New Age Islam
Thu Aug 11 2022, 09:26 AM

Urdu Section ( 20 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamophobia In Europe: Quran Burning And Hijab Ban Become Political Tools For Winning Elections یورپ میں اسلامو فوبیا: قرآن جلانا اور حجاب پر پابندی عائد کرنا الیکشن جیتنے کا ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے

سویڈن میں قرآن سوزی پر ہونے والے فسادات میں 40 افراد زخمی

اہم نکات:

1.     قدامت پرست سیاست دان راسموس پالوڈن نے قرآن سوزی کی اور فسادات کو ہوا دی

2.     پالوڈن ستمبر میں انتخابات میں حصہ لینے والے ہیں

3.     میرین لی پین نے اعلان کیا ہے کہ اگر میں فرانسیسی صدارتی انتخابات جیتتی ہوں تو حجاب پر پابندی عائد کر دوں گی

4.     فرانس میں آئندہ ہفتے انتخابات ہونے جا رہے ہیں

5.     پالوڈن کی پارٹی Stram Kurs کی بنیاد اسلامو فوبیا پر ہے

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

20 اپریل 2022

Sweden has been rocked by days of violence triggered by far-right Danish-Swedish politician Rasmus Paludan/ Photo: DW Made for Minds

----

16 اپریل بروز جمعہ شمالی یورپ کے ایک پرامن ملک سویڈن میں بدترین فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جو اتوار کے دن تک جاری رہے۔ لنکوپنگ، نورکوپنگ اور مالمو میں پولیس کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ فسادات کی وجہ قدامت پرست سیاست دان راسموس پالوڈن کی مسلم مخالف ریلیاں اور قرآن سوزی کا ان کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے جلتے ہوئے قرآن کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی۔

پالوڈن ڈنمارک کے ایک سیاستدان ہیں جنہیں حال ہی میں سویڈن کی شہریت دی گئی ہے اور وہ ستمبر میں ہونے والے سویڈن کے 2022 کے عام انتخابات میں حصہ لینے والے ہیں۔ انہوں نے 2017 میں اپنی پارٹی Stram Kurs بنائی جس کا معنیٰ انتہا پسند ہے۔ ان کی پارٹی کی بنیاد اسلامو فوبیا اور تارکین وطن مخالف نظریے پر ہے۔ وہ مسلسل اسلامو فوبیا پھیلانے والی مسلم مخالف ریلیوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔

پالوڈن نے 2018 کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی Stram Kurs (اسٹرم کرس) کو میدان میں اتارا تھا لیکن ان کی پارٹی کو صرف 1.8 فیصد ہی ووٹ ملے تھے۔ اس لیے اس بار اس نے مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی ہے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے قرآن سوزی سے بہتر مدا اور کیا ہو گا۔

راسموس پالوڈن کو 2020 میں نسل پرستی اور دیگر جرائم کے لیے جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔ اپریل 2020 میں اس نے قرآن کو جلا کر فسادات کو ہوا دی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نسل پرستانہ ذہنیت رکھتا ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتا۔

Smoke billows from burning tyres and pallets and fireworks as a few hundred protesters riot in the Rosengard neighbourhood of Malmo, Sweden, Friday. (TT news agency via AP)

-----

عالم اسلام نے راسموس پالوڈن کے اس فعل قبیح کی شدید مذمت کی ہے اور اس پر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے اور مجروح کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سعودی عرب، عراق، ایران، مصر اور اردن ایسے ممالک ہیں جنہوں نے پالوڈن کے خلاف سخت الفاظ میں بیانات جاری کیے ہیں۔

لیکن سویڈن کی وزیر اعظم میگڈلینا اینڈرسن نے پالوڈن کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ سویڈن میں لوگوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہے، چاہے ان کا ذائقہ اچھا ہو یا برا، اور اس کے اس عمل کو اس کی اس کا جمہوری حق قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ مسلمان قرآن سوزی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، لیکن انہیں کبھی بھی تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہئے کیونکہ تشدد کسی بھی حال میں قطعی قابل قبول نہیں ہے۔

یہ مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ سویڈن میں اکثر مسلمان جنوبی ایشیائی یا افریقی ممالک سے آئے ہوئے تارکین وطن ہیں جہاں مذہبی شخصیات یا علامات کی بے عزتی کرنا توہین مذہب کے مترادف ہے یا ایسی حرکتوں کو مذہبی برادریوں کے درمیان دشمنی یا نفرت پیدا کرنے کی کوشش مانا جاتا ہے۔ بھارت میں بھی ایسی کارروائیوں پر توہین مذہب کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے۔ ایک ہندوستانی فنکار ایم ایف حسین کو ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کے ارتکاب کے بعد ہندوستان چھوڑنا پڑا تھا۔ لیکن مغربی ممالک میں قرآن سوزی یا پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکوں کو اظہار رائے سمجھا جاتا ہے۔ یہ ثقافتی خلاء ہی مسئلے کی جڑ ہے۔

مغربی اقدار مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے تئیں بے حس ہیں اور مسلمان یہ نہیں سمجھ پاتے کہ نئے ثقافتی ماحول میں توہین رسالت پر کس طرح کا ردعمل پیش کیا جائے۔ وہ وہی کرتے ہیں جو انہوں نے ہندوستان، پاکستان، مصر یا نائیجیریا میں کیا: مذہب کے لیے مرنا اور مارنا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں تارکین وطن کی زیادہ تر ناخواندہ یا نیم خواندہ، بے روزگار اور مایوس ہیں۔ وہ اس بات کو سمجھنےھ سے قاصر ہیں کہ تشدد میں ملوث ہو کر وہ صرف پالوڈن جیسے سیاستدانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں جیسا کہ سویڈش وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا۔ جب بھی پالوڈن مسلم مخالف اور قرآن سوزی کی تقریب کا اہتمام کرتا ہے، مسلمان فسادات اور پولیس کے ساتھ تصادم میں ملوث ہو جاتے ہیں اور عوامی املاک کو جلانے اور انہیں نقصان پہنچانے میں لگ جاتے ہیں۔ اس سے صرف مسلمانوں کے بارے میں پالوڈن کے موقف کی تائید ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ اس کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ پلوڈن کی 'قرآن سوزی' کی تقریب کے جواب میں مسلمان 'بائبل چومنے' کی تقریب منعقد کریں۔ سویڈن کے عام عیسائی پالوڈن کے 1.8 فیصد ووٹوں سے عیاں نظریہ کی حمایت نہیں کرتے لیکن وہ مسلمانوں کی جانب سے انجام دئے جانے تشدد اور فسادات کی بھی حمایت نہیں کرتے۔ ایک مقامی چرچ کے ایک پادری نے پلوڈن کی تقریر میں خلل ڈالنے کے لیے اس کی طرف سے منعقد ایک مسلم مخالف ریلی کے دوران مسلسل چرچ کی گھنٹی بجائی۔ ایسا کر کے اس پادری نے پالوڈن کے خیالات سے اپنا اختلاف ظاہر کیا۔

ایسا ہی اسلامو فوبک ماحول فرانس میں بھی پیدا کیا جا رہا ہے جہاں مغربی یورپ کی سے زیادہ بڑی مسلم آبادی ہے۔ وہیں سویڈن میں تارکین وطن کے ساتھ حجاب بھی ایک سیاسی آلہ ہے جسے اگلے ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ میکرون نے گزشتہ سال اسلام فوبیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے 'اسلام بحران کا شکار ہے' کے تبصرے سے ایک عجیب تنازعہ کھڑا کیا تھا اور پھر فرانسیسی مسلمانوں کے خلاف متعدد اقدامات اٹھائے تھے جن میں متعدد مساجد کا بند کیا جانا بھی شامل تھا۔ اس کا اصل محرک انتخابی مفادات کا حصول تھا۔ تاہم اب انہوں نے اسلام اور مسلمانوں، مساجد اور حجاب کے بارے میں اپنا موقف نرم کر لیا ہے اور اب وہ موسمیاتی تبدیلیوں پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ان کی حریف امیدوار میرین لی پین ہیں جنہوں نے حجاب کو انتخابی مسئلہ بنا دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر میں الیکشن میں فتح یاب ہوتی ہوں تو حجاب پہننا جرم قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلم خواتین حجاب کو ایک اسلامی یونیفارم کی شکل میں پہنتی ہیں لہٰذا، عوامی مقامات پر اس پر اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔

اس پر نہ صرف مسلم خواتین بلکہ فرانس کے دانشوروں اور وکلاء کے بھی ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب پر مکمل پابندی فرانس کے آئین کے خلاف ہے۔ پرٹوئس کی ایک مچھلی منڈی میں انتخابی مہم کے دوران ایک حجاب پہنے والی مسلمان خاتون کا لی پین سے سامنا ہوا۔ ان کی گفتگو ذیل میں ملاحظہ کریں:

مسلم خاتون: سیاست میں اسکارف کا کیا کام ہے؟ براہ کرم ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔ ہم فرانسیسی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے۔

لی پین: ہیڈ اسکارف ایک یونیفارم ہے جسے بنیاد پرست اسلامی نظریہ رکھنے والے لوگوں مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

مسلم خاتون: یہ سچ نہیں ہے۔ میں نے حجاب پہننا اس وقت شروع کیا جب میں ایک عمر دراز عورت تھی۔ میرے لیے یہ دادی ہونے کی ایک علامت ہے۔

اسی طرح ایک مسلمان خاتون کا سامنا میکرون سے ہوا جو پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ حجاب مرد اور عورت کے تعلقات کو غیر مستحکم کرتا ہے۔ میکرون نے اس خاتون کو بتایا کہ حجاب کا مسئلہ میرے لیے جنونی نہیں ہے۔

Protesters hold a placard reading 'Veiled or not veiled, we want equality' as they take part in a demonstration in Perpignan, Southwestern France [File: Raymond Roig/AFP]

-----

لہٰذا، حجاب یا قرآن سوزی یا قرآن سوزی پر ردعمل کا پورا معاملہ، ثقافتی خلاء، انفرادی تصور اور اسلامو فوبیا کا معلوم ہوتا ہے۔ مغربی لوگ مسلمانوں یا ایشیائی باشندوں کی ثقافتی روایات اور اقدار سے واقف نہیں ہیں اور مسلمانوں کو اپنے ہی ثقافتی اقدار کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہر خطے میں مسلمانوں کا مذہبی اشتعال انگیزی پر ردعمل کا اپنا ایک روایتی طریقہ رہا ہے ، اور وہ تشدد ہے۔

مسئلہ برقرار رہے گا اگر دونوں ثقافت کے حاملین ایک دوسرے کی ثقافتی اور مذہبی حساسیت کو سمجھ کر اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ تلاش نہیں کرتے۔ کم از کم مذہبی نشانات اور علامات کو الیکشن جیتنے کے لیے سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔

English Article: Islamophobia In Europe: Quran Burning And Hijab Ban Become Political Tools For Winning Elections

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/europe-quran-burning-hijab-ban/d/126833

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..