New Age Islam
Sat Mar 07 2026, 08:59 AM

Urdu Section ( 30 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Terrorism in Pakistan: Narrative and Facts پاکستان میں دہشت گردی، بیانیہ اور حقائق

مجاہد حسین

29 دسمبر،2022

ماہرین ایک مرتبہ پھر اس بحث میں مصروف ہیں کہ ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں کیوں اضافہ ہورہا ہے؟ تازہ ترین شدت پسندانہ حملوں کے بعد اس بحث کی توقع کی جارہی تھی اور عام خیال یہ تھا کہ ہم سرکاری سطح پر ان واقعات کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ جوڑ کر بڑی حد تک سبکدوش ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اور لاہور میں ہوئے گذشتہ سال کے ایک حملے پر ہماری وزارت داخلہ و خارجہ کی طرف سے بظاہر اچھے خاصے انکشافات سامنے لائے گئے لیکن یہ تمام معلومات خاصی پرانی او رکسی حد تک شائع شدہ تھیں۔ چونکہ ان امور کے بارے میں ہماری عمومی قومی دلچسپی بہت واجبی سی ہے اس لیے ان معلومات کوبہت دھماکہ خیز اور کامیابی سمجھا گیا تاکہ حکومت کی اس معاملے پر سنجیدگی کی دھاک بٹھائی جائے۔ دھاک کے بارے میں تو معلوم نہیں کہ وہ کس حد تک بیٹھی لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ اس دوران ہمارے وہ ادارے جو شدت پسندی کی روک تھام کے سلسلے میں خاصے موثر تصور کیے جاتے تھے، وہ ضرور بیٹھ چکے ہیں جس کی تازہ ترین مثال خیبر پختونخواہ میں انسداد دہشت گردی کا ادارہ سی ٹی ڈی ہے۔ بنوں میں انسداد دہشت گردی کے ادارے میں ہوئے یرغمال واقعے کے دوران اگرچہ انتہائی چھان کاری کے بعد واقعے کی معلومات میڈیا کو فراہم کی گئیں لیکن ان مخصوص معلومات میں بھی اس حد تک خوفناک تفصیلات موجود تھیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے اس قسم کے اہم ادارے تربیت اور ضروری سازوسامان سے کس حد تک محروم ہیں۔

 جس کمپاونڈ میں یہ واقعہ پیش آیا اس میں گنتی کے چند غیر تربیت یافتہ افراد انتہائی خطرناک قیدیوں کی سیکورٹی پر مامور تھے او رانہیں میں سے ایک نے موقع پاکر پورے کمپاونڈ کو میدان جنگ میں بدل دیا۔ بعد میں جو کچھ ہوا وہ جن کو معلوم ہے وہ کسی دوسرے کو بتانا نہیں چاہتے او رجتنا معلوم ہوسکا ہے وہ بتانے کے قابل نہیں۔ جب سے ہم بیانیہ نام کی ایک زبردست اصطلاح کا شکار ہوئے ہیں ہمارے ہاں محض بیانیہ سازی ہی پروان چڑھی ہے باقی اُمور کہیں بہت پیچھے دھکیل دئیے گئے ہیں۔ جب زور بیانیہ سازی پر ہو اور اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہر سو پھیلا دیا جائے تو شاید یہ گمان کرلیا جاتا ہے کہ جس موضوع کے بارے میں بیانیہ تیار ہوا تھا اس کے تمام تر تقاضے بھی ساتھ ہی پورے ہوچکے ہیں۔ مثال کے طور پر 2014 کے بعد قومی سطح پر یہ بیانیہ تیار کیا گیا کہ ریاست کی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ عوام کی مدد سے سیکورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے تمام اڈے ختم کردیئے ہیں اور ان دہشت گردو ں کے تمام سیلز او رامدادی یونٹ تباہ کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بیانیے کی شدید ضرورت تھی کیوں کہ ریاست کے بارے میں بہت زیادہ چہ میگوئیاں ہر سطح پر ہونے لگی تھیں او ربین الاقوامی طور پر ہمارے بارے میں یہ کہا جانے لگاتھا کہ شاید پاکستان دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا۔ اس موقع پر جو بنیادی غلطی کی گئی وہ بیانیہ سازی کے زیر اثر اس تاثر کو قائم کرناتھا کہ دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیا گیا ہے لہٰذافکر کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔حالانکہ یہ بتانازیادہ موزوں اورکارگر ہوتا کہ دہشت گردوں کو ملک سے باہر دھکیل دیا گیا ہے اور ریاست اب یہ کوشش کرے گی اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے کہ دہشت گرد دوبارہ منظم ہوکر واپس نہ لوٹیں۔

ظاہر ہے اس قسم کے تصور کے تحت وہ ضروری اقدامات بھی ناگریز ہوتے جن کی مدد سے دہشت گردی کی آماجگاہوں کے بارے میں بہتر حکمت عملی اپنائی جاتی اور ہمسایہ ممالک خصوصاً افغانستان کے بارے میں جامع پالیسی وضع کی جاتی کہ کس طرح ان تشدد پسند گروہوں او ران کی باقیات کیساتھ ڈیل کرنا ہے جو یہاں پر سیکورٹی اداروں کی آپریشنز کے بعد بھاگ کر افغانستان چلے گئے ہیں اوراگر وہ مقامی سطح پر موجود اپنے بچے کچھے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے گا۔ لیکن یہ سب ناگریز اُمور محض چار لفظی بیانیہ کے نیچے دب گئے اور ہر طرف یہ شور ہونے لگا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ یقینی طور پر یہ ایک بڑی کامیابی تھی اور اس کامیابی میں ستر ہزار زائد پاکستانیوں کا خون بہا تھا او رملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی بین الاقوامی ساکھ شدید متاثر ہوئی تھی۔ اتنے زیادہ نقصان کے بعد محض لفظی بیانیہ سازی سے کہیں آگے بڑھ کر عملی اور مستقبل کے لیے کار آمد اقدامات کے تسلسل کی ضرورت تھی۔ ہم ایک بار پھر اسی مقام عبرت پر کھڑے ہیں اور ہمارا بیانیہ ہوا ہوچکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دہشت گرد پوری قوت کے ساتھ دوبارہ حملہ آور ہوچکے ہیں اور ان کے بارے میں ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ خوف آنے لگتا ہے۔خدانخواستہ اگر یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیا ہم وہ چار لفظی بیانیہ اوڑھ سکتے ہیں، اس سے کوئی ایسی حفاظتی دیوار کھڑی کرسکتے ہیں جو ہمارے اداروں، اسکولوں، مارکیٹوں، عوامی مقامات، ہمارے ہاں موجود غیر ملکیوں اور خود ہمارے عوام کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھ سکے؟ یا اربوں روپے کے فنڈز سے تیار کردہ ادارہ نیکٹامحض چار لفظی ہائی الرٹ جاری کرکے سبکدوش ہوجائے گا؟ ہمارے وفاقی وصوبائی وزارئے داخلہ ایسے بیانات جاری کریں گے کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے اور خطرہ ٹل جائے گا؟ یا گزشتہ برس 15 اگست کو اونچے سُروں میں بغلیں بجا کر عالم اسلام میں افغانستان کی تاریخی فتح کا اعلان کرنے والے امارت اسلامیہ افغانستان کے سامنے یہ عرضی ڈال سکیں گے کہ خداراان دہشت گردوں کی پشت پناہی نہ کریں جو ہمارے معصوم بچوں کو قتل کرناچاہتے ہیں؟

جب تک سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردی او راس کے پشت پناہان کے ساتھ دوٹوک انداز میں فیصلہ کن رویہ اختیار نہیں کیا جاتا ہم دہشت گردوں کے نشانے پر رہیں گے۔ جب تک دہشت گردی کے مقامی معاونیں کا قلع قمع نہیں کیا جاتا او ر بعض مفاداتی قسم پسند وناپسند کے تحت فیصلے کیے جائیں گے ہمارے بچوں کامستقبل خطرات کا شکار رہے گا۔ جب تک ریاستی و حکومتی عہدیدار سنجیدہ نہیں ہوتے دہشت گرد ہمارے ملک کو تباہ کرنے کے بارے میں سنجیدہ رہیں گے۔ معاملہ انتہا کو چھونے لگاہے اور شاید اب کی بار باہر سے کوئی دولت مند اور وسائل کاحامل ملک ہماری ڈالرانہ مدد بھی نہیں کرے گا۔ ہماری معاشی ابتری روز افزوں ہے اور سیاسی بحران حل ہونے میں نہیں آرہے۔ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کیساتھ دست و گریباں ہیں اور ملک انار کی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر ساتھ ہی دہشت گردی کے منڈلاتے ہوئے خطرات حقیقت کا روپ دھار جاتے ہیں تو یاد رکھیں اب کی بار شاید ہم بیانیہ بھی نہ تیار کرسکیں۔ بیانیہ تیار کرنے کے لیے بھی کسی حد تک اتفاق رائے اور یکسوئی درکار ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے ہاں مفقود ہے۔

29 دسمبر،2022،بشکریہ: روز نامہ چٹان،سرینگر

--------

مجاہد حسین ایک سینئر پاکستانی صحافی ہیں، جو لاہور میں قائم 92 نیوز ٹی وی میں تحقیقاتی سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت  متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا  ستائیس سالوں  سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراس کے  اپنی تشکیل کے فوراً بعد سے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا مخلصانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/terrorism-pakistan-narrative-facts/d/128751

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..