New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 09:17 AM

Urdu Section ( 26 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah Part-25 یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

مولانا ندیم الواجدی

26 مارچ ، 2021

مہاجرین کے دلوں میں مکہ مکرمہ کی محبت

 وطن سے محبت فطرت کے عین مطابق ہوتی ہے۔ آدمی جہاں پیدا ہوتا ہے، جہاں پلتا بڑھتا ہے، جہاں پروان چڑھتا ہے، جہاں رہتا ہے وہاں کی محبت اس کی رگوں میں لہو بن کر دوڑتی رہتی ہے۔ اگر وہ اپنی مرضی سے بھی کہیں چلاجاتا ہے تب بھی اس کا دل وہیں پڑا رہتا ہے جہاں سے آیا ہے، چہ جائے کہ اسے زبردستی نکال دیا جائے یا وہ مجبور ہو کر وہاں سے نکل جائے تو اس جگہ کی یادہر وقت کسک بن کر اس کو بے چین و بے قرار رکھتی ہے۔ مہاجرین نے وطن چھوڑا، کیوںکہ حالات کا تقاضا بھی تھا اور خدائے لم یزل ولا یزال کا حکم بھی تھا، پھر وطن بھی مکہ مکرمہ جس کو خانۂ کعبہ کی بنا پر ارضِ مقدس کا درجہ ملا ہوا تھا، حجاز و ماورائے حجاز سے لوگ کھنچ کھنچ کر وہاں چلے آتے تھے۔ یہاں کے رہنے والوں کی امتیازی شان تھی، اگر مکے جیسی زمین چھوڑنی پڑے تو اس کے باشندوں کے اضطراب کا کیا عالم ہوتا ہوگا، اس کا  تصور بھی ہم نہیں کر سکتے۔ صحابہ کرامؓ کا حال یہی تھا کہ وہ مدینے میں رہ رہے تھے لیکن ان کا دل مکہ میں پڑا ہوا تھا، وہاں ان کی زمینیں تھیں، کھیت تھے، دکانیں تھیں، مکانات تھے، ان سب سے قطع نظر ان کی جڑیں اس سرزمین میں پیوست تھیں، آباء و اجداد کی ہڈیاں وہاں کی خاک میں ملی ہوئی تھیں، اس لئے وہ لوگ مکہ کی یاد میں بے قرار رہتے تھے۔ حضرت عائشۃ الصدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ہجرت کے بعد ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار آگیا، میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: اباجان! آپ کیسے ہیں؟ اور اے بلالؓ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب میں یہ شعر پڑھا:

کل امریٔ مصبح فی أھلہ والموت أدنی من شراک نعلہ

 ’’ہر آدمی کو اس کے اپنوں میں صبح بہ خیر کہا جاتا ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔‘‘

 حضرت بلالؓ نے یہ دو شعر پڑھے:

ألا لیت شعری ھل أبیتن لیلۃ

بواد و حولی اذخر وجلیل

و ھل أرد یوما میاہ مجنۃ

و ھل یبدو لی شامۃ و طفیل

 ’’کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں کوئی رات مکہ کی وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (دونوں گھاس) ہوں گی اور کیا میں کسی روز مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور مجھے طفیل اور شامہ (پہاڑ) نظر آسکیں گے۔‘‘

 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں حضرات کی علالت اور کیفیت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! مدینے کی محبت ہمارے دلوں میں مکے کی محبت سے بھی زیادہ کردے، اے اللہ! اس کے صاع اور مد (پیمانوں)میں برکت عطا فرما۔  اے اللہ! اس شہر کی فضا اچھی کردے اور اس کا بخار (حرارت) حجفہ (ادی) میں منتقل فرمادے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، رقم ۱۸۸۹، صحیح مسلم، رقم ۱۳۷۶)

 ایک مرتبہ آپﷺ نے خیر و برکت کے لئے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! جتنی برکتیں آپ نے مکے میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینے میں فرما۔

(صحیح البخاری، رقم الحدیث ۱۸۷۵، صحیح مسلم، رقم الحدیث۱۳۶۹)

  ایک مرتبہ یہ دعا فرمائی: اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو حرم قرار دیا تھا اور اہل مکہ کے لئے دعا فرمائی تھی، میں مدینے کو حرم قرار دیتا ہوں اور اس کے رزق اور غلّے کے لئے مکے کے مقابلے میں دوگنی برکت کی دعا کرتا ہوں۔

(صحیح البخاری، ۲۱۲۹، صحیح مسلم، رقم الحدیث، ۱۳۶۰)

 دنیا کا یہ واحد شہر ہے جس کے متعدد نام ہیں۔ علامہ سمہودیؓ نے اپنی مشہور کتاب ’’وفاء الوفاء‘‘ میں اس شہر مقدس کے چورانوے نام لکھے ہیں اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے جذب القلوب میں ساٹھ ناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ علامہ یاقوت حمویؒ نے ’’معجم البلدان‘‘ میں انتیس نام لکھے ہیں، ان میں سب سے زیادہ مشہور نام مدینہ ہے۔ اس کے بعد طیبہ ہے۔ ناموں کی کثرت اس شہر کے لئے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کی دلیل ہے۔ اسلام سے پہلے یہ شہر ’’یثرب‘‘ کہلاتاتھا۔ اس کے معنی ہیں فاسد اور خراب، قرآن کریم میں بھی اس علاقے کے لئے یثرب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ہجرت کے بعد اللہ کے رسولؐ نے بہ حکم خدا یہ نام تبدیل کردیا اور اسے ’’طابہ‘‘ کہا جانے لگا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث ۲۴۵۵،)۔ دُنیا میں کوئی شہر ایسا نہیں جس کے اس قدر نام رکھے گئے ہوں۔

مسجد نبویؐ کی تعمیر

جس طرح قبا میں تشریف آوری کے بعد مسجد کی تعمیر کی گئی، اسی طرح مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے مسجد کے لئے جگہ کا انتخاب کیا گیا اور اس پر مسجد تعمیر کردی گئی، اب ضروری تھی کہ مسلمان پانچ وقت کی نمازوں کے لئے یہاں جمع ہوں اور باجماعت یہ فریضہ ادا کریں، پھر مسلمانوں کے آزادانہ اجتماع اور وسیع ترمشاورت کے لئے بھی ایسی جگہ بہت ضروری تھی جو کشادہ اور وسیع ہو، اور جو سب کے لئے ہمہ وقت کھلی ہوئی ہو، بعد میں یہ جگہ نو مولود اسلامی سلطنت کا سکریٹریٹ بن گئی، یہاں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحابؓ کے ساتھ نماز بھی ادا فرماتے تھے اور تبلیغ ودعوت اور تزکیہ وتعلیم کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے،  ساری دنیا میں اسلام کی شعاعیں اسی مسجد سے پھیلا کرتی تھیں، دنیا بھر سے وفود اسی مسجد میں آکر ٹھہرا کرتے تھے اور یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے تھے، یہیں سے شہنشاہوں اور حکمرانوں کو خطوط لکھ کر روانہ کئے گئے اور اسی جگہ سے تبلیغی ودعوتی وفود بنا کر بھیجے گئے، اسی جگہ جنگی مہمات ترتیب دی گئیں اور اسی مسجد سے کارہائے حکومت انجام دیئے گئے۔ جس وقت یہ مسجد تعمیر ہوئی اس وقت بہت ہی سادہ سی مسجد تھی، کچی اینٹوں اور پتھروں کی ناہموار دیواریں، کھجور کے تنوں کے ستون، کھجور کی ٹہنیوں کی چھت اور اس پر ریتیلی مٹی، نیچے مٹی کا فرش، بعد میں حکمرانوں نے اس میں تعمیر، توسیع اور تزئین کا بیڑا اُٹھایا  اور مسجد کو کشادگی، مضبوطی اور حسن و زیبائش کے اعتبار سے نادرۂ روزگار بنادیا، آئیے اس عظیم الشان مسجد کی تاریخ ِتعمیر پر ایک نظر ڈالیں۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء قبا سے چل کر مختلف قبیلوں سے ہوتی ہوئی حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان کے سامنے آکر بیٹھ گئی، اس مکان کے سامنے ایک خالی زمین پڑی ہوئی تھی، جہاں لوگ اپنے جانور باندھتے اور کھجوریں خشک کرتے  تھے۔ اس قطعہ اراضی کے مالک دو یتیم بچے سہل اور سہیل تھے، دونوں بچے حضرت سعد بن زرارہؓ کے زیر کفالت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زمین مسجد کے لئے اچھی معلوم ہوئی۔ آپؐ نے حضرت سعد بن زرارہؓ کی معرفت بچوں سے کہلوایا کہ وہ یہ زمین مسجد کے لئے فروخت کردیں، بچوں نے عرض کیا کہ ہم یہ زمین بلاقیمت ہی مسجد کو دیتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاقیمت لینا گوارا نہیں فرمایا بلکہ اس وقت زمین کی جو قیمت ہوسکتی تھی وہ ادا فرماکر مسجد کا کام شروع کرادیا۔

 بخاری شریف میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مدینے میں داخل ہوئے، لوگ آپ ﷺکے ساتھ ساتھ چل رہے تھے، اونٹنی اس جگہ بیٹھ گئی جہاں اس وقت مسجد ہے، وہ جگہ مَرْبَدْ تھی، یعنی وہاں کھجوریں سُکھائی جاتی تھیں، اس وقت لوگ وہاں نماز بھی پڑھا کرتے تھے، یہ جگہ سعد بن زرارہؓ کی زیر کفالت دوبچوں سہل اور سہیل کی ملکیت میں تھی، جس وقت وہ اونٹنی وہاں بیٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے چاہا تو یہی ہماری منزل ہے۔ پھر آپؐ نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور ان سے مسجد بنانے کے لئے جگہ خرید نے کی بات کی۔ ان بچوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ہم آپؐ کو یہ جگہ بلا قیمت دینا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺان سے بلاقیمت لینے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ آپؐ نے ان سے وہ زمین قیمت ادا کرکے خریدی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث: ۳۹۰۴) حضرت انس بن مالکؓ کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس جگہ کھجور کے کچھ درخت تھے، مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ حصہ ناہموار یعنی  اونچے نیچے ٹیلوں پر مشتمل تھا، زمین خریدنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کے درخت کاٹ دیئے جائیں، مشرکین کی قبریں ختم کردی جائیں اور ناہموار جگہ ہموار کردی جائے۔(جاری)

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13-  The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19-  The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/bless-madinah-twice-makkah-part-25-/d/124608


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..