New Age Islam
Sat Aug 13 2022, 09:48 AM

Urdu Section ( 14 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Traditional Islamic Opinion on the Importance and Necessity of Hijab اسلام میں حجاب کی اہمیت و ضرورت

بدر الدجیٰ رضوی مصباحی، نیو ایج اسلام

15 فروری 2022

حجاب کا معنی و مفہوم

حجاب کا لغوی معنی پردہ اور رکاوٹ ہے ۔ بلفظ دیگر ہر وہ شی جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو، اسے حجاب کہتے ہیں۔ دربان کو حاجب اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ مالک کی اجازت کے بغیر اندر آنے والوں کو روک دیتا ہے۔ اسی طرح آنکھ اور بھوؤں کو "حاجب" اور "حواجب" اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ضرر رساں چیزوں کو آنکھوں میں پڑنے سے روک دیتی ہے۔

عرف عام میں ہر وہ چیز جو عورت کو غیر محارم کی نگاہوں سے بچائے اسے حجاب اور پردہ کہتے ہیں۔ آیت حجاب اور شان نزول :

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالتﷺ میں عرض کیا : یارسول اللہ ! ﷺ آپ کی خدمت میں نیک و بد ہر قسم کے لوگ آتے ہیں کاش کہ آپ ازواج مطہرات کو پردے کا حکم فرماتے۔ اس وقت یہ آیت حجاب نازل ہوئی :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ الخ [ الأحزاب الآیۃ : 53] تفسیر ابی سعود, الجزء السابع, ص 112(

اس آیت مبارکہ کے شان نزول کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام ایک بار اپنے بعض صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اسی اثناء میں اضطرارا کسی کا ہاتھ أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سے لگ گیا ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ ناگوار لگا۔ اس وقت آیت حجاب نازل ہوئی۔

لیکن صاحب تفسیر ابی سعود نے اسے قیل سے بیان کیا ہے اس لیے قول راجح پہلا ہی قول ہے۔

اس آیت کا شانِ نزول اگرچہ خاص ہے، لیکن یہ حکم تمام مومنوں کے گھروں کے لیے عام ہے۔ لہذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی کے گھر جائے تو بغیر اجازت گھر کے اندر قدم نہ رکھے۔ یہ حکم فطرت کے تقاضے کے عین مطابق بھی ہے، اس لیے کہ مرد کام کاج یا دیگر ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکل جاتے ہیں۔ عورتیں گھروں میں تنہا رہ جاتی ہیں، نیز ہمہ وقت ستر عورت کی بھی احتیاط نہیں کر پاتی ہیں۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہیں ؟ ایسی حالت میں کسی کا گھر میں بے اجازت آجانا عقلِ سلیم کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے سکتی اور اگر شوہر گھر میں ہے بھی تو میاں بیوی نہ جانے کس حال میں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مخصوص حالت میں ہوں ایسی صورت میں ان پر کسی اجنبی کی نظر پڑ جائے تو یہ ان کے لیے شرم کا باعث ہوگا۔ اسی لیے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے کہ جب کسی کے گھر جائیں تو پہلے صاحب خانہ سے اجازت لے لیں پھر گھر میں داخل ہوں۔ آگے چل کر ہم اس پہ مزید روشنی ڈالیں گے۔

 سردست ہم یہاں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پردہ نہ صرف یہ کہ عورت کا محافظ ہے بلکہ اس کی عزت و آبرو، عفت و پارسائی کا ضامن بھی ہے۔ پردہ عورت کو عزتِ نفس اور وقار عطا کرتا ہے۔ ایک عورت کی پرسکون زندگی کا راز پردے ہی میں مضمر ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ احزاب اور سورہ نور کی آیات میں عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔

 اللہ فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الأحزاب، الآیۃ: 59)

ترجمہ: اے نبی، اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (کنز الایمان)

اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات سے لے کر اسلام کی دیگر شہزادیوں تک کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو چادر سے اپنے جسم اور منہ کو ڈھانک کر نکلیں تاکہ گلی، کوچے، چوراہوں اور نکڑ پر آوارہ گردی کرنے والے یہ جان لیں کہ یہ ایک شریف، پاکباز اور باحیا عورت ہے اور وہ انھیں چھیڑنے کی جسارت نہ کر سکیں۔

آج ہم اپنے گرد و پیش میں یہ دیکھتے ہیں کہ جو عورتیں حجاب اور پردے کا التزام کر کے گھر سے باہر نکلتی ہیں وہ حرص و ہوس کا بہت کم شکار ہوتی ہیں۔ انسانی بھیڑیے ان کو چھیڑنے اور ان کے قریب آنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے ہیں۔ اس کے بر خلاف وہ عورتیں جو بے پردہ گھر سے باہر نکلتی ہیں وہ بہت جلد جنسی تسکین کا سامان بن جاتی ہیں اور سر راہ ان کی عزت و آبرو کا جنازہ نکل جاتا ہے اور بسا اوقات ان کا اغوا ہو جاتا ہے اور نوبت ہلاکت تک پہنچ جاتی ہے۔

 لھذا خواتین اسلام کو چاہیے کہ وہ یورپی تہذیب اور فلمی اداکاراؤں کی روش پر نہ چلیں جو نیم برہنہ یا یکسر برہنہ ہو کر اپنے حسن اور نسوانی اعضا کی نمائش کرتی ہیں اور اخبارات و رسائل اور اشتہارات کی زینت بن کر بڑی بڑی کمپنیوں کی تجارت کو فروغ دیتی ہیں اور چند سکوں کے بدلے اپنی عزت و آبرو کا سودا کر بیٹھتی ہیں۔ مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ صحابیات کے نقش قدم پر چلیں، ان کی سیرت اور طرز زندگی کا مطالعہ کریں بالخصوص أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور شہزادیِ رسول حضرت سیدہ فاطمہ زہرا کی سیرت کو دیکھیں اور ان کی زندگی اور تعلیمات کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں!!

اب ہم افادہ عام کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ان کے طرز زندگی اور تعلیمات کے کچھ نقوش پیش کرتے ہیں۔

أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آیتِ حجاب کے نزول سے پہلے ہی پردے کا خاص اہتمام کرتی تھیں اور آیتِ حجاب کے نزول کے بعد تو یہ ان کی زندگی کا لازمہ بن گیا تھا یہاں تک کہ جب آپ کسی عورت کو بےپردہ دیکھ لیتیں تو بھڑک جاتیں اور پردے کی سخت تاکید کرتیں۔

حضرت حفصہ بنت عبد الرحمٰن آپ کی بھتیجی تھیں۔ ایک بار وہ باریک قسم کا دوپٹہ اوڑھ کر آپ سے ملنے کے لیے آئیں۔ آپ باریک دوپٹہ دیکھتے ہی غضبناک ہو گئیں اور دوپٹہ لے کر اسے پھاڑ دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتی ہو کہ اللہ نے سورہ نور میں کیا حکم فرمایا ہے ؟ (طبقات ابن سعد ج: 8, ص: 50)

ایک بار آپ ایک گھر میں بحیثیت مہمان تشریف لے گئیں تو دیکھا کہ صاحبِ خانہ کی دو جوان لڑکیاں بے چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ نے سخت تاکید کی کہ کوئی لڑکی بےچادر اوڑھے نماز نہ پڑھے۔ (سیرت عائشہ بحوالہ مسند احمد ج: 6 ، ص: 96)

 عورتوں کو ایسا زیور پہننا جن سے آواز پیدا ہو ، شرعا ممنوع ہے۔ ایک بار ایک لڑکی گھنگرو پہنا کر آپ کے پاس لائی گئی آپ نے دیکھ کر فرمایا: یہ پہنا کر میرے پاس نہ لایا کرو اس کے گھنگرو کاٹ ڈالو! ایک عورت نے اس کا سبب دریافت کیا۔ بولیں اللہ کے رسول نے فرمایا ہے کہ: جس گھر میں یا جس قافلہ میں گھنٹہ بجتا ہے وہاں فرشتے نہیں آتے ہیں۔ [سیرتِ عائشہ بحوالہ مسند احمد ج 6 ص 225/ 240]

 اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایک لڑکی لائی گئی ، جس کے پیر میں گھنگرو تھے، آپ نے انھیں کاٹ دیا اور فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ ہر گھنگرو کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ۔ [اسلامی اخلاق و آداب]

ایک بار شام کی کچھ عورتیں آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں۔ وہاں ( شام ) حمام میں جاکر عورتيں برہنہ غسل کرتی تھیں۔ آپ نے فرمایا تم وہی عورتیں ہو جو حمام میں جاتی ہو۔ حضور علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے: جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اللہ میں پردہ دری کرتی ہے۔ [ایضا بحوالہ مسند احمد ج : 6 ص: 173]

حضرت اسحاق تابعی ایک نابینا آدمی تھے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پردہ فرمایا، تو وہ بولے مجھ سے کیسا پردہ؟ میں تو ایک نابینا آدمی ہوں آپ نے فرمایا: لیکن میں تو تمھیں دیکھتی ہوں [طبقاتِ ابن سعد جزء نساء ص : 47]

یہ أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کا کمال احتیاط ہے کہ جب آپ کے حجرے میں امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی تدفین ہوگئی تو اس کے بعد آپ اپنے حجرے میں بغیر پردہ کیے نہیں جاتی تھیں، جب کہ انتقال کر جانے والوں سے شرعا کوئی پردہ نہیں ہے۔

عہدِ رسالت ﷺ میں عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت تھی اور وہ نماز کے لیے مسجد میں جایا بھی کرتی تھیں، لیکن جب عورتوں کا مسجد میں جانا فتنے کا باعث بن گیا تو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عہد خلافت میں عورتوں کا مسجد میں جانا ممنوع قرار دے دیا۔ عورتوں نے جب اس کی شکایت أم المؤمنین حضرت عائشہ سے کی تو آپ نے فرمایا: حضرت عمر فاروق کو اس وقت کی عورتوں کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا اگر اللہ کے رسول ﷺ نے اسے دیکھا ہوتا تو وہ بھی تمھیں مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ [فتح القدیر مع الکفایہ ج : 1 ص : 317]

یہ عہد فاروقی کی بات تھی کہ انھیں نماز کے لیے مسجد میں جانے سے روک دیا گیا۔ آج کے ماڈرن دور میں عورتوں کا کیا حال ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بے پردگی، عریانیت، خود نمائی اور ایسی ایسی حیاسوز حرکتیں ہیں کہ خدا کی پناہ !

 اسلام کی شہزادیو ! خدارا اپنے حسن کی نمائش نہ کرو ۔ اللہ ورسول کے فرامین کے مطابق اپنی زندگی گزارو اسی میں دنیا و آخرت میں بھلائی اور خیر ہے۔

اسلام میں پردے کا اس قدر اہتمام ہے کہ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بھی چلنے ، پھرنے میں پاؤں آہستہ رکھیں تاکہ ان کے زیور کی جھنکار نہ سنائی دے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ ۔[النور ، الآیۃ : 31]

ترجمہ: اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار (کنز الایمان)

حدیث میں زیور کی آواز کو دعا کی عدمِ قبولیت کا سبب قرار دیا گیا ہے تو خاص عورت کی بے پردگی کس قدر غضب‌ِ الہی کا باعث ہوگی ۔ یہ آپ محسوس کرسکتے ہیں۔

 کس سے پردہ ہے کس سے نہیں ہے؟

 اس کی صراحت اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں کی ہے ، جس میں اصول و فروع سب داخل ہیں۔

"وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ " (النور ۳۱)

ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (کنز الایمان)

اس آیت مبارکہ میں ان افراد کو بیان کیا گیا ہے جنھیں عورت کے اس حصہ بدن کو دیکھنا جائز ہے جو شرم گاہ (مواضع ستر یعنی بدن کے وہ حصے جنہیں چھپانا لازم ہے) میں داخل نہیں ہیں یا جن کے سامنے عورت اس حصہ بدن کو کھلا رکھ سکتی ہے جنھیں کھولے بغیر وہ اپنا گھریلو کام انجام نہیں دے سکتی۔ مثلا آٹا گوندھنے کے لیے آستین کا اوپر چڑھا لینا، مکان کا فرش دھلنے کے لیے شلوار کے پائنچوں کو کچھ اوپر کرلینا۔

(1) شوہر: اس فہرست میں سب سے اوپر شوہر ہے عورت کے لیے شوہر سے کوئی پردہ اور حجاب نہیں ہے۔

 (2) باپ: اس میں اصول بھی داخل ہیں، مثلا دادا، پردادا، نانا اور پرنانا۔ اس لیے کہ یہ سب باپ کے زمرے میں ہیں۔ اس میں چچا اور ماموں بھی ہیں۔

 (3) شوہر کا باپ: یعنی عورت کا خسر، شوہر کے دادا، پردادا، نانا اور پرنانا بھی اس میں داخل ہیں۔

 (4) بیٹے: اس میں فروع بھی داخل ہیں مثلا پوتے، پرپوتے اسی طرح بیٹی کی اولاد اور اس کے فروع مثلا نواسے، پرنواسے۔

 (5) بھائی: عورت اپنے بھائی کے سامنے اس حصہ بدن کو کھلا رکھ سکتی ہے جو شرم گاہ میں داخل نہیں ہے ، خواہ دونوں ایک ہی ماں باپ سے ہوں یا دونوں کی ماں الگ الگ اور باپ ایک ہو یا باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو یعنی دونوں حقیقی بھائی بہن ہوں یا سوتیلے ہوں یا ان میں رضاعت ہو۔

(6) بھتیجے: عورت اپنے بھتیجے کے سامنے آسکتی ہے خواہ دونوں سگے ہوں یا سوتیلے یا رضاعی (دودھ شریک) ہوں۔

(7) بھانجے: عورت بھانجے کے سامنے بھی آسکتی ہے خواہ حقیقی بھانجا ہو یا سوتیلا یا دودھ شریک ہو اسی طرح اس کی اولاد کے سامنے بھی آ سکتی ہے۔

(8) اپنی ہم مذہب خواتین: اس کا مطلب یہ ہےکہ کافرہ عورت اسلام میں اجنبی مرد کے حکم میں ہے، لھذا مومنہ عورت کو جیسے اجنبی مرد سے پردہ کرنا واجب ہے ویسے ہی اسے کافرہ عورت سے بھی پردہ کرنا واجب ہے۔ بلکہ فقہا نے یہاں تک فرمایا ہے کہ فاحشہ اور بدکار عورت اگر چہ وہ مسلمان ہو پارسا مسلم عورتوں کے پاس نہ آنے پائے اس لیے کہ اس کی آمد و رفت سے فتنے کا اندیشہ ہے ظاہر ہے سنگت اثر کرتی ہے۔

(9) کنیز اور نوکر: نوکر سے وہ لوگ مراد ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لیے گھروں میں کام کرتے ہیں ان کے سامنے بھی عورت آسکتی ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اب ان میں اعصابی قوت جواب دے گئی ہو اور وہ بوڑهے ہو چلے ہوں۔ جنسی میلان اور عورت کی طرف ان کی رغبت ختم ہو چکی ہو اور وہ کسی قابل نہ رہ گئے ہوں۔ اسی کے ساتھ وہ صالح اور نیک طبیعت کے ہوں۔ لھذا اس میں وہ جوان لڑکے داخل نہیں ہوں گے جو نوکری کے نام پر دھڑلے سے گھروں میں آتے جاتے ہیں اور بدکاری کا باعث بنتے ہیں۔

(۱۰) بچے: اس سے کمسن اور نادان بچے مراد ہیں جو جنسیات اور عورتوں کے خفیہ معاملات سے واقف نہیں ہوتے اور شہوانیت سے نابلد ہوتے ہیں۔

عورت اور ستر عورت کی مقدار اور احکام

عورت : وہ حصہ بدن ہے جس کا چھپانا مرد و عورت کے لیے ضروری ہے۔ مرأة: کو عورت اسی لیے کہتے ہیں کہ اسے بھی چھپ چھپا کر پردے میں رہنا لازم ہے۔

مرد کی شرم گاہ کی حد اور اس کا حکم:

احناف کے نزدیک مرد کا وہ حصہ بدن جو اس کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر ہے یہ سارے حصے شرم گاہ میں داخل ہیں۔ احناف کے نزدیک ناف شرم گاہ میں داخل نہیں ہے اور گھٹنا داخل ہے اور شوافع کے نزدیک اس کے برعکس ہے یعنی ان کے نزدیک گھٹنا شرم گاہ میں داخل نہیں ہے اور ناف اس میں داخل ہے۔ احناف نے گھٹنوں کے شرم گاہ میں داخل ہونے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے حجت قائم کی ہے "الرکبة من العورة"۔ حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ کے نزدیک مرد کے پاخانہ اور پیشاب کا مقام عورت ہے باقی اس کا کوئی حصہ بدن عورت نہیں ہے۔ [رد المحتار مع الدر المختار ج:1، 297 /ھدایہ اولین ج: 1، ص: 76]

آزاد عورت کی شرم گاہ کی حد اور اس کاحکم

آزاد عورت اور خنثی مشکل کا جمیع بدن شرم گاہ میں داخل ہے صرف اس کا چہرہ، دونوں ہتھیلیاں اور اس کے پیر کے دونوں تلوے شرم گاہ میں داخل نہیں ہیں۔ یعنی اس کا سارا بدن عورت ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے لٹکے ہوئے بال اور دونوں ہاتھوں کی کلائیاں بھی شرم گاہ میں داخل ہیں آزاد عورت کو ان کا بھی چھپانا ضروری ہے۔ در مختار میں ہے:

"(وللحرة) و لو خنثی (جمیع بدنھا) حتی شعرھا النازل فی الاصح (خلا الوجہ و الکفین) و القدمین علی المعقد"[الدر المختار مع رد المحتار ،ج: 1،ص: 298]

احکام

(1) غیر محرم اور غیر محرمہ مرد و عورت میں سے ہر ایک کو دوسرے کے اس حصۂ بدن کو دیکھنا جو عورت میں داخل ہیں ؛ بالاجماع حرام ہے۔

(2) محرم اور محرمہ مرد و عورت میں سے ایک کو دوسرے کے دیکھنے کے بارے میں درج ذیل دو قول ہیں:

(1) ناف کے اوپر اور گھٹنوں کے نیچے دیکھنا مباح ہے۔ یہی قول صحیح ہے اس لیے کہ محرمہ کا یہ حصہ بدن محرم مرد کے لیے عورت نہیں ہے، لھذا محرم کو اس کا دیکھنا جائز ہے۔رد المحتار میں ہے۔

"ولا شبھة انہ یجوز النظر الی صدر محرمة و ثدیھا فلا یکون عورة منھا" [الدر المختار مع رد المحتار ،ج: 1،ص:298]۔ خدمت اور کام کے وقت جو حصہ بدن نظر آتا ہے صرف اس کا دیکھنا جائز ہے۔

چشم و ابرو کا کمال

"چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے" ع

یعنی آنکھیں بے زبان ہو کر بھی باتیں کرتی ہیں، بلکہ زبان جو کام مہینوں میں نہیں کرسکتی نگاہ وہ کام لمحوں میں کر دکھاتی ہے۔ کمان سے نکلا ہوا تیر تو خطا کرجاتا ہے، لیکن تیرِ مژگاں کبھی خطا نہیں کرتا اور یہ جگر کے پار بھی نہیں ہوتا کہ شکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور راحت و آرام کی نیند سوجائے بلکہ جب یہ جگر میں پیوست ہوتا ہے تو نہ جیتے بنتا ہے، نہ مرنے۔

غالب کی زبان میں آپ اسے یوں کہہ سکتے ہیں:

"کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا"

اسی طرح ایک اور شاعر نے کہا ہے:

"پیغام دیا ہے کبھی پیغام لیا ہے

نظروں سے محبت میں بڑا کام لیا ہے"

حاصل یہ ہے کہ نگاہ پیغام رسانی کا ایک خاموش ذریعہ ہے اور جب یہ اپنا رنگ جماتی ہے ، تو اچھے اچھوں کے قدم پھسل جاتے ہیں اور اس کا زہر جب رگ و پے میں اثر کرتا ہے تو آسانی کے ساتھ اترنے کا نام نہیں لیتا۔

"رگ و پے میں جب اترے زہرِ غم پھر دیکھئے کیا ہو

ابھی تو تلخی کام و دہن کی آزمائش ہے"

بلکہ نگاہ شہوت کی ایک اہم قاصد اور محتاط پیغامبر ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے نظر، پھر مسکراہٹ، پھر سلام، پھر ملاقات، پھر وعدہ، پھر عہدو پیمان ، پھر........

مشہور قول ہےکہ: پہلے نظر بہکتی ہے ، پھر دل بہکتا ہے، پھر ستر بہکتا ہے، اسی لیے اسلام نے تمام مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہوں کی حفاظت کی سخت تاکید کی ہے اور حکم دیا ہے کہ جب وہ گھروں کی چہار دیواری کے باہر قدم نکالیں تو اپنی نگاہوں کو جھکاکر رکھیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :

"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ" [النور، الآیۃ: 30]

مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے (کنز الایمان)

 اسی طرح اللہ نے مومن عورتوں کو بھی اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کا درس دیا ہے اور نہایت مؤثر پیرایہ بیان میں اس کا احاطہ کیا ہے. اللہ فرماتا ہے:

"وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ " [النور، الآیۃ: 31]

 ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں میں ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں.( کنز الایمان )

جیسے عورتوں کی ساخت نرم و نازک ہوتی ہے ویسے ہی ان کا دل بھی نرم ہوتا ہے۔ ان کی طبیعت انفعالی ہوتی ہے وہ بہت جلدی خارجی اثرات قبول کر لیتی ہیں۔ اسی لیے انھیں سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اجنبی لوگوں سے اپنی نگاہیں چار نہ کریں اور محرمین کے سوا کسی پر بھی اپنی زیب و زینت، بناؤ سنگار ظاہر نہ کریں اور جب گھر سے باہر نکلیں تو ہمیشہ پردے کا التزام کریں۔

أم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور میمونہ (أم المؤمنین) بارگاہ رسالت میں حاضر تھیں ایک نابینا صحابی حضرت ابن ام مکتوم (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کسی ضرورت سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں پردے میں جانے کا حکم فرمایا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ! ﷺ کیا ابن ام مکتوم نابینا نہیں ہیں ؟ حضور نے ارشاد فرمایا کیا تم دونوں اندھی ہو ؟ [ سنن ترمذی ، ابواب الادب / باب ماجاء فی اجتناب النساء]

ایک حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا : النظرُ سھْم مَسمُوم من سِھام ابلیس [اتہاف السادۃ, جلد 11 ,کتاب الصبر و الشکر, ص 67, دار الکتب العلمیہ بیروت] ترجمہ: نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔

بلکہ حدیث میں زنا کے جو اسباب اور مقدمات ہیں ، انھیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایک مسلمان کو ان سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں : آنکھوں کا زنا: نامحرم عورت کی طرف دیکھنا ہے۔ کانون کا زنا ، حرام آواز کا سننا ہے۔ زبان کا زنا (ناجائز) کلام کرنا ہے۔ ہاتھ کا زنا ( ناجائز) پکڑنا ہے۔ پیر کا زنا (ناجائز) کام کی طرف چل کر جانا ہے۔ اور دل خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ ( مسلم، کتاب القدر، باب قدر ابن آدم حظہ من الزنا)

اسلام میں افراط و تفریط کا کوئی بھی تصور نہیں ہے۔ مذہب اسلام اعتدال کا داعی اور نقیب ہے۔ ہر کسی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جہاں آمدورفت کی گرم بازاری ہو، مردوزن کا ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو کاریالیہ اور آفسوں میں مرد اور جنس مخالف ایک ساتھ کام کر رہے ہوں، سفر اور دیگر مواقع پر عورت اور مرد کا آمنا سامنا ہو وہاں پر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کسی مرد یا عورت کی ایک دوسرے پر نظر نہ پڑے۔ نظر تو نظر ہے اٹھ ہی جاتی ہے۔ اس قسم کا سوال حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ہوا تھا حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے اچانک پڑجانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "اصرِف بصرک" یعنی "اپنی نظر پھیر لو" (سنن ابی داؤد کتاب النکاح / باب فی یومر بہ من غض البصر)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی غیر محرم عورت پر قصد و ارادہ کے بغیر اچانک نظر پڑجائے تو یہ پہلی نظر ہے اور یہ معاف ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ نظر پڑتے ہی فورا ہٹا لی جائے اگر دوبارہ نظر ڈالی تو پھر اس میں قصد و ارادے کا عنصر شامل ہوجائے گا اور یہ آنکھ کے زنا کے زمرے میں آجائے گا اور اب اس دوسری نظر پر مواخذہ ہوگا۔ اسی طرح عورتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بالقصد کسی غیر محرم مرد کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں بلکہ عورت کا کسی غیر محرم کو دیکھنا یہ مرد کی بنسبت زیادہ ضرر رساں ہے۔

۔۔۔

مولانا بدر الدجیٰ رضوی مصباحی، پرنسپل مدرسہ عربیہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد، ضلع مئو، یوپی، (انڈیا) ایک صوفی مزاج ، بااخلاق ، بلند پایہ مدرس ، عمدہ مصنف ، اچھے شاعر اور ہر دلعزیز خطیب ہیں۔تدریسی تقریری مصروفیات کے باوجود آپ کی متعدد کتابیں معرض وجود میں آئیں جن میں سے بعض مشہور یہ ہیں : ۱) فضیلت رمضان،۲) زاد الحرمین ، ۳) مخزن طب،۴) منطق پر لکھی گئی زبردست اور معروف کتاب ‘‘ملا حسن’’ کی شرح بنام ‘‘توضیحات احسن’’، ۵) محاضرات فی حل قطبی تصورات (افاضۃ الرضوی فی حل میر قطبی)، ۶) تہذیب الفرائد شرح ‘‘شرح العقائد’’، ۷) اطایب التھانی فی حل مختصر المعانی ، ۸) شرح صحیح مسلم

-----------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/traditional-islamic-opinion-necessity-hijab/d/126374

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..