New Age Islam
Sun Oct 17 2021, 12:07 AM

Urdu Section ( 16 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Important Role of Muslims in the Independence of the Country ملک کی آزادی میں مسلمانوں کا اہم کردار


عتیق احمدفاروقی

15 اگست 2020

خان عبدالغفارخان

-------

زمانے میں اپنے ملک کی سچی تاریخ جاننے کی عام طلبا کو فکر نہیں ہے۔ ہمارے اس خوبصورت ملک کو بنانے اورسنوارنے میں لوگوں نے کیا کردار نبھائے، کن کن قوموں نے کیا کیا قربانیاں دیں، اس سے بھی انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ٹی وی چینل یاپرنٹ میڈیا اگرکسی مخصوص طبقے یا مذاہب کے لوگوں کو گالیاں دینے کیلئے اکسارہاہے یا نفرت پھیلانے کاکام کررہاہے توآج کے عام نوجوان کیلئے یہ سب سے دلچسپ اورخوش کن کام ہوگا۔ ملک کی آزادی کے ساتھ ملک کا مذہب کے نام پر تقسیم ہوجانا ہمارے بزرگوں کی بھول کا نتیجہ تھا۔ اس وقت سے لیکر۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت تک اور بعدازاں پورے ملک میں پھوٹنے والے فرقہ وارانہ فسادات اور وقتاً فوقتاً۲۰۰۲ءگجرات فسادات جیسے واقعات میں ہزاروں بے گناہوں بشمولیت خواتین اوربچوں کے قتل عام کے باوجود ہندوومسلمان اب میل ومحبت کے ساتھ چین سے رہنے کیلئے دماغی طور پر تیار ہوگئے تھے، لیکن۲۰۱۲ءسے ہی پورے ملک میں نفرت کی ایک ایسی آندھی چلی اور مسلم فوبیا کی آڑ میں بی جے پی کے اندر ایک ایسا طبقہ تیار ہوا جس نے عدم رواداری اورمنافرت کو خوب ہوا دی اورہندوراشٹر کالالچ دے کر۲۰۱۴ء میں برسر اقتدار ہوئی۔ ایک مخصوص ہندو تنظیم نے اپنی فکر کو فروغ دینے کیلئے بی جے پی کی فتحیابی کیلئے غیرمعمولی جدوجہد کی ۔ قریب۹۹؍فیصد میڈیا گودی میڈیا بن گیا،جس نے عوام کے ذہن کو ماؤف کردیا ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی۔ لوگ اپنے آئین کو بھول گئے ۔ جمہوریت ، سیکولرازم ، سوشلزم اورعوام کے حقیقی مسائل کو بھول کر لوگ دن رات ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ایک خاص مذہبی طبقے کے لوگوں کو اورایک کمزور ترین پڑوسی ملک پاکستان کو گالیاں دینے کا لطف لینے لگے ۔ حکمراںجماعت کا مفاد اسی میں تھا۔ یہی سبب ہے کہ کچھ تاریخی حقیقتوں سے عوام کو روشناس کرانابہت ضروری ہے تاکہ مختلف مذاہب کے درمیان منافرت کی سطح کچھ کم ہوجائے ۔

آج جس اجودھیا کو ہندو مسلم نفرت کی علامت تسلیم کیاجانے لگاہے ، بہت کم لوگ واقف ہیں کہ وہی اجودھیا۱۷۵۷ء کی جنگ آزادی کے دوران ہندو مسلم اتحاد اوریکجہتی کی بہترین مثال بنی تھی۔ اجودھیا میں ایک بہت مشہور جگہ ہے جسے کبیرکا ٹیلہ کہتے ہیں اورجہاں پر املی کی جھاڑ آج بھی موجود ہے۔اس ٹیلے کے پاس آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے ایک بورڈ پر اس کی ہسٹری لکھ کر لٹکادیاہے۔ اس بورڈ پر لکھاہے کہ۱۷۵۷ءجنگ آزادی کے دوران اجودھیا میں اس جگہ پر بابارام شرن داس اورمولوی عامر علی کو انگریزوں نے پھانسی دی تھی، جس کی خاص بات یہ تھی کہ ان دونوں لوگوں کی گردنوں کو ایک ہی پھانسی کے پھندے میں ڈال کر لٹکادیاگیاتھا۔ ہندومسلم بھائی چارے کی اس سے بہتر مثال کیاہوسکتی ہے۔ایسے ایسے مجاہد ین آزادی ہمارے ملک میں موجود تھے جن کی قربانیوں کو ہم لوگ بھول چکے ہیں۔ اسی طرح کی ایک اورمثال ہریانہ میں ایک جگہ ہاسی کی ہے ۔ وہاں پر اسی جنگ آزادی میں حکم چندجین اور منیر بیگ کے نام بھی قابل ذکر ہیں جو انگریزوں کے خلاف تحریک میں شامل تھے اورانگریز ان کی تلاش میں تھے ۔ انگریزوں نے پٹودی ، نابھا، کپور تھلااورکشمیر کے راجاؤں کی مدد سے انہیں گرفتار کرلیااورجس جبر اورظلم کا مظاہرہ انگریزوں نے کیا اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں بہت کم ملے گی۔ انگریزوں نے دونوں مجاہدین آزادی کو ایک دردناک اورغیرانسانی سزا دی ۔ حکم چندجین کو ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف زندہ دفنادیاگیا جبکہ منیر بیگ کو ہندوعقیدے کے مطابق زندہ چتاپر جلادیاگیا۔ کیاہم لوگ یوم آزادی کے دن ان دونوں سورماؤں کو یاد کرتے ہیں ؟

بٹک میاں انصاری اور گاندھی جی

-------

جب نیل کی پیداوار کے سلسلے میں’ چمپارن ستیہ گرہ ‘ جس کو گاندھی جی نے اپریل۱۹۱۷ء میں شروع کیاتھا، کے موقع پروہ موتیہاری پہنچے توان کے کھانے پینے کاانتظام بٹک میاں انصاری نامی ایک خانسامہ کوسونپاگیا۔انگریزوں نے بٹک میاںانصاری کے خاندان والوں کو یرغمال بنالیاتھا اوران سے کہا تھاکہ کھانا کھلاتے وقت آپ گاندھی جی کھانے میں زہر ملادیجئے گا۔ بٹک میاں بہت فکر مند ہوئے ، نہ چاہتے ہوئے بھی گاندھی جی کھانے میں انہوں نے زہر ملادیا۔ اس سے تھوڑا پہلے بٹک میاں کے ایک بچے کا قتل کرکے اس کی لاش ان کے پاس بھیج دی گئی تھی۔لیکن جیوں ہی گاندھی جی اس زہر سے بھرے کھانے کے پیالے کو اپنے منھ کے پاس لے گئے بٹک میاں نے ان کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر پھینک دیا اورگاندھی جی کے پوچھنے پر انہوں نے پیالہ پھینکنے کی وجہ بتائی اوریہ بھی بتایاکہ اس سبب ان کا ایک بچہ شہید ہوچکاہے اورپیالے میں زہرنہ ملانے پر ایک اورخاندان کے بچے کی شہادت کا امکان تھا ۔ گاندھی جی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اورانہوں نے محسوس کیا کہ ہمارے ملک کے شہری کتنے وفادار اورحب الوطن ہیں اورملک کیلئے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ چنانچہ۱۹۵۰ء میں ڈاکٹرراجندر پرساد موتیہاری پہنچے اورانہوں نے کہا، ’’اے موتیہاری کے لوگوں میں اس وقت وہاں موجو دتھا اورمیں آپ کے بیچ راشٹرپتی بنکر آیاہوں اورگاندھی جی کی جان بچانے کیلئے بٹک میاںانصاری کو اس کے عوض میں پچاس ایکڑزمین تفویض کرنا چاہتاہوں۔‘‘بدقسمتی سے زمین تفویض کرتے کرتے۱۹۵۰ءسے۱۹۵۷ءآگیا اوراسی سال بٹک میاں کا انتقال ہوگیا۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ آج کتنے لوگ بٹک میاں کی اس قربانی کو جانتے ہیں اورانہیں یاد کرتے ہیں؟کیرالہ میں مہاتماگاندھی کی عدم تعاون تحریک کی حمایت میں مسلمانوں نے جوبغاوت کا جھنڈا بلند کیا وہ مپیلاربیلین کے نام سے مشہور ہے۔دراصل ہندوستان میں سب سے پہلے مسلمان کیرالہ میں ہی آئے اورہندوستان کی سب سے پہلی مسجد کیرالہ میں ہی تعمیر ہوئی۔ کیرالہ کے مسلمانوں کو مپیلا مسلمان کہاجاتاتھا۔وپن چندرا نے اپنی کتاب ’’مپیلا ربیلین ‘‘ کے۱۷؍ویں چیپٹرمیں لکھاہے کہ مہاتما گاندھی کے ذریعہ شروع کی گئی عدم تعاون تحریک کا ساتھ دینے کے جرم میں ۲۳۳۷؍مپیلامسلمانوں کو۱۹۲۱ء میں پھانسی دے دی گئی ۔ اس وقت کے لیڈر حاجی قل محمد کے مطابق غیرسرکاری ریکارڈ میں یہ تعداد۴۵۴۰۴؍لکھی ہے۔ جلیا ن والا باغ میں جنرل ڈائر نے نہتے بوڑھوں عورتوں وبچوں ، جتنے لوگوں پر گولیاں چلوائی تھی اس کی تعداد قریب ایک ہزار بتائی جاتی ہے۔ دونوں ہی واقعات کو ہمیں یاد کرنا چاہئے ۔ جلیان والا باغ قتل عام کو توہم یاد کرتے ہیں لیکن مپیلاربیلین کوہم لوگ نہیں یاد کرتے۔

اشفاق اللہ خاں

-------

لکھنؤ کے کاکوری قصبہ میں جنگ آزادی میں حصہ لینے والے لوگوں کی مالی امداد کیلئے اشفاق اللہ خاں ،رام پرساد بسمل اوردوسرے ساتھیوں نے ایک ٹرین لوٹی اورانگریزوں نے ان دونوں کو ’انڈومان نیکوبار ‘بھیج کر کالا پانی کی سزادی اوربعدمیں وہیں پر انہیں پھانسی دے دی گئی۔ جب اشفاق اللہ خاں سے پھانسی سے پہلے ان کے گھر والے ان سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا ،’’اے میرے گھروالوں تم ان آنسوؤں کو روک لو ۔کیا تمہیں اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ ہر سال جب آزادی کا دن آئے گا تو رام پرساد بسمل ، کنہیالال اورکُھدی رام بوس کے ساتھ تمہارے بھائی اشفاق اللہ خاں کا بھی نام لیاجائے گا‘‘۔

خان عبدالغفارخان

-------

گاندھی جی کے نمک آندولن کے سلسلے میں ہوئے ڈانڈی مارچ(۱۲؍ مارچ ۱۹۳۰ء) کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ اگرآپ گرفتار ہوجائیں گے تواس مارچ کی قیادت کون کرے گا۔ گاندھی جی نے جواب دیاکہ اگرمیں گرفتار ہوگیا تو عباس طیب ہماری جگہ لیں گے۔گاندھی جی نے عباس طیب سے فرمایا،’’عباس دیکھنا جب میں جیل چلاجاؤں توتمہار ی مٹھی سے نمک نہ چھوٹے‘‘ ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ گاندھی جی کا ذہن پوری طرح سیکولر تھااوروہ ہندو اورمسلمان دونوں قوموں کے بیچ ہردلعزیز تھے۔۱۹۳۲ء میں خان عبدالغفارخان جن کی قیادت میں پیشاور کے قصہ خوانی بازار میں گاندھی جی کے نمک آندولن کی حمایت میں پٹھانوں کی ایک بھیڑ جمع ہوئی جس میں سب سے آگے بچوں کی ایک قطار تھی ، ان بچوں کے بیچ خان عبدالغفار خان جنہیں فرنٹیئر گاندھی کاخطاب ملاتھا، کھڑے تھے اوربچوں کے پیچھے ہزاروں پٹھان کھڑے تھے لیکن سبھی نہتھے تھے۔یہ منظر دیکھ کر انگریز وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اوردودن بعد گڑھوال رجیمنٹ کولیکر قصہ خوانی بازار میں پہنچے تودیکھا کہ بچوں اورپٹھانوں کے بیچ خان عبدالغفار خان اسی طرح کھڑے تھے ۔ پوری بھیڑ کو نہتھا دیکھ کر ایک انگریز نے خان عبدالغفار خان سے پوچھا کہ ہتھیار تو پٹھانوں کازیور ہوتاہے تم لوگ نہتھے یہاں کیسے کھڑے ہو؟خان صاحب نے جواب دیاکہ ہم لوگوں نے گاندھی جی سے عدم تشدد کا راستہ اپنانے کا وعدہ کیاہے، ہتھیار اٹھانا تو دور ہے اس کی طرف اب ہم لوگ دیکھیں گے بھی نہیں۔گڑھوال رجیمنٹ سے انگریزوں نے ان نہتھے پٹھانوں پر گولی چلانے کیلئے کہا توگڑھوال رجیمنٹ نے پہلے اپنی بندوقیں اوپر اٹھائیں ، پھر فوراً بندوقیں پھینک دیں اورکہا کہ ہمارے ملک میں ایک جلیان والابا غ ہی کافی ہے۔ پھر انگریزسپاہیوں نے بھیڑ پر فائرنگ کی جس میں۲۰۷؍پٹھان شہید ہوگئے ۔ یہ واقعہ گاندھی جی جب نمک آندولن کے دوران گرفتار ہوگئے تھے ،اس کے بعد کا ہے۔ خان عبدالغفار خان کو سیمانت گاندھی کے خطاب سے نوازا گیا تھااورانتقال کے بعد ان کو ہندوستان کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ بھارت رتن سے سرفراز کیاگیاتھا۔ اس کے پلاک پر لکھا ہوا تھا ، ’’قصہ خوانی بازار کے دن اپنی بہادری ودلیری دکھانے کیلئے اورگاندھی جی کے کہنے پر ہنسا کے ورود ھ میں اپنے ہتھیاروں کو پھینک دینے کی وجہ سے اور۹۰؍سال کی زندگی میں۴۵؍سال جیل میں گزارنے کی وجہ سے سرکارخان عبدالغفار خان کو ’بھارت رتن‘ سے نوازتی ہے‘‘۔ایسے سورماؤں کی تاریخ پیدائش پر کم ازکم چھوٹاموٹاپروگرام ضرور ہونا چاہئے تاکہ ہماری نئی نسل ان کی خدمات سے واقف ہوسکیں۔

ویر عبدالحمید

-------

۱۹۶۵ء کی ہندو-پاک جنگ کے دوران اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری نے قوم سے دفاعی فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل کی تھی۔ اس پر نظام حیدرآباد میر عثمان علی نے لال بہادرشاستری سے کہا کہ میں آپ سے چند ے کے سلسلے میں ملنا چاہتاہوں، آپ حیدرآباد تشریف لائیں ۔ اس پر شاستری جی نے اس وقت چل رہی جنگ کے سبب آنے سے معذوری ظاہر کی۔ چنانچہ اس مقصد سے حیدرآباد ایک ہوائی جہاز بھیج دیاگیا۔ بیگم پیٹھ ایئرپورٹ حیدرآباد میں لال بہادر شاستری کے ہوائی جہاز میں نظام حیدرآباد نے پانچ ہزار کلوسونا جنگ کے چندے کے طور پر بھروادیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں دفاعی فنڈ میں دیاگیا یہ سب سے بڑا چندہ تھا اور۲۰۱۵ءتک یہ ریکارڈ نہیں توڑا جاسکا۔

ملک کیلئے دی گئی قربانیوں کے انکشافات میں انگریزوں کے زمانے میں ’بلاّری ٹرین ٹریجڈی‘کاواقعہ ناقابل فراموش ہے۔ انگریزوں نے انقلابی مسلمانوں کو جن کی تعداد ۱۲۷؍ تھی چاروں طرف سے بندبناکھڑکیوں والی ایک بوگی میں بھر کر تھرور سے بلاّری بھیجا۔ کوئم بتور تک پہنچتے پہنچتے ان میں۷۰؍مسلمانوں نے دم توڑ دیا جس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کی موت کی وجہ ناقابل برداشت گھٹن بتائی گئی تھی ۔ انگریزوں کے ذریعہ ہندوستانیوں کے ساتھ اس سے زیادہ غیرانسانی سلوک کیاہوسکتاہے؟جیساکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ سبھاش چندر بوس آزاد ہندفوج کی تشکیل کرکے انگریزوں کو چیلنج کیاتھا اوربعد میں ہوائی حادثہ میں مارے گئے لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کرنل حبیب الرحمٰن بھی اس حادثہ کا شکار ہوئے۔ علاوہ ازیں اس حقیقت سے بھی بہت ہی کم لوگ واقف ہوں گے کہ ’جے ہند‘ کا نعرہ سب سے پہلے آندھرا پردیش کے محی الدین حسن حق نے دیاتھا۔ اسی طرح برگیڈیئرعثمان اور ویر عبدالحمید کی اپنے ملک کیلئے قربانیاں بے مثال ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب کشمیر کو لیکر ہندوستان اورپاکستان کے بیچ جنگ ہوئی توبرگیڈیئر عثمان جموں وکشمیر میں پاکستانی فوج اورملیشیا کے ساتھ۱۹۴۸ء میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ۔ ان کو سب سے پہلے دسمبر۱۹۴۷ء میں پیراشوٹ برگیڈ کی کمان کیلئے جھنگرکے مقام پر قابائلیوں سے لڑنے کیلئے بھیجاگیاتھا۔ کیوں کہ جھنگرپر پاکستان نے قبضہ کرلیاتھا۔عثمان نے جنوری -فروری۱۹۴۸ء میں نوشہرہ اورجھنگر پر قبضہ کرنے کیلئے زبردست حملہ کیا اوراس حملے میں ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی بہت جانی ومالی نقصان ہوا۔ برگیڈیئرعثمان کے مرنے کے بعد ہندوستانی حکومت نے انہیں مہاویر چکر میڈیل سے نوازا۔اسی طرح۱۹۶۵ء کی ہند و-پاک جنگ کے دوران لائنس نائک عبدالحمید نے یکے بعد دیگرے پاکستان کے کئی پیٹن ٹینک توڑ کر اس کے دانت کھٹے کردئیے لیکن آخرمیں پاکستانی بمباری میں وہ شہید ہوگئے۔ ان کی اس بہادری کیلئے انہیں فوج کے سب سے بڑے میڈل’ پرم ویر چکر‘ سے نوازا گیا۔ ہمارے علمائے دین کی ہندوستان کی جنگ آزادی میں جو خدمات رہی ہیں اس سے ہمارے بزرگان تو شاید واقف ہوں لیکن آج کے نوجوان شاید ہی اس حقیقت سے آگاہ ہوں۔ لیفٹیننٹ ہاٹسن ، جس نے دہلی کو دوبارہ فتح کیاتھا، کے پاس انگلینڈ سے ٹیلی گرام آیا جس میں لکھاتھا ،’’۱۸۵۷ءکی بغاوت دراصل مسلمان علماء کی بغاوت ہے، تم جہاں پر بھی ٹوپی اورداڑھی والوں کو دیکھو انہیں بنامقدمہ کے لٹکادو۔ پھر کیا تھا مجھے جہاں جہاں ٹوپی اورڈاڑھی والے ملے بس ہماری گولیاں ان کا سینہ اور سر تلاشتی بنا یہ پوچھے کہ انہوں نے کیا کیا؟‘‘ دوانگریز مصنفین سرجیمس اوئٹرم اور ایڈورڈتمس نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ’’جن۵۱۲۰۰؍لوگوں کو ۱۸۵۹؍۶۰؍۶۱ءکے دوان پھانسی دی گئی ان میں علماء کی تعداد۲۷؍ہزار تھی۔ ‘‘

ان حقائق کی روشنی میں کیا اب بھی یہ سوال اٹھانا چاہئے کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کی خدمات کیا ہیں یا ملک کی بقاء میں مسلمانوں کا کردار کیاہے؟

15 اگست 2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-important-role-muslims-independence/d/122643


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..