New Age Islam
Fri Aug 19 2022, 08:31 AM

Urdu Section ( 8 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Yemen-Saudi Arab War Has Made Yemen A Living Hell For Children یمن اور سعودی جنگ نے یمنی بچوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے

یونیسیف شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرتا ہے

اہم نکات:

1.     سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن کے بنیادی ڈھانچے، حفظان صحت کے نظام اور صنعت کو تباہ کر دیا ہے

2.     یمن کے بچے شیعہ سنی تنازعات کا سب سے زیادہ شکار ہیں

3.     یمن بچوں کے لیے جیتا جاگتا جہنم بن چکا ہے

4.     عرب یمن تنازعہ میں 2015 سےاب تک 10,000 سے زیادہ بچوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں

-----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

29 اپریل 2022

Children sit in front of a tub of moldy bread in their shelter in Aslam, Hajjah, Yemen, last month. The U.N. has estimated that up to 14 million Yemenis — about half the country's population — will suffer severe food shortages in the next few months./Hani Mohammed/AP

-----

عرب بہاریہ کا آغاز مشرق وسطیٰ کے لوگوں نے خطے کو جنت بنانے کی امید کے ساتھ کیا تھا لیکن اس کے بجائے یہ خطہ اب جہنم بن چکا ہے۔ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے مصر، لیبیا، بحرین، شام اور یمن کو تباہ کر دیا ہے۔ بغاوت سے محفوظ صرف تیونس ہی ہے۔ شام اور یمن ابھی تک داخلی جنگ کی لپیٹ میں ہیں اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک بری طرح تباہ ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام ناقابل بیان مشکلات سے دوچار ہیں۔

یمن، جو کہ خطے کا غریب ترین ملک ہے خانہ جنگی کا سب سے زیادہ نقصان اسی نے اٹھایا ہے۔ یمن میں فوجی تنازعہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب یمن کے عرب حامی صدر منصور ہادی، شیعہ عسکریت پسند گروپ حوثیوں کے دارالحکومت صنعا اور یمن کے دیگر بڑے شہروں پر قبضے کے بعد، سعودی عرب فرار ہو گئے۔

سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ اس کے پڑوس یمن میں حوثیوں کی قیادت والی ایک شیعہ حکومت اس کے لیے اسی طرح خطرہ ہو گی جس طرح روس کا خیال تھا کہ نیٹو کا اتحادی یوکرین روس کے لیے خطرہ ہو گا۔ چونکہ حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں نے حوثیوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ان کے خلاف فوجی مہم شروع کر دی۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سعودی قیادت والے اس اتحاد کو لاجسٹک مدد فراہم کی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی تنازع ہو اس کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ کا ہی ہاتھ ہوتاہے۔

حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان تنازعہ ان کا ایک داخلی مسئلہ تھا لیکن امریکہ اور برطانیہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف فوجی مہم شروع کرنے کے لیے اکسایا اور اس کے لیے انہیں ایران کا خوف دکھایا گیا جو حوثیوں کو مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جس سے دونوں کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

چونکہ یمن ایک غریب ملک ہے، اس لیے اس نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے حفظان صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ اس کا تعلیمی نظام مٹ چکا ہے۔ اکثریت آبادی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔

یمن کے بحران کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ لاکھوں بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران جنگ کی وجہ سے دس ہزار سے زائد بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں۔ بحران اتنا سنگین ہے کہ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کو کہنا پڑا کہ یمن بچوں کے لیے اب جہنم بن چکا ہے۔ انہوں نے یمن کے بحران کو دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران میں سے ایک قرار دیا۔

مصیبت میں مبتلا 23.7 ملین افراد میں سے 13 ملین بچوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں خوراک اور حفظان صحت خدمات کی ضرورت ہے۔ 2 ملین بچے اپنی ہی ملک میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ مارچ 2020 تک 17.4 ملین افراد کو خوراک کی امداد کی ضرورت تھی۔ 5 سال سے کم عمر کے 2.2 ملین بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 8.5 ملین بچوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور ان پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یمنی لوگوں کو روزانہ پانی کی تلاش میں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

اگرچہ عرب ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں لیکن انہوں نے یمنی بچوں یا لوگوں کی مدد کے لیے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ یونیسیف یمنی خاندانوں کو خوراک، حفظان صحت، صاف ستھرا پانی، رسمی تعلیم اور زیادہ ضروری رقم کی فراہمی کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے کر رہا ہے۔ یونیسیف نے یمنی بچوں کی مدد کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

1) اس نے 5.3 ملین بچوں سمیت 8.8 ملین لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا ہے۔

2) یہ دور دراز کے دیہی علاقوں میں 2 ملین لوگوں کو صحت عامہ کے مراکز تک رسائی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

3) یہ ہر تین ماہ میں 1.4 ملین خاندانوں کو نقد رقم فراہم کرتا ہے۔

4) یہ نصف ملین سے زیادہ بچوں کو رسمی تعلیم فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام بھی یمن کے لوگوں کو خوراک کی امداد فراہم کر رہا ہے۔

یمن میں ہیضہ جیسی متعدی بیماریاں اکثر پھوٹ پڑتی ہیں جن میں بچوں سمیت سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں۔

کچھ بین الاقوامی این جی او نے یمن کے لوگوں کو خوراک، ہنگامی پناہ گاہ، ادویات اور صاف پانی فراہم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے۔

مسلم گلوبل ریلیف نے جنگ سے متاثرہ یمنی لوگوں کو خوراک، حفظان صحت اور ہیضے کا علاج فراہم کیا ہے۔

اسلامک ریلیف یو ایس اے کا دعویٰ ہے کہ اس نے یمن میں دس لاکھ لوگوں کی مدد کی ہے۔ یمن میں ان کے ہزاروں فیلڈ اسٹاف ہیں۔

مسلمانوں کی امداد سے بھی یمن کے لوگوں کی مدد ہوتی ہے۔

محدود وسائل کے حامل یہ چھوٹے چھوٹے گروپ اعلیٰ سطح پر لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے جبکہ وہاں عوام کو اربوں ڈالر کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اتنی رقم جمع کرنے میں ناکام رہا ہے جس سے مزید تباہی روکی جا سکے۔ جہاں 4.3 بلین ڈالر کی ضرورت ہے وہاں صرف 1.3 بلین ڈالر ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔

عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بحران مزید بڑھے گا۔ یوکرین کی جنگ یمن کے مسائل میں بھی اضافہ کرے گی کیونکہ گندم اور دیگر ضروری اشیاء یوکرین سے ہی درآمد کی جاتی ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے یمن کے بھوکے بچوں اور بڑوں کو بچانے کے لیے مسلم ممالک کا کوئی اجتماعی پروگرام نہیں ہے۔ سعودی عرب، ایران، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو صرف اپنے سیاسی اور نظریاتی مفادات کی فکر ہے۔ یمن کی عوام اور بچوں کی کوئی پروا نہیں۔ چونکہ یمن میں جنگ کی کوئی معینہ مدت نہیں ہے، اس لیے یمن کے بچوں کے مصائب کی کوئی انتہانظر نہیں آتی۔

مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی تنازعہ نے مسلم دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ عرب بہاریہ کے بعد گزشتہ 11 سالوں کے دوران شام، عراق اور لیبیا کے لاکھوں افراد داخلی یا خارجی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔ لاکھوں بچے بے گھر ہو چکے ہیں اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ یورپ میں پناہ لینے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہیں۔ لیکن مسلم ممالک کے تنازعات ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ان تنازعات کا سب سے بڑا شکار بچے ہوتے ہیں اور مسلم ممالک کے پاس ان بچوں کی امداد کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یمن میں والدین کو نہیں معلوم کہ ان کے بچے اگلے دن زندہ رہیں گےیا نہیں۔ اب او آئی سی نے یمنی بچوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور یمن میں بچوں کو بچانے اور تنازع کے خاتمے کے لیے انسانی بنیادوں پر کام شروع کیا۔

English Article: Yemen-Saudi Arab War Has Made Yemen A Living Hell For Children

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/yemen-saudi-arab-war-children/d/126958

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..