New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 02:51 PM

Urdu Section ( 18 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Listening to Songs [Naghma] in the Light of the Hanafi School of Jurisprudence – Part 2 سماع نغمہ-مذہب حنفی کی روشنی میں

ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، نیو ایج اسلام

(قسط-2)

18 جنوری 2023

غنا کے سلسلے میں خود امام محمدنے السیر الکبیر میں حضرت انس بن مالک کی ایک روایت نقل کی ہےجس سے ثابت ہوتاہے کہ بعض صحابہ خلوت میں نغمہ سنجی کیا کرتے تھے،جب کہ بعض حضرات اسے ناپسند بھی کرتے تھے۔ افسوس اس کا ہے کہ خود امام محمد نے اس روایت پر کوئی گفتگو نہیں کی ہے،نہ اس سے کچھ استدلال کیاہے۔ تاہم السیر الکبیرکے شارح شمس الائمہ امام محمد بن احمد سرخسی (۴۸۳ھ)نے اس سے نغمہ کے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں۔سب سے پہلے امام محمد کی وہ روایت دیکھیے:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَخِيهِ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَتَغَنَّى فَقَالَ: أَتَتَغَنَّى؟ فَقَالَ: أَخْشَى أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي وَقَدْ قَتَلْتُ سَبْعَةً وَسَبْعِينَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ بِيَدِي سِوَى مَا شَارَكْتُ فِيهِ الْمُسْلِمِينَ.

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آپ اپنے بھائی براءبن مالک کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ نغمہ سنجی میں مصروف ہیں۔یہ دیکھ کر حضرت انس نے کہا: آپ نغمہ سنجی فرمارہے ہیں؟ جواب میں حضرت براء نے فرمایا: مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں میں اپنے فراش پر ہی لقمۂ اجل نہ بن جاؤں، حالاں کہ میں نےتنہا ۷۷ مشرکین کو قتل کیا ہے اور جن کے قتل میں دوسرے مسلمان بھی شریک رہے ہیں وہ الگ ہیں۔

اس کی شرح میں امام سرخسی نے حسب ذیل مسائل اخذ کیے ہیں:

۱-اس سے معلوم ہواکہ تنہائی میں دفع و حشت کے لیے نغمہ سنجی درست ہے۔

۲- حضرت انس نے اس پر حیرت کا اظہار کیا، جس کے بعد حضرت براء نے وضاحت کی، جس کا حاصل یہ تھا کہ ان کی نغمہ سنجی بطور لہو و غفلت کے نہیں،بلکہ ایک اچھی نیت سے تھی اور وہ دفع وساوس و خطرات کی نیت تھی۔

۳- اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر نغمہ سنجی درست ہے ۔البتہ اگر نغمہ سنجی از راہ لہو ہو تو وہ مکروہ ہوگا،جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنْهَاكُمْ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ: صَوْتُ الْغِنَاءِ فَإِنَّهُ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ، وَخَمْشُ الْوُجُوهِ وَشَقُّ الْجُيُوبِ رَنَّةُ الشَّيْطَانِ۔(ملخصاً، شرح السیر الکبیر، باب لمبارزۃ،۱/۷۲)

امام محمد کی مذکورہ بالا روایت اور شمس الائمہ سرخسی کی شرح سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے احناف کے یہاں جو مطلق غنا کی حرمت منقول ہے ،مقام تحقیق میں وہ مطلق ہو کر بھی مقید ہے۔ دفع و حشت اور دفع وساوس کے لیے بلا قصدِ لہو جواز نغمہ کا قول اسی حقیقت کو ثابت کرتاہے۔ امام محمد نے الجامع الصغیر میں امام ابو حنیفہ سے دعوت ولیمہ سے متعلق جو روایت نقل کی ہے، اس سے بھی اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔ وہ روایت حسب ذیل ہے:

رجل دعى إِلَى وَلِيمَة أَو طَعَام فَوجدَ هُنَاكَ لعباً أَو غناء فَلَا بَأْس بِأَن يقْعد وَيَأْكُل، قَالَ أَبُو حنيفَة رضى الله عَنهُ ابْتُلِيتُ بِهَذَا مرّة۔(الجامع الصغیر، کتاب المزارعۃ، مسائل من كتاب الكراهية لم تشاكل ما في الأبواب)

کسی شخص کو ولیمے یا کھانے کی دعوت پر بلایا گیا، وہاں اس نے لہو و نغمہ ہوتا ہوا دیکھا، تو وہاں بیٹھنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں: ایک بار میں بھی اس میں مبتلا ہوا تھا۔

بظاہر اس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ امام صاحب کے نزدیک غنا مباح ہے۔ زیادہ سے زیادہ مکروہ ہے،البتہ حرام نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غنا والے ولیمہ میں بیٹھنے اورکھانے کی اجازت دیتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ اگر وہ غنا کو حرام سمجھتے تو ہرگز اس کی اجازت نہ دیتے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ ’’ایک بار میں بھی اس میں مبتلا ہوا تھا‘‘ تو اس سے زیادہ سے زیادہ خلاف اولیٰ ، خلاف مروت یا زیادہ سے زیادہ مکروہ ہونا ثابت ہوتاہے، نہ کہ حرام؛ کیوں کہ اس میں حرام کا پہلو جو نکل سکتا تھا، لَا بَأْس بِأَن يقْعد وَيَأْكُل کہہ کر اسے پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔

تاہم عام فقہائے حنفیہ جو غنا کو مطلقاً حرام سمجھتے ہیں، وہ امام صاحب کے مذکورہ قول ابتُلِیتُ سے غنا کی حرمت پر استدلال کرتے ہیں اور اس سوال کے جواب میں کہ پھر امام صاحب ایسی مجلس میں بیٹھے کیوں رہے، اٹھ کر چلے کیوں نہیں آئے؟وہ یہ کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے کہ وہ باوقار مقتدا تھے اور ان کو امید تھی کہ ان کی وجہ سے غنا بند ہو جائے گا۔ ({ FR 3542 })یا اس لیے کہ یہ واقعہ ان کے مقتدا بننے سے پہلے کا ہے اور عام آدمی کے لیے ایسی دعوت میں شرکت کی اجازت اس لیے ہے کہ دعوت قبول کرنا سنت ہے اور یہاں جو خرابی پیدا ہوئی ہے ، وہ دعوت میں نہیں، بلکہ ایک خارجی امر میں ہے اور کسی امر خارج میں معصیت پیدا ہوجانے کے سبب اصل سنت کو ترک نہیں کیا جا ئے گا۔

 فقہائے احناف نے مزید کہا کہ اگر غنا دسترخوان پر ہی ہو رہا ہو تو پھرآدمی کو وہاں سے اٹھ جانا چاہیے۔ غور کیجیے تو فقہا کی یہ ساری توجیہات، تاویلات پر مبنی معلوم ہوتی ہیں، جس کی حاجت اس لیے پڑی ہے کہ عام فقہائے احناف نے غنا کوحرام مان لیا ہے۔ یہاں تک کہ علامہ کاسانی نے بدائع الصنائع (کتاب الاستحسان)میں اور علامہ بدر الدین عینی نے البنایہ شرح ہدایہ (کتاب الکراھیۃ ، فصل فی الاکل و الشرب) میں صاف لکھ دیا: اِنَّ مُجَرَّدَ الغِنَاءِ وَالاِستِمَاعِ الَیہِ مَعصِیَۃٌ۔(غناے مجرد اور اس کا سماع بھی معصیت ہے) اسی طرح مغنی اور مغنیہ کو فقہاے احناف نے مردود الشادۃ کہا ہے،جس سے معلوم ہوتاہے کہ محض نغمہ اور نغمہ سنجی بھی فسق و معصیت ہے۔ (المحیط ، کتاب الشہادات، فصل سوم)

اوپر امام سرخسی کی شرح السیر الکبیر سے گزرا کہ غنا مکروہ اس وقت ہے جب از راہ لہو ہو۔ یہ بات انہوں نے حدیث براء بن مالک کی شرح کے ذیل میں کہی ہے۔اسی حدیث کے ذیل میں علامہ برہان الدین ابن مازہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے جو اشعاپڑھ رہے تھے وہ وعظ و حکمت پرمشتمل رہے ہوں ، حقیقت میں غنا نہ ہو؛ کیوں کہ غنا کا اطلاق جس طرح معنی معروف پر ہوتاہے، اسی طرح دوسرے معانی پر بھی ہوتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:(مَن لَم یَتَغَنَّ بِالقُرآنِ فَلَیسَ مِنَّا(جو قرآن کو غنا کے ساتھ نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں)اسی قبیل سے ہے۔ (المحیط البرہانی ، کتاب الشہادات، فصل سوم)

اس سے معلوم ہوا کہ فقہائے احناف جو مطلق غنا کو حرام یا مکروہ کہہ رہے ہیں، ان کی مراد غنا سے مطلقاً اشعار کی نغمگی و ترنم ریزی نہیں ہے، بلکہ وہ غنا ہےجو ان کی اصطلاح میں معروف ہے۔ گویا فقہائے احناف جب غنا بولتے ہیں تو اس سے ایک متعارف و معروف مفہوم مراد لیتے ہیں۔ غورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ فقہا کی مراد غنا سے وہ غزلیات ہے جس میں حسن و عشق اور بادہ و ساغر کا ذکر ہوتاہے۔ اس کا اشارہ اس سے بھی ملتاہے کہ علامہ برہان الدین ابن مازہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ حضرت براء بن مالک جو اشعار پڑھ رہے تھے وہ حکمت و موعظت پر مبنی ہوں اور مباح اشعار ہوں۔ اب ان کے مقابل وہی اشعار رہ جاتے ہیں جن کا تعلق حسن و شباب سےہو اور جو فسق و معصیت کی وادیوں سے گزر رہے ہوں۔ تاہم غزلیات کی حرمت بھی مطلقاً نہیں ہے۔ کچھ تفصیل گزر چکی کچھ آگے آتی ہے۔

اسی طرح جن فقہائے احناف نے غنا کو از راہ لہو منع کیا ہے، ظاہر ہے کہ لہو سے ان کی مراد وہ غفلت ہے جو حق سے غافل کرنے والی ہو- شرک و کفر اور کبائر-وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّه سے اسی کا اشارہ ملتاہے۔ رہا وہ غنا جو ذکر کے لیے ہو، حمد وثنا اور نعت و منقبت کے لیے ہو، وہ مستثنیٰ ہے، اسے لہو نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح تفریح طبع یا خوشی کے مواقع پر اظہار مسرت کے لیے غنا سنا تو وہ بھی لہو نہیں ہے، اس پر لہو کا اطلاق مجازاً ہے، یا لہو تو ہے مگر ہر لہو مطلقاً حرام نہیں ہے، جس کی طرف مذکورہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے۔ مزیدیہ کہ بعض آیات میں یوں تو پوری دنیوی زندگی کو لہو ولعب کہاگیا ہے۔({ FR 3543 }) اگر مطلقاً لہو حرام ہو تو پھر پوری زندگی حرام ہو جائے۔ ثابت ہوا کہ لہوِ ممنوع وہ غفلت ہے جو خدا و رسول کے انکار پر مبنی ہو، یا ذکر فرض سے غفلت پر مبنی ہو، یا امور حرام میں تلوث اور انہماک پر مشتمل ہو، یا پھر واجبات-عبادات و معاملات- کے ترک پر مشتمل ہو۔

۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔

-----------

Urdu Article: Listening to Songs in the Light of the Hanafi School of Jurisprudence – Part 1 سماع نغمہ-مذہب حنفی کی روشنی میں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/listening-songs-light-hanafi-school-part-2/d/128901

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..