New Age Islam
Sun Oct 24 2021, 09:05 PM

Urdu Section ( 7 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why ‘Progressive’ Muslims are wrong in Condemning Naseeruddin Shah’s Anti-Taliban Video نصیر الدین شاہ کی طالبان مخالف ویڈیو کی مذمت میں 'ترقی پسند' مسلمان غلط ہیں؛ اسباب و علل

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

7 ستمبر 2021

غلطیوں پر انگلی اٹھانے کے بجائے انہیں اس اہم موڑ پر شاہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

اہم نکات:

1.       نصیر الدین شاہ کی ویڈیو نے اپنا اثر پیدا کر دیا ہے کیونکہ اس نے ہندو قدامت پسندوں اور مسلمانوں کے ایک طبقے کو مشتعل کر دیا ہے، بشمول ایسے کچھ لوگوں کے جو خود کو ترقی پسند مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔

2.       مسلم تنظیموں کا طالبان کی مذمت سے انکار واضح طور پر تشویشناک ہے لیکن جو بات زیادہ تشویش کی ہے وہ ترقی پسند مسلمانوں کا اس معاملے کو صاف طور پر دیکھنے سے قاصر ہونا ہے۔

3.       ممکن ہے کہ نصیرالدین شاہ نے اسلام کو قرون وسطیٰ سے جوڑا ہو لیکن ہم اس پر اتنے ناراض کیوں ہیں؟ کیا ہماری دینیات اور فقہ اب بھی قرون وسطیٰ کی نہیں ہے؟

4.       ان مسلم ترقی پسندوں کو مسلم قدامت پسندی کو بچانے کے بجائے شاہ کے خیالات کو تقویت دینا چاہیے۔

طالبان کی واپسی اور چند ہندوستانی مسلمانوں کے جشن منانے کے تناظر میں، نصیر الدین شاہ نے ایک ناراضگی بھرا ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں انہوں نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو اسلام پسندوں کی آمد کو دیکھ کر خوش ہیں۔ اس بات سے آگاہ کرتے ہوئے کہ جب طالبان نے پہلی بار اقتدار سنبھالا تھا تو انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا تھا، شاہ نے انہیں حیوان اور وحشی قرار دیا۔ ان کا سوال تھا کہ کیا مسلمانوں کو جدیدیت کی طرف بڑھنا چاہیے یا قرون وسطیٰ کی اس ذہنیت کی طرف لوٹنا چاہیے۔ یہ ویڈیو مختصر اور دلچسپ ہے۔ اس ویڈیو نے اپنا اثر دکھایا اور یہ اس حقیقت سے واضح ہے کہ اس نے ہندو قدامت پسندوں اور طالبان کے مسلم ہمدردوں دونوں کو مشتعل کر دیا ہے۔

شاہ نے ہندوستانی اسلام اور اسلام کی دیگر اقسام کے درمیان فرق کیا اور یہ کہا کہ ہندوستانی اسلام روادار ہے اور تکثیریت کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پر خوشیاں منانے والے اس فرق کو نہیں سمجھتے ہیں۔ ہندو قدامت پسندوں نے اس فرق کا استعمال یہ بتانے کے لئے کیا کہ کس طرح ہندوستانی اسلام 'لاکھوں ہندوؤں' کے قتل ، 'ان کے ثقافتی ورثے کی تباہی' اور 'ان کی شناخت کو مٹانے' کے لیے استعمال کیا گیا۔ تاہم، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ اس بات کو بھول گئے کہ کس طرح اس قسم کی ’’وحشیانہ حکمرانی‘‘ کے طویل دور کے باوجود ہندو اس ملک میں 85 فیصد کی اکثریت پر مشتمل ہیں۔ ہندو قدامت پسندوں کی بات کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام بنیادی طور پر ہر جگہ ایک جیسا ہی ہے۔ اور یہ کہ یہ پرتشدد مذہب ہے اور اس کی اصل بنیاد اسلامی بالادستی ہے۔ اس نقطہ نظر کا تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ اسلام ہمیشہ مقامی ثقافتوں اور ریتی رواجوں کے ساتھ  جڑا رہا ہے لہٰذا صرف ایک نوعیت کے اسلام کی بات کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن ہندو قدامت پسندوں کا ایک ایجنڈا ہے اور اسلام کو ایک ناقابل تبدیل وحدت پسند اور وحشیانہ مسلک کے طور پیش کرنا ان کے لئے فائدہ مند ہے۔

شاہ کے پیغام پر مسلمانوں کو کیا اعتراض ہے؟ شاہ پر اعتراض کرنے والوں میں صرف طالبان کی واپسی کا جشن منانے والے ہی مسلمان نہیں ہیں بلکہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود کو کمیونٹی کے اندر جدیدیت پسند اور ترقی پسند آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دو طرح کے اعتراضات انہوں نے اٹھائے ہیں۔

نصیر الدین شاہ

------

ان کا کہنا ہے کہ شاہ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں نے طالبان کی واپسی کا جشن منایا جو کہ حقیقت میں غلط ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف چند ہندوستانی مسلمانوں نے ہی طالبان کی واپسی کا خیرمقدم کیا اور اس کی وجہ سے پوری مسلم کمیونٹی کو اس کا مورد الزام ٹھہرانا واضح طور پر غلط ہے۔ اس دلیل میں کچھ وزن ہو سکتا ہے لیکن یہ طے کرنے کا پیمانہ کیا ہے کہ یہ جشن صرف مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے طبقے نے منایا ہے؟ اس کے جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی سروے نہیں کیا گیا ہے۔ شاید اسے سمجھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ طالبان کی واپسی پر بڑی مسلم تنظیموں نے کیا موقف اختیار کیا تھا۔ جیسا کہ میں اس سے قبل بھی لکھ چکا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ دیوبندیوں، بریلویوں اور اہلحدیثوں کی مختلف تنظیموں نے اس کی کھل کر مذمت نہیں کی بلکہ یہ کہ ماضی میں (اور کچھ حال میں بھی) وہ ہمیشہ طالبانی نقطہ نظر سے قریب رہے ہیں۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایک میانہ ذہن بریلوی، دیوبندیوں سے اپنے اختلافات کے باوجود، طالبانی شریعت یا اسلامی ریاست کے نظریے کی تائید نہیں کرتا؟ ان تنظیموں کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ طالبان کی مذمت کرنے سے ان کا انکار شدید تشویش ناک ہے لیکن زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ترقی پسند مسلمانوں کو اس معاملے کو واضح انداز میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

شاہ کی ویڈیوز پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو کہا ہے کہ وہ قرون وسطی کے متشدد اسلام اور ایک جدید اور ترقی پسند اسلام میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ یہاں اعتراض یہ ہے کہ شاہ نے پوری قرون وسطیٰ کی اسلامی تاریخ کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔ لوگوں کا اعتراض ہے کہ شاہ کی یہ بات کہ ہندوستانی اسلام مختلف ہے نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ قدامت پسندوں کے اس دعوے کو تقویت بھی پہنچانا ہے کہ اسلام کا یہ حال ہندو مت کے تہذیبی اور ثقافتی اثرات کی وجہ سے ہوا۔

مجھے نہیں لگتا کہ شاہ کا یہ ارادہ تھا کہ وہ پوری مسلم تاریخ کو ’وحشیانہ‘ قرار دیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اسلام نے ہندوستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے جن میں سب سے مساوات کا نظریہ ہے۔ لیکن کچھ ترقی پسند مسلمانوں (جن میں سے اکثر اونچی ذات کے اشرافیہ مسلمان ہیں اور جو اپنے غیر ملکی سلسلہ نسب پر فخر کرتے ہیں) کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ نہیں ماننا چاہتے کہ ہندو مذہب کا بھی اسلام پر کچھ مثبت اثر ہے، جس کا نتیجہ سوچ و فکر میں ایک خاص اعتدال اور تکثیریت کی قبولیت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ اسلام جو خود کو ایک کامل مذہب قرار دیتا ہے، کسی کمتر مشرکانہ مذہب سے کوئی چیز کیسے قبول کر سکتا ہے؟

ممکن ہے کہ شاہ نے اسلام کو قرون وسطی سے بھی جوڑا ہو کیونکہ ہماری پوری دینیات اور فقہ اب بھی قرون وسطی والی ہی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں کیا ہمیں قرون وسطی اور جدیدیت میں سے کسی ایک انتخاب نہیں کرنا چاہیے؟

ہندوستانی مسلمانوں کو ایک منفرد صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ ان کا ملک اب بھی سیکولر اور جمہوری ہے، اگرچہ محدود ہی سہی۔ یہی انفرادیت تھی جسکی شاہ نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس تناظر میں اگر مسلم تنظیمیں طالبان کی مذمت نہیں کرتی ہیں تو اس کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ سیکولرازم، جمہوریت اور آئین مسلمانوں کے لیے صرف الفاظ ہیں جن کی اہمیت ان کے لئے صرف اپنے فرقہ وارانہ مفادات کے تحفظ کے وقت ہی ہوتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ کچھ ترقی پسند مسلمان اس معمہ کو سمجھ سکتے ہیں لیکن پھر بھی اس رجحان سے متنبہ نہیں ہونا چاہتے ہیں۔

جزوی طور پر 'ترقی پسند' مسلمان یہ اس لیے کر رہے کہ وہ مسلمانوں کو ہندو قدامت پسندوں کے اسلامو فوبیا سے بچانا چاہتے ہیں۔ طالبان کی واپسی کا نہ صرف مسلمانوں کے ایک طبقے نے، بلکہ قدامت پسند ہندوؤں نے بھی استقبال کیا جنہوں نے اس موقع کو یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا کہ `اصل` اسلام کیا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو بچانے کی اس خواہش کا صرف ایک اثر ہوا ہے اور وہ مذہبی قدامت پسندی اور ممکنہ اصلاحات کے مسائل پر ہر گفتگو کا دروازہ بند کرنا ہے۔ اسلامو فوبیا سے لڑنے کے نام پر ترقی پسند مسلمان قدامت پسندوں کے ساتھ کیوں کھڑے ہو رہے ہیں؟ اگر کوئی یہ مانتا ہے کہ شاہ کے لیے اپنے خدشات کا اظہار کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے، کیونکہ قدامت پسند ہندو اس موقع کا غلط استعمال کریںگے، تو پھر شاید شاہ جیسے لوگوں کو کبھی نہیں بولنا چاہیے۔

یہ ترقی پسند مسلمان کوئی نئی بات نہیں کر رہے ہیں۔ وہ صرف قدامت پسندوں کی انہی پرانی باتوں کو دہرا رہے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں لا علم ہونے کی وجہ سے کبھی بھی ایسے سوالات میں پڑے ہیں نہیں۔ آج کی اس پیچیدہ دنیا میں کبھی بھی درست سیاق و سباق نہیں ہوتا ہے اور کسی بھی تناظر میں اگر کوئی کچھ لکھتا ہے یا کہتا ہے تو اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہندو قدامت پسندوں کے عروج کے تناظر میں مسلمانوں کو طالبان کی مذمت کرنے سے نہیں رکنا چاہیے۔ اور نہ ہی انہیں ان لوگ تنقید کرنے سے رکنا چاہیے جو طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب ہمیں شاہ جیسے باہمت لوگوں کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ایسا کرنے میں کسی بھی قسم کی ناکامی صرف مسلم کمیونٹی کے اندر مذہبی قدامت پسندی کو مضبوط کرے گی۔

English Article: Why ‘Progressive’ Muslims are wrong in Condemning Naseeruddin Shah’s Anti-Taliban Video

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/progressive-muslims-naseeruddin-anti-taliban/d/125326

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..