New Age Islam
Sun Nov 28 2021, 10:24 AM

Urdu Section ( 3 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Announce Harsher Punishments طالبان کی طرف سے سخت سزاؤں کا اعلان

محسن علی خان

1 اکتوبر،2021

طالبان کا سخت ترین سزاؤں کا اعلان

------

افغانستان پر تسلط حاصل کرنے کے ایک ہی مہینے کے بعد ہی طالبان نے اعلان کیا کہ قتل او رہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں بہت جلد نافد کی جائیں گی۔ اس طرح سے طالبان آہستہ آہستہ اپنے اصل ایجنڈا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔مذہبی امور کے وزیر کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ قتل کی سزا کے علاوہ چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی سزائیں بحال کی جارہی ہیں۔ طالبان کی طرف سے دوسری بار افغانستان کا انتظام سنبھالنے کے بعد خیال کیا جارہاہے کہ ان کے لیڈروں کی سوچ بہت حد تک بدل چکی ہے۔ اس طرح کی رائے رکھنے والوں کو امید تھی کہ نئے طالبان وزرا ماضی کے بجائے اب کی بار نرم پالیسی اختیار کررہے ہیں۔ اس حوالے سے کہا جارہاتھا کہ بیرونی دنیا سے بہتر تعلقات بنانے کی غرض سے طالبان سرکار جمہوری طرز عمل اختیار کرتے ہوئے سخت گیر پالیسی سے اجتناب کررہے ہیں۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ طالبان نے امر بالمعروف اور نہی المنکر کے عنوان سے جو نیا وزارتی منصب قائم کیا ہے اس کا مقصد یہی ہے کہ ملک میں ایسا شرعی نظام قائم کیا جائے جس سے انحراف کرنے والوں کا احتساب کیا جائے اور سزا بھی دی جائے۔اس کے بعد یہ سو چنا کہ طالبان اپنے موقف اور سخت گیر شرعی نظام ترک کرکے کوئی ترقی پسند نظام قبول کریں گے ممکن نہیں ہے۔ ان کی اساس ہی اس بنیاد پر قائم ہے کہ ملک میں طاقت سے شرعی نظام قائم کیا جائے۔ اس دوران ہرات سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں تین ایسے اشخاص کو پھانسی دے کر ان کی لاشوں کو چوک میں لٹکا دیا گیا۔ ہلاک کئے گئے اشخاص کے بارے میں کہا گیا کہ باپ بیٹے کو اغوا کرنے اور تاوان لینے کے جرم میں ملوث تھے۔ ان کے چوک میں لٹکانے کے حوالے سے کہا گیا کہ دوسروں کو عبرت دلانے کے لئے ایسا کیا گیا۔ اس قدر سخت سزاؤں اور لاشوں کی نمائش کے بعد ایسا امکان ضرورہے کہ جرائم میں کمی آئے گی۔بعض  ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مہینے کے طالبان قبضے کے اندر پورے افغانستان میں جرائم میں کافی کمی آگئی ہے۔اگرچہ کابل کے شہری علاقوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہاں پہلے کی طرح تفریحی تقاریب اور شو آج بھی جاری ہیں۔ تاہم بیشتر علاقوں سے فنکاروں او رگانے بجانے والوں کے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے ساتھ سختی کی جاسکتی ہے۔ شروع میں طالبان کے بعض اقدام پسند کئے گئے۔ انہوں نے اپنے مخالفوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں اپنا کام جاری رکھنے کو کہا۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی روک لگانے سے انکار کیا گیا۔ آج بھی وہاں لڑکیوں کو اسکول آنے میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالی جارہی۔حالانکہ بہت سے طالبان لیڈر ایسے فیصلوں کو پسند نہیں کرتے۔ ان اعلانات سے دنیا نے طالبان کے حوالے سے مثبت رائے قائم کی تھی۔ ایسی آرا اب بلاوجہ قرار دی جارہی ہیں۔

طالبان اپنے ملک میں کس طرح کا نظام قائم کریں اس حوالے سے وہ کسی کامشورہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے پہلے 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے شرعی نظام خاص کر شرعی سزا ؤں کو عام کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اورطالبان سرکار ختم ہوگئی۔ اب امریکہ اور نیٹو فوجوں کے نکل جانے کے بعد ملک ایک بار پھر طالبان کے قبضے میں آگیا ہے۔طالبا ن نے عبوری سرکار قائم کی جس میں بیشتر وہ لوگ شامل ہیں جو مدرسوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ہیں۔ ان سے ہر گزیہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی روایات کو چھوڑ کر جدید دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے پر تیار ہوجائیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہے کہ شریعت کے سخت ترین سزاؤں کے نفاذ کے بغیر ان سزاؤں کا خاتمہ ہوسکتا نہ اسلام کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کو مضبوط بنانے او رعوام کو آرام دہ زندگی فراہم کرنے کے لئے دنیا سے تعاون کرنا ضروری ہے۔ ایسا وہ کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ مذہب مخالف عناصر کو شکست دینے کا انہیں جب بھی کوئی موقع ہاتھ آجائے تو اس کو وہ چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں اس بات پر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ طالبان اپنے سابق ساتھیوں القاعدہ کے حوالے سے کیا پالیسی اپنائیں گے ابھی تک معلوم نہیں۔القاعدہ کے کئی سو افراد نے ان کے ساتھ نظر بندی کاٹی اور مشکلات کا سامنا کیا۔وہ آج اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ وہ واپس افغانستان آئیں گے یا ان کو طالبان وہاں بلائیں  گے اس بارے میں ابھی تک حقائق پوشیدہ ہیں۔ القاعدہ کے انتہا پسند سربراہ الظواہری کا جو پیغام پچھلے دنوں منظر عام پر آیا اس نے کئی حلقوں کو حیران کیا۔ الظواہری کے بارے میں نہیں۔ لیکن ان کے ٹیپ شدہ بیان نے اس خیال کی نفی کردی۔ اگر وہ واقعی زندہ ہیں تو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کہاں چھپے ہیں۔ وہ جہاں بھی ہیں شدت پسندوں کے لئے آخری امید ہیں۔

1 اکتوبر،2021، بشکریہ: چٹان،سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/taliban-announce-punishments/d/125499

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..