سہیل ارشد، نیو ایج اسلام
20دسمبر،2012
اپنے مضمون کے قسط چہارم میں طالبانی مفتی العبیری نے اسلامی
ممالک جیسے افغانستان ، عراق اور سوڈان اور
صومالیہ میں امریکی مظالم کی تفصیل پیش کی
ہے اور ان ملکوں میں ہلاک شدہ مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ پیش کیا ہے۔ ان ملکوں میں
امریکی پابندیوں کے نتیجے میں عوام کو پیش آنے والی معاشی وسماجی پریشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور دنیا میں
مسلمانوں کے تمام مسائل کےلئے امریکہ کو ذمے دار ٹھہرا یا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ فلپائن ، انڈونیشیا ، کشمیر ، مقدوینا اور بوسنیا
وغیرہ میں بھی مسلمانوں کی مصیبتوں کے پیچھے
ملا العبیری کے مطابق امریکہ کاہاتھ ہے ۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ جن ملکوں میں
انہوں نے امریکہ کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کی مصیبتوں اور ہلاکتوں
کا ذمے دار ٹھہرایا ہے ان میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے جہاں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں آئے دن معصوم مسلمان مرد عورتیں اور بچے ہلاک
ہوتے ہیں ۔ ایسا غالباً اس لئے کیا گیا ہے
کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا ذکر کرنے سے عوام کی ہمدردی پاکستانی طالبان کے
حصے میں جاسکتی تھی یا پھر پاکستانی مسلمانوں سے طالبانیوں کو کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افغان
طالبان پاکستان میں امریکی مفاد کو نقصان نہیں پہنچا نا چاہتے ۔ بہر حال وجہ جو بھی
رہی ہو، اس فہرست میں پاکستان کا ذکر نہ ہونا طالبان کی نیت پر سوال کھڑے کرتا ہے
۔
متذکرہ بالا تمام مسلم ممالک
میں امریکی مظالم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والےمسلمانوں کی تعداد طالبان کے اعداد وشمار
کے مطابق 40 لاکھ اور بے گھر ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ ہے لہٰذا ، طالبان
کے مفتی آخر میں کہتے ہیں کہ مثلہ کے اصول کے مطابق 40 لاکھ غیر ملوث امریکیوں کو
ہلاک کرنا اور ایک کروڑ غیر ملوث امریکیوں کو بے گھر کرنا اسلامی شریعت کے مطابق جائز
ہے ۔ ان کے مطابق ‘‘ معر کہ گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں میں ’’ جو پانچ ہزار امریکی
مارے گئے وہ اصل نشانے سے بہت ہی کم ہے اور وہ صرف عراق کی جنگ میں صرف ایک کیمپ میں
امریکی میزائل میں ہلاک ہونے والے 5 ہزار مسلمانوں کی ہلاکت کا بدلہ ہے ۔ اس کے ساتھ
ہی شیخ العبیری یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ اسلامی
شریعت بدلہ یا مثلہ میں حد سے تجاوز کرنے سے منع کرتی ہے اس لئے مسلمان اگر 40 لاکھ
سے زیادہ امریکیوں کو قتل کرتے ہیں یا ایک کروڑ سے زیادہ امریکی عوام کو بے گھر کرتے
ہیں تو بلا شبہ وہ گناہ گار ہوں گے ۔
لہٰذا ، شیخ العبیری کہتے
ہیں
‘‘ باالمثل کے شرعی اصول کے تحت ہم امریکہ پر اسی طرح تباہی مسلط کریں
گے جس طرح اس نے ہم پر کی ’’۔
آگے چل کر وہ کہتے ہیں
‘‘ اب ہم کہتے ہیں کہ ہم بالمثل کا معاملہ اختیار کریں گے اور امریکا
ہی کے اپنائے گئے طریقے یعنی افراد کے سبب عوام کو سزا دنیا کے مطابق امریکی حکومت کے جرائم کے سبب اس کے عوام کو سزا دیں گے ۔’’
وہ یہ بھی کہتے ہیں
‘‘ اگر ہم اس کے (امریکہ کے ) ساتھ بالمثل معاملہ کرنا چاہیں تو امریکہ
پرہونےوالے حملے شرعی طور پر جائز ہیں اور اگر ہم اس کے ساتھ اسی کے قانون کے مطابق برتاؤ کرنا چاہیں تو بھی یہ کارروائیاں
اس کے نئے نظام نیوور لڈ آرڈر کے مطابق جائز ہیں ۔ اس چیز میں کسی قسم کے شک و شبہ
کی گنجائش نہیں کہ امریکی بوڑھوں ، بچوں او
ر عورتوں اور ان جیسے دوسرے غیر محاربین کا قتل کرنا جائز اور حلال ہے ۔ بلکہ یہ جہاد
کی ان اقسام میں سے ایک ہے جن کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا
ہے ’’۔
اوپرنقل کی گئی عبارتوں میں شیخ العبیری ایک بار پھر اسی غیر شرعی اور غیر
اسلامی اصول کا ذکر کرتے ہوئے کہتےہیں کہ غیر محارب امریکیوں کو قتل کرنا جائز اور
حلال ہے اور اسے جہاد کی ایک قسم قرار دیتے ہیں ۔
جب کہ امام ابو یوسف کا مؤقف
ہے کہ‘‘ کسی بھی امن پسند شہری کو اس کے کسی ہم مذہب کے ظلم و زیادتی کی سزا نہیں دی جائے گی ۔’’ ( کتاب النحراج ص :78)
غیر محارب عورتوں، بچوں، بوڑھوں
اور مذہبی رہنماؤں کے قتل کرنے ممانعت میں احادیث مبارکہ اوپر نقل کی جاچکی ہیں۔
امریکہ یا کسی بھی دوسری قوم
کا اگر اصول ہے کہ وہ افراد کے قصوروں کی سزا عوام کو دیتے ہیں تو جواب میں اسلام بھی
اسی شیطانی اور غیر انسانی اصول کی تقلید کی اجازت نہیں دیتا ۔ بدلے اور انتقام کے لئے قرآن اور حدیث میں رہنما
اصول پیش کردیئے گئے ہیں اور علماء اور فقہا اور خلفائے راشدین نے جنگ اور امن ہر حالت
میں معصوم افراد پر ظلم سے منع کیا ہے ۔
اس لئے طالبان مفتی شیخ العبیری
کا کہنا کہ مسلمانوں کے لئے چالیس لاکھ غیر محار ب امریکیوں کو قتل کرنا اور ایک کروڑ
غیر محارب او ربے قصور امریکیوں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں بے گھر کرنا اسلامی
شرع کے مطابق جائز ہے انتہا ئی درجے کی غلط بیانی اور غیر اسلامی بات ہے جس کی تردید
اور مذمت محولہ بالا آیات قرآنی ، احادیث مبارکہ اور فقہاء کے بیانات سے ہوجاتی ہے
۔
URL of the Part 1 of the series:
https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam,-سہیل-ارشد/the-truth-behind-talibn-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔1)/d/9556
URL of the Part 2 of the series:
https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتوی-اور-اسکی-حقیقت۔۔-قسط-دو/d/9573
URL of the Part 3 of the series:
https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians--part-3---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔۳)۔-خود-کشی،منشیات-اور-خارجیت-پر-مبنی---طالبانی-فکر-و-عمل/d/9613
URL of the Part 4 of the series:
https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-4------نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔4)-۔-طالبانی-عالم-کاغیر-مسلموں-کے-قتل-کا-غیر-اسلامی-فتوی/d/9661
URL of the Part 5 of the series: https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-5---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔۵)-۔--قرآن-،--حدیث-اور-فقہ-کا-غلط-انطباق/d/9690
URL of the Part 6 of the series:
https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-6--نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اسکی-حقیقت--(قسط۔-6)-۔-اسلام-جنگ-میں-زمین-سوختہ-پالیسی-کا-مخالف/d/9735
URL: https://newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-fatwa/d/9749