New Age Islam
Wed Aug 17 2022, 04:45 AM

Urdu Section ( 1 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

From Iftar To Iftar Party: An Islamic Practice That Turns Into A Multi-Cultural Event افطار سے افطار پارٹی تک: ایک اسلامی عمل جو ایک کثیرثقافتی تقریب میں بدل جاتا ہے

سیاسی افطار پارٹیوں کی روایت نہرو نے شروع کی تھی۔

اہم نکات:

1.     ہندوستان میں افطار پارٹیوں کی روایت مقبول ہو چلی ہے

2.     لال بہادر شاتری نے اس عمل پر روک لگا دی تھی

3.     اندرا گاندھی نے اس روایت کو دوبارہ شروع کیا

4.     یوپی کے سی ایم بہوگنا نے اسے اتر پردیش میں رواج بخشا

5.     افطار پارٹیاں اب ناپید ہوتی جا رہی ہیں

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

27 اپریل 2022

صدر پرنب مکھرجی، نائب صدر حامد انصاری، کانگریس سربراہ سونیا گاندھی اور پارٹی لیڈر غلام نبی آزاد، اور سی پی ایم کے سیتارام یچوری، جمعہ کو راشٹرپتی بھون میں۔ (ایکسپریس تصویر: انیل شرما)

-----

افطار پارٹیاں ہندوستان کے اندر ایک مقبول ثقافتی تقریب بن گئی ہیں۔ تقریباً ہر قصبے اور شہر میں ماہ رمضان میں افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آج کل افطار پارٹیاں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی منعقد کرتے ہیں۔ چونکہ، روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام کرنا خدا کی طرف سے ثواب کمانے کا ایک عمل ہے، اس لیے مسلمان اس کا اہتمام ایک مذہبی عمل کے طور پر کرتے ہیں۔ لہذا، بہت سے ہندو بھی روزہ دار مسلمانوں کے لیے افطار کی میزبانی کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

ہندوستان میں جہاں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ زندگی بتاتے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خوشیاں اور غم بانٹتے رہے ہیں، یہاں تہوار بھی مشترکہ ثقافتی تقریبات کی شکل میں منائے جاتے ہیں۔ مسلمان ہولی، دیوالی اور دسہرہ جیسے تہواروں کے موقع پر ہندوؤں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور ہندو عید اور رمضان میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر مناتے ہیں۔

لہذا، جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، افطار ایک ثقافتی تقریب بن جاتی ہے جس میں ہندو مسلمانوں کے ساتھ مل کر افطار کی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ روزہ دار مسلمان کے لیے افطار کی میزبانی کر کے ثواب بھی کمانا چاہتے ہیں۔

یہی وہ جذبہ ہے جس نے ہندوستان کے متنوع معاشرے میں افطار پارٹیوں کو کافی مقبول بنایا ہے۔ افطار پارٹیوں کا اہتمام صرف مسلم تنظیمیں ہی نہیں کرتیں بلکہ غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ افطار ایک مذہبی عمل ہے لیکن ہندوستان میں اس نے ایک کثیر ثقافتی تقریب کی شکل اختیار کر لی ہے اور اسے افطار پارٹی کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک ہندو نوجوان چندر شیکھر جدو نے اپنے مسلمان دوستوں کے لیے ایک مسجد میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ ان کی شادی رواں سال 24 اپریل کو ہوئی تھی لیکن ان کے مسلمان دوست روزے کی وجہ سے ان کی شادی کی تقریبات میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے مسلمان دوستوں کے لیے افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔

شتابدی ایکسپریس میں افطار

------

چنددنوں قبل ایک ٹرین مسافر شاہنواز اختر دھنباد سے شتابدی ایکسپریس میں سوار ہوئے۔ وہ روزے سے تھے۔ لیکن جب شام کو افطار کے وقت سے چند منٹ قبل کیٹرنگ کے عملے نے انہیں افطار کی پلیٹ پیش کی تو وہ حیران رہ گئے۔ شاہنواز اختر ریلوے کے اس اقدام سے متاثر ہوئے اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

معروف فلمی اداکارہ راکھی ساونت نے گلیوں کے بچوں کے لیے افطار پارٹی کا انعقاد کیا اور انہیں تحائف پیش کیے۔

حال ہی میں ٹی وی شو بڑے اچھے لگتے ہیں پارٹ 2 کی ٹیم نے پوری ٹیم کے لیے افطار کا اہتمام کیا۔

افطار پارٹیوں کی میزبانی سیاسی جماعتیں اور لیڈران لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی افطار پارٹیوں کی بنیاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ڈالی تھی۔ ہر سال وہ اپنے دوستوں کو جنتر منتر پر واقع اے آئی سی سی کے دفتر میں افطار کے لیے مدعو کرتے تھے۔ ان کی کامیابی سے متاثر ہو کر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا نے لکھنؤ میں افطار پارٹیاں شروع کیں۔

تاہم، لال بہادر شاستری نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں اس روایت پر روک لگا دی۔ اسے اندرا گاندھی نے دوبارہ پھر سے شروع کیا۔

راشٹرپتی بھون میں افطار پارٹیوں کا بھی انعقاد کیا جاتا رہا ہے جہاں تمام پارٹیوں کے قائدین اور اہم شخصیات موجود رہتے تھے۔ لیکن جب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہندوستان کے صدر بنے تو انہوں نے راشٹرپتی بھون میں افطار پارٹیوں کے انعقاد کی روایت کو روک دیا۔ ان کے اس قدم سے بہت سے لوگوں کو حیرانی ہوئی کیونکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ان سے توقع تھی کہ وہ اس روایت کو قائم رکھیں گے۔ لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی مسلم شناخت چھپا کر ہی رکھنا چاہتے تھے۔ افطار پارٹی کی میزبانی کرنے کے بجائے وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ بعد میں پرتیبھا پاٹل نے اس روایت کو دوبارہ شروع کیا۔ پرنب مکھرجی کے دور میں بھی راشٹرپتی بھون میں افطار پارٹیاں منعقد کی جاتی تھیں۔

اگرچہ بی جے پی میں آنے والے نئے نئے لوگ افطار پارٹیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے لیکن اٹل بہاری باجپئی افطار پارٹیوں کا انعقاد کیا کرتے تھے اور اس میں مسلم لیڈروں کو مدعو کیا کرتے تھے۔ ایک سال پارٹی کے صدر مرلی منوہر جوشی نے بھی افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔ ان افطار پارٹیوں کے پیچھے بی جے پی کا مسلم چہرہ سید شاہنواز حسین تھا۔

موجودہ سماجی اور سیاسی ماحول میں افطار پارٹیاں ندارد ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر یوپی میں سیاسی افطار پارٹیوں کی روایت ختم ہی ہو چلی ہے۔ ملائم سنگھ یادو، مایاوتی اور راج ناتھ سنگھ یوپی میں افطار پارٹیاں منعقد کیا کرتے تھے لیکن ان ہوئے حالات میں کہ جب مسلمان کے ہر عمل کو فرقہ وارانہ زاویہ سے دیکھا جارہا ہے، افطار پارٹیوں سے سیکولر لیڈران بھی دامن چھڑاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ کہیں ان پر بھی مسلم نواز ہونے کا لیبل نہ لگ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال نہ تو سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو اور نہ ہی بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی نے افطار پارٹیاں منعقد کیں۔

تاہم، فرقہ وارانہ تقسیم کے عروج کے باوجود افطار پارٹیوں کی اہمیت ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستان کے ہر قصبے اور شہر میں ہندو اب بھی مسلمانوں کے ساتھ افطار پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ بہت سے ہندو ہیں جو رمضان کے دوران روزہ رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی محسوس کرتے ہیں اور وہی روحانی سکون حاصل کرتے ہیں جو مسلمانوں کو میسر ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی رشتہ اتنا گہرا ہے کہ انہیں مکمل طور پر توڑا نہیں جا سکتا۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی پرساد یادو اور دیگر افراد کے ساتھ پٹنہ میں آر جے ڈی کے زیر اہتمام افطار پارٹی میں۔ (تصویر | EPS)

----------

حالانکہ بہار میں حالات زیادہ نہیں بدلے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو اور جنتا دل یونائیٹڈ کے نتیش کمار نے اپنی اپنی افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا ہے۔ سیاسی حالات سے مجبور بی جے پی کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی نے بھی اپنی افطار پارٹی منعقد کی ہے۔

نتیش کی افطار پارٹی سے ایک سیاسی تنازعہ بھی کھڑا ہو گیا کیونکہ اسے نتیش کا آر جے ڈی کی طرف جھکاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت نے بھی افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔

تاہم افطار پارٹیوں کی روایت پر مسلمانوں میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ افطار کا تعلق روزے سے ہے جو کہ مسلمانوں کا ایک خالص مذہبی فریضہ ہے لہٰذا اسے سیاسی تقریب بنا کر فاسد نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مسلمانوں کو عید کا تہوار استعمال کرنا چاہیے۔ عید ملن کے پروگرام سے بھی اس مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔

عید ملن کے پروگرام بھی کئی جگہوں پر منعقد کیے جاتے ہیں لیکن وہ افطار پارٹیوں کی طرح مقبول و مروج نہیں ہیں۔ اس کی وجہ نامعلوم ہے۔ شاید افطار میں روحانی احساس زیادہ گہرا ہوتا ہے اور غیر مسلم افطار کی زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے روزہ دار مسلم بھائیوں کے ساتھ مل کر روزہ کی شدت اور بھوک پیاس کی تکلیف محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اور طبقہ کا استدلال ہے کہ افطار میں غیر مسلموں کو مدعو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا مقصد غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔

جدید کثیر الثقافتی ماحول میں افطار پارٹیاں واقعی مختلف برادریوں کے درمیان ثقافتی رشتے کو مضبوط بنانے کا طاقتور اور موثر پلیٹ فارم ہیں۔

English Article: From Iftar To Iftar Party: An Islamic Practice That Turns Into A Multi-Cultural Event

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/iftar-islamic-practice-multi-cultural/d/126914

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..