New Age Islam
Mon May 23 2022, 09:12 AM

Urdu Section ( 2 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Myth of Quranic Preservation حفاظت قرآن کا افسانہ

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

30 نومبر 2021

یہ دلچسپ بات ہے کہ اوائل مسلمانوں نے قرآن کو ایک کتابی شکل میں مرتب کرنے کا ارادہ کیوں نہیں کیا؟

اہم نکات:

1. مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے اس لیے اسے کبھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا

2. خود اسلامی روایت میں درج ہے کہ آیات رجم جیسی بعض آیتیں قرآن میں تھیں ہی نہیں

3. ابتدائی اسلامی تاریخ میں قرآن کو محفوظ کرنے اور اسے مرتب کرنے کی کوئی منظم کوشش نہیں پائی جاتی

4. کیا قرآن واقعی اوائل مومنین کی نظر میں اتنا ہی اہم تھا؟

 -----

تمام مذہبی کتابوں میں قرآن کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ جب کہ یہودیت اور عیسائیت اپنے مقدس صحیفوں کو اللہ تعالیٰ کی وحی مانتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔ ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اس مقدس صحیفے کا ایک لفظ بھی صدیوں سے تبدیل یا تحریف نہیں ہوا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ خدا کا وعدہ ہے کہ میں اپنی کتاب کی حفاظت خود کروں گا اس لیے متن قرآن میں کوئی بھی ردوبدل ناممکن ہے۔

اس وجہ سے اور ’تاریخ‘ کی اپنی سمجھ پر اندھی تقلید کی وجہ سے بہت سے مسلمان آج دو الگ الگ طرح کی دنیا میں رہتے ہیں۔ قرآنی افسانوں کی دنیا میں، مسلمان یہ مانتے ہیں کہ زمین مسطح ہے اور سورج، ستارے اور سیارے زمین کے گرد گھومتے ہیں، جب کہ انہیں اسکولوں میں یکسر مختلف تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی طرح، وہ تخلیقیت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ ان کی سائنس کی کلاس میں ارتقاء پسندی کا نظریہ پڑھایا جاتا ہے۔

ایسے بھی مسلمان ہیں جو صرف یہ ثابت کرنے کے لیے مضحکہ خیز حد تک چلے جائیں گے کہ قرآن کے ہر دعوے کو سائنس کی تائید حاصل ہے۔ لیکن اکثر مسلمان ان دو الگ الگ دنیاؤں میں رہتے ہیں، اور ان دونوں کے درمیان تضاد کو دور کرنے سے قاصر ہیں۔ چونکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، اس لیے وہ اس کلام کے کسی بھی دعوے پر سوال نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ایسا کرنے کے لئے انہیں اپنے مذہبی عقیدے سے سمجھوتہ کرنا ہوگا جس کے لئے ہر مسلمان تیار نہیں ہے۔ اس طرح کے متضاد نقطہ نظر کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ جب بات ان معاملات کی ہو جن میں قرآن کے بعض اصولوں پر سوال اٹھانا ضروری ہو جائے تو اچھے ذہن کے لوگ بھی اپنی فطری دانشمندی سے دستبردار ہو جائیں گے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ سائنسی تحقیق کے معاملے میں مسلم ممالک پسماندہ ہیں۔

اس سلسلے میں ہونے والی بحثوں میں اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ زبان، سائنسی دعووں اور تاریخی دعووں کے لحاظ سے قرآن کو غیر معمولی کلام نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بنیادی سطح پر اگر ہم صرف قرآن کی تدوین کی کہانی کو دیکھیں تو یہ یقین کرنا مشکل نظر آتا ہے کہ یہ کلام انسانی دخل اندازی سے پاک ہے۔ یہ استدلال محض ایک خیال خام ہے کہ جو وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل ہوئی اسے ہی آج قرآن کہا جاتا ہے۔

لیکن سب سے اہم یہ سوال ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تدوین کو کبھی اتنی زیادہ اہمیت کیوں نہیں دی۔ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ جب بھی کوئی وحی نازل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد کاتب موجود ہوتے تھے جو اسے لکھ لیتے تھے۔ بعض روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدوں اور جانوروں کی ہڈیوں پر لکھی ہوئی عبارتوں کی تصحیح کی تھی۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی وحی کو کسی ایک کتاب میں جمع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مسلمانوں کے دعوے کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور تمام بنی نوع انسان کے لیے ھادی بنا کر بھیجے گئے ہیں، نہ کہ صرف مسلمانوں کے لئے۔ اسی طرح قرآن کو ابدی ہدایت کی کتاب مانا جاتا ہے، جو قیامت تک حق کا راستہ روشن کرتا رہے گا۔ لہٰذا، یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں قرآن کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی اسے مرتب نہیں کیا گیا۔

قرآن جیسے اہم کلام کو نہایت احتیاط سے لکھنا چاہیے تھا۔ بلکہ جو چیز ہمیں روایت میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے گھڑسواری کے انداز میں سنبھالا گیا تھا۔ ورنہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ جانوروں کی ہڈیوں اور پتوں پر کیوں لکھا گیا، جن میں سے ممکن ہے کہ کچھ کو جانوروں نے بھی کھا لیا ہو۔ اگر قرآن واقعی خدا کا کلام تھا تو پیغمبر کا سب سے اہم مشن اسے اگلی نسل تک حفاظت کے ساتھ پہنچانا ہونا چاہیے تھا۔ وہ حجۃ الوداع جیسے کسی بھی اجتماع میں ایسا کر سکتے تھے۔ لیکن اسلامی روایات میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے۔

بعض سنی روایات میں ہے کہ قرآن مجید کو خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتب کیا گیا تھا جب کہ کچھ رویات میں ہے کہ یہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔ شیعوں کا خیال ہے کہ حضرت علی کے پاس قرآن کا ایک مکمل نسخہ تھا جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ کے اندر مرتب کیا تھا۔ ایسا کیوں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس بات پر کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ان کی سب سے اہم کتاب کب مرتب کی گئی تھی، بطور خاص اس حقیقت کے مدنظر کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کے بغیر اسلام ناممکن ہے۔ کیا اس سے ہمیں اسلام کے اوائل زمانوں میں اس کتاب کی اہمیت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے؟

قرآن کو خواہ ابوبکر نے مرتب کیا ہو خواہ عثمان و علی نے، ہمارے پاس ان خلفاء سے منسوب قرآن کا کوئی نسخہ کیوں نہیں ہے؟ آخر اسلام، جیسا کہ ان کا دعوٰی ہے، تاریخ کی مکمل روشنی میں رونما ہوا۔ ہم تہذیب کے آغاز میں کسی صحیفے کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس کی بات کر رہے ہیں جو ساتویں صدی کے اندر معرض وجود میں آیا تھا۔ کیا ہم یہ مان لیں کہ دور اوائل کے مسلمانوں کے لیے قرآن کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی؟ اگر نہیں، تو پھر ہم اس حقیقت کو کیسے سمجھیں کہ مسلمانوں کے پاس ابتدائی صحیفے کی کوئی کاپیاں محفوظ نہیں ہیں؟ جو کچھ ہم مختلف عجائب گھروں میں بکھرے ہوئے پڑے دیکھتے ہیں وہ صرف چند ٹکڑے ہیں اور وہ بھی بعد کے ادوار کے۔

اسلامی روایت ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ جب عثمان غنی نے قرآن مجید کو مرتب کیا تو آپ نے پوری سلطنت میں بکھرے ہوئے تمام موجودہ نسخوں کو جلا کر تباہ کرنے کا حکم دیا۔ ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بعض مقامات پر بغاوتیں ہوئیں کیونکہ ان کے ضابطے سرکاری قرآن کا حصہ نہیں بنے۔ شیعوں کو اب بھی یہ شکایت ہے کہ علی کے قرآن پر توجہ نہیں دی گئی۔ اگر مسلمان یہ مانتے ہیں کہ قرآن کا صحیح نسخہ صرف عثمان کے پاس تھا تو پھر ان اوائل مسلمانوں کا کیا ہوگا جو اس تدوین کے خلاف بغاوت کر رہے تھے؟ کیا یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ ہے کہ عثمان کی تدوین میں ایسی کوئی آیت نہیں چھوٹی جو پہلے سے قرآن کا حصہ سمجھی جاتی تھی؟ یقینی طور پر نہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ رجم والی آیت اس قرآن کا حصہ نہیں بنی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عثمان کے مدون کردہ قرآن پر اتفاق دین کے بجائے سیاست کا معاملہ تھا؟

مسلمانوں کی عقلمندی تھی کہ انہوں نے ایک سرکاری قرآن پر اتفاق کر لیا تاکہ قوم کے اندر اختلافات کو کم کیا جا سکے۔ لیکن پھر بھی اس سے ان کے اس دعوے کی تردید ہوتی ہے کہ قرآن وہی خدا کا کلام ہے جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل ہوا تھا۔

 -----

 English Article: The Myth of Quranic Preservation

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/myth-quranic-preservation/d/125889

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..