New Age Islam
Sun Oct 24 2021, 08:55 PM

Urdu Section ( 23 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Will the Coronavirus end up on May 12? کیا بارہ مئی کو کرونا وائرس ختم ہوجائے گا؟


ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری

مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما

آج کل ایک دو تحریر اور ایک دو  بیان بہت زیادہ گردش کر رہے ہیں، جن میں اس کا بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ بارہ مئی کو ثریا ستارہ طلوع ہوگا؛ تو اس کی وجہ سے کرونا جیسی مہلک بیماری ختم ہوجائے گی یا کم ہوجائے گی، بعض تحریر تو کسی حد تک اعتدال کا دامن تھامے ہوئے ہے مگر بعض تحریر و تقریر حد اعتدال سے خارج ہوتی نظر آئی جس کی وجہ سے ایک مسلم اس بات پر یقین کرتا ہوا نظر آرہا ہے کہ بارہ مئی کو کرونا وائرس ضرور ختم ہوجائے گا یا کم ہوجائے گا بلکہ بعض لوگ اسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ثابت کرتے ہوئے نظر آرہے ہے؛ اس لیے آج میں اس کے متعلق تفصیلی گفتگو کرنا مناسب سمجھتا ہوں، پہلے میں ثریا ستارہ سے متعلق احادیث ذکر کروں گا، اس کے بعد اس کے معنی و مفہوم کی وضاحت کروں گا، و ما توفیقی إلا باللہ علیه توکلت و إلیه أنیب۔

ثریا ستارہ سے متعلق جو احادیث وارد ہیں ان میں سے بعض مطلق ہیں، یعنی اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ کوئی بھی بیماری ہو،ثریا ستارہ کے طلوع ہونے سے ختم ہوجائے گی یا کم ہوجائے گی اور بعض احادیث مقید ہیں یعنی اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ  ثریا ستارہ طلوع ہونے سے پھلوں کی بیماری ختم ہوجائے گی، سب سے پہلے ہم مطلق احادیث  ذکر کرتے ہیں:

ثریا سے متعلق مطلق احادیث

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ((إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ)) (الآثار للإمام أبی یوسف، باب الغزو و الجیش، ج۱ص۲۰۵، رقم:۹۱۷، ط:دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ترجمہ: جب نجم یعنی ثریا ستارہ طلوع ہوگا تو ہر ملک سے بیماری ختم ہوجائے گی۔

            حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’مسند احمد‘ کے الفاظ یہ ہیں:

((إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ، رُفِعَتِ الْعَاهَةُ)) (مسند أحمد، ج۱۴ص۱۹۲، رقم: ۸۴۹۵، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ: جب صبح نجم یعنی ثریا ستارہ نکلے تو وبا دور ہوجائے گی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کی روایت میں ’التمہید‘ کے الفاظ یہ ہیں:

((مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ عَنْهُمْ أَوْ خَفَتْ)) (التمہید لما فی الموطا من المعانی و الأسانید للإمام ابن عبد البر، ج۲ص۱۹۲، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية - المغرب)

ترجمہ: جب کبھی نجم یعنی ثریا ستارہ طلوع ہو اور کسی قوم میں وبا ہو؛ تو وہ وبا ختم ہوجائے گی۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ إِلا رُفْعِتْ كُلُّ آَفَةٍ وَعَاهَةٍ فِي الأَرْضِ أَوْ مِنَ الأَرْضِ)) (تاریخ جرجان، لحمزۃ بن یوسف الجرجانی، ص۲۹۲، ط:عالم الکتب، بیروت)

ترجمہ: جب بھی نجم یعنی ثریا ستارہ طلوع ہوگا تو اس وقت زمین کی ہر آفت کو ختم کردے گا۔

            مندرجہ بالا ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیماری یا وبا خواہ وہ پھل سے متعلق ہو یا اس کا تعلق انسان سے ہو، اگر وبا پائی جاتی ہے؛ تو ثریا ستارہ طلوع ہونے سے ختم یا کم ہوجائے گی، مگر اس کے بر خلاف بعض احادیث مقید ہیں، یعنی وہ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ ثریا طلوع ہونے سے جو وبا دور ہوتی ہے، وہ وبا ہے جس کا تعلق پھل سے ہے۔

ثریا سے متعلق مقید احادیث

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت:

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُرَاقَةَ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ وَمَعَنَا ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا))

قَالَ: وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، فَقَالَ: ((نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ)) قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَا تَذْهَبُ الْعَاهَةُ، مَا الْعَاهَةُ؟ قَالَ: ((طُلُوعُ الثُّرَيَّا)) (مسند أحمد، ج۹ص۵۶، رقم: ۵۰۱۲، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)

ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وبا کے جانے سے پہلے پھل بیچنے  سے منع فرمایا، راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن! وبا کا جانا کیا ہے، وبا کیا ہے؟ ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ثریا ستارہ کا طلوع ہونا۔

حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ عنہا کی روایت:

عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ)) (موطا امام مالک، باب النھی عن بیع الثمار حتی یبدو صلاحھا، ج۲ص۶۱۸، رقم: ۱۲، ط:دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ پھل کو وبا سے نجات حاصل ہوجائے۔

حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ عنہما کی روایت:

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ ((لَا يَبِيعُ ثِمَارَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا)) (ایضا، ص۶۱۹، رقم:۱۳)

ترجمہ: زید بن ثابت رضی اللہ عنہما پھل نہیں بیچتے تھے یہاں تک کہ ثریا ستارہ طلوع ہوجائے۔

اسی روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ’صحیح‘ میں تعلیقا ذکر کیا ہے: عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ المُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مُرَاضٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ: ((فَإِمَّا لاَ، فَلاَ تَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُ الثَّمَرِ)) كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ: ((لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا، فَيَتَبَيَّنَ الأَصْفَرُ مِنَ الأَحْمَرِ)) (صحیح البخاری، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحھا، ج۳ص۷۶، رقم:۲۱۹۳، ط: دار طوق النجاۃ)

اور خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث امام طبرانی کی ’المعجم الصغیر‘ میں اسی مقید معنی کے ساتھ موجود ہے، ملاحظہ فرمائیں:

الجامع الصغیر میں ہے: ((إِذَا طَلعت الثُريِّا أمِنَ الزَّرْعُ مِنَ العاهَةِ))  طص عن أبي هريرة - رضي الله عنه . (الجامع الصغيرللإمام السیوطی، رقم:۱۵۵۸۷)

ترجمہ: جب ثریا ستارہ طلوع ہوجائے تو کھیتی وبا سے محفوظ ہوجاتی ہے۔

ان مقید روایات اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ثریا طلوع ہونے سے جو وبا دور ہوتی ہے، اس کا تعلق پھلوں کی بیماری سے ہے، بہر حال یہ دو طرح کی احادیث ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان احادیث میں مذکور وبا سے پھلوں کی وبا مراد ہے یا انسانی وبا وغیرہ ہر طرح کی بیماری ان کے مفہوم میں شامل ہے، اس کی تعیین کے لیے احادیث اور اقوال علما کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم احادیث کی طرف چلتے ہیں، یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک حدیث دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے؛ اس لیے یہاں مطلق احادیث جو مختلف معانی کا احتمال رکھتی ہیں ان کو پھلوں سے مقید  احادیث جو اپنے معنی میں متعین ہیں ان پر محمول کر دیا جائے یعنی پھلوں کی وبا سے متعین  احادیث اس کی بات کی وضاحت کر رہی ہیں کہ محتمل احادیث کی مراد یہی ہے کہ یہاں وبا سے پھلوں کی وبا مراد ہے جو انسانی وبا کو شامل نہیں۔

احادیث کے بعد اب ہم علماے عظام کی طرف رخ کرتے ہیں، احادیث کی شروحات مطالعہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس معاملہ میں اکثر علما بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ ثریا سے جو وبا ختم ہوتی ہے، اس سے مراد پھلوں کی وبا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

امام ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فَعَقَلْنَا بِذَلِكَ أَنَّهُ الثُّرَيَّا، وَعَقَلْنَا بِهِ أَيْضًا أَنَّ الْمَقْصُودَ بِرَفْعِ الْعَاهَةِ عَنْهُ هُوَ ثِمَارُ النَّخْلِ‘‘۔ (شرح مشکل الآثار للإمام الطحاوی، ج۶ص۵۳، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’معنى ذلك والله أعلم على ما تقدم أن طلوع الثريا مع الفجر إنما يكون في النصف الآخر من شهر مايه وهو شهر إيار وفي ذلك يبدو صلاح الثمار بالحجاز ويظهر الإزهاء فيها وتنجو من العاهة في الأغلب ففي ذلك الوقت يجوز بيعها فيه دون ما قبله وتختلف العبارات فيما يبدو به ما يمنع من البيع ويميز ما يباع فتارة يميز ويفسدها بالإزهاء وتارة بأن تنجو الثمرة من العاهة وتارة تطلع الثريا غير أن تحديد ذلك بالإزهاء وبأن تنجو من العاهة يتعقبه الجواز على كل حال، وأما طلوع الثريا فليس بحد يتميز به وقت جواز البيع من وقت منعه.

وقد روى القعنبي عن مالك في المبسوط أنه قال ليس العمل على هذا ومعنى ذلك عندي أنه لا يباح بيع الثمرة بنفس طلوع الثريا حتى يبدو صلاحها وإنما معنى ذلك في الحديث أنه كان لا يبيع إلا بعد طلوعها وليس فيه أنه لم يكن بيع ذلك بعد طلوع الثريا إلا الإزهاء والله أعلم‘‘۔ (المنتقی شرح الموطا للامام القرطبی، النھی عن بیع الثمار حتی یبدو صلاحھا، ج۴ص۲۲۲، ط:مطبعۃ السعادۃ، مصر)

امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’وطلوعها صباحا يقع في أول فصل الصيف وذلك عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثمار فالمعتبر في الحقيقة النضج وطلوع النجم علامة له وقد بينه في الحديث بقوله ويتبين الأصفر من الأحمر وروى أحمد من طريق عثمان بن عبد الله بن سراقة سألت بن عمر عن بيع الثمار فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمار حتى تذهب العاهة قلت ومتى ذلك قال حتى تطلع الثريا ووقع في رواية بن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة عن أبيه قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة ونحن نتبايع الثمار قبل أن يبدو صلاحها فسمع خصومة فقال ما هذا فذكر الحديث فأفاد مع ذكر السبب وقت صدور النهي المذكور‘‘۔ (فتح الباری للإمام ابن حجر العسقلانی، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحہ، ج۴ص۳۹۵، ط:دار المعرفۃ، بیروت)

امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وطلوعها صباحا يقع في أول فصل الصيف، وذلك عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثمار، والمعتبر في الحقيقة النضج وطلوع النجم علامة له، وقد بينه في الحديث بقوله: ويتبين الأصفر من الأحمر‘‘۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری للإمام بدر الدین العینی، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحھا، ج۱۲ص۴، ط:دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

ارشاد الساری میں ہے: ’’قال أبو الزناد: (وأخبرني) بالإفراد (خارجة بن زيد بن ثابت) أحد الفقهاء السبعة والواو للعطف على سابقه (أن) أباه (زيد بن ثابت لم يكن يبيع ثمار أرضه حتى تطلع الثريا) النجم المعروف وهي تطلع مع الفجر أوّل فصل الصيف عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثمار، والمعتبر في الحقيقة النضج وطلوع النجم علامة له، وقد بيّنه بقوله: (فيتبين الأصفر من الأحمر) وفي حديث أبي هريرة عند أبي داود مرفوعًا: إذا طلع النجم صباحًا رفعت العاهة عن كل بلد. وقوله: كالمشورة يشير بها قال الداودي الشارح تأويل بعض نقلة الحديث وعلى تقدير أن يكون من قول زيد بن ثابت فلعل ذلك كان في أوّل الأمر، ثم ورد الجزم بالنهي كما بينه حديث ابن عمر وغيره. وقال ابن المنير: أورد حديث زيد معلمًا وفيه إيماء إلى أن النهي لم يكن عزيمة وإنما كان مشورة، وذلك حي الجواز إلا أنه أعقبه بأن زيدًا راوي الحديث كان لا يبيعها حتى يبدوَ صلاحها.

وأحاديث النهي بعد هذا مبتوتة فكأنه قطع على الكوفيين احتجاجهم بحديث زيد بأن فعله يعارض روايته ولا يرد عليهم ذلك أن فعل أحد الجائزين لا يدل على منع الآخر، وحاصله أن زيدًا امتنع من بيع ثماره قبل بدوّ صلاحها ولم يفسر امتناعه هل كان لأنه حرام أو كان لأنه غير مصلحة في حقه انتهى‘‘۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری للإمام القسطلانی، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحھا، ج۴ص۸۸، ط: المطبعۃ الکبری الأمیریۃ، مصر)

امام علی القاری علیہ رحمۃ الباری فرماتے ہیں: (وبه عن عطاء، عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا طلع النجم اللام للعهد (رفعت العاهة) أي الآفة عن كل بلد من زرعها وثمارها۔۔۔۔۔۔۔۔قال الخرقي: إنما أراد بهذا الحديث أرض الحجاز لأن في أبان يقع الحصاد بها وتدرك الثمار فيها وقال القبتي: أحسبه أراد عاهة الثمار خاصة. (شرح مسند أبی حنیفۃ للإمام علی القاری، ص۱۴۱، ط:دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام زرقانی لکھتے ہیں: ’’وَطُلُوعُهَا صَبَاحًا يَقَعُ فِي أَوَّلِ فَصْلِ الصَّيْفِ، وَذَلِكَ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَرِّ وَابْتِدَاءِ نُضْجِ الثِّمَارِ، وَهُوَ الْمُعْتَبَرُ فِي الْحَقِيقَةِ، وَطُلُوعُ النَّجْمِ عَلَامَةٌ لَهُ، وَقَدْ بَيَّنَهُ بِقَوْلِهِ فِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ مِنْ طَرِيقِ اللَّيْثِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ خَارِجَةَ عَنْ أَبِيهِ، فَزَادَ عَلَى مَا هُنَا فَيَتَبَيَّنُ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ‘‘۔ (شرح الزرقانی علی المؤطا، باب النھی عن بیع الثمار حتی یبد و صلاحھا، ج۳ص۳۹۵، ط:مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، القاھرۃ)

امام صغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وَقَدْ بَيَّنَ ذَلِكَ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ «كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْتَاعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَذَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ إنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدَّمَانِ وَهُوَ فَسَادُ الطَّلْعِ وَسَوَادُهُ مُرَاضٌ قُشَامٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ فَأَمَّا لَا فَلَا تَبْتَاعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرَةِ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَاتِهِمْ» انْتَهَى، وَأَفْهَمَ قَوْلُهُ كَالْمَشُورَةِ أَنَّ النَّهْيَ لِلتَّنْزِيهِ لَا لِلتَّحْرِيمِ كَأَنَّهُ فَهِمَهُ مِنْ السِّيَاقِ وَإِلَّا فَأَصْلُهُ التَّحْرِيمُ، وَكَانَ زَيْدٌ لَا يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنُ الْأَصْفَرَ مِنْ الْأَحْمَرِ. وَأَخْرَجَ أَبُو دَاوُد مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا «إذَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا رُفِعَتْ الْعَاهَةُ مِنْ كُلِّ بَلَدٍ» وَالنَّجْمُ الثُّرَيَّا وَالْمُرَادُ طُلُوعُهَا صَبَاحًا وَهُوَ فِي أَوَّلِ فَصْلِ الصَّيْفِ وَذَلِكَ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحُرِّ بِبِلَادِ الْحِجَازِ وَابْتِدَاءِ نُضْجِ الثِّمَارِ وَهُوَ الْمُعْتَبَرُ حَقِيقَةً وَطُلُوعُ الثُّرَيَّا عَلَامَةٌ‘‘۔ (سبل السلام للإمام محمد إسماعیل الصنعانی، بیع الثمر قبل بدو صلاحہ، ج۲ص۶۵، ط: دار الحدیث)

البدر التمام میں ہے: ’’والنجم هو الثريا، والمراد طلوعها صباحًا، وهو في أول فصل الصيف، وذلك عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز وابتداء نضج الثمار، وهو المعتبر حقيقة، وطلوع الثريا علامة له‘‘۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام، للحسین بن محمد المغربی، ج۶ص۲۱۳، ط:دار ھجر)

ان مندرجہ بالا شروحات کے علاوہ بھی اکثر شروحات میں اس مفہوم کی حدیث کو ’باب بیع الثمر قبل بدو صلاحہ یا باب النھی عن بیع الثمار حتی یبد و صلاحھا‘ کے تحت رکھا ہے، جس سے صاف واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سب لوگ اس بات کے قائل ہیں کی احادیث میں ثریا کے طلوع ہونے سے جو وبا دور ہوتی وہ پھلوں والی وبا ہے۔

بعض علما اس بات کے قائل ہیں کہ ثریا سے جو وبا ختم ہوجاتی ہے وہ انسانی اور پھلوں والی، دونوں وبا کو شامل ہے، امام مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’(أَبُو نعيم فِي الطِّبّ) النَّبَوِيّ (عَن عَائِشَة مَا طلع النَّجْم) يَعْنِي الثريا فانه اسْمهَا بالغلبة لعدم خفائها لكثرتها (صباحا قطّ) أَي عِنْد الصُّبْح (وبقوم) فِي رِوَايَة وبالناس (عاهة) فِي أنفسهم من نَحْو مرض ووباء أَو فِي مَالهم من نَحْو ثَمَر وَزرع (الا رفعت عَنْهُم) بِالْكُلِّيَّةِ (أَو خفت) أَي أخذت فِي النَّقْص والانحطاط وَمُدَّة مغيبها نَيف وَخَمْسُونَ لَيْلَة (حم عَن أبي هُرَيْرَة) باسناد حسن‘‘۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر، للإمام المناوی، ج۲ص۳۵۲، ط: مکتبۃ الإمام الشافعی، الریاض)

لیکن آپ ہی کی کتاب ’فیض القدیر‘ میں یہ بھی ہے: ’’قيل: أراد بهذا الخبر أرض الحجاز لأن الحصاد يقع بها في أيار وتدرك الثمار وتأمن من العاهة فالمراد عاهة الثمار خاصة‘‘۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، ج۵ص۴۵۴، ط: المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر)

امام سمعانی رحمہ اللہ زیر بحث حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وَذَلِكَ مثل الوباء والطواعين والأسقام وَمَا يشبهها‘‘۔ (تفسیر السمعانی، ج۶ص۳۰۶، ط: دار الوطن، الریاض)

دیگر ایک دو مفسرین کرام نے بھی یہی عام معنی لیا ہے، مگر اکثر محدثین کرام نے خاص معنی مراد لیا اور وہ یہی کہ ثریا کی وجہ سے جو وبا دور ہوگی وہ پھلوں کی وبا ہے۔

ثریا کی وجہ سے وبا تمام ملک یا پھر بعض ملک سے ختم ہوگی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ((إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ)) (الآثار للإمام أبی یوسف، باب الغزو و الجیش، ج۱ص۲۰۵، رقم:۹۱۷، ط:دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ثریا ستارہ طلوع ہونے سے ہر ملک کی وبا دور ہوجائے گی، مگر بعض محدثین کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ اس سے مراد حجاز کی وبا کا دور ہونا ہے۔

امام ابن بطال رحمہ اللہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’يعنى: الحجاز، والله أعلم‘‘۔ (شرح صحیح البخاری، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحھا، ج۶ص۳۱۶، ط:مکتبۃ الرشد، الریاض)

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وَقَوْلُهُ لِلْبَلَدِ يَجُوزُ أَنَّهُ يُرِيدُ الْبِلَادَ الَّتِي فِيهَا النَّخْلُ وَيَجُوزُ أَنْ يُرِيدَ الْحِجَازَ خَاصَّةً‘‘۔ (الاستذکار، باب النھی عن بیع الثمار حتی یبدو صلاحھا، ج۶ص۳۰۶، ط:دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’يعني: الحجاز‘‘۔ (التوضیح لشرح الجامع الصحیح للإمام ابن الملقن، باب بیع الثمار قبل أن یبدو صلاحھا، ج۱۴ص۴۸۸،  ط: دار النوادر، دمشق)

امام عراقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’كَمَا قَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحِجَازِ خَاصَّةً لِشِدَّةِ حَرِّهِ‘‘۔ (طرح التثریب فی شرح التقریب للإمام زین الدین العراقی، حدیث نھی بیع الثمار حتی یبدو صلاحھا، ج۶ص۱۲۶، ط: الطبعۃ المصریۃ القدیمۃ)

اور ان کے علاوہ بعض دیگر علما نے بھی حجاز ہی کے ساتھ اس وبا کو خاص قرار دیا ہے جیسا کہ اوپر مذکور شدہ بعض عبارتوں سے بخوبی واضح ہے۔

مہینہ اور تاریخ کی تعیین

            گزشتہ مباحث میں ذکر کردہ بعض احادیث سے معلوم ہوگیا کہ نجم سے مراد ثریا ستارہ جو صبح کو طلوع ہوہوتا ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ مزید وضاحت کر رہے ہیں کہ ثریا ستارہ مئی کے مہینہ کی بارہ تاریخ کو طلوع ہوگا، ملاحظہ فرمائیں:

’’وَطَلَبْنَا فِي أَيِّ شَهْرٍ يَكُونُ فِيهِ ذَلِكَ مِنْ شُهُورِ السَّنَةِ عَلَى حِسَابِ الْمِصْرِيِّينَ؟ فَوَجَدْنَاهُ بَشَنْسَ، وَطَلَبْنَا الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ فِيهِ ذَلِكَ فِي طُلُوعِ فَجْرِهِ مِنْ أَيَّامِهِ فَوَجَدْنَاهُ الْيَوْمَ التَّاسِعَ عَشَرَ مِنْ أَيَّامِهِ، وَطَلَبْنَا مَا يُقَابِلُ ذَلِكَ مِنَ الشُّهُورِ السُّرْيَانِيَّةِ الَّتِي يَعْتَبِرُ أَهْلُ الْعِرَاقِ بِهَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ أَيَارَ , وَطَلَبْنَا الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ ذَلِكَ فِي فَجْرِهِ فَإِذَا هُوَ الْيَوْمُ الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ أَيَّامِهِ , وَهَذَانِ الشَّهْرَانِ اللَّذَانِ يَكُونُ فِيهِمَا حَمْلُ النَّخْلِ - أَعْنِي بِحَمْلِهَا إِيَّاهُ ظُهُورَهُ فِيهَا لَا غَيْرَ ذَلِكَ - وَتُؤْمَنُ بِالْوَقْتِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مِنْهُمَا عَلَيْهَا الْعَاهَةُ الْمَخُوفَةُ عَلَيْهَا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ , وَاللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَسْأَلُهُ التَّوْفِيقَ‘‘۔ (شرح مشکل الآثار للإمام الطحاوی،  ج۶ص۵۷، رقم: ۲۲۸۶، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)

ثریا کی وجہ سے بیماری دور ہونا اغلبی یا دوامی

امام ابن عبد البر حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’هَذَا كُلُّهُ عَلَى الْأَغْلَبِ وَمَا وَقَعَ نَادِرًا فَلَيْسَ بِأَصْلٍ يُبْنَى عَلَيْهِ فِي شَيْءٍ‘‘۔ (التمہید لما فی الموطا من المعانی و الأسانید للإمام ابن عبد البر، ج۲ص۱۹۲، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية،  المغرب)

            اس تفصیلی بیان سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوگئیں:

            (۱)ایک دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے؛ اس لیے یہاں ثریا کی وجہ سے دور ہونے والی وبا عام نہیں بلکہ پھلوں والی وبا ہے۔

            (۲) اکثر علماے کرام ثریا کے ذریعہ پھلوں کی وبا دور ہونے کے قائل ہیں؛ اس لیے ہمیں ان احادیث کو انسانی وبا یا عام وبا پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔

            (۳) جن حضرات نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اکثر علما حدیث میں مذکور وبا سے انسانی وبا یا عام وبا مراد لیتے ہیں، وہ درست نہیں۔

            (۴) ثریا کے طلوع ہونے سے وبا کا دور ہونا اغلبی ہے لازمی نہیں۔

            تنبیہ: ثریا ستارہ میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں کہ وہ وبا دور کرے بلکہ اللہ تعالی نے اس کو صرف وبا دور ہونے کی علامت بنا یاہے، یعنی ہمار یہ عقیدہ ہونا ضروری ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے گا تبھی ثریا کے طلوع ہونے سے وبا دور ہوگی ورنہ نہیں جیسے کہ ہم کسی بیماری کی وجہ سے دوا کھاتے ہیں تو ہمارا یہی عقیدہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے تو ہی شفا حاصل ہوگی ورنہ نہیں۔

             اہم پیغام: بہر کیف ہم ثریا سے متعلق احادیث کو عام مانیں یا خاص، اتنے بیان سے تو یہ معلوم ہوگیا کہ جب علماے کرام کے درمیان زیر بحث موضوع احادیث کے تعیین معنی میں اختلاف ہے؛ تو یہ احادیث قطعی الدلالۃ نہ رہیں جن کی بنا پر یقینی طور پر یہ کہا جاسکے کہ انسانی وبا یا عام وبا مراد ہے اور پھر اس کی بنیاد پر حتمی طور سے یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ بارہ مئی کو ثریا طوع ہوتے ہی کرونا وائرس ختم ہوجائے گایا کم ہوجائے گا، البتہ بعض احادیث کے ظاہری معنی کو لے کر اور علما کے بعض اقوال کے پیش نظر اللہ جل شانہ سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ثریا کے طلوع سے یہ انسانی وبا کم  یا ختم کردے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعیین معنی میں اختلاف کے باوجود ہم یہ کہتے بیٹھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمادیا؛ تو بارہ مئی کو یہ ہوکر رہے گا اور نجات مل کر رہے گی، نہیں زیر بحث احادیث کے پیش نظر آپ ایسا نہیں کہ سکتے، اگر آپ ایسا کہیں گے ؛ تو آپ اسلام اور مسلمان کی جگ ہنسائی کا سبب بن سکتے ہیں، جیسا کہ اس بات سے جگ ہنسائی ہوئی کہ مسلمان کو کرونا وائرس ہوگا ہیں نہیں، خاص کر  اس وقت جب کہ زیر بحث احادیث کے تعیین معنی میں اختلاف کے ساتھ وبا دور ہونا اغلبی ہے یعنی کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ثریا طلو ع ہو اور وبا دور نہ ہو؛ لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ حد اعتدال قائم و دائم رکھیں اور کسی طرح بھی اسلام و مسلمان کے لیے جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں، مگر أنا عند ظن عبدی کے پیش نظر اللہ تعالی سے شفا یابی کی امید قوی رکھیں، اللہ تعالی ہم سب کو اپنے اپنے اعمال کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقہ ہم سب کو ہر وبا سے محفوظ رکھے، آمین۔

            اللہ تعالی کے فضل و کرم سے  یہ مضمون پانچ گھنٹے کے اندر مکمل ہوا، و الحمد للہ الذي بنعمته تتم الصالحات و صلی اللہ علی خیر خلقه محمد و آله و أصحابه أجمعین۔

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ

خادم مرکز تربیت افتا خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا

۲۶؍شعبان المعظم ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۱؍اپریل ۲۰۲۰ء

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/will-coronavirus-end-up-12/d/121656

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..