے اس کی طمع نہ کرو۔۔۔“ (النساء 32)

”اچھا ئی اسی مں  نہںہ کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلئے یا مغرب کی طرف،بلکہ اس مںا ہے کہ آدمی اللہ کو دل سے مانے۔۔۔ اور نک( کام کرے۔۔“(البقرہ۔177)

حسن عفو کا طریقہ اختامر کرو اور نکک کاموں کی تلقن  کئے جاؤ،جاہلوں سے کنارہ کر لو اور اگر کبھی شطاںن تمہںہ اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو۔۔۔“(الاعراف۔199۔200)

”یم۔۔ کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔۔۔ اپنا عہد پورا کرو۔۔ اور زمنل پر اتراکر نہ چلو۔۔۔“ (بنی اسرائلا۔34۔37)

”جب ان مںل سے کسی کو بینا کے پد اہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے۔۔“ (النحل۔58)

”مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو ہلاک نہ کرو۔ تمہاری اولاد کوبھی اور تم کو بھی ہم روزی دینے والے ہںا۔ ان کا ہلاک کرناایک گناہ کبر ہ ہے۔“ (بنی اسرائلل۔31)

”اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بوتیاں بنائںر تاکہ تمہںر ان کی بدولت آرام ملے او رتم مارں بوای مںہ محبت او رہمدردی کا رشتہ ہو۔۔“ (الروم۔21)

”قرابت داری کے رشتوں کو بگاڑنے سے پرہزنکرو۔“(النساء۔1)

”زنا کاری کے پاس بھی نہ پھٹکو،کوونکہ وہ بے حابئی اور بدکاری ہے۔“(بنی اسرائلم۔32)

”مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہںہ نیرج رکھںب۔۔ اور مومن عورتوں سے کہو کہ محرموں کے سوا کسی کے سامنے اپنے بناؤ سنگار کی نمائش نہ کریں۔۔“ (النّور۔30۔31)

”خوب جان لو کہ آخرت کے مقابلے مں0 دنووی زندگی محض لہو و لعب ہے۔۔ مال اور اولاد کی بہتا ت کی کوشش کرنے کی مثال اییر ہے جسےا منہہ برسنے کے بعد کھییھ ہری بھری ہوکر کاشت کار کے دل کو خوش کرتی ہے اورپھر وہ خشک اور زرد ہوکر روندن سابن جاتی ہے۔ آخرت کی کتیس  یہ ہے کہ اس مں  عذاب شدید ہے اور خدا کی طرف سے مغفرت اور رضامندی ہے۔۔“ (الحدید۔20)

”تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی۔ جو لوگ گناہ کماتے ہںو وہ اس کمائی کا بدلہ پاکر رہں  گے۔“ (الانعام۔120)

”جولوگ لغوباتوں سے پرہزھ کرتے ہںے،زکوٰۃ دیتے ہں ، اپنی شہوتوں کو قابو مں۔ رکھتے ہں(،اپنی امانتوں کو پورا کرتے ہںہ اور نماز ادا کرتے ہںب،یہ ہں0 وہ لوگ جو (راحت ابدی کی) مرںاث پائںۃ گے۔“(الحج۔3تا9)

”اپنے والدین کے ساتھ نکو سلوک کرو۔ اگر ان مںو سے ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر تمہارے پاس رہں  تو کبھی انہںی اُف تک نہ کہو او ران سے جھڑک کر بات نہ کرو،بلکہ ان سے با ادب پشس آؤ او رنرمی اور شفقت کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو۔“(بنی اسرائلس۔23۔24)

”اپنے قریی  رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکنونں او ر مسافروں کو ان کا حق،لکنا فضول خرچی نہ کرو۔“ (بنی اسرائلن۔ 26)

”نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے پوری طرح چھوڑ دو،تاکہ ایسا نہ ہوکہ حقرو اور نادار بن کر رہ جاؤ۔“ (بنی اسرائلا۔29)

”مرنے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے ہمشہ  دل کو بھانے والی بات نکالا کریں۔“(بنی اسرائلب۔53)

”بُری بات کا رواییو بات سے کرو جو اس سے بہتر ہو۔“ (المومنون۔96)

”قارمت کے دن ہم ٹھکی ٹھک  تولنے والی ترازوئںو رکھ دیں گے۔پس کسی ذی روح پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اگر کسی کارائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کاڑ دھراہوگا تو ہم وہ اس کے سامنے لاکر تولں  گے۔ اور ہم حساب لگانے کے لےو کافی ہںی۔“ (الانبا ء۔47)

”اپنے رَبّ سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ کر آؤ۔بے شک مرےا ربّ رحمہ ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتاہے۔“ (ہود۔90)

”تمہارا ربّ کہتا ہے کہ ’مجھ کو پکارو مںس تمہاری پکار سنوں گا‘۔“ (المومن۔60)

”کہہ دے ’اے مرہے بندو،جنہوں نے اپنے آپ پر زیادتی کی،اللہ کی مہربانی کی آس نہ توڑو،و ہ سب گناہوں کابخشنے والا ہے۔ وہ ہے عفو کرنے والا اور مہربان“۔(الزمر۔53)

”پاکزرہ کلام اس کی طرف صعود کرتاہے اور وہ نک  کام کو بلندی بخشتا ہے۔“(فاطر۔10)

”کہو کہ جو چز یں اللہ نے حرام کی ہںہ وہ یہ ہںش:۔ بے حارئی کے کام،خواہ کھلے ہوں یا چھپے،گناہ اور ناحق کی زیادتی۔“(الاعراف۔33)

”اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے او رچپکے چپکے پکارو۔ینا   اسے خد سے تجاوز کرنے والے پسند نہں ۔ اب جب کہ اس زمنئ کی اصلاح ہوچکی ہے، اس پر فساد برپانہ کرو،اور خوف اور التجا کے ساتھ خدا کو پکارو۔ینا   اللہ کی رحمت نکس لوگوں کے قریب ہے۔“(الاعراف۔55۔56)

”اور ہم نے انسان کو تاکدے کی ہے کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرے۔ اس کی ماں نے تکلفیں اٹھاکر اسے اپنے پٹا مںہ رکھااور دکھ سہہ کر اسے جنم دیا۔۔۔ وہ (بڑا ہوکر) کہتا ہے: ’اے مرںے ربّ مجھے توفقن دے کہ مںی ان احسانوں کا شکر اداکروں جو تونے مجھ پر او رمر ے ماں باپ پر کئے او رمردی قسمت مں  کر کہ مںی ایسے نکک کام کروں جن سے تو خوش ہو۔ نزی مجھے نکک اولاد عطا فرما، کوھنکہ مں  توبہ کرکے تر ی طرف رجوع ہوا ہوں اور تررا حکم بردار بندہ ہو۔“(الاحقاف۔15)

”ان کے لےک ان کے ربّ کے پاس ایک سلامتی کا گھر ہے، اور اس صحکا طرز عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختاور کاھ وہ ان کا سر پرست ہے۔“(الانعام۔118)

”یناپ  بدبخت ہں) وہ لو گ جنہوں نے نادانی او رکم فہمی سے اپنی اولاد کو ہلاک کر دیا اور اللہ نے انہں  جو رزق دیا تھااسے اللہ پر جھوٹ باندھ کر حرام ٹھہرایا۔ یہ لوگ بہک گئے اور سد ھے راستے پر نہ چلے۔“(الانعام۔141)

”جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ مں  خرچ کرتے ہںت ان کے خرچ کی مثال اییل ہے جسے  ایک دانہ بویا جائے اور اس مںا سے سات بالںر نکلںا، جن مںو سے ہر ایک مںا سودانے ہوں۔۔جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ مں  خرچ کرتے ہں  اور خرچ کر کے پھراحسان نہں  جتاتے اور نہ کسی کو ستاتے ہںہ، ان کا اجران کے رَبّ کے پاس ہے۔ ان کے لے  خوف یا رنج کا کوئی موقع نہںں۔مٹھاہ بول بولنااور دوسروں کی خطاؤں سے درگزر کرنا اس خرکات سے بہتر ہے جس کے بعد دکھ پہنچا یا جائے۔“(البقرہ۔261۔262۔263)

”اللہ کسی مننفّس پر اس کی طاقت برداشت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہں  ڈالتا۔ہر شخص نے جو نیدو کمائی ہے اس کا پھل اُسی کے لےت ہے او رجو بدی سمیکا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔“(البقرہ۔286)

”اے رَبّ اگر ہم سے کوئی بھول چوک یا قصور ہوجائے تو اس پر گرفت نہ کر۔ اے مالک، ہم پر ایسا بارِگراں نہ ڈال جسان تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ ہم سے ایسا بوجھ نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم مںہ طاقت نہں ۔ ہم سے درگزر کر، ہمں۔ بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔“(البقرہ۔286)

”وہ لوگ جو صابر ہں ، راست باز ہںک، فرماں بردار ہںق، کشادہ دل ہںز اور جو رات کے پچھلے پہر مںس اللہ سے مغفرت کی دعائںے مانگتے ہںت۔“ (آل عمران۔17)

”جو لوگ،خواہ وہ خوش حال ہو ں یا بدحال،اپنا مال خرچ کرتے ہںم، غصے کو پی جاتے ہںر اور دوسروں کی خطائںں معاف کردیتے ہںا،ایسے نکں لوگ اللہ کو بہت پسند ہںپ۔“(آل عمران۔134)

”اے خدا ہمارے گناہ بخش، ہماری بُڑائاپں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نکک لو گوں کے ساتھ کر۔“(آل عمران۔193)

”پھر ان کا خدا جواب مںش فرماتا ہے۔ ’مں  تم مںر‘ سے کسی کاعمل رائگاک ں نہںل جانے دیتا‘چاہے وہ مرد یا عورت۔تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔“(آل عمران۔195)

”لوگو! اپنے رَبّ سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور قرابت داری کا خاال رکھو۔“(النساء1)

”اور ایین عورتوں سے نکاح نہ کر جو تمہارے باپ کے نکاح مںں رہ چکی ہوں۔ یہ بے حاائی ہے، ایک ناپسندیدہ حرکت ہے اور بُرا چلن ہے۔“(النساء۔22)

”جو کچھ اللہ نے تم مںڈ سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ مںے زیادہ دیا ہے اس کی ہوس نہ کرو۔“(النساء۔32)

”ماں باپ سے، قرابت داروں،یموو ں او رمسکنووں سے، قریی  ہمسایوں سے، اجنبی ہمسایوں سے،برابر کے رفقویں سے، مسافروں سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے مں، ہو، نک  برتاؤ کرو۔ ینمق جانو کہ اللہ کو اترانے اور بڑے بول بولنے والے لوگ نہںم بھاتے۔“(النساء۔36)

”جو شخص (انسانوں کے باہمی معاملوں مںت) بھلائی کی سفارش کرے گا۔ وہ بھلائی کاحصہ اور جو بُرائی کی سفارش کرے گا وہ بُرائی کا حصہ پائے گا۔ اللہ ہر چزا کا عادلانہ بانٹنے والا ہے۔“(النساء۔85)

”اے ایمان والو، انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لےم سچی گواہی دو، خواہ اس سے خود تمہںص یا تمہارے ماں باپ کو اور رشتہ داروں کو نقصان ہی کو۔ ں نہ پہنچے۔فریق معاملہ چاہے امرو ہو چاہے غریب،ددنوں صورتوں مںی اللہ تم سے زیادہ اس کا خری خواہ ہے۔ اس لے  اپنے نفس کی بات مان کر انصاف کی راہ سے نہ بھٹک جاؤ۔“(النساء۔135)

حضرت اشعیاہ اور حضرت عیسیٰؑ کے مقابلے مںی اس باویہ زاد نبی کا روئے سخن ایک زیادہ وسعک دنا  اور ایک زیادہ ترقی یافتہ نوع انسانی سے تھا۔ انصاف سے دیکھنے کی بات ہے کہ آیا اس کی پشم کردہ تعلماہت، جوانسانی محبت کے ایک رفع  جذبے اور راستی،نیای اورپاکی کے حصول کی ایک بتاعب تمنّا سے لبریز ہںا، حضرت اشعیاہ کی خوف دلانے والی تنبہولں اور حضرت عیسیٰؑ کی دل پگھلادینے والی التجاؤں سے کسی طرح کم تودرجہ رکھتی ہںب۔

غریب،یماا اور مسکن)، زمند کے اسفل نشنہ،وہ کم نصبا لوگ جو ابتدائے زندگی ہی مںھ ماں باپ کی شفقت محروم ہوگئے، یہ ہںر وہ لوگ جن کی حالت دیکھ کر اس کی رقّتِ قلب خصوصاً جوش مںد آتی ہے۔ وہ بار بار اعلان کرتاہے کہ خدا کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ یمون ں او رمسکنونں کی مدد کی جائے، غریبوں کی رفع حاجت کی جائے اور قددیوں کا فدیہ دے کر انہںے رہائی دلائی جائے۔ اس کی دلسوز ی اور محبت صرف اپنے ابتائے جنس تک ہی محدود نہ تھی،بلکہ دوسرے جاندار بھی اس مں  شریک تھے۔

”ایک مرتبہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علہت وسلم کی خدمت مںخ ایک گٹھڑی اٹھائے حاضر ہوا او ربولا، یا رسواللہ، مںف ایک جنگل مںہ سے گزر رہا تھا کہ مںد نے پرندوں کے بچوں کی آوازیں سنںم۔چنانچہ مںن نے انہںا پکڑ کر اس خالچےا مںھ لپٹا لال۔ ان کی ماں پَر پھڑپھڑاتی ہوئی سرھا تعاقب کرنے لگی۔آنحضرتؐ نے کہا، بچوں کو گٹھڑی سے نکال کر زمنل پررکھ دو، جب آدمی نے ایسا کاں، تو ان کی ماں ان کے پاس آگئی۔ آنحضرتؐ نے پوچھا ’اس کی ماں کو اپنے بچوں سے ہوتی ہے اس سے کہں  زیادہ محبت خدا کو اپنے بندوں سے ہے۔ ان بچوں کو تم جہاں سے لائے ہووہںخ واپس پہنچا دو اور ان کی ماں کو ان کی دیکھ بھال کرنے دو۔“

”جانوروں کے معاملے مں  خدا کا خوف کرو، ان پر صرف اس وقت سواری کرو جب وہ سواری کے قابل ہوں۔ جب وہ تھک جائںا تو ان کی پٹھ  پر سے اتر جاؤ۔ ینں  جانو کہ بے زبان جانوروں سے اچھا برتاؤ کرنے اور انہںت پانی پلانے کا ثواب ملتا ہے۔“

قرآن کے ارشاد کے مطابق خدا کی نگاہوں مںھ حو انی زندگی کی بھی وہی قدر ہے جو انسانی زندگی کی ہے۔ قرآن کہتا ہے ”زمن  پر چلنے والے کوئی چوپائے اور ہوا مںش اُڑنے والے کوئی پرندے ایسے نہںا جو تمہاری طرح ایک اُمّت نہ ہوں۔وہ سب اپنے خدا کی طرف لوٹں  گے۔“(الانعام۔38)

عالم عسامئتں نے کہںی صدیوں مںب جاکر حووانی مخلوقات کے بارے مںم احساس فرق اپنے اندر پددا کاک۔ اس سے بہت پہلے کہ عسانئی قوموں کے یہاں جانوروں سے نرمی اور انسانتو کے ساتھ پشن آنے کا خاںل بھی پدواہوا ہوتا، حضرت محمد صلی اللہ علہن وسلم نے قرآن کے پرُ اثر الفاظ مںے اس فرض کا اعلان کاس جو انسان پر اپنے بے زبان او ربے بس خدمت گذاروں کے بارے مںا عائد ہے۔ نرمی و ملائمت کی یہ ہدایت جو اسلام کے زبدہئ اخلاقی مںر مندرج ہںس، ان پر اسلامی دنا  کی آئے دن زندگی مں  ایک فرض مذہبی کی طرح عمل کا  جاتاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Article:

The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Sayed Ammer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions Of Iran Before Islam- Part 4 روح اسلام: اسلام سے قبل ایران کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 5 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Social And Religious Conditions of the World Before Islam- Part 6 روح اسلام: اسلام سے قبل دنیا کے مذہبی ومعاشرتی حالات

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی حالت

 Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Christian World-Part 8 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 9 روح اسلام: اسلام سے قبل عیسائی دنیا کی مذہبی اور سماجی حالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Preface- Pre-Islamic Conditions of the Arabs-Part 10 روح اسلام: ماقبل اسلام عرب کی مذہبی اور سماجی حالت 

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Messenger of Allah -Part 11 روح اسلام: پہلا باب پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Prophet’s Life and Prophet-hood -Part 12 روح اسلام: رسول اللہ کی زندگی اور رسالت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit of Islam’: Chapter 1- The Revelation of the Quran and Declaration of Prophethood -Part 13 روح اسلام:نزول وحی کی ابتدا اور اعلان نبوت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 14 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 1- The Life of The Prophet and His Companions In Early Days of Islam -Part 15 روح اسلام: مکی دور میں رسول اللہ اور صحابہ کی زندگی

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 2- The Prophet’s Migration Towards Madina Part 16 روح اسلام : دوسرا باب: مدینہ کی طرف رسول اللہ کی ہجرت

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 3- The Prophet’s Life in Madina Part 17 روح اسلام : تیسرا باب: رسول اللہ کی زندگی مدینہ میں

Syed Ameer Ali Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 4- Enmity Between Quraish and Jews-Part 18 روح اسلام : چوتھا باب ،قریش اور یہود کی دشمنی

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 5- The Attack of Quraish on Madina-Part 19 روح اسلام : پانچواں باب ، قریش کا مدینے پر حملہ

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 5- The Attack of Quraish on Madina-Part 20 روح اسلام : پانچواں باب ، قریش کا مدینے پر حملہ

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 6- Mercifulness and Kindness of the Prophet Muhammad pbuh-Part 21 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام : چھٹاباب، آنحضرتؐ کی رحم دلی

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 7, The Spread of Islam - Part 22 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، ساتواں باب ، اشاعت اسلام

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 8, The year of delegates - Part 23 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، آٹھواں باب ، عام الوفود

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Chapter 9, The Perfection of Muhammad’s Prophethood - Part 24 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، نواں باب ، رسالت محمدیؐ کی تکمیل

Syed Ameer Ali’s Book ‘The Spirit Of Islam’: Vol. 1, Final Chapter 10, The Subject of Caliphate - Part 25 سید امیر علی کی کتاب روح اسلام ، دسواں باب، مسئلہ خلافت

URL: https://www.newageislam.com/books-documents/syed-ameer-ali-spirit-islam-ideal-goal-islam/d/124876


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..