New Age Islam
Fri Jan 16 2026, 07:12 PM

Urdu Section ( 2 Nov 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Impending Babri Judgment بابری مسجد پر آنے والا فیصلہ: تنازع کے حقیقی خاتمے کے لئے مسلمانوں کو اپنے بنیادی مذہبی مفروضوں پر سوال اٹھانا کیوں ناگزیر


ارشد عالم ، نیو ایج اسلام

29 اکتوبر2019

یہ بات کم و بیش واضح ہے کہ بابری مسجد تنازع کے معاملہ پر سپریم کورٹ جلد ہی فیصلہ سنا دے گی۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں پر غور کرتے ہوئے ایسا نہیں لگتا  کہ عدالت اپنے فیصلے میں مزید تاخیر کرے گی۔ حالیہ فیصلوں نے بھی ہمیں ایک اشارہ دیا ہے کہ فیصلہ کس کے حق میں جائے گا۔ تاہم یہ فرض کرتے ہوئے کہ سپریم کورٹ ابھی بھی غیر جانبدار ہے، سپریم کورٹ  اپنا فیصلہ 'مسلم پارٹی' کے حق میں یا '' ہندو پارٹی '' کے حق میں پیش کرے گی۔ وہ دونوں فریقوں کو مشترکہ وراثت کا حقدار  نہیں بنا سکتا کیونکہ یہی الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روح رواں تھی تھی جسے سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔ اس بار یہ مقدمہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔

 یہ بات  بھی نہ بھولیں کہ ہم ایک ایسی مسجد کی بات کر رہے ہیں جسے ٹی وی کیمروں کے مکمل نظارے میں منہدم کردیا گیا تھا۔ سیاسی رہنماؤں پر ایسے مقدمات ہیں جنہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا  لیکن وہ تمام عدالتی مقدمات آج شرمندہ تعبیر ہیں۔ جن لوگوں نے ہجوم کو مسجد تباہ کرنے کی تلقین کی وہ ملک کے اعلی ترین دفاتر پر قابض ہوگئے۔ عدالت کے اندر  پختگی کے ساتھ جو مسئلہ اٹھا  وہ مسجد کی مجرمانہ تباہی نہیں بلکہ یہ سوال اٹھا  کہ آیا مسجد پہلے مسلمانوں کی ہی تھی۔

کسی حتمی فیصلے کے نتیجے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رد عمل کے ساتھ تیار رہیں۔ یہ کہنا بہت اچھا ہے کہ مسلمان سپریم کورٹ کے  فیصلے کی پاسداری کریں گے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ مسلمانوں کے لئے ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے لئے بندش کسی قانونی فیصلے کے ذریعہ نہیں آئے گی  بلکہ یہ صرف اس مسئلے کے متعلق منصوبہ بند  جواب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس فیصلے  کے آنےمیں دو امکانات ہیں اور مسلمانوں کو ان دونوں امکانات کا جواب دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

 پہلا امکان یہ ہے کہ سپریم کورٹ مقدمہ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں کر دے۔اس سے  معاشرے کے اندر یقینا خوشی ہوگی کہ ملک کی اعلی عدالت  نے ایک تاریخی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ تاہم اگر یہی معاملہ ہوا تو  پھر مسلمان کیا کریں؟ کیا پھر انہیں مطالبہ کرنا چاہئے کہ اسی جگہ پر مسجد تعمیر کی جائے جہاں پہلے موجود تھی؟ عملی طور پر بات کریں تو ، اگرچہ یہ قانون مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کر دے ، اس کے باوجود  وہ اسی جگہ پر مسجد تعمیر نہیں کرسکیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رام مندر ہندوؤں کے لئے بھی ایک جذباتی مسئلہ ہے اور وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اگر مسلمان اس مسئلے پر ڈٹے رہیں تو ملک کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ نیز آج کے سیاسی سیاق و سباق کی نوعیت کے پیش نظر یہ مسلمانوں کے لئے انسداد پیداوری ثابت ہوسکتا ہے۔

 چنانچہ کسی سازگار فیصلے کی صورت میں مسلمانوں کو فیصلے کا خیرمقدم کرنا چاہئے لیکن انہیں بھی ہندوؤں کو زمین بطور تحفہ  دینے پر راضی ہونا چاہئے۔ ایسا کرتے وقت انہیں  اپنے مخالف پر کسی طرح کی کوئی شرط بھی نہیں رکھنی چاہیے ۔ انہیں صرف خالص خیر سگالی کے طور پر زمین کا تحفہ دینا چاہئے۔ اس طرح کا فعل بزدلانہ فعل نہیں ہوگا بلکہ یہ طاقت کی حیثیت سے ہوگا۔ یہ پہلو ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات میں بھی ایک اہم موڑ   بن سکتا ہے ، جو اس وقت متعدد عوامل کی وجہ سے انتہائی مایوس کن ہے۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ سپریم کورٹ مندر کے حق میں فیصلہ  کرے۔ مسلمانوں کو لازمی طور پر اس واقعہ  کا سامنا  کرنے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ عشروں پرانے مقدمے کا غالب گمان نتیجہ ہو سکتا  ہے۔ اس منظر نامے میں مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ کے  فیصلے کا پورے اعتماد  کے ساتھ خیر مقدم کریں۔  اگر مقدمہ کا یہی فیصلہ رہا تو مسلمانوں کے اندر کچھ ایسے حصے ہیں جو شاید مایوسی کا احساس کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں یقین ہے کہ قانون ان کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ تاہم اس طرح کے مقدمات  زیادہ تر سیاسی غور و فکر کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں اور اس بات کا قوی  امکان ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی سیاسی نظریات سے متاثر کیا جاسکتا ہے۔  مسلمانوں کے پاس خوشی سے زمین ترک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ چاہے وہ کیس جیت جائیں یا ہار جائیں۔ مسلمانوں کو اس سرزمین سے الگ ہوجانا چاہئے جس پر کبھی  بابری مسجد کی عمارت  کھڑی تھی۔ لیکن اگرچہ  ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے معاملے کی بندش لانے کے لئے کافی نہیں ہوگا۔

 بابری مسجد مسئلے کی بندش نہیں ہو سکتی جب تک مسلم اعتقاد کی نوعیت کے متعلق گہری تشخیص نہ کر لی جائے اور یہ کہ ماضی میں ہم نے کہاں اور کیسے غلطیاں کی ہیں۔ مسلم سیاسی زندگی کے بڑے حصے میں ہم نے ایسے انتخابات کیے ہیں جو کثرتیت اور قانون کی حکمرانی کے لئے غیر مفید ثابت ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے سیکولرازم کی لبادے میں آکر اپنے لئے غیر معمولی مراعات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہمیں صرف شاہ بانو کے مزاحمتی واقعات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح کا مطالبہ مسلمانوں نے ریاست سے کیا۔ در اصل مسلم قیادت نے اس ملک کی پارلیمنٹ اور اعلی عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے مذہبی قوانین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قانون سازی کی پیش رفت جو ملک ذاتی قوانین میں اصلاحات کے ذریعہ کرنا چاہتا تھا اسے مسلم قیادت بشمول مذہبی افراد اور نام نہاد سیاسی ‘سیکولر’ مسلم رہنماؤں نے غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

اگر ایک کمیونٹی جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے ، اپنے ذاتی قوانین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور دوسری طرف اکثریتی برادری کے مذہبی قوانین کے اندر مستقل اصلاحات آتی ہیں تو پھر اقلیتی برادری اور اس کے مزعومہ مذہبی اختیارات کے خلاف رد عمل کا ظاہر ہونا تو طے ہے۔

اگر مسلمان یہ استدلال کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ آئین سے بالاتر ہے (جیسا کہ انہوں نے شاہ بانو فیصلے کے دوران کیا تھا) ، تو ہندوؤں کو یہ بحث کرنے سے کیا چیز روکتی ہے کہ یہ ان کے آستھا کا معاملہ ہے کہ اسی جگہ پر مندر موجود تھا جہاں کبھی بابری مسجد کی عمارت کھڑی تھی۔ اقلیت کی حیثیت سے ، مسلمانوں کو سب سے پہلے قانونی حکومت اور قانون مساوات پر یقین کرنا چاہئے تھا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ آئینی ضمانتوں کے لئے لڑنے والے پہلے افراد ہوتے۔

مگر پھر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں سے جو توقع تھی انہوں نے بالکل اس کا برعکس کیا۔ یہ سچ ہے کہ موجودہ سیاسی آب و ہوا اس کے پیچھے بہت ساری وجوہات رکھتی ہے ، لیکن اس کے اسباب کی حقیقت کی تلاش کرنے معلوم ہوگا کہ مسلم مذہبی رہنماؤں نے اس میں ایک کردار ادا کیا ہے۔

مسلمانوں نے ایسا برتاؤ کیوں کیا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام تمام زمانوں کے لیے کامل و اکمل ہے۔ اس قسم کی سوچ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود بخود کسی بھی قسم کی اصلاح کا مخالف ہے۔ مزید یہ کہ اسلام قرآن اور حدیث کے ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اسی لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ موجودہ تناظر میں ان مقدس تعلیمات کی نوعیت یا ان کے مناسب ہونے کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوسکتی ہے ۔صدیوں کی تعلیمات کے اثر سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی مقدس کتابوں کو دیگر تمام عقائد و روایات پر ایک خاص برتری حاصل ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں اکثریت کا یہ عقیدہ ہے کہ اسی حقیقت کے مختلف راہیں ہیں جبکہ اسلام کا متواصل نظریہ ہے کہ ان کی راہ ہی نجات کی راہ ہے ۔مسلمانوں کا ماننا ہے کہ ان کے علاوہ تمام لوگ جہنم میں جائیں گے. ان کا یہ نظریہ نہ صرف یہ مانتا ہے کہ غیر مسلم گمراہ ہیں اور یہ کہ وہ ان کے دینی و مذہبی فہم کے معاملے میں کم تر ہیں۔ اس طرح کے رویہ سے اکثریتی طبقے میں رد عمل پیدا ہونا تو بالکل طے ہے۔

 بابری مسجد اور دیگر متعدد مسائل جس نے اس مسئلہ کو جنم دیا ہے، ان میں حقیقی  بندش تبھی لگے گی جب مسلمان حقیقی طور پر کچھ بنیادی برتری والی مذہبی نظریات جن کا وہ عقیدہ رکھتے ہیں ان پر سوالات قائم کرنا شروع کر دیں گے۔ ہم اسے اس قبولیت کے ساتھ شروع کر سکتے ہیں  کہ اسلام ان متعدد راہوں میں سے ایک ہے جو نجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور یہ کہ بہت سارے دوسرے مذہبی عقائد بھی موجود ہیں جو سبھی یکساں طور پر قابل عمل اور تجزیہ ہیں۔

English Article:  The Impending Babri Judgment: Why Muslims Must Question Some of Their Core Religious Assumptions for True Closure

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-impending-babri-judgment-/d/120161


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..