New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 02:51 PM

Urdu Section ( 17 Nov 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

There Is Someone Who Is Running the System of the Universe Concluding Part کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

عبدالرشید سیال

(آخری حصہ)

11 نومبر،2022

یہ کائنات جو ا س قدر تیزی سے پھیل رہی ہے او راس میں ہر ذرّہ زمین سے لے کر کائنات بسیط کی وسعتوں میں عالمین تک، سب سے اپنے سفر پر رواں دواں ہیں ، پھر بھی یہ ایک محدود (Closed) ماڈل کی طرح کام کررہا ہے ۔ سائنس داں کائنات کے ختم اور دوبارہ شروع ہونے پر یقین رکھتے ہیں جیسا کہ سورۃ الانبیاء کے حسب ذیل حوالے سے واضح ہے،لیکن وہ محدود ماڈل اور حدود کے حالات (باؤنڈری کنڈ یشنز) کا ادراک نہیں کرسکتے جو قرآن حکیم میں مختلف جگہ بیان ہوئے ہیں۔ خداوند قدوس نے فرمایا ہے:

‘‘ وہ دن جب کہ ہم آسمان کو یو ں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں ۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے او ریہ کام ہمیں بہر حال کرنا ہے۔’’( انبیاء :104)

‘‘ کیا ان کو یہ نہ سوجھاکہ جس خدا نے زمین اور آسمانوں کو پیداکیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرورت رکھتا ہے؟ اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کاانکار ہی کریں گے۔’’( بنی اسرائیل: 99)

‘‘ اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے، وہی تم کو موت دیتا ہے او رہی پھر تم کوزندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے۔’’( الحج: 66)

‘‘اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانونس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرحی چمکتا ہوا تار ا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتاہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہوچاہے آگ اس کو نہ لگے (اس طرح) روشنی پر روشنی ۔ اللہ اپنے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ۔ وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔’’( النور:35)

اس آیت کریمہ میں رب العزت نے تمام کائنات کی ابتداء و آخری مادی اصول او روہ سرحد (نچلا آسمان) جہاں تمام طبعی قوانین اختتام پذیر ہوں گے، کی نشاندہی کرری ہے ، لیکن صرف اور صرف نور خدا ہی باقی آسمانوں میں پھیلا ہوگا کیونکہ وہی تو ہے جو تمام اصولوں کا خالق ہے۔

 ‘‘آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔’’( رحمن:7)

‘‘ اس کا تقاضا ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۔’’( رحمن:8)

‘‘ پھر (کیا بنے گا اس وقت) جب آسمان پھٹے گا او رلال چمڑے کی طرح سرُخ ہوجائے گا’’۔( رحمن:37)

کائنات کا آغاز او راختتام

‘‘ (اس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔’’( رحمن: 38)

‘‘ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے’’۔ (الصفت:6)

تمام کائنات چاروں طرف سے فٹبال کور کی طرح پہلے یا نچلے آسمان سے گھری ہوئی ہے اس لئے کہ محدود ماڈل (closed Model)میں ہر چیز کو تخریب یاتوڑ پھوڑ کے عمل سے دوچار ہونا ہے۔( انفطار:4-1 )،جیسے اگر گلاس میز سے فرش پر گرے تو ٹوٹ جائے گا ۔ ہم ایک ٹوٹے ہوئے گلاس کو پھر سے میز پر اپنی اصلی حالت میں نہیں دیکھ سکتے ۔ اس لئے کہ تھرموڈائنامک کا دوسرا قانون اس کی نفی کرتاہے او ریہی ‘مرفی لاء’ کی بنیاد فراہم کرتا ہے او رعمل تخریب توڑ پھوڑ کاعمل تھرموڈائنامک ایرو آف ٹائم کی ایک مثال ہے۔ اب تصور کریں کہ اس فضا ئے بسیط کو کب تک اور کہاں تک پھیلنا ہے۔ نچلے آسمان تک پہنچنے کے لئے جب یہ پھیلتی ہوئی کائنات آسمان سے ٹکرائے گی۔۔( Big Smash) کو مختلف Universes (عوالم ) اپنے اپنے وقت میں پھیلتے ہوئے اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گے۔ اس وقت نچلا آسمان بھی پاش پاش ہورہا ہوگا ۔ یہ کیفیت بڑی خوبصورتی سے سورۃ الانبیاء(104)میں بیان کی گئی ہے۔ خداوند قدوس فرماتے ہیں کہ اس کے لئے ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے ۔ وہ نہ ایک گھڑی آگے ہوسکتا ہے او رنہ پیچھے ۔

‘‘ او رجب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے ، سمندر اُبل پڑیں گے’’( انفطار:2-3)،یعنی سمندروں میں آگ لگ جانے سے بڑی سٹپٹاہٹ پیدا ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن جب ٹکرا کر پاش پاش ہونے کے واقعات رونما ہورہے ہوں گے اس وقت یہ عمل جاری ہوگا او رکچھ اجرام فلکی ایسے بھی ہوں گے جو Black Holes میں ضم ہوجائیں گے۔ لیکن اس کا کشش ثقل کا اثر کائنات میں پھیلتا جائے گا جس سے کائنات ایک دفعہ پھر اسی طرح گرم ہوجائے گی جس طرح یہ شروع میں تھی او روہ درجہ حرارت اربوں سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔ او رپھر سمندر وں کی حالت آگ کے سمندر جیسی ہوگی۔

جس محدود ماڈل کا اوپر ذکر کیا گیا ہے آج کے سائنسداں محدود ماڈل پر متفق ہیں لیکن وہ نہیں جانتے یہ اس قدر وسیع او رپھیلتی ہوئی کائنات محدود ماڈل کی طرح کیسے کام کرے گی۔ کاش وہ قرآن کریم سے رہنمائی لیتے ۔ میں اس کی مثال کچھ یوں دیا کرتاہوں کہ ہم دن کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں جب کہ رات کے اندھیرے میں ہمیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔ ہم جانتے ہیں کہ دن کی روشنی کا سبب سورج ہے۔ اگر سورج کی روشنی نہ ہوتی تو ہم دیکھنے کے قابل نہ ہوتے۔ اب اس طرح سورج بھی تو بغیر کسی مقصد، بغیر کسی وجہ کے معرض وجود میں نہیں آگیا ۔ اس کے پیچھے بھی تو کوئی قوت کار فرماہے یعنی ہر مظہر یا نتیجے کا ایک مہداء یا سبب ہونا لازم ہے، او رمبداء کی اپنی تخلیق کے پیچھے ایک منطق ہوتی ہے۔ ہم اس مبداء یا قوت کو لامحالہ فطرت (Nature) کہتے ہیں۔

11 نومبر،2022، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Urdu Part: 1 – Understanding the Philosophy of the Holy Quran Requires Knowledge of the Scientific Method and Other Branches of Study قرآن کریم کا فلسفہ سمجھنےکیلئے سائنسی پس منظرکیساتھ دیگر علوم کاجاننا بھی ضروری

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/someone-running-system-universe-concluding-part/d/128419

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..