New Age Islam
Mon Jan 17 2022, 03:30 AM

Urdu Section ( 20 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Parveen Shakir: A Brief Life Sketch پروین شاکر: ایک مختصر سوانح عمری

پروفیسر مکھن لال

21 دسمبر 2021

پروین شاکر کا شمار اردو زبان و ادب کے معزز پاکستانی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم کی ایک نئی صنف کو جنم دیا جو اس سے پہلے کبھی مستعمل نہ ہوئے ۔ پروین نے دلکش الفاظ سے بھری غزلیں اور نظمیں لکھیں جنہوں نے سب کو مسحور کر دیا اور روحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پروین ان صف اول کی خواتین مصنفین میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقات میں لڑکی، لڑکا اور لاڈلی جیسے الفاظ استعمال کیے جو کہ غزلوں اور نظموں میں شاذ و نادر ہی استعمال ہوئے۔

پروین شاکرنے بہت چھوٹی عمر سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے روایتی غزلوں کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی لکھیں۔ ان کی تحریریں کثیر جہتی ہیں اور مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، لیکن پروین کی شاعری میں سب سے نمایاں موضوعات محبت، پیار، حقوق نسواں اور سماجی رسوم و رواج، روایات، جنسی امتیاز اور خواتین کی تذلیل ہیں۔ تاہم پروین شاکر کی نسوانی اخلاقیات شاعرانہ مہارت سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان کی فکر اور خدشات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ، شہری متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان روایت اور جدیدیت کے درمیان نظریاتی ہم آہنگ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پروین شاکر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’فلسفہ محبت میری شاعری کی بنیاد ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ خدا، کائنات اور انسانوں کے سہ جہتی ربط باہم پر غور کرتی اور سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

پروین شاکر کی شاعری کو خوب سراہا گیا اور ان کی بے وقت موت کے بعد اب ان کا شمار اردو ادب کی بہترین اور ممتاز شاعروں میں ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاکر نے اردو شاعری کو سب سے خوبصورت نسوانی لمس دیا ہے۔ اپنی پہلی کتاب ‘‘خوشبو’’ لکھتے وقت وہ صرف ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکی تھیں اور نسبتاً ان کا دائرہ کار محدود تھا۔ ان کی بعد کی کتابیں ان کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں مثلا ان کی جدوجہد، جیسا کہ اکثر پاکستان میں بہت سی خواتین کو ایسے مسائل کا سامنا ہوتا رہتا ہے، نیز ایک غیر مساوی/بے جوڑ شادی، کم عمری میں ماں بننا، سسرال، کام اور خاندانی زندگی کا توازن، اور آخرکار طلاق۔ شاکر کا خیال تھا کہ انہیں ان کے اپنے گھر والوں نے، ان کے سسرال والوں نے اور خود شادی کے رشتے میں بھی انہیں صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا۔ خاص طور پر اردو ادب، غزل اور نظم سے ان کے شوق کو لوگ سمجھ نہ سکے۔ درحقیقت، ایک باصلاحیت شاعر اور ایک شاندار سرکاری ملازم کے طور پر ان کا نام اور ان کی شہرت بھی انہیں ہر جگہ پدر سری نظام، سماجی دقیانوسی تصورات اور فرسودہ رسوم و رواج کا شکار ہونے سے نہیں بچا سکی۔ صدبرگ کے دیباچے میں پروین لکھتی ہیں:

میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ہوئی جہاں سوچ واقعی فکر کی صلاحیت رکھنا جرم ہے۔ لیکن سماج سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے مجھے پیدا ہوتے ہی زمین میں دفن نہیں کیا (اور اب ان کے لیے مجھے دیوار میں چنوا دینا اتنا آسان نہیں ہے!)…. لیکن وہ اپنی غلطی سے غافل نہیں، اس لیے اب میں یہاں ہوں اور اپنی مجبوری کے اس اندھے کنویں کے گرد چکر لگاتے ہوئے میرے پاؤں شل ہو گئے اور آنکھوں میں پانی--- کیونکہ دوسری لڑکیوں کی طرح میں نے سر سے پاؤں تک برقعہ پہننے سے انکار کر دیا تھا! اور انکار کرنے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا!

ہر انکار کے ساتھ ایک اور کیل میرے جسم میں چبھوئی جاتی رہی۔ لیکن جنہوں نے میرے جسم میں کیل ٹھونکے انہوں نے میری آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔ شاید وہ جانتے تھے کہ انہیں گل کرنے سے دل کی روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا یا شاید انہیں اپنے اعمال سے لطف اندوز ہونے کے لیے کسی گونگے اور بہرے گواہ کی ضرورت تھی۔ میں حیران ہوں کہ ایسا گواہی ابھی تک میری نگاہوں سے کیوں نہیں گزرا!

شاکر کی شخصیت کئی معنوں میں غیر معمولی تھی۔ غزل اور نظم پر ان کا اختیار اپنے زمانے کے کسی نامور شاعر سے کم نہیں تھا۔ حالانکہ وہ عمر میں بہت چھوٹی تھی۔ بہت سے لوگوں نے انہیں ادبی حلقوں میں اور باہر بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ اس کے باوجود وہ لکھتی رہیں اور شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوتی رہیں۔ انہیں معروف ادبی شخصیات اور عظیم شاعروں کی توجہات ملیں اور تعریف بھی ہوئی۔ وہ درحقیقت عام لوگوں کی عزیز تھیں۔ سی ایم نعیم، فیض احمد فیض، احمد ندیم کاظمی، ضیاء محی الدین، منیر نیازی، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، امجد اسلام امجد اور احمد فراز جیسے عظیم ادبی ہستیوں اور شاعروں نے پروین شاکر کی ادبی خدمات اور اسلوب کی تعریف کی۔ غلام علی، عابدہ پروین، تصوّر خانم، طاہرہ سید، ٹینا ثانی جیسے غزل کاروں اور خود گلوکاری کی دنیا کے بادشاہ مہدی حسن نے بھی پروین کی غزلوں کو گلے لگایا اور ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی۔ دنیا بھر کے مشاعروں میں اپنی شاندار پیشکش کے علاوہ، انہوں نے ٹیلی ویژن پر کئی مواقع پر انٹرویو دیے اور اردو ادب کی عظیم ہستیوں کے ساتھ پروگرام اور مباحثے کیے تھے۔

 **********

 پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ سید شاکر حسین اور افضل النسا کی دوسری بیٹی تھیں۔ ان کے والد بہار کے رہنے والے تھے اور 1945 میں تقسیم ہند سے دو سال پہلے نوکری کی تلاش میں کراچی چلے گئے تھے۔ ان کی والدہ کا تعلق پٹنہ، انڈیا سے تھا اور شاکر حسین سے شادی کے بعد ان کی والدہ بھی کراچی چلی گئیں۔ ان کے والد، سید شاکر حسین، پاکستان کے ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کے محکمے میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔ ان کا خاندان رضویہ کالونی میں رہتا تھا، جو کہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں شہر کی طرف ہجرت کرنے والے بے گھر افراد کی باز آبادکاری کے لیے بنائی گئی نئی بستیوں میں سے ایک تھی۔ پروین شاکر کی والدہ بتاتی ہیں کہ جب وہ بچی تھیں تو کافی حساس اور ضدی تھیں۔ پروین بہت ضدی تھی اور اپنے والدین کی بہت پیاری بھی، اسی لیے وہ ہمیشہ ہر بات میں اپنی بات رکھتی تھیں۔ پروین شاکر گھریلو کاموں سے لاتعلق اور بڑی حد تک اس میں نااہل تھیں لیکن پڑھائی اور فکری کاموں میں ہمیشہ بہت آگے رہتی تھیں۔ پروین شاکر کے بارے میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں ان کی شخصیت، ان کی آزاد اور پرجوش فطرت کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں؛ حساسیت اور ضد ان کی تحریروں میں اس وقت صاف نظر آتی ہے جب وہ عورت کے نقطہ نظر سے محبت، رومانس، دماغ اور جسم کی خواہشات کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں۔ جس عمر، تناظر اور وقت میں وہ لکھ رہیں تھیں اس کے پیش نظر، شاکر کی تحریریں دراصل خواتین کے بارے میں قوانین اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتی ہیں اور یہاں تک کہ ان کی تحریروں نے سماجی نظام اور ثقافتی روایات اور معتقدات کو بھی متاثر کیا ہے۔

رضویہ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد، انہوں نے 1968 میں سر سید گرلز کالج میں داخلہ لیا اور 1971 میں بیچلر ڈگری آف آرٹس کے ساتھ گریجویشن کی۔ اس کے بعد شاکر نے کراچی یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ کے طور پر داخلہ لیا اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور 1972 میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور عبداللہ گرلز کالج میں بطور لیکچرار کام کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران شاکر نے روزنامہ جنگ کے لیے گوشہ چشم کے نام سے کالم بھی لکھنا شروع کیا۔ 1980 میں، شادی کے تین سال بعد، انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی لسانیات میں دوسری ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

آہستہ آہستہ شاکر کو تعلیم و تعلم سے اکتاہٹ ہونے لگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طلباء انگریزی سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ پروین شاکر کہتی ہیں کہ کلاس میں پڑھاتے ہوئے کبھی کبھی انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دیواروں سے باتیں کر رہی ہوں۔ انہوں نے اس صورتحال سے جان چھڑانے کا سوچا۔ 1981 میں، شاکر نے پاکستان کی سول سینئر سروس (ہندوستان میں سی ایس ایس کے مساوی) کا امتحان دیا اور کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ میں دوسرے نمبر پر آئیں۔ بحیثیت شاعرہ پروین شاکر کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتی ہے کہ جب وہ 1981 میں سول سروس کے امتحان میں شامل ہوئیں تو امتحان میں ایک سوال ان کی اپنی غزلوں اور نظموں پر تھا۔ 1983 میں انہیں کسٹمز اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں تربیت جاری رکھنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ تاہم، شاکر نے سول سروس کے امتحانات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور وہ فارن سروس میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پاکستان کے اس وقت کے مارشل لا ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے خواتین کو فارن سروس میں کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ پروین شاکر کو ہمیشہ اس کا دکھ رہا۔ بعد ازاں پاکستان ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بہت بھاری دل اور مایوسی سے بھرے لہجے میں کہا:

"میں فارن سروس میں جانا چاہتی تھی اور سلیکٹ بھی ہو گئی تھی۔ یہ میری پہلی پسند تھی اور میں نے اسے حاصل بھی کر لیا، لیکن وہ دور ٹھیک نہیں تھا۔ 1983 میں ہم پر حکمرانی کرنے والے جنرل صاحب نے آرڈیننس جاری کیا کہ خواتین کی پوسٹنگ ملک سے باہر ہرگز نہیں ہوں گی… میں خاتون تھی، یہ میرا جرم تھا جسے وہ معاف نہیں کرسکتے تھے، مجھے اپنی دوسری پسند کسٹمز پر آنا پڑا۔

پروین شاکر میں تعلیم حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے کی تڑپ ایسی تھی کہ سی ایس ایس میں شمولیت کے بعد بھی اس نے اسے زندہ رکھا۔ 1991 میں، انہیں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروگرام میں حصہ لینے کے لیے فلبرائٹ اسکالرشپ سے نوازا گیا۔ فلبرائٹ اسکالرشپ کے دوران انہوں نے ہرٹ فورڈ کنسرٹیم فار ہائر ایجوکیشن کے ذریعے ٹرینیٹی کالج میں جنوبی ایشیائی ادب پڑھایا۔ سینٹ جوزف کالج میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیاست اور ثقافت پر الگ الگ کورسز۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں پروین شاکر نے غیر تعلیمی سرگرمیوں کے اخبار ’ہارورڈ نیوز اینڈ ویوز‘ کی سب ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں پاکستان واپسی پر انہیں کسٹمز اور کسٹمز انسپکشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

 *********

جب شاکر سرسید کالج میں طالب علم تھیں تو ان کی ایک استاد عرفانہ عزیز نے انہیں غزل اور نظم لکھنے کی ترغیب دی۔ عزیز نے انہیں پاکستان کے یوم دفاع (6 ستمبر 1967) کے موقع پر ایک غزل لکھنے کو کہا۔ وہ ابھی 15 سال کی نہیں ہوئی تھی۔ شاکر نے 'سبحِ وطن' (قوم کی صبح) کے نام سے ایک غزل لکھی اور اس کے لیے انھیں پہلا انعام دیا گیا۔ عرفانہ عزیز نے اصلاح (اصلاحات، تجاویز اور تصحیحات) کی پیشکش کی اور انہیں نظم اور غزل نویسی کے فن سے بھی متعارف کرایا۔ عرفانہ عزیز نے پروین کو ایک بہتر شاعر بننے میں مدد کی۔ چند سالوں کے بعد شاکر احمد ندیم قاسمی (1916-2006) سے رابطے میں آئیں اور انہیں اپنا سرپرست بنا لیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ احمد ندیم قاسمی اردو ادب کے میدان میں اپنے زمانے کے بزرگ مانے جاتے تھے۔ ان کا شمار ایک عظیم شاعر، کہانی نویس، ناول نگار اور واقعی افسانوی مدیر کے طور پر کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی معتبر رسالوں کی ایڈیٹنگ کی۔ قاسمی ان کے سچے مربی بن گئے اور شاکر نے قاسمی کو باپ کی حیثیت سے دیکھا اور پیار سے انہیں "اممو" کہا کرتی تھیں اور اپنی پہلی کتاب بھی انہیں سے ہی منسوب  ۔ ان کی سب سے پہلی اور طویل نظم بھی ان کے لیے وقف ہے۔

پروین شاکر ایک پڑھی لکھی، آزاد اور مالی طور پر خود مختار انسان تھیں جو کسی کی ماتحتی قبول نہیں کرسکتی تھیں۔ وہ سماجی دقیانوسی تصورات، روایات اور ناہمواریوں سے بھی پریشان تھی۔ انہوں نے ہمیشہ رسم و رواج اور روایات کے ساتھ معاشرے میں خواتین کی سماجی اور معاشی حیثیت کے حوالے سے واضح موقف اختیار کیا۔ نتیجۃ ایک قدامت پسند معاشرے میں ان کی ذاتی زندگی انتشار سے بھری ہوئی تھی۔ اگر ہم ان کی ذاتی زندگی کے سفر کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی نظموں اور غزلوں کو اس ترتیب سے پڑھا جائے جس میں ان کے مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ جب کوئی شاکر کی پانچ جلدوں پر مشتمل شاعری کو پڑھتا ہے تو ان کی شاعری کے زیادہ تر حصے میں موجود آپ بیتی کے لہجے سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کتابوں میں نظمیں تقریباً ترتیب وار پیش کی گئی ہیں۔ لہٰذا ان میں ایک "لڑکی" کو "عاشق"، "بیوی"، "ماں" اور ایک "کام کرنے والی عورت" بنتا ہوا دیکھ سکتا ہے جو اس دشمن دنیا کا سامنا کر رہی ہے۔ شاکر نے ازدواجی محبت میں ہونے والے متعدد تجربات جنسی قربت، حمل، ولادت، بے وفائی، علیحدگی اور طلاق پر پر لکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، جسے اردو ادب میں آج تک کسی مرد شاعر نے نہیں لکھا۔

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایک بہت ہی ذاتی لمحات میں (جس کا ذکر شاکر کے انتہائی قریبی دوست رفاقت جاوید نے اپنی کتاب ’’پروین شاکر جیسا میں نے جانا‘‘ میں بھی کیا ہے)، شاکر نے بہت گھٹی ہوئی آواز میں کہا، ’’زندگی نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔ آخر انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ہمیں جاننا چاہیے۔

ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی پروین شاکر کو وہ سب کچھ وراثت میں ملا جو معاشرے کے اس طبقے کا حصہ ہے۔ والدین کی محبت، لکھنے پڑھنے، کیرئیر بنانے کی آزادی کے ساتھ سماجی دقیانوسی تصورات اور بندھن بھی ان کے حصے میں آئے۔ بیس سال کی عمر میں شاکر نے اردو غزل اور نظم کی دنیا میں کافی شہرت حاصل کر لی تھی۔ مشاعروں میں انہیں باقاعدگی سے بلایا جانے لگا تھا۔ جب وہ جوانی کی طرف بڑھیں تو جذبات کی لہر بھی اس کے پیچھے آئی۔ طالب علمی کی زندگی میں ان کی پہلی محبت ان کی سینئر کلاس میں پڑھنے والے ایک لمبے اور خوبصورت لڑکے سے تھی۔ لیکن کچھ عرصے بعد اسے ایک سرکاری اہلکار سے پیار ہو گیا اور وہی شخص شاکر کی پہلی کتاب خوشبو کے پیچھے محرک تھا۔ شاکر اس شخص کی محبت میں وارفتہ تھیں ۔ وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھیں ۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اگرچہ دونوں کا تعلق مسلم مذہب سے تھا لیکن ان کے فرقے مختلف تھے۔ شاکر شیعہ تھی اور وہ سنی۔ ان کی سماجی حیثیت بھی ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ اس سارے صدمے میں پروین شاکر کا دکھ اور درد نہ صرف ان کی پہلی کتاب خوشبو کی نظموں میں نظر آتا ہے بلکہ "خوشبو" کے تعارف "دریچہ گل" میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پروین لکھتی ہیں:

 "تیزی سے گزرتے ہوئے لمحوں کی دہلیز پر، ہوا کے بازوؤں کو تھامے ہوئے، ایک لڑکی کھڑی ہے اور حیران ہے: وہ تمہیں کیا بتائے؟ برسوں پہلے کسی رات کے خاموش لمحات میں اس نے خدا سے دعا کی تھی کہ وہ اس کے اندر کی لڑکی کو ظاہر کرے۔ مجھے یقین ہے کہ خدا اس دعا کی سادگی پر کم از کم ایک بار ضرور مسکرایا ہوگا (کم عمر کی لڑکیاں نہیں جانتیں کہ زمین پر رہنے والوں پر خود شناسی سے بڑی کوئی آفت نہیں آتی) لیکن اس نے اس کی درخواست منظور کر لی۔ اور اس طرح اس عمر میں جب دوسرے چاند کی خواہش کرتے ہیں، اسے جادوئی دنیا ملی جو اسے خود کے ہزار دروازے والے شہر میں جانے لے جائے گی۔

پروین شاکر کی پہلی کتاب خوشبو کو خالص محبت کی کتاب اور محبت سے جڑے تمام رنگوں کی نظموں کا مجموعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ خوشبو نہ صرف محبت، عدم دلچسپی، لاتعلقی، مایوسی، چڑچڑاپن وغیرہ کا بہت زیادہ عدم دلچسپی کے ساتھ اظہار کرتی ہے۔ انسان جسمانی خواہشات کو بھی بہت شستہ و شائستہ زبان اور انتہائی مہذب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ سب اس وقت کے اسلامی معاشرے کے لئے ایک بہت بڑی بات تھی اور وہ بھی ایک غیر شادی شدہ لڑکی کی طرف سے۔ شاکر سے پہلے ان کے پیشرو مثلا فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، اور دیگر، خواتین کی آزادی کی تحریک کے خطوط پر نظمیں اور غزلیں لکھ رہی تھی، جو کہ کیٹ ملیٹ اور مغرب میں میں ان جیسی ہستیوں سے متاثر تھیں۔ انہوں نے شاکر سے بھی اسی طرح لکھوانے کی کوشش کی لیکن شاکر نے نہایت شائستگی سے انکار کر دیا (ملاحظہ کریں نظم، مسالہ اور تنقید اور تعلیق)۔ ایک بار جب ان سے خواتین کی آزادی کی تحریک کے تناظر میں ان کے خیالات اور ان کی مخصوص نظموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ "ہاں یہ سب ایک ہی راستے پر ہیں لیکن عسکریت پسندوں کے نہیں"۔ پروین شاکر نے خواتین کے حقوق اور آزادی کی بات کی لیکن ہمیشہ مہذب طریقے سے متعین سماجی حدود کے اندر رہ کر۔ شاکر نے کبھی فہمیدہ ریاض، کشور ناہید وغیرہ کی زبان نہیں اختیار کی۔

پروین شاکر کا نظموں اور غزلوں کا پہلا مجموعہ خوشبو 1977 میں شائع ہوا تھا۔ یہ فورا سنسنی خیز بن گیا اور اسے بہت زیادہ تنقیدی پذیرائی اور عوامی محبت ملی۔ کتاب کی دوسری اشاعت پہلی اشاعت کے چھ مہینوں کے اندر سامنے آ گئی۔ شاکر کو اس کے لیے باوقار آدم جی لٹریری ایوارڈ ملا۔ خوشبو میں وہ ایک نوجوان پرجوش لڑکی ہیں جس کے پاس بہت زیادہ جمالیاتی احساس ہے اور خوبصورتی کے لیے آنکھیں بھی ہیں۔ وہ اپنی نسوانیت سے پوری طرح محبت کرتی ہے اور اسے کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کرتی۔ وہ اپنے آپ سے کہتی ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کی معصومیت اور احساسات ظاہر کرنے اور جاننے کے قابل ہیں۔ پروین شاکر کا اردو شاعری میں سب سے بڑا تعاون یہ ہے انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ ایک عورت مرد سے کس طرح دل و جان سے پیار کرتی ہے۔ اس سے پہلے کسی اور شاعر نے اتنی گہرائی سے اظہار نہیں کیا تھا اور وہ ایک مرد کے لیے اپنے جذبات کے ساتھ کافی راحت بخش تھیں۔ لیکن جذبات نے کبھی محبت کی لکیریں عبور نہیں کی اور ہوس میں نہیں پڑے۔ متانت و سنجیدگی کی چادر میں لپٹی ہوئی ایک معصوم جنسیت ہو سکتی ہے! خوشبو کے رومانوی اور فرحت بخش سفر کے دوران ایک ہلکی سے اداسی بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ محبت میں مایوس ہو جاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے جذبات پورے نہیں ہوئے ہیں اور وہ محبت کے پورے معاملے پر حیران ہے گو کہ اسے واضح طور پر نہیں معلوم کہ کس پر الزام لگایا جائے۔

اس کے خوابوں کی دنیا آہستہ آہستہ بکھر رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ شخصیت اور سماجی حیثیت کا فرق ان کے تعلقات میں بڑا اثر ڈال رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر تو اختلاف اور دکھ تھا۔ یہیں سے حقیقی شاعرہ پیدا ہوتی ہے۔ خوشبو ایک خوبصورت محبت کی کہانی ہے جو شاعری میں لکھی گئی ہے اور نرم جذبات سے بھری ہوئی ہے۔ پروین شاکر نے ہمیشہ محبت کے حوالے سے بہت واضح موقف اختیار کیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں جب شاکر سے پوچھا گیا کہ کیا شاعری کرنے کے لیے محبت کی ضرورت ہے؟ تو ان کا جواب تھا:

جب کوئی شخص جان لیتا ہے کہ کسی سے محبت کرنا اور کسی سے پیار کرنا کتنا ضروری ہے تو وہ شخص مہذب ہو جاتا ہے۔ محبت صبر سکھاتی ہے اور انسان کو برداشت کرنے کی طاقت دیتی ہے اور انسان کو کامل بناتی ہے... جب وجود کو محبت کے لیے وجدان ملا تو شاعری نے جنم لیا۔

اس سب کے دوران شاکر اپنے محبوب سے شادی نہ ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔ ان کے بھتیجے ڈاکٹر نصیر علی ان کا علاج اور دیکھ بھال کرتے تھے۔ وہ رشتے میں شاکر کے بھتیجے تھے اور بھتیجے کے بہن بھائیوں کے درمیان شادی اسلام میں عام ہے۔ ستمبر 1976 میں ان کی شادی ہوئی۔ پروین شاکر کی عمر اس وقت چوبیس سال تھی اور اس وقت تک وہ اردو ادب کی دنیا میں ایک بہت ہی معروف شخصیت بن چکی تھیں۔ ان کی شادی میں شروع ہی سے پریشانی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ شاکر کی ساس اور خاندان کے دیگر افراد چاہتے تھے کہ شاکر گھر میں رہے اور خاندان کی دیکھ بھال کرے۔ شادی کے تقریباً تین سال بعد 20 نومبر 1979 کو پروین شاکر نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کا نام انہوں نے سید مراد علی رکھا۔ وہ اپنے بیٹے کو پیار سے 'گیتو' پکارا کرتی تھیں اور اپنی تیسری کتاب خدکلامی کو اسی سے منسوب بھی کیا تھا۔ پروین شاکر کو ہمیشہ سے یہ گہرا صدمہ رہا کہ ناصر علی شاکر ان سے  ملنے اور اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھنے بیٹے کی پیدائش کے تیسرے دن گئے تھے ۔ یہ کسی بھی بیوی اور پہلی بار ماں بننے والی عورت کے لیے یقیناً بہت افسوسناک اور تکلیف دہ بات ہے۔

خوشبو کی حساس لڑکی وقت کے ساتھ ساتھ کافی سمجھدار ہو چکی تھی اور ایک مضبوط عورت بن چکی تھی۔ اس کے لیے محبت اور احساسات ہی اب اس دنیا میں سب کچھ نہیں ہیں۔ اس نے کافی شہرت حاصل کی اور تنقید، حسد، افواہوں اور بدنیتی پر مبنی مہم کا شکار ہو چکی تھی، اور معاشرے کی منافقت کو کافی گہرائی کے ساتھ محسوس بھی کیا تھا۔ اسے جائے ملازمت پر ہراساں کیا گیا جس سے حقوق نسواں میں ان کے یقین کو تقویت ملی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب وہ ایک شادی شدہ عورت تھی۔ خوشبو کی شرمیلی لڑکی ایک پراعتماد شادی شدہ عورت بن چکی تھی جو جنسی اور ازدواجی خوشیوں پر کھل کر لکھتی ہے۔ بعد ازاں ’’صدبرگ‘‘ کی نظمیں اور غزلیں اس بات کا شدید احساس دلاتی ہیں کہ غم اور ماتم کے سائے اس کی خوشیوں کو چھین رہے ہیں۔ خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ اور دکھ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔

بکھری ہوئی ازدواجی زندگی ’’صدبرگ‘‘ کے کردار میں نظر آتی ہے۔ پروین خود "صدبرگ" کے کردار میں لکھتی ہیں (جو 1980 میں شائع ہوا):

جب زندگی میں جشن کا وقت آیا تو نہ صرف یہ کہ سینڈریلا کے جوتے غائب تھے، بلکہ نہ وہ خواب تھے، نہ وہ باغ بہار اور نہ ہی وہ شہزادی۔ رنگوں کی تمام پریاں اپنے اداس ملکوں کو روانہ ہو چکی تھیں۔ خون آلود ہتھیلیوں کے ساتھ شہزادی اپنی آنکھیں رگڑتی ہوئی جنگل میں اکیلی رہ گئی — اور جنگل میں شام کبھی اکیلی نہیں آتی! بھیڑیے اس کے بہترین دوست ہیں! شہزادی کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے، اسے ایک ہزار راتوں کی کہانی سنانی پڑتی ہے….اور اس طرح صرف 27 راتیں گزری ہیں۔

 مادرزاد  جھوٹوں کی بستی میں زندگی جینے کا اور کوئی ہنر نہیں اور ہوا سے بڑھ کر اور  کوئی جھوٹا کیا ہوگا کہ جو صبح  سویرے پھولوں کو چوم کر جگاتی بھی ہے اور شام ڈھلے اپنے لالچی ناخنوں سے اس کی پنکھڑیاں بھی نوچ لیتی ہے ۔کھلنے کی قیمت میں جان چکانے کا نقصان ویسے کوئی بات نہیں ، مگر یہ پنکھڑی پنکھڑی ہوکر در بدر پھرنا یقینا دکھ دیتا ہے ۔ہوا کا کوئی گھر نہیں سو وہ کسی کے سر پر چھت نہیں دیکھ سکتی۔ 

"صدبرگ" کی غزلیں اور نظمیں بتاتی ہیں کہ وہ شاکر کی زندگی کے خوشگوار ترین دور نہیں تھے اور ہر طرف مایوسی اور اداسی کا ماحول تھا۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد ایک امید پیدا ہوئی کہ ڈاکٹر ناصر اور شاکر کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ لیکن افسوس! یہ بھی نہ ہو سکا۔ شاکر کی کوششوں کے باوجود اس کی ازدواجی زندگی برسوں تک خراب ہوتی رہی۔ در اصل پروین شاکر اور ڈاکٹر نصیر علی دو مختلف دنیا کے لوگ تھے۔ زندگی کے بارے میں دونوں کے خیالات  مختلف تھے۔ ایسے میں انہوں نے الگ ہونا ہی مناسب سمجھا اور 1987 میں باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ پروین شاکر کو اپنے بیٹے مراد سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ مراد کے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ انہوں نے مراد کی پرورش کی ذمہ داری ڈاکٹر نصیر سے بغیر کسی شرط کے لے لی اور طلاق میں جو شرط رکھی گئی تھی اسے بھی تسلیم کر لیا کہ اگر پروین شاکر نے کسی اور شخص سے شادی کی تو بیٹا مراد ان سے لے کر والد کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ ڈاکٹر نصیر نے طلاق کے ایک سال کے اندر ہی دوسری شادی کر لی لیکن پروین شاکر اپنی پوری زندگی دوبارہ شادی نہیں کی۔ بیٹا مراد ان کی زندگی کا اتنا اہم حصہ تھا کہ اس کا اندازہ شاکر کی اپنے بیٹے کے لیے لکھی گئی متعدد نظموں سے لگایا جا سکتا ہے۔

شاکر ایک طرف جہاں روزمرہ کی زندگی میں سخت پریشانیوں سے گزر رہی تھی وہیں ان کا تیسرا مجموعہ خدکلامی منظر عام پر آیا جو پروین شاکر کو ایک خود مختار، آزاد، بر سرروزگار اور مضبوط خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق، رحمدل ماں کی مضبوط تصویر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے تمام دکھ اس کے بیٹے کی آنکھوں میں دھندلا گئے۔ اس کتاب میں ان کی نظمیں اور غزلیں عورت کے حمل اور ماں بننے کے احساسات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں۔ وہ اس دنیا میں ایک نئی زندگی لا کر پر بہت خوش ہے اور اپنے بچے سے ٹوٹ کر پیار کرتی ہے۔ زچگی کا درد بھی ایک نیا احساس ہے۔ اس مجموعہ کے کچھ مناظر اور غزلیں ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی جدوجہد کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ مشکل وقت میں بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی، گھریلو ذمہ داریوں اور زچگی کے درمیان بٹی ہوئی محسوس کرتی ہیں۔ ان کے اندر کے شاعر کو اپنے لیے وقت نہیں ملتا۔ کسٹم میں اپنی ملازمت کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں:

نمبر گدھ کی طرح میرا دن کھا جاتے ہیں

رات گئے مجھ سے ملنے کے لیے الفاظ آتے ہیں۔

1986 میں پروین شاکر کو فیڈرل بیورو آف ریونیو اسلام آباد میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر تعینات کیا گیا۔ وہ اپنی پیدائشی شہر کراچی کو چھوڑ کر دارالحکومت میں ایک نئی زندگی گزرنے چلی گئیں۔ ان کی شاعری کا آخری مجموعہ ’’انکار‘‘ تھا۔ یہ ان کی پوری زندگی کا عکس بن کر ابھرتا ہے۔ اب انہوں نے اپنی محبت کی شاعری کو ترک نہیں کیا بلکہ اب حکومتی خامیوں سمیت مختلف سیاسی مسائل پر کھل کر لکھنا شروع کر دیا۔

پروین شاکر نے 1970 اور 80 کی دہائی کے اوائل میں روزنامہ جنگ میں لکھا۔ وہ 1990 کی دہائی میں اخبارات میں اپنے خیالات لکھتی رہیں۔ انہوں نے اپنے کالم گوشہ چشم میں ادبی، ثقافتی اور سیاسی سے لے کر بے شمار موضوعات پر تبصرہ کیا۔ ان کالموں میں وہ حکومت پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتی تھیں۔ وقتاً فوقتاً دیگر باتوں کے علاوہ اپنے کالموں میں حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی نہایت طنزیہ انداز میں کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر، ایک مضمون میں (جو 22 مئی 1994 کو شائع ہوا) ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلے میں بینکوں میں ہونے والی بدعنوانی پر لکھے ہوئے وہ کہتی ہیں، "انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جمہوریت کی طرح دوسری چیزیں بھی حصوں میں ملتی ہیں۔" ان کے لاکھوں مداح تھے جو اس طنز کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ایک اور مضمون میں (جو اپریل 1994 میں شائع ہوا)، انہوں نے ویمن اسٹڈیز کانفرنس کی دعوت کے بارے میں لکھا۔ یہ پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی۔ اس موقع کو انہوں نے حکومت کی نا اہلی پر تبصرہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر حکومت کانفرنس منعقد کرتی تو پہلے پروگرام کا افتتاح کرنے کے لیے کسی وزیر کو تلاش کیا جاتا۔ اور تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد یہ حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے منسوخ ہو جاتا۔

پروین شاکر کی پانچویں کتاب "کف آئینہ" ہے، جسے ان کی بہن نسرین اور دوستوں نے ان کی وفات کے بعد مرتب کیا۔

شاکر نے زندگی بھر شاعری جاری رکھی اور مختلف ایوارڈز اور اعزازات حاصل کیے۔ انہین ان کی قابلیت اور اردو ادب میں ان کی خدمات کے لئے پہچان ملی اور اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں جو باوقار اعزازات ملے وہ اس طرح ہیں: بیسٹ پوسٹ ایوارڈ، یو ایس آئیایس، کراچی، 1970؛ آدم جی لٹریری ایوارڈ، 1978؛ گولڈ میڈل - سال کی بہترین شاعرہ، سرسید گرلز کالج، کراچی، 1979؛ علامہ اقبال ہجرہ ایوارڈ، 1985؛ ظہور نظر ایوارڈ برائے اردو نظم، ہندوستان، 1986؛ فیض احمد فیض بین الاقوامی ایوارڈ برائے شاعری، دہلی، 1989؛ پریسیڈنٹس کا پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ، پاکستان، 1991؛ شاکر کو بعد از مرگ ایوارڈز میں شامل ہیں: اے پی این ایس 12ہواں جرنلزم ایوارڈ، 1995؛ شیلڈ آف ریکگ نیشن، کراچی ویمنس امن کمیٹی، 1997؛ گولڈن ویمن آف پاکستان، لیڈیز فورم، 1997۔

26 دسمبر 1994 کی صبح پروین شاکر اپنے بیٹے مراد کے ساتھ ناشتہ کر کے دفتر کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کی کار کو ان کے گھر کے بالکل قریب فیصل چوراہے پر ایک مسافر بس نے بہت زور سے ٹکر ماری۔ کار ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ شاکر کو اسلام آباد ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بعد میں دم توڑ گئی۔ اس وقت  وہ 42 سال کی تھیں۔ پروین شاکر اپنی زندگی میں ہی کہا کرتی تھیں کہ وہ 42 سال سے زیادہ عمر نہیں جیئے گی اور یہ سچ ثابت ہوا کیونکہ وہ اپنی 42 ویں سالگرہ کے ایک ماہ بعد آخرت کے سفر پر نکل گئیں۔ ان کی سب سے اچھی دوست اور خیر خواہ اور درحقیقت ایک عظیم سرپرست محترمہ پروین قادر آغا اپنی کتاب ٹیئرڈروپس، رین ڈراپس: اے بایو گرافی آف پروین شاکر، میں لکھتی ہیں کہ "پروین کی ڈریسنگ ٹیبل میک اپ کے سامان سے بھری ہوتی تھی، لیکن ان کی موت سے 15 دن قبل ان کی میز تقریباً خالی تھی اور میک اپ تقریباً ختم ہی ہو چکا تھا۔ گویا کہ وہ سفر آخرت کے لیے تیار تھی۔

جس سڑک پر یہ حادثہ پیش آیا اس کا نام پروین شاکر کے اعزاز میں ’’پروین شاکر روڈ‘‘ رکھا گیا۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک اور ٹیلی گراف نے 2013 میں پروین شاکر کی 19 ویں برسی پر ان کے اعزاز میں 10 روپے کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔

---------

(ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ دان پروفیسر مکھن لال دہلی انسٹی ٹیوٹ آف ہیریٹیج ریسرچ اینڈ مینجمنٹ کے بانی ڈائریکٹر کی حیثیت سے دہلی منتقل ہونے سے پہلے بنارس ہندو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے پہلے چارلس والیس فیلو بھی تھے۔ حال ہی میں انہوں نے پروین شاکر کی ہندی شاعری کو دو جلدوں میں شائع کیا ہے)

English Article: Parveen Shakir: A Brief Life Sketch

Hindi Article: Parveen Shakir: A Brief Life Sketch परवीन शाकिर: एक संक्षिप्त जीवनी

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/parveen-shakir-makkhan-lal/d/126001

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..