New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 02:51 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Listening to Songs in the Light of the Hanafi School of Jurisprudence – Part 1 سماع نغمہ-مذہب حنفی کی روشنی میں

ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، نیو ایج اسلام

(قسط-1)

17 جنوری 2023

 علامہ سرخسی نے غنا کو معصیت قراردیا ہے: علامہ علاؤالدین کاسانی نے غناپر تفصیلی گفتگو کی ہے اورحاصل کلام میں مطلق غنا کو بھی معصیت کہا ہے۔ فرماتے ہیں:

اگرکسی کو کسی ولیمے میں یا کسی بھی دعوت میں بلایا جائے اوروہاں کھیل اور غنا ہو تو اس سلسلے میں خلاصۂ بحث یہ ہے کہ ایسی دعوت دوحال سے خالی نہ ہوگی؛ یا تو مدعو ان امور سے واقف ہوگا یا واقف نہیں ہوگا۔

اگر مدعو ان امور سے واقف ہو اور ساتھ ہی اسے ظن غالب ہو کہ وہ اس لعب و غنا کو روک سکتاہے تو وہ ایسی دعوت قبول کرے؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا سنت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی ولیمے میں مدعو کیا جائے تو وہ اس میں شریک ہو۔ اور منکر کو دورکرنا فرض ہے۔اوراس صورت میں دعوت قبول کرنے میں فرض کی ادائیگی اور سنت کی رعایت دونوں باتیں حاصل ہوں گی۔

اور اگر اسے ظن غالب ہو کہ وہ منکر کو روک نہیں پائے گا تو ایسی صورت میں بھی دعوت قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں،جیساکہ ہم نے ذکر کیا کہ دعوت قبول کرنا مسنون ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ اگر معصیت کا وجود کسی امر خارج کے سبب ہو تو اس کی وجہ سے سنت ترک نہ کی جائے گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر جنازے کے ساتھ نوحہ اور چا ک گریبانی جیسی معصیت ہو رہی ہو ، پھر بھی جنازے کے ساتھ چلنا ترک نہیں کیا جائے گا۔ یہی حکم یہاں بھی ہوگا۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم امام مقتدیٰ کے لیے ہے، جس کا احترام و احتشام کیا جاتاہو۔ اگر وہ مقتدیٰ نہ ہو تو ایسی دعوت رد کردینا اور ایسی مجلس سے اٹھ جانا زیادہ بہترہے۔

اور اگر وہ پہلے سے ان امور سے واقف نہیں تھااور وہ دعوت میں پہنچ گیا۔ پھر وہاں دیکھا کہ کھیل یا غنا ہو رہا ہےتو اگر وہ روک سکتاہو تو اسے روک دے اور اگر اس پر قادر نہ ہو تو کتاب (قدوری)میں یہ ہے کہ ایسی صورت میں اس مجلس میں بیٹھنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک بار اس میں مبتلا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ دعوت قبول کرنا ایک امر مستحسن ہے ۔لہٰذا کسی خارجی سبب سے پائی جانے والی معصیت کے سبب دعوت ترک نہیں کی جائے گی۔ یہ حکم اس صورت میں ہے، جب کہ اس مجلس میں داخل ہونے سے قبل اسے معلوم نہیں تھا۔ لیکن اگر اسے اس مجلس میں جانے سے قبل ہی اس کا علم ہو تو وہ ایسی مجلس سے لوٹ جائے اور اس میں داخل نہ ہو۔

 ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم غیر مقتدیٰ کے لیے ہے۔ البتہ اگر وہ شخص مقتدیٰ ہو تو وہ ایسی مجلس میں نہ رکے بلکہ اس سے نکل آئے؛ کیوں کہ ایسی مجلس میں ٹھہرنا علم ودین کی توہین ہے اور فسق پر اہل فسق کو جری بنانا ہے اور یہ جائز نہیں ۔ اور امام حنیفہ جو ایسی مجلس میں رکے رہے تھے، ان کے اس واقعے کو اس بات پر محمول کیاجائے گاکہ یہ اس وقت کا واقعہ ہوگا جب وہ علی الاطلاق مقتدیٰ نہ بنے ہوں گے ، اگر وہ مقتدیٰ ہوتے تو ہر گز نہیں ٹھہرتے۔

 یہ مسئلہ بتاتاہے کہ محض غنا بھی معصیت ہے۔ اسی طرح اس کا سننا بھی معصیت ہے۔ (اِنَّ مُجَرَّدَ الغِنَاءِ وَالاستِمَاعَ اِلیہِ مَعصِیَۃٌ) ایسے ہی ڈھول پیٹنا اور اس کا سننا بھی معصیت ہے۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ امام ابو حنیفہ نے اسے ابتلا سے تعبیر کیا ہے؟(بدائع الصنائع، کتاب الاستحسان،۵/۱۲۸)

تقریباً یہی حکم صاحب ہدایہ نے بھی لکھا ہے۔ ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ نغمہ، نوحہ اور اسی طرح دیگر امور لہو کا اجارہ جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ معصیت کا اجارہ ہےاور معصیت، عقد سے ثابت نہیں ہوتی۔ المحیط البرہانی میں ہے:

اگر لعب اور غنادستر خوان پر ہو تو ایسی صورت میں وہاں بیٹھناجائز نہیں؛ کیوں کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے :فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ(الانعام: ۶۸) اور اگر لعب و غنا گھرمیں ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں دسترخوان پر بیٹھنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ قدوری میں جو مسئلہ ہے ، اس کا محمل یہی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم صاحب حشمت و تمکنت کے لیے ہے؛ کیوں کہ لوگ اس کےوقارو تمکنت کے سبب غنا سے باز آجائیں گے۔ (المحیط البرہانی ، فصل ۱۸)

علامہ کاسانی ایک جگہ اور لکھتے ہیں کہ نغمہ اور نوحہ ممنوع ہے اور نغمہ اور نوحہ کی کتابت ممنوع نہیں ہے۔

۔۔۔جاری۔۔۔۔

----------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/listening-songs-light-hanafi-school-part-1/d/128893

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..