New Age Islam
Fri May 20 2022, 06:21 AM

Urdu Section ( 9 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Though The Denial of Urdu Language Rights in Bollywood Films Is Not a New Issue, It Should Be Considered Concluding Part بالی ووڈ کی فلموں میں اُردو کی حق تلفی کوئی نئی بات نہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے

انیس امروہوی

2  جنوری،2022

آخری حصہ

ہندوستانی سنیما پر اردو ادب کے اثرات اس بات سے بھی نمایاں ہوتے ہیں کہ اردو کے کئی شاہکار ناولوں او رکہانیوں پر فلمیں بنائی گئی ہیں۔ 1966 ء میں فلمساز ہنش چودھری نے شوکت تھانوی کے ناول ’ الٹی گنگا‘ پر ایک فلم ’ نیند ہمارے خواب تمہارے‘ بنائی تھی جس میں ششی کپور ، نندہ ،بلراج ساہنی اور اوم پرکاش مرکزی کردار میں تھے۔ یہ فلم اپنے گانوں کی مقبولیت کی وجہ سے بھی کافی کامیاب رہی تھی اورفلم شائقین کو خوب پسند ٓائی تھی۔

امراؤ جان میں ریکھا اور نصیر الدین شاہ

----------

اردو کا سب سے پہلا مکمل سماجی ناول ’ امراؤ جان ادا‘ کو مانا جاتا ہے۔ مرزا ہادی رسوا لکھنوی کے اس ناول پر 1981 ء میں مظفر علی نے ایک عمدہ فلم بنائی اوراس زمانے کے لکھنؤ کے نوابی اور ادبی ماحول کو کامیابی سے پیش کیا ۔ اس فلم میں ریکھا نے امراؤ جان کے کردار میں اپنی ادارکارانہ صلاحیتوں سے جان ڈال دی ہے۔فلم کے نغمے ، موسیقی اور کاسٹیوم وغیرہ سب عمدہ ہیں۔ خاص طور پر شوکت کیفی ، فاروق شیخ، نصیرالدین شاہ ، گجا نن جاگیر دار او رلیلا مشرا کی عمدہ اداکاری نے فلم کے مناظر کو حقیقت کے بے حد قریب محسوس کردیا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس فلم کو ، جو اُردو کے ایک مکمل سماجی ناول پر مبنی ہے، ہندی فلم کا سرٹیفیکٹ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اسی کے ناول پرفلمساز و ہدایت کار جے پی دتہ نے اداکارہ ایشویہ رائے اور ابھیشک بچن کے ساتھ فلم ’امراؤ جان ‘ بنائی ،اسے بھی ہندی فلم کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔

ناول ’ امراؤ جان ادا‘ اسے مشہور فلمساز و ہدایت کار کمال امروہی بھی متاثر رہے ہوں گے کیونکہ فلم ’ پاکیزہ ‘ کا مرکزی خیال بھی وہی ہے جو امراؤ جان کا ہے۔۔ مگر کمال امروہی ذہین آدمی تھے لہٰذا انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اس مرکزی خیال میں شہاب الدین ولد وہاب الدین او ران کی شاندار حویلی او راس خاندان کے ترقی پسند نوجوان فاریست آفیسر سلیم خان (راج کمار) کو شامل کردیا اوراپنی طرف سے چند اتفاقات پر مبنی ایک نئی کہانی بُن لی۔حالانکہ وہ امراؤ جان کے کوٹھے پر آنے والے ٹھیکے دار کو فراموش نہ کر سکے جس کوفلم ہیرو گولی مار دیتا ہے۔ اس سین کوبھی انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں مجرے کے دوران نواب آف پانی پت کے ذریعہ ٹھیکہ دار کے بے ادبی کرنے کی پاداش میں گولی چلوا کر زخمی کرادیا۔ بہر حال خوشی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک نہایت حسین ، خوشگوار اورمقبول ترین فلم بنائی۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ فلم ’ پاکیزہ‘ کا سنسر سرٹیفکیٹ اُردو فلم کا لیا۔

خواجہ احمد عباس کا تعلق بھی اردو ادب سے رہا ہے۔ وہ ایک زمانے میں ہمانشو رائے کی فلم کمپنی بمبئی ٹاکیز میں فلم پبلی سٹی کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی کئی یادگار فلمیں ہندوستانی سنیما کو دی ہیں۔ ان کی کہانی پر بمبئی ٹاکیز نے سب سے پہلے فلم ’ نیا سنسار‘ بنائی تھی۔ انہوں نے خود اپنی ہدایت میں سب سے پہلی فلم ’ دھرتی کے لال‘ بنائی، جو 1945 ء میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ عباس صاحب نے اس کے علاوہ بھی کئی فلمیں خود بنا ئیں جو کامیاب نہ ہوسکیں مگر جو فلمیں انہوں نے راج کپور کے لئے لکھیں ، وہ سب بے حد کامیاب رہیں۔ اسی طرح کرشن چندر اُردو کے ادیب تھے اور پوری طرح فلموں سے وابستہ تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے فلم ’ من کی جیت‘ کی کہانی لکھی تھی، جس کی ہدایت ڈبلیو زیڈ احمد نے دی تھی او رجو ش ملیح آبادی نے گانے لکھے ۔ شالیمار پکچرس کی یہ فلم 1945 ء میں نمائش کے لئے پیش ہوئی تھی۔ اس کے بعد کرشن چندر نے بہت ہی فلموں کی کہانیاں ،منظر نامے او رمکالمے لکھے۔ کرشن چندر یکساں طور پر اُردو ادب اور ہندوستانی سنیما میں مقبول رہے۔

اردو ادب کے حوالے سے ایک بہت اہم نام راجندر سنگھ بیدی کابھی ہے۔ انہوں نے کئی فلموں کی کہانیاں ،منظر نامے او رمکالمے لکھے اور خودبھی کئی فلمیں بنائیں ،جن میں ’دستک‘ کافی مقبول ہوئی۔ اس فلم میں سنجیو کمار اور اداکارہ ریحانہ سلطان نے مرکزی کردار ادا کئے تھے ۔ اس فلم کے ہیرو ہیروئین کو نیشنل ایوارڈ سے نوازاگیا تھا اورموسیقار مدن موہن کو بہترین موسیقار کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ راجندر سنگھ بیدی کو اس اس فلم کی نمائش کے بعد ہی پدم شری کا اعزاز دیا گیا تھا۔ ’ دستک‘ کے بعد ’ پھاگن‘ اور ’’ آنکھیں دیکھی، اپنی دھرتی اپنا دیش، نواب صاحب ‘‘ وغیرہ فلمیں بنائیں ۔ فلم ’ مرزاغالب‘ کی کہانی سعادت حسن منٹو نے تحریر کی تھی مگر درمیان ہی میں منٹو نے پاکستان کی طرف ہجرت کی تو راجندر سنگھ بیدی نے نہ صرف کہانی او رمنظرنامے مکمل کرائے بلکہ فلم ’ مرزا غالب ‘ کے مکالمے بھی لکھے ۔ اس کے علاوہ دلیپ کمار کی’ دیوداس ‘ اور’ مدھومتی ‘ اوردھرمیندر کی ’ ستیہ کام‘ وغیرہ میں بھی راجندر سنگھ بیدی کامختصر ناول ‘ ایک چادر میلی سی‘ بہت مقبول رہا ہے۔ یہ ناول فلمساز و ہدایتکار کمال امروہی کوبھی بہت پسند تھا۔ بیدی کے انتقال کے بعد ان کے اس ناول پر 1986 ء میں ہدایتکار سکھونت دادا نے ہیما مالنی ،رشی کپور او رکل بھوشن کھر بندہ کو لے کر ایک اچھی فلم بنائی تھی۔ پاکستان میںبھی اداکارہ سنگیتا نے بیدی کی کہانی’ ناولٹ‘’ ایک چادر میلی سی ‘ پر فلم بنائی تھی۔ بیدی کی کہانی ’ گرم کوٹ‘ پر بھی ایک عمدہ فلم بنائی گئی۔

مرزاغالب اردو زبان ادب کے عالمی شہرت یافتہ شاعر رہے ہیں ۔ غالب کی زندگی کے واقعات او ران کے خطوط کے مدد سے مشہور زمانہ فلمساز وہدایتکار سہراب مودی نے 1954 ء میں ’ مرزا غالب‘ نام سے فلم بنائی جو بے حد کامیاب ہوئی ۔ ثریا اور بھارت بھوشن نے مرکزی کردار ادا کئے تھے اور اس فلم کی غزلیںبے حد مقبول ہوئی تھیں۔ اس فلم کی کہانی سعادت حسن منٹو اورمکالمے راجندر سنگھ بیدی نے تحریر کئے تھے۔

امرتاپریتم حالانکہ پنجابی زبان کی شاعرہ تھیں مگر ان کی تقریباً تمام تخلیقات اردو زبان میں بھی شائع ہوئی ہیں۔امریتا پریتم کا ناول ’ پنجر‘ بھی اردو میں شائع ہوکر بھی مقبول ہوچکا ہے۔ اس ناول پر بھی بڑی خوبصورت فلم ’ پنجر‘ ہماری فلم انڈسٹری میں 2003 ء میں بنی ہے۔ اس میں منوج واجپائی اورارمیلا ماتونڈکر نے مرکزی کردار ادا کئے ہیں ۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان و ادب نے ہندوستانی سنیما کے ذریعہ ہمارے پورے معاشرے پر کافی مثبت اثرات مرتب کئے ہیں ۔ تقسیم ہند کے ساتھ ساتھ جہاں دلوں کی تقسیم ہوئی ہے، وہیں اردو زبان کو ایک سازش کے تحت ایک بڑے طبقے نے صرف مسلمانوں کی زبان کاعنوان دے دیا۔گز رتے وقت کے ساتھ ساتھ اردو کے خلاف سازشوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور ایسی بہت سی فلموں کو اردو کافلم سنسر سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا جن زبان اردو تھی۔ حالانکہ 70 ء کے دہائی سے قبل کسی بھی فلم کا پوسٹر ایسا نہ ہوتا تھا جس میں فلم کا نام اردو میں لکھا ہوا نہ ہوتا ہو اور فلم کے ٹائٹل میں اردو میں فلم کا نام نہ جاتا ہو۔ ہمارے ملک میں مختلف صوبائی زبانوں کی بہت ساری فلمیں بھی بنتی ہیں اور ان سرٹیفکیٹ صوبائی زبان ہی کو ہوتاہے، جیسے تمل ، ملیالم، پنجابی، گجراتی، بنگالی اوربھوجپوری وغیرہ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ فلموں کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اردو ہونے کے باوجود اردو زبان کی فلمیں یہاں نہیں ہوتیں ،سوائے چند باہمت و با حوصلہ فلمساز وں کے،جنہوں نے اپنی فلموں کے سرٹیفکیٹ اردو زبان کے حاصل کئے ہیں ۔

اگر ہندوستانی سنیما کی تاریخ کامطالعہ کریں تو جذبات کی عکاسی ،کردار کی پختگی، مکالموں کا جادو، فلمی نغموں کا سرور، جو ہمارے معاشرے کے سرچڑھ کر بولتا ہے، اس کی وجہ صرف اورصرف اردو زبان ہی ہے۔ ہماری تاریخ ساز کامیاب او رمقبول ترین فلمیں ’’مغل اعظم، انار کلی، پکار، مرزاغالب، تاج محل، جنون، شطرنج کے کھلاڑی، غزل، لیلیٰ مجنوں، چودھویں کا چاند، نور جہاں، پالکی، جہاں آرا، رضیہ سلطان ، پاکیزہ، میرے محبوب، صاحب بیوی اور غلام، بازار اور میرے حضور‘ وغیرہ سینکڑوں فلموں کی زبان مکمل اردو ہے۔ان تمام فلموں کے بے شمار نغمے، غزلیں اور قوالیاں آج بھی عوام و خواص میں بے حد مقبول ہیں۔ اسی طرح کئی فلموں کے مکالمے جو ہمارے معاشرے میں زبان زد خاص و عام ہیں ، وہ بھی اردو ہی کے مکالمے تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہمارے ہندوستانی مخلوط معاشرے میں جو زبان اردو یا ہندوستانی کے نام سے استعمال ہورہی ہے، اس کو قائم رکھنے میں ہماری فلموں کابہت زیادہ دخل رہاہے مگر افسوس اسی بات کا ہے کہ اس کا تمام تر کریڈٹ دوسری زبان کو چلاجاتا ہے ۔ آج تمام تر فلمساز اپنے تجارتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی فلموں کے سرٹیفکٹ دوسری زبانوں کے بنواتے ہیں جب کہ ان فلموں کی زبان ، ان کے مکالمے اورنغمے سب اردو میں ہوتے ہیں ۔ اس طرح اردو کے  حصے میں اتنی فلمیں بھی نہیں آتیں جتنی کہ کسی ایک صوبائی زبان کے کھاتے میں آجاتی ہیں۔ افسو س کی بات تو یہ ہے کہ اگرکبھی کوئی معیار فلم جیسے ’ محافظ‘ یا ’ نسیم‘ بن بھی جاتی ہے تو وہ اتنے ناظرین بھی اکٹھے نہیں کر پاتی جتنے کوئی دوسری اول جلول فلم آسانی سے بھیڑ جمع کرلیتی ہے۔ ہندوستانی سنیما کے سو برس لاسفر مکمل ہوجانے کے بعد ہمیں اس بات پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ فلموں میں زبان کے تعلق سے اردو کی حق تلفی نہ ہو۔

2 جنوری، 2022 ، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

Part: 1- The Influence of Urdu Literature on Indian Cinema Has Been Visible Since the Beginning and Continues To This Day ہندوستانی سنیما پر اردو ادب کے اثرات اوّل دن سے نمایاں رہے ہیں اور آج بھی ہیں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/urdu-language-bollywood-films-concluding-part/d/126121

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..