New Age Islam
Sun Oct 17 2021, 09:06 PM

Urdu Section ( 28 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Issue of Muslim Feminism and the Restructuring of Islamic Thought مسلم تانیثیت اور فکر اسلامی کی تشکیل نو کامسئلہ

عبد الحمید نعمانی

24 دسمبر 2020

وقت ،نظریہ و نظام حیات کے ساتھ چلے گا یا نظریہ و نظام حیات، وقت کے ساتھ ؟اس سوال کے وسیع دائرے میں بہت سے مسائل آجاتے ہیں۔ سوال سامنے آنے کے بعد رویہ کیا اختیار کرنا چاہیے۔ ایک یہ کہ اسے مسترد کر کے ، بغیر توجہ دیے حسب سابق زندگی گزاری جائے ۔دوسرا یہ ہے کہ وقت اور نظریہ و نظام حیات میں بہتر تطبیق و تعبیر نو کر کے تشکیل جدید سے درپیش مسائل و مشکلات کی تفہیم وحل کی راہ نکالی جائے،  تاکہ تصادم کے بجائے باہمی تفاہم و تعمیر کا کام ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ دوسرا طریقہ ہی عقل و افادیت و استفادہ پر مبنی ہے ۔ اس سلسلے میں تصور مساوات کا دائرہ سماجی ، طبقاتی ، علاقائی ، وطنی مساوات سے آگے صنفی مساوات تک وسیع ہو گیا ہے ۔ جو بھی ،جس نظریہ و نظام حیات کو تسلیم و تعمیل کرتا ہے اس کے تناظر میں سوالات کے جوابات اور مسائل کی تعبیر و تشکیل کر کے ان کا حل کرنے کے لیے ذمے دار و جواب دہ ہے ۔ اگر ایسا نہیں کر ے گا تو اس کا نظریہ و نظام حیات ، سوال کی زد میں آجائے گا، دیگر سماجوں کی طرح مسلم سماج میں بھی بدلتے حالات و وقت اور نظریہ و نظام حیات میں تطبیق و تصادم کا سلسلہ جاری ہے ۔ یونانی منطق اور فکر و فلسفہ کے نتیجے میں پیدا شدہ ،مشکلات و غلط فہمیوں کے مسلم متکلمین و فلاسفہ کی طرف سے جوابات وازالے کی کامیاب کوششیں جریدہ تاریخ و علم پر مثبت ہیں ، ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ مغرب و یوروپ کی طرف سے نئے نئے اعتراضات مسلم ممالک کے علاوہ دیگر مسلم اقلیت والے ممالک میں بھی کئی طرح کے مسائل و سوالات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے ممالک میں بھارت بھی شامل ہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے مرد و عورت کے درمیان صفنی مساوات کے حوالے سے مختلف قسم کے اعتراضات کو سامنے لاتے ہوئے مسلم پر سنل لاء میں مداخلت کی راہ بھی ہموار کی جارہی ہے ۔

 اسی کا نمونہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر بیک وقت تین طلاق کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ مرد کے لیے تین سال کی سزا کے بندو بست کا قانون بھی ہے ۔ جرم کے وقوع کو تسلیم کیے بغیر سزا دہی کا قانون قطعی بے معنی اور ناقابل فہم ہے، لیکن صنفی برابری کے نام پر ایسا کیا گیا ہے ۔ ملک و بیرون ملک کے مسلم سماج میں لبرل ازم،روشن خیالی اور تجدد پسندی کے نام پر اور یوروپ و مغربی نظریہ و نظام حیات سے ہم آہنگی دکھانے اور تاثر پذیری کے نتیجے میں قسم قسم کی تحریکات و مہمات جاری و ساری ہیں اور مزاحمت و موافقت کے تعلق سے مرد و خواتین، ایک دوسرے کے ساتھ اور آمنے سامنے ہیں۔ دونوں طرف کی تحریروں و تبصروں کے مطالعے سے فکری و عملی موافقت و مزاحمت ،دفاعی و اقدامی کے مختلف نمونے ہمارے سامنے آتے ہیں ، گزشتہ دنوں اشعر نجمی کی طرف سے جریدہ ’’اثبات ‘‘کی تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ’احیائے مذاہب ، اتحاد ، انتشار اور تصادم‘ کے عنوان سے خصوصی پیش کش نے ایک حلقے میں ایک مخصوص طرح کی بحث کو جنم دیا ہے ۔ اس خصوصی پیش کش میں اثبات کے مدیر ا شعر نجمی نے مختلف موضوعات و عنوانات پر مختلف خطوں کے تجدد پسندوں کی بیشتر تحریروں کو پیش کر کے اتحاد، انتشار اور تصادم کے متعلق قسم قسم کے نمونے پیش کیے ہیں ۔

حال کے دنوں میں مسلم تانیثیت کے جدید رجحانات کے سلسلے میں آ منہ ودود ، فاطمہ مرنیسی اور مریم جمیلہ کے افکار کے حوالے سے ،ڈاکٹر نجم السحر نے ایک بہتر تجزیہ مطالعہ پیش کیا ہے ۔ انھوں نے مساوات مردو زن کو آدمؑ و حواؑ اور مر دوعورت کی تخلیق کی عدم تفریق کے تناظر میں آ منہ ودود کے نقطۂ نظر کا بہتر تجزیہ کرتے ہوئے خوبیوں اور تسا محات کے کئی گوشوں کو پیش کیا ہے ۔ وہ اتفاق و اختلاف کرتے ہوئے اصل سوال کے اصل جواب تک رسائی کی کوشش کرتی ہیں ۔ آ منہ ودود قرآنی آیات کے حوالے سے دنیا آخرت دونوں میںمرد وزن کے درمیان کلی مساوات کی شدت سے حامی ہیں ۔ انھوں نے گزشتہ دنوں مرد،عورت کی مشترکہ جماعت کی عورت کی طرف سے امامت کر کے خاصی ہلچل مچا دی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مرد وزن کی برابری کے سلسلے میں کس حد تک آگے ہیں ۔ انھوں نے ان اعمال و احکام قرآنی کو بھی مرد وزن کی برابری کے اثبات میں پیش کیا ہے ۔ جن میں تفریق کی سرے سے کوئی بحث و سوال نہیں ہے، لیکن کثیر تعداد میں آیات پیش کر کے مساوات مرد وعورت کے متعلق ایک خاص طرح کا تاثر اور بہت سے لوگوں کے لیے قابل توجہ بن جانے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ اس میں مولانا عمر احمد عثمانی جیسے حضرات کا خاصا تعاون و دخل ہے۔ انھوں نے فقہ القرآن کی تیسری جلد میں اسی نقطہ ٔ  نظر کو پیش کیا ہے، آمنہ ودود کی ولادت ایک عیسائی مذہبی گھرانے میں ہوئی۔۱۹۷۲ء میں قبول اسلام کے بعد۱۹۷۴ء میں اپنا نام بدل کرآ منہ ودود رکھ لیا۔ ایسٹرن اسٹیڈیز میں ایم اے مشی گن یونیورسٹی سے۱۹۸۸ء میں پی ایچ ڈی عربی اور اسلامیات میں کی۔ گریجویشن کے دوران میں انھوں نے مصر میں جدید عربی امریکن یونی ورسٹی (قاہرہ)سے پڑھی ۔ قرآن کی تعلیم جاری رکھتے ہوئے فلسفے میں ایک کورس الازہر یونی ورسٹی سے کیا۔مولانا عمر احمد عثمانی ،مولانا تھانوی ؒ کے بھانجے ،معروف عالم مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ کے بیٹے ، مظاہر علوم سہارنپور سے فضیلت ،پنجاب یونی ورسٹی سے عربی ، فارسی اور اردو میں آنرز ، ڈین آف تھیالوجی بیورو آف نیشنل ری کنسٹرکشن حکومت پاکستان ، پروفیسر اسلامیات گورنمنٹ کالج فارمین رہے ہیں۔ دونوں کی یہ مذکورہ حیثیت و تعلیم لوگوں کے لیے قابل توجہ ہوگئی ۔

اس تناظر میں جب قرآن حکیم کے حوالے سے صنفی بیانیہ کے متعلق مرد و زن کی برابری اور معاشرتی احکام کو سامنے لایا جاتا ہے تو توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ، مغالطے بھی درآتے ہیں۔ ایسی حالت میں مطالعہ و مکالمہ کے توسط سے اصل باتوں کو پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آ منہ ودود، فاطمہ مرنیسی ، عمر احمد عثمانی ، جاوید احمد غامدی ، ارشد محمود، ڈاکٹر راشد شازجیسے تجدد پسند مرد و خواتین کے اٹھائے بہت سے سوالات و نکات کو مولانا مودودی ، ڈاکٹر محمود احمد غازی ، ڈاکٹر اسرار احمد ، مولانا تقی عثمانی ، مولانا جلال الدین عمری ، مولانا وحید الدین خاں ، ڈاکٹر رضی الاسلام ، مریم جمیلہ ، کیتھرائن بلاک، ڈاکٹر نجم السحر کی تحریروں اور نقد و تبصرے میں زیر بحث لاکر مطالب و معانی کا تعین کیا گیا ہے ۔ مسائل کے حل کے لیے بہتر تعبیر و تشریح سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ اگر آمنہ ودود اور فاطمہ مرنیسی کو قرآن و حدیث کی رجالی تعبیرات و تشریحات سے اتفاق نہیں ہے اور ان کو لے کر تحفظات و اعتراضات ہیں تو دیگر ذی علم و دانش خواتین کی تشریحات و تعبیرات کو بغیر دلیل کے مسترد کرنا منصفانہ عمل و راست رویہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ مریم جمیلہ، کیتھرائن بلاک اور ڈاکٹر نجم السحر کی کتابوں کو سامنے رکھتے ہوئے آ منہ ودود اور فاطمہ مرنیسی کی کتابوںکا مطالعہ کیا جائے تو مرد و عورت کے حوالے سے مختلف طرح کے مسائل کے کئی گوشے ہمارے سامنے آتے ہیں۔

 اُن کے تقابلی مطالعے سے مسائل کی کئی جہات سامنے آئیں گی۔آج کے باہمی مکالکاتی دور میںسوالات کے جوابات اور جوابات پر سوالات کے تناظر میں مسائل کی بہتر تفہیم و تعبیر ، ایک بڑی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ تجاہل و تغافل برت کر خود اطمینانی کی روش اختیار کی جائے۔ بدلتے وقت کے ہر دور میں اسلام اور مسلم سماج کے تعلق سے اس کی تشکیل جدید اور تعبیر نو کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں اورمسلم اہل علم و دانش نے ہمیشہ رہ نمائی و روشنی فراہم کرنے کا کام کیاہے ۔

noumani.aum.@gmail.com

24 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-issue-muslim-feminism-restructuring/d/123906


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..