New Age Islam
Sat Jun 25 2022, 03:51 PM

Urdu Section ( 2 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Do We Condone Conversions By Christians But Condemn The Same By Muslims? ایسا کیوں ہے کہ جب کوئی عیسائیت قبول کرتا ہے تو ہم اسے تسلیم کر لیتے ہیں لیکن جب کوئی مسلمان بنتا ہے تو اسی کی مذمت کرنے لگتے ہیں؟

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 1 جون 2022

 مسلمانوں اور عیسائیوں کو دنیا کے تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذاہب میں داخل کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟

 اگرچہ میں گڑے ہوئے مردے کھودنا اور نفرت پھیلانا نہیں چاہتا، لیکن مجھے اس بات سے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ جہاں مسلمانوں کو لوگوں کو اسلام قبول کروانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہیں اسی 'جرم' کے لیے عیسائیوں (ان کے مشنریوں اور مدر ٹریسا) کی اتنی تنقید نہیں کی جاتی۔ یہ ناانصافی ہے ۔

 اب جب کہ مسلمانوں کے ساتھ بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اور قدامت پرست مورخین اس بات کو افشاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ توڑ پھوڑ کرنے اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مسلمان بنانے میں ملوث رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ چیزوں کو صحیح تناظر میں دیکھا جائے ۔

  یاد رکھیں، یہاں میں مسلمانوں کو بری نہیں کر رہا ہوں ۔ ہندوستان بھر میں مشنری کیا کر رہے ہیں؟ کیا ان کی 'خدمت' بے لوث ہے؟ کیا وہ واقعی بغیر کسی ذاتی مفاد کے غرباء کی پرواہ کرتے ہیں ؟ اڑیسہ کے دور دراز علاقوں اور پورے شمالی مشرقی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟ 'سیون سسٹرس' کے مقامی لوگ عیسائیت کیوں اپنا رہے ہیں؟ کیا وہ یسوع مسیح اور عیسائیت کو اپنی مرضی سے قبول کر رہے ہیں؟ نہیں، انہیں ہوشیار اور چالاک مشنری ہر طرح کے فریب اور لالچ دیکر دھیرے دھیرے عیسائی بنا رہے ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر ایڈورڈ ڈبلیو کہا کرتے تھے، "انسان کی پوری تاریخ میں کبھی ایک بھی فکری تبدیلی نہیں آئی ۔"

 عیسائی مشنریوں کی طرف سے پر فریب تبدیلی مذہب کے علاوہ جبرا تبدیلی مذہب کا بھی معاملہ پیش آ چکا ہے ۔ کیا ستائے جانے والے گوا کے باشندے پوپ جان پال دوم (اتوار، 12 مارچ 2000) کے استدلال پر گوا انکوزیشن کی ہولناکیوں کو معاف کر سکتے ہیں اور بھول سکتے ہیں کہ انکوزیشن سچائی کی خدمت میں تشدد تھا...... گویا، سچائی صرف کیتھولک چرچ کا استحقاق اور اجارہ داری ہے؟

 ہم مسلمانوں کی بربریت کو یاد رکھتے ہیں لیکن عیسائیوں کے ظلم کو بھول جاتے ہیں

 فرانسیسی فلسفی والٹیئر نے لکھا، "گوا اپنے انکوزیشن کے لیے بدنام زمانہ ہے، جو کہ انسانیت کے لیے اتنا ہی مضر ہے جتنا تجارت کے لیے ۔ پرتگالی راہبوں نے دھوکے سے ہمیں یہ ماننے پر مجبور کیا کہ ہندوستانی عوام شیطان کی پوجا کر رہے ہیں، جب کہ وہی اس کی خدمت کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں، واقع روڈریگیس نے فرسٹ پوسٹ میں پُرجوش انداز میں لکھا ہے کہ، ''گوا میں تبدیلی مذہب کا آغاز عیسائیوں کی آمد سے نہیں ہوا ہے ۔

درحقیقت پرتگالی افسروں کا گوا میں مذہب تبدیل کرنا اور یہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ شادی پرتگالیوں کی اختیار کردہ حکمت عملی تھی۔ پرتگالی پالیسی یورپی اور مقامی لوگوں کے درمیان شادیوں کو فروغ دینا تھا، جس کا مقصد اپنی فوج اور بحریہ کو پناہ فراہم کرنا تھا "جب البوکرک نے پہلی بار گوا کا سفر کیا، تو اس نے کئی عورتوں کو پکڑ کر بپتسمہ دیا، اور ان کی اپنے سپاہیوں سے شادی کرائی" (Maffeus, Lib. IV)۔ اطلاعات کے مطابق، گوا میں بہت سی ہندو اور مسلم خواتین نے عیسائیت اختیار کرنے کے بجائے خودکشی کی ہے ۔"

 ایک اندازے کے مطابق 17ویں صدی کے آخر تک ہندوؤں اور مسلمانوں کی نسلی کشی کا مطلب یہ تھا کہ گوا کی کل 2,50,000 آبادی میں سے 20,000 سے کم لوگ غیر عیسائی تھے ۔

 لہٰذا، اگر تبدیلی مذہب کے لیے مسلمانوں کی مذمت کی جاتی ہے، تو عیسائیوں کو بھی اسی جرم کے لیے مجرم قرار دیا جانا چاہیے ۔ میں اسے ایک جرم کہہ رہا ہوں کیونکہ لفظ 'تبدیلی' ایک مضبوط، مذہبی اور روحانی برتری کا احساس رکھتا ہے ۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے مشرقی مذاہب اور اخلاقیات پر اپنے ایک آکسفورڈ لیکچر میں اسے، "دو سامی عقائد (عیسائیت اور اسلام) کی روحانی برتری" کہا ۔ دونوں مذاہب کا رویہ 'جانوں کو ابدی عذاب سے بچانے' کا ہے ۔

 مجھے یاد ہے کہ جب میں مغربی ہندوستان میں ایک عیسائی ادارے میں پڑھا رہا تھا تو ایک دن انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے نہایت ہی لطیف انداز میں مشورہ دیا کہ مجھے یسوع کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کر لینا چاہیے اور میری روح فوراً نجات یافتہ ہو جائے گی، گویا قبولیت درد کا ایک فوری مداوا ہو، میں حیران رہ گیا ۔

تقریباً ایسا ہی لندن کی ایک مسجد میں ہوا، پنجاب کے سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی مسجد کے امام نے کہا، "آپ تو اسلام کے بار میں اتنا جانتے ہیں، کلمہ کیوں نہیں پڑھ لیتے؟" وہ جانتا تھا کہ اگرچہ میں ہر روز علمی مقاصد کے لیے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا ورد کرتا ہوں، لیکن میں نے اسے کبھی ایمان کے ساتھ نہیں پڑھا۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا، ’’اللہ آپ کو ہدایت دے گا‘‘، گویا میں ابدی تاریکی کی حالت میں ہوں۔ میں احمقوں کو جواب نہیں دیتا۔ لیکن اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ 'ہجوم کو بڑھانے' پر یہ اصرار کیوں ہے ('تبدیلی مذہب' کے لیے سابق مسلم ابن وراق کا طنزیہ جملہ)؟

 مسلمانوں اور عیسائیوں کو دنیا کے تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذاہب میں تبدیل کر کے کیا حاصل ہوگا؟ غیر مسلم اور غیر عیسائی کو جہنم میں جانے دیں اور ابدی جہنم کی آگ میں جلنے دیں۔ یہ ان کی تلاش ہے۔ آپ ایک مسلمان یا عیسائی بن کر اپنی جگہ قائم رہیں اور مومنوں اور غیر مومنوں کو ان کے اپنے 'غلط' عقائد کی پیروی کرنے دیں ۔ ان لوگوں کو 'درست' کرنے کی یہ جبری خواہش کیوں ہے، جو مسلمان یا عیسائی نہیں ہیں؟ مذہب تبدیل کرنے کی کوئی بھی دعوت، خواہ وہ ظاہر ہو یا ڈھکی چھپی، قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔

English Article: Why Do We Condone Conversions By Christians But Condemn The Same By Muslims?

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/condone-conversions-christians-condemn-muslims/d/127160

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..