New Age Islam
Fri Aug 19 2022, 07:37 AM

Urdu Section ( 5 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taj Mahal Or Tejo Mahalaya, A Shiv Temple? Get The Facts Straight تاج محل یا ایک شیو مندر تیجو مہالیہ؟ درست حقائق جانیں

سمت پال، نیو ایج اسلام

1 مئی 2022

ایودھیا کے ایک سادھو نے 5 مئی کو تاج محل میں پوجا کی ایک تقریب کا اعلان کیا اور الزام لگایا کہ یہ یادگار ایک شیو مندر تیجو مہالیہ ہے۔

تاج محل

--------

ایودھیا کے ایک سادھو نے 5 مئی کو تاج محل میں پوجا کی ایک تقریب کا اعلان کیا اور الزام لگایا کہ یہ یادگار ایک شیو مندر تیجو مہالیہ ہے۔

روزنامہ او، 24/10/2017 سے رانا صفوی کا حوالہ، "جب ممتاز محل کا انتقال ہوا تو اسے اکبر آباد میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس وقت آگرہ اسی نام سے جانا جاتا تھا، اور اس کے مقبرے کی تعمیر کے لیے بہترین جگہ کی تلاش شروع ہوگئی۔ اس کے غمزدہ شوہر اس کی آرام گاہ کو ایک حقیقی جنت بنانے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔اس کے لیے ایک شاندار اور عظیم الشان مقبرہ تعمیر ہونا تھا۔چونکہ ڈھانچہ بہت بھاری تھا، اس لیے معماروں نے فیصلہ کیا کہ اسے گہرے کنوؤں کے اوپر بنے ہوئے لکڑی کے بڑے بڑے سلیب سے سہارا دیا جائے۔ اس سے ریت مستحکم ہو گئے اور ڈھیروں کا کام کیا۔ اس مقصد کے لیے جو مقام منتخب کیا گیا وہ دریائے جمنا کا دامن تھا جو کہ سب سے زیادہ موزوں معلوم ہوتا تھا۔یہ زمین اکبر کے جنرل راجہ مان سنگھ کی تھی جس کی مغلوں کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں۔ "

تاج محل اس زمین پر بنایا گیا تھا جہاں راجہ جئے سنگھ کی حویلی تھی اور اس زمین پر کسی مذہبی عمارت کا کوئی ذکر نہیں ہے (بشکریہ، Taj Mahal: The Illumined Tomb by W E Begley and ZA Desai)۔ اس کے علاوہ، قواعد یعنی اسلام کے مذہبی اصولوں کے مطابق، اسلام یا کسی دوسرے مذہب کے پہلے سے ہی موجود کسی مذہبی ڈھانچے پر کوئی مقبرہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ اسلامی مذہبی نقطہ نظر سے ناجائز سمجھا جاتا ہے۔

پی این اوک کا نظریہ کہ تیجو مہالیہ (ایک ہندو مندر) کو بعد میں شاہ جہاں یا مغلوں نے تاج محل کا نام دیا یا اس کا نام بدل دیا، مغلوں کی فارسی زبان سے یہ بالکل مطابقت نہیں رکھتا، جو کہ ایک انتہائی ترقی یافتہ اور شاندار زبان ہے۔ شاہجہاں کے پاس اپنے ڈریم پروجیکٹ کے لیے فارسی میں 'نئے' ناموں کی کمی نہیں تھی۔ تو، وہ کیوں تاج محل کے لیے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ پرانے نام تیجو مہالیہ کو ہی تسلیم کرتے؟ شاہجہاں کے پاس اس عظیم الشان مقبرے کے لیے 'خوابگاہ'، 'حیان' اور 'شبستان'جیسے نام تھے، لیکن انہوں نے تاج محل کو ہی پسند کیا۔

تاج محل کے بارے میں ایک اور افسانوی بات یہ کہی جاتی ہے کہ شاہ جہاں نے اس شاندار عمارت کی تکمیل کے بعد اس میں کام کرنے والے کاریگروں کے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ تاج محل کی تعمیر کرنے والے تقریباً 20,000 کارکن تھے۔ کچھ کے نام ابھی تک موجود ہیں:

استاد احمد لاہوری: صدر معمار

سلطنت عثمانیہ کے اسماعیل آفندی: مرکزی گنبد کا ڈیزائنر

فارس ستے استاد عیسیٰ اور عیسیٰ محمد آفندی: آرکیٹیکچرل ڈیزائنر

بنارس، فارس سے 'پورو': سپروائزر آرکیٹیکٹ

کاظم خان، لاہور: گلڈنگ

چرنجی لال، دہلی: چیف مجسمہ ساز اور موسیقار

شیراز، ایران کے امانت خان ،: چیف کیلیگرافر

محمد حنیف: میسن سپروائزر

شیراز کے میر عبدالکریم خان اور مکرمت: فائنانشل منیجر، ڈیلی پروڈکشن

فارسی میں ریکارڈ دستیاب ہے کہ ان تمام لوگوں نے بعد میں اصفہان میں مساجد اور محلات تعمیر کیں (جس کے بارے میں فارسی میں مشہور ہے - اصفہان نصف جہاں: اصفہان آدھی دنیا ہے) اور ایران اور وسطی ایشیا خراسان میں بھی انہوں نے اپنے فن کے کئی نمونے چھوڑے۔ تاج محل کی تکمیل کے بعد اس کے کارگروں نے دیگر یادگاروں کی تعمیر میں بھی کام کیے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ انہوں نے یہ یادگاریں اپنے ہاتھوں کے بغیر تعمیر کی ہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ سچائی کو قبول کیا جائے اور ملک کے ماحول کو خراب کرنے اور لوگوں کے ذہنوں کو پرآگندہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

English Article: Taj Mahal Or Tejo Mahalaya, A Shiv Temple? Get The Facts Straight

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/taj-mahal-tejo-mahalaya-shiv-temple/d/126942

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..