New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 10:48 AM

Urdu Section ( 12 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Parveen Shakir: Her Nazms and Gazals; Part 4 on Inkar پروین شاکر: نظمیں اور غزلیں؛ انکار

 پروفیسر مکھن لال، نیو ایج اسلام

 27 دسمبر 2021

 پروین شاکر کی نظموں اور غزلوں کا چوتھا مجموعہ ’’انکار‘‘ 1990 میں شائع ہوا۔ تب تک، پوین شاکر اپنی ذاتی زندگی میں خود کو کافی سنبھالی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ یقین اور اعتماد سے بھرپور ہیں اور اپنے شوہر سے طلاق کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں انہیں اب بھی کسی دوست کی تلاش ہے۔ وہ حکومت کے کام اور سماجی حالات پر چوٹ کرنے سے نہیں ہچکچاتی رہی ہیں۔ ان کی نظمیں "بشیرے کی گھروالی"، "چیلنج"، "ایک افسر اعلیٰ کا مشورہ"، "پھر وہی فرمان" اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ اس مجموعہ کو انہوں نے اپنے دوست، ساتھی اور سرپرست کے نام وقف کیا تھا۔ اس کی ’’پروین قادر آغا‘‘ نظم بتاتی ہے کہ ان کے اور آغا کے درمیان کتنا روحانی اور جذباتی رشتہ تھا۔ درحقیقت زندگی کے آخری دور میں پروین قادر آغا شاکر کی اصل فطرت سامنے آئی ۔

باب حیرت سے مجھے اذن سفر ہونے کو ہے

تہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہے

کھول دیں زنجیر در اور حوض کو خالی کریں

زندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے

موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں

کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے

گرد رہ بن کر کوئی حاصل سفر کا ہو گیا

خاک میں مل کر کوئی لعل و گہر ہونے کو ہے

اک چمک سی تو نظر آئی ہے اپنی خاک میں

مجھ پہ بھی شاید توجہ کی نظر ہونے کو ہے

گمشدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیں

معجزہ ایسا مگر بار دگر ہونے کو ہے

رونق بازار و محفل کم نہیں ہے آج بھی

سانحہ اس شہر میں کوئی مگر ہونے کو ہے

گھر کا سارا راستہ اس سر خوشی میں کٹ گیا

اس سے اگلے موڑ کوئی ہم سفر ہونے کو ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے

وم کر پھول کو آہستہ سے معجزہ باد صبا کرتی ہے کھول کر بندقبا گل کے ہوا آج خوشبو کو رہا کرتی ہے ابر برستے تو عنایت اس کی شاخ تو صرف دعا کرتی ہے زندگی پھر سے فضا میں روشن

مشعلبرگحناکرتیہے ہم نےدیکھیہےوہاجلیساعتراتجبشعرکہاکرتیہے

شب کی تنہائی میں اب تو اکثر

گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے

دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیں

جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

زندگی میری تھی لیکن اب تو

تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے

اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ

دل کا احوال کہا کرتی ہے

مصحف دل پہ عجب رنگوں میں

ایک تصویر بنا کرتی ہے

بے نیاز کف دریا انگشتریت پر نام لکھا کرتی ہے دیکھ تو آن کے چہرہ میرا

اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے

زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنی

رنج ملنے کا سوا کرتی ہے

شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد

کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا

فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے

مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوک

حال جو تیرا انا کرتی ہے

دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں

بات کچھ اور ہوا کرتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم

ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود

سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا

کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام

اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک دفنائی ہوئی آواز

پھولوں اور کتابوں سے آراستہ گھر ہے

کی ہر آسائش دینے والا ساتھی

آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا بچّہ

لیکن اس آسائش، اس ٹھنڈک کے رنگ محل میں

جہاں کہیں جاتی ہوں

بنیادوں میں بے حد گہرے چنی ہوئی

اک آواز برابر کریہ کرتی ہے

مجھے نکالو

مجھے نکالو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرارتی آنکھیں

ستاروں کی طرح جگمگاتی ہیں

شرارت سے بھری آنکھیں

میراے گھر میں اجالا بھر گیا

تیری ہنسی کا

یہ ننھے ہاتھ جو گھر کی کوئی شئیاب کسی ترتیب میں رہنے نہیں دیتے

کوئی سامان آرائش نہیں اپنی جگہ پر اب کوئی کیاری سلامت ہے

نہ کوئی پھول باقی ہے

یہ مٹی سے سنے پاؤں

جو میری خواب گاہ کی دودھیا چادر کوا ایسا حال کرتے ہیں چند لمحے گزرنے کے بعد ہی پہچانا نہیں جاتا

کہ کچھ لمحے گزرنے پر ہی پہچانی نہیں جاتی

مگر میری جبین پر بل نہیں آتا

کبھی رنگوں کی پچکاری سے

سر تا پا بھگو دینا

کبھی چنری چھپا دینا

کبھی آنا عقب سے

اور میری آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر

پوچھنا تیرا

بھلا میں کون ہوں

بجھو تو جانوں

میں تجھ سے کیا کہوں

تو کون ہے میرا

میرے نٹکھٹ کنہیا

مجھے تو علم ہے اتنا

کہ یہ بے نظم اور نا صاف گھر

میری توازن گر طبعیت پر

گراں نہیں بننے پاتا

اگر تو میرے آنگن میں نہ ہوتا

تو میرے خانۂ آئینہ سامان میں

بہ ایں ترتیب و آرائش

اندھیرا ہی رہتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نشاطِ غم

دسمبر کا کوئی یخ بستہ دن تھا

میں یورپ کے نہایت دُور افتادہ علاقے کی

کسی ویران طیراں گاہ میں

بلکل اکیلی بینچ پر بیٹھی تھی

اعلانِ سفر کی منتظر تھی

جہاں تک آنکھ شیشے کے ادھر جاتی

اداسی سے گلے ملتی

مسلسل برفباری ہو رہی تھی!

اچانک میں نے اپنے سے مخاطب

بہت مانوس اک آواز دیکھی

"آپ کیسی ہیں؟

اکیلی ہیں؟

گھنے بالوں بھوری آنکھوں

دلنشیں باتوں سے پُر

وہ پُر کشش لڑکا کہاں ہے؟

آپ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگتے تھے!"

مرے چہرے پہ اک سایہ سا لہرایا تھا شاید

وہ آگے کچھ نہیں بولا!

میرا دل دکھ سے کیسا بھر گیا تھا

مگر تہہ میں خوشی کی لہر بھی تھی

پُرانے لوگ ابھی بھولے نہیں ہم کو

ہمیں بچھڑے ۔ اگرچہ

آج سولہ سال تو ہونے کو آئے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نظم

بہت دل چاہتا ہے

کسی دن غاصبوں کے نام ایک خط لکھوں

کھلا خط

لکھوں جس میں

کی تم چور دروازے سے آ کر

میرے گھر کا تقدس

جس طرح پامال کر کے

توشہ خانہ کو تصرف میں لیا ہے

تمہاری تربیت میں یہ رویہ

دشمنوں کے ساتھ بھی زیبا نہیں تھا

کلام فتح میں بھی

یہ سخن شامل نہیں تھا

یہاں تک بھی غنیمت تھا

تمہارے پیشرو میں بخت آزمائی میں

زرو سیم و جواہر تک نظر محدود رکھتے تھے

جوانوں کو تہ تلوار کرتے

مگر ماؤں کی چادر

بیٹیوں کی مسکراہٹ

اور بچوں کے کھلونے سے

تعرض کچھ نہ کرتے

تم نے تو حد کر دی

نہ بیت المال ہی چھوڑا

نہ بیوہ کی جمع پونجی

اور اب تم نے

ہماری سوچ کو بھی

راج دھانی کا کوئی حصہ بنانے کا ارادہ کر لیا ہے

ہمارے خواب کی عصمت پہ نظریں ہیں

قلم کا چھننا

آسان نہیں

یہ درویشوں کی بستی ہے

دبے پیروں بھی یاں آنے کی  تم جرات نہیں کرنا

کرائے پر

قصیدخوان اگر کچھ مل بھی جائیں تو

قبیلے کے کسی سردار کی بیت نہیں ملنی

ہمارے آخری ساتھی کی تکمیل شہادت

تک تمہیں نصرت نہیں ملنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چیلنج

حکیم شہر کے ہرکارے نے

آدھی رات کے سناٹے میں

میرے گھر کے دروازے پر

دستک دی ہے

اور فرمان سنایا ہے

آج کے بعد سے

ملک سے باہر جانے کے سب راستے، خود پر بند سمجھنا

تم نے غلط نظمیں لکھی ہیں۔

اے ایس آئی سے کیا شکوہ

اس نے اپنا ذہن کرائے پر دے رکھا ہے

وہ کیا جانے

مٹی کی خوشبو کیا ہے

ارض وطن کے رخ سے بڑھ کر

آنکھ کی راحت کیا ہے

حکیم وقت کی نظروں میں

میری وفاداری نہ مشکوک ہی ٹھہری تو

مجھ کو کچھ پرواہ نہیں

جس مٹی نے مجھے جنم دیا ہے

میرے اندر شیر کے پھول کھلائے

وہ اس خوشبو سے واقف ہے

اس کو خبر ہے

فصل خزاں کہنے کا مطلب

گلشن غداری نہیں ہے

اور اگر ایسا ٹھہرا تو

حکیم وقت کے ہرکارے

مجھ پر فرد جرم لگائیں

خاک وطن خو حکم بنائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت سادہ ہے وہ

اور اسکی دنیا میری دنیا سے سراسر مختلف لگتی ہے

الگ خواب ہیں اس کے

زندگی میں اسکی ترجیحات ہی کچھ اور لگتی ہیں

بہت کم بولتا ہے وہ

مجھے اس نے کھا ہے آج کی صبح

میں نے اپنے لان میں کچھ خوبصورت پھول دیکھے

مجھے بے ساختہ یاد آ گئی تم!

مجھے معلوم ہے

میں عمر کے اس ملگجے حصے میں ہوں

جب میرا چہرہ

کسی بھی پھول سے قربت نہیں رکھتا

مگر جی چاہتا ہے اس کی باتوں پر

ذرا سی دیر کو ایمان لے آؤں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تازہ محبّتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

پھر موسمِ بہار مِرے گُلستاں میں ہے

اِک خواب ہے کہ بارِ دگر دیکھتے ہیں ہم

اِک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے

تابِش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سَوا

جگنو سی یہ زمِیں جو کفِ آسماں میں ہے

اِک شاخِ یاسمین تھی کل تک خِزاں اَثر

اور آج سارا باغ اُسی کی اماں میں ہے

خوشبو کو ترک کر کے نہ لائے چمن میں رنگ

اتنی تو سُوجھ بُوجھ مِرے باغباں میں ہے

لشکر کی آنکھ مالِ غنیمت پہ ہے لگی

سالارِ فوج اور کسی اِمتحاں میں ہے

ہر جاں نثار یاد دہانی میں منہمک

نیکی کا ہر حساب دِل دوستاں میں ہے

حیرت سے دیکھتا ہے سمندر مِری طرف

کشتی میں کوئی بات ہے، یا بادباں میں ہے

اُس کا بھی دھیا ن جشن کی شب اے سپاہِ دوست

باقی ابھی جو تِیر، عُدو کی کماںمیں ہے

بیٹھے رہیں گے، شام تلک تیرے شِیشہ گر

یہ جانتے ہُوئے، کہ خسارہ دُکاں میں ہے

مسند کے اِتنے پاس نہ جائیں کہ پھر کَھلے

وہ بے تعلّقی جو مِزاجِ شہاں میں ہے

ورنہ یہ تیز دھوپ تو چبُھتی ہَمَیں بھی ہے

ہم چُپ کھڑے ہُوئے ہیں کہ تُو سائباں میں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی

اِک عُمر کے بعد اس کو دیکھا

آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں

ہونٹوں پہ مگر وہی تبّسم

چہرے پہ لِکھی ہوئی

اُداسی لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ

آواز میں گونجتی جُدائی

باہیں تھیں مگر وصال ساماں

سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں

تا دیر میں سوچتی رہی تھی

کسی ابر گریز پا کی خاطر

میں کیسے شجر سے کٹ گئی تھی

کس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا

میں اس کے گلے لگی ہوئی تھی

وہ پونچھ رہا تھا میرے آنسو

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

س نے پھول بھیجے ہیں

اس نے پھول بھیجے ہیں

پھر میری عیادت کو

ایک ایک پتی میں ،

ان لبوں کی نرمی ہے

ان جمیل ہاتھوں کی

خوشگوار حدت ہے

ان لطیف سانسوں کی

دلنواز خوشبو ہے

دل میں پھول کھلتے ہیں

روح میں چراغاں ہے

زندگی معتر ہے

پھر بھی دل یہ کہتا ہے

بات کچھ بنا لیتا

وقت کے خزانے سے

ایک پل چرا لیتا

کاش وہ خود آ جاتا ! !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ؟

ﮨﻮﺍﺋﮯ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ

ﯾﺎ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﻣﯿں

ﺟﮭﺠﮭﮑﺘﯽ ﺑﻮﻧﺪﺍ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ

ﮐﮧ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺗﯿﺰ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ

ﺭﻭ ﭘﮩﻠﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﻣﯿﮟ

ﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺗﭙﺘﯽ ﺩﻭﭘﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ

ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﮮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ

ﮐﮧ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﺮﺳﺮﯼ ُﮬﻦ ﻣﯿﮟ

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ؟

ﮨﺠﻮﻡِ ﮐﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﮯ

ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ

ِﺴﯽ ﻭﯾﮏ ﺍﯾﻨﮉ ﮐﺎ ﻭﻗﻔﮧ

ﮐﮧ ﺳﮕﺮﭦ ﮐﮯ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﻣﯿﮟ

ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ

ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺭﯾﺸﻤﯿﮟ ﻓﺮﺻﺖ؟

ﮐﮧ ﺟﺎﻡِ ُﺮﺥ ﺳﮯ

ﯾﮑﺴﺮ ﺗﮩﯽ

ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ

ﺑﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺵ ﺁﺩﺍﺏ ﻟﻤﺤﮧ

ﮐﮧ ِ ﺧﻮﺍﺏِ ﻣﺤﺒﺖ ﭨﻮﭨﻨﮯ

ﺍﻭﺭ ُﻭﺳﺮﺍ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ

ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺍﮎ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﻏﺖ؟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ

میں کہاں پر ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے درمیاں ایسا کوئی رشتہ نہیں

تھا ترے شانوں پہ کوئی چھت نہیں تھی

مرے ذمے کوئی آنگن نہیں تھا

کوئی وعدہ تری زنجیر پا بننے نہیں پایا

کسی اقرار نے میری کلائی کو نہیں تھاما

ہوائے دست کی مانند

تو آزاد تھا

رستے تیری مرضی کے تابع تھے

تجھے بھی اپنی تنہائی پہ

دیکھا جائے تو

پورا تصرف تھا

مگر جب آج تونے

راستہ بدلا

تو کچھ ایسا لگا مجھ کو

کہ جیسے تو نے مجھ سے بے وفائی کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشیرے کی گھر والی

ہے رے تیری کیا اوقات

دودھ پلانے والے جانوروں میں

اے سب سے کم اوقات

پرش کی پسلی سے تو تیرا جنم ہوا

اور ہمیشہ پیروں میں تو پہنی گئی

جب ماں جایا پھلواری میں تتلی ہوتا

تیرے پھول سے ہاتھوں میں

تیرے قد سے بڑی جھاڑو ہوتی

ماں کا آنچل پکڑے پکڑے

تجھ کو کتنے کام آجاتے

اپلے تھاپنا

لکڑی کاٹنا

گائے کی سانی بنانا

پھر بھی مکھن کی ٹکیہ

ماں نے ہمیشہ بھیا کی روٹی پہ رکھی

تیرے لئے بس رات کی روٹی

رات کا سالن

روکھی سوکھی کھاتے

موٹا جھوٹا پہنتے

تجھ پہ جوانی آئی تو

تیرے باپ کی نفرت تجھ سے اور بڑھی

تیرے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے پر

ایسی کڑی نظر رکھی

جیسے ذرا سی چوک ہوئی

اور تو بھاگ گئی

سولھواں لگتے ہی

ایک مرد نے اپنے من کا بوجھ

دوسرے مرد کے تن پہ اتار دیا

بس گھر اور مالک بدلا

تیری چاکری وہی رہی

بلکہ کچھ اور زیادہ

اب تیرے ذمے شامل تھا

روٹی کھلانے والے کو

رات گئے خوش بھی کرنا

اور ہر ساون گا بھن ہونا

پورے دنوں سے گھر کا کام سنبھالتی

پتی کا ساتھ

بس بستر تک

آگے تیرا کام

کیسی نوکری ہے

جس میں کوئی دیہاڑی نہیں

جس میں کوئی چھٹی نہیں

جس میں الگ ہوجانے کی، سرے سے کوئی ریت نہیں

ڈھوروں ڈنگروں کو بھی

جیٹھ ساڑھ  کی دھوپ میں

پیڑ تلے سستانے کی آزادی ہوتی ہے

تیرے بھاگ میں ایسا کوئی سمے نہیں

تیری جیون پگڈنڈی پر کوئی پیڑ نہیں ہے

ہے رے

کن کرموں کا پھل ہے تو

تن بیچے تو کسبی ٹھہرے

من کا سودا کرے اورپتنی کہلائے

سمے کے ہاتھوں ہوتا رہے گا

کب تک یہ اپمان

ایک نوالہ روٹی

ایک کٹورے پانی کی خاطر

دیتی رہے گی کب تک تو بلیدان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مشکل سوال

ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے

ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا

وہ چہرہ

بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا

اور آنکھیں

پہلی محبت کی طرح شفاف!

لیکن اس کے ہاتھ میں

ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں

اور اُن لکیروں میں

برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی

اُس کے ہاتھ

اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک افسر اعلی کا مشورہ

میرے ایک افسر اعلی نے

ایک دن مجھے اپنی بارگاہ خاص میں طلب کیا

اور ایک دو فائلوں کا حال پوچھنے کے بعد

میری غیر سرکاری مصروفیات پر چیں بہ جبین ہوئے

معاشرے میں شاعر کی اوقات پر روشنی ڈالی

خلاصہ گفتگو یہ کہ

ملک میں شاعر کی حیثیت وہی ہے

جو جسم میں اپینڈکس کی

بے فائدہ ------- مگر کبھی کبھی مشکل کا باعث

تو اس کا ایک ہی حل ہے ------ سرجری

چشم تصور سے، میری شخصیت کے اپنڈکس سے نجات پا کر

کچھ شگفتہ ہوئے

پھر گویا ہوئے

ایک آئیڈیل افسر وہ ہے

جس کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا

پہلے اس کے ہونٹ غائب ہوتے ہیں

پھر آنکھیں

اس کے بعد کان

آخر میں سر

ہونٹوں، آنکھوں، کانوں اور سر سے نجات پائے بغیر

کوئی افسر فیڈرل سیکرٹری نہیں بن سکتا

اپنی بات پر زور دینے کے لیے

انہوں نے دو ایک مشہور سر کٹے افسروں کا حوالہ دیا

لیکن میرے چہرے پر

شاید انہوں نے پڑھ لیا تھا

کہ یہ بیوقوف لوکل شاعر بنے رہنے میں ہی خوش ہے

سو بد مزہ ہو کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم سب ایک طرح سے ڈاکٹر فاسٹس ہیں

 

ہم سب ایک طرح سے

ڈاکٹر فاسٹس ہیں

کوئ اپنے شوق کی خاطر

اور کوئ کسی مجبوری سے بلیک میل ہو کر

اپنی روح کا سودا کر لیتا ہے

کوئ صرف آنکھیں رہہن رکھوا کر

خوابوں کی تجارت شروع کر دیتا ہے

کسی کو سارا ذہن ہی گروی رکھوانا پڑتا ہے

بس دیکھنا یہ ہے

کہ سکہ رائج الوقت کیا ہے

سو زندگی کی wall street کا جائزہ یہ کہتا ہے

کہ آج کل قوت خرید رکھنے والوں میں

عزت نفس بہت مقبول ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"پروین قادر آغا"

جب میرے سر سے چادر اُتری

تو میرے گھر کی چھت میرے لئے اجنبی ہوگئی

"تم ہمارے لئے مر چکی ہو"

اہلِ خانہ کی خاموشی نے اعلان کیا

اور میں بابل کے دروازے سے

دستک دیے بنا

لوٹ آئی

میں نے

بڑے مان سے

اپنے پریمی کی طرف دیکها

مگر اس کی آنکھوں میں برف جم چکی تھی

جیسے میرے لیے ان جھیلوں میں کنول کبهی کهلے هی نہ تھے

آب میں کھلے آسمان تلے کھڑی تھی

اپنے لال کو سینے سے لگائے

یا اللہ ! میں کہاں جاؤں

سر پہ پہاڑ سی رات

چاروں طرف بھیڑیے

اور عورت بو سونگھتے هوئے شکاری کتے

"همیں گھاس نہ ڈالنے کا نتیجہ" کہتی آنکھیں

"همیں موقع دو" کہنے والے اشارے

اور چیتھڑے اڑانے والے قہقہے

اور مار دینے والی هنسی

ٹھٹھے کرتی هوا

اور فقرے کستی بارش

هر طرف سے سنگباری!

مجھ میں اور پاگل پن میں

بس ایک رات کا فاصلہ رہ گیا تھا

خودکشی بھی میری تاک میں بیٹھی تھی

قریب تھا کہ میں اس کے هاتھ آ جاتی

کہ ایک سایہ میری طرف بڑها

اور میرے سر پر اپنا ھاتھ رکھ دیا

"همیں کسی کی پرواہ نہیں

تم جیسی بھی هو، همیں عزیز هو؟"

اس دن میں اتنا روئی

کہ دنیا اگر ایک خالی تالی ہوتی

تو میرے آنسوؤں سے بھر جاتی

میرا ملامت بھرا وجود

اس دن سے آج تک

اس مہربان سایے کی پناه میں ہے

خدا

کبھی کبھی

اپنے فرشتوں کو

زمین پر بھی بھیج دیتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر وہی فرمان

کلچر کی باگ ڈور

پارٹی ایکٹوسٹ نے سنبھال لی ہے

اب راگوں کی چولیں روشن ترخان بٹھائیں گے

اور شاعری

کمہاروں کی آنویں میں پکا کرے گی

مصوری کو لوہار کی دھونکنی کی ضرورت ہے

بہت ہو گئی رجعت پسندی

رابطے کا ہر وسیلہ اب ہمارا ہے

خفیہ یا قومی

بیان ادھورا رہ گیا

تو رہتا ہے

مغنیہ ابھی استھائی پر تھی

کوئی بات نہیں

انترا ہم خود اٹھا لیں گے

لیکن حضور ایک نظر رومانیہ اور چیکوسلواکیہ

اور مشرقی جرمنی پر تو ڈالیں

خود قبلہ گاہی گورباچو

ہمیں خبر ہے

لیکن ہم Glass Nost کی خرافات میں نہیں پڑنا چاہتے

ہر وہ شخص جو ہماری اجازت کے بغیر

گزشتہ برسوں زندہ رہا

غدار ہے اور غدار کی سزا موت ہے

اور زندہ بچ خانے والوں کو خبر ہو

کہ وفاداروں کے سرٹیفکیٹ پر

اب ہمارے دستخط ہوں گے

رسہ کھینچنے کا اختیار ہمیں مل چکا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ دان پروفیسر مکھن لال دہلی انسٹی ٹیوٹ آف ہیریٹیج ریسرچ اینڈ مینجمنٹ کے بانی ڈائریکٹر کی حیثیت سے دہلی منتقل ہونے سے پہلے بنارس ہندو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے پہلے چارلس والیس فیلو بھی تھے۔ حال ہی میں انہوں نے پروین شاکر کی ہندی شاعری کو دو جلدوں میں شائع کیا ہے)

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part-1 परवीन शाकिर की नज़्में और गज़लें

Parveen Shakir: A Brief Life Sketch परवीन शाकिर: एक संक्षिप्त जीवनी

Parveen Shakir: A Brief Life Sketch پروین شاکر: ایک مختصر سوانح عمری

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part-1 پروین شاکر کی نظمیں اور غزلیں

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part 2 on Sadbarg परवीन शाकिर की नज़्में और गज़लें: सदबर्ग

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part 2 on Sadbarg پروین شاکر کی نظمیں اور غزلیں: صدبرگ

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part 3 On "Talking to Oneself" परवीन शाकिर की नज़्में और गज़लें: ख़ुदकलामी

Parveen Shakir: Her Poems and Ghazals, Part 3 On "Talking to Oneself" پروین شاکر کی نظمیں اور غزلیں: خودکلامی

Parveen Shakir: Her Nazms and Gazals; Part 4 on Inkar; परवीन शाकिर की नज़्में और गज़लें: इन्कार

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/parveen-shakir-poems-ghazals-inkar-part-4/d/126145

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..