New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:19 PM

Urdu Section ( 17 Feb 2011, NewAgeIslam.Com)

Growing Islamophobia: Missing Introspection: Do We Muslims Too Owe Some Responsibility? And What Can We Do About It? Sultan Shahin Asks Muslims Delegates to UNHRC

 

 

 

 

 

Editor, NewAgeIslam.com, Sultan Shahin's oral statement to the current Thirteenth session of UN Human Rights Council in Geneva on 16 March, 2010:

 

I would like to confine myself to reflecting on the problems of religious minorities, particularly Muslim minorities who are facing xenophobia and related forms of intolerance today in an atmosphere of widespread Islamophobia. We Muslims are also complaining of an attempt to encourage Islamophobia. The French ban on veils and Swiss ban on minarets has further vitiated the atmosphere. We do not know for sure how much of this is deliberate as a sort of anti-Islam crusade as we Muslims allege and how much is a paranoid reaction to growing radicalism, extremism and exclusivism in Islamic societies.

 

But I find a note of introspection on the part of us Muslims and Muslim governments completely missing in the continuing debate. I intend to do precisely that today. While we Muslims demand, and rightly so, the freedom to freely practice and propagate our religion in the non-Muslim majority countries, we do not seem to worry about the plight of religious minorities living in Muslim-majority lands.

Contribution of Petrodollar Islam

That Muslim societies in general have radicalised over the last decades cannot be denied. This has been a direct result of tens of billions of petrodollars having been spent in promoting a rigid, obscurantist, desiccated version of Islam, shorn of all its beauty and bounty. Preachers of what I can only call “petrodollar Islam” have gone around the world asking Muslims to develop a separate identity that distinguishes them not only in the practice of Islamic prayer rituals but also looks and apparel. The phenomenal rise in Muslim women wearing hijab and an assortment of veils or men growing what is called an Islamic beard is no accident.

Discrimination against religious minorities in Muslim-majority countries has grown. Anti-blasphemy laws, for instance, have been routinely used to harass and commit acts of violence against religious minorities. The Report of the Special Rapporteur on freedom of religion or belief, Asma Jahangir, mentioned the case of Christians and the minority Muslim sect of Ahmadis who are continually harassed on baseless allegations of blasphemy in Pakistan despite the government’s stated commitment to fulfil its international obligations. -- Sultan Shahin

http://www.newageislam.com/muslims-and-islamophobia/growing-islamophobia--missing-introspection--do-we-muslims-too-owe-some-responsibility?-and-what-can-we-do-about-it?-sultan-shahin-asks-muslim-delegates-to-unhrc/d/2590

 

تصاعد-الإسلاموفوبیا--لنحاسب-أنفسنا/d/9533

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/growing-islamophobia--missing-introspection--do-we-muslims-too-owe-some-responsibility?-and-what-can-we-do-about-it?-sultan-shahin-asks-muslims-delegates-to-unhrc/d/ 

بڑھتی ہوئی اسلام ہر اسی (اسلامو فوبیا) خود احتسابی کی کمی

16 مارچ 2010 ء کو جینوا میں منعقدہ حقوق انسانی کا ؤنسل  کے 13 ویں اجلاس میں نیو ایج اسلام کے ایڈیٹر سلطان شاہین کی تقریر اقوام متحدہ  کاؤنسل برائے حقوق انسانی

عالی جناب صدر!

میں خود کو اقلیتوں خصوصا مسلم اقلیتوں کے مسائل تک محدود رکھوں گا جو موجودہ دور میں وسیع اسلام ہراسی کے ماحول میں بیگانہ ترسی اور عدم تحمل اور تعصب کا سامنا کررہے ہیں ۔ ہم مسلمانوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ اسلام ہراسی  کو بڑھا وا دینے کی بھی کوشش ہورہی ہیں ۔ فرانس میں حجاب اور سوئیز لینڈ میں میناروں پر پابندی سے ماحول اور بھی خراب ہوگیا ہے۔ ہم یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب کتنا مخالف مہم کے طور پر ہورہا ہے جو ہم مسلمانوں  کاالزام ہے اور اس میں کتنا اسلامی معاشرے میں روز افزوں انتہا پسندی ، جارحیت  اور جعت پسندی کے رد عمل میں ہورہا ہے۔

لیکن میں مسلمانوں  میں خود احتسابی کی لہر محسوس کررہا ہوں ، لیکن یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ جاری مکالمے میں مسلم حکومتیں  غیر حاضر ہیں ۔ اور یہی کام میں آج کرنا چاہتا ہوں ۔ ایک طرف تو ہم مسلمان یہ مطالبہ  کرتے ہیں کہ ہمیں غیر مسلم اکثریتی  ممالک میں اپنی مذہبی امور پر آزادانہ طور سے عمل کرنے اور اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کرنے کی آزادی چاہئے وہیں ہمیں مسلم اکثریتی  ملکوں  میں رہنے والے غیر مسلموں کی حالت زار کے متعلق کوئی فکر نہیں ہوتی ۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گذشتہ دہائیوں  میں مسلم معاشرے میں رجعت پسندی کو فروغ ہوا ہے ، یہ ایک دقیانوسی ، بے لو چ اور بے رس اسلام کے فروغ کے لئے عربوں کے پٹرو ڈالر کے استعمال  کے براہِ راست  نتیجے  میں ہوا ہے، جس نے اسلام سے حسن و فراخدلی کو چھین لیا ہے۔ میری اصطلاح میں اس ‘ پٹرو ڈالر اسلام’ کے مبلغین نے دنیا  میں گھوم گھوم کر مسلمانوں  کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ نہ صرف عبادتی  امور بلکہ لباس اور وضع و قطع سے بھی اپنی ایک الگ شناخت قائم کریں ۔ مسلمان عورتوں میں حجاب کے استعمال  میں قابل ذکر اضافہ  اور مسلمان مردوں میں اسلامی داڑھی رکھنے کا بڑھتا ہوا چلن کوئی حادثہ نہیں ہے۔ مسلم اکثریتی  ملکوں  میں مذہبی اقلیتو ں کے خلاف تعصب  میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر مذہبی اقلیتوں کے خلاف توہین رسالت  کا قانون با قاعدہ طور سے مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف تشدد  روا رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

خصوصی گذارش  برائے آزادی مذہب و عقیدہ ، محترمہ عاصمہ جہانگیر  کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پوری طر ح نبھانے کے اعلامیہ عہد کے باوجود پاکستان میں عیسائی اقلیت اور احمدی فرقے کو بے بنیاد الزامات کے تحت ہراساں  کیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مندرجہ ذیل سرخیاں مسلم اکثریت  ممالک میں اخبارات میں تقریباً ہر روز دیکھنے کوملتی ہیں:

سعودی شخص  نے عیسائی مذہب قبول کرنے پر بیٹی کاقتل کردیا

اسلام قبول  نہ کرنے پرپاکستان میں دو سکھوں کاقتل

خوفزدہ پاکستانی ہندو ، بھارت میں پناہ لے رہے ہیں

ملیشیا ء میں ہندوؤں  کے حقوق سلب کر لئے گئے

انڈونیشیا ء میں  مذہبی ٹی وی تکثیر ی معاشرہ کے لئے خطرہ  وغیرہ وغیرہ .........

ایک اور مسئلہ  جو غالباً اسلام ہراسی  کو فروغ دے رہا ہے وہ ہے مسلم معاشرے میں اسلامی برتری کا شدید احساس، خدانے قرآن میں کہا ہے کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں  ہے، یہ وہی مذہب ہے جو خدا اپنے لاکھوں پیغمبروں کے ذریعے  اس دنیا میں بھیجتا رہا ہے۔ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن  ان پیغامات کااعادہ کرتاہے جو اس سے پہلے بھیجے گئے ہیں ۔ ہمیں خاص طور پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ہم اس مخمصے  میں نہ پڑیں کہ صرف ہم ہی منتخب قوم ہیں۔ لیکن ہم نے  یہ بات نہیں مانی ۔ ہم نے اسلامی تعلیمات  کےبرعکس اسلامی برتری  کے نظریئے  کی ایجاد  کرلی ۔ ہم نےاس نظرئیے  کی تخلیق کرلی کہ صرف مسلمان ہی جنت میں جائیں گے ،باقی سبھی  لوگ چاہے وہ جتنے بھی نیک  ہوں، جہنم میں جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ خود  کو دوسروں سے بہتر سمجھنےوالا ان سےبہتر  تعلقات قائم نہیں  کرسکتا ۔

علاوہ ازیں مسلمانوں میں سے ایک فرقہ نے خارجی اسلام کے تصور کی اشاعت کی جس کا مقصد ہر ا س روایت کو ترک کردیناہے جو قبل  اسلام دور کی دین ہے۔ قبل اسلام رواج جیسے حج اور کعبہ شریف کی تکریم اسلام کا جز ءلا  نیفک ہے، مگر ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی  تمام مقام تہذیبی روایات کو خیر باد کہہ دیں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے مختلف لباس اور وضح و قطع اور طور طریقے اختیار کریں۔

جہادی اسلام کی اصطلاح اسی پٹرو ڈالر اسلام سے مشتق ہے، یہی جہادی اسلام ہمارے جوانوں کو ہم چھین کر برین واشنگ کر کےانہیں  انسانی بم میں تبدیل کررہا ہے ۔ یہ قرآن کی کچھ آیات کو جنگ  کے ہتھیار کے  طور پر استعمال کرتا ہے۔ ہم سب اس بات سےواقف ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلام کی بقاء  اور وجود کی جنگ لڑی، ان آیتوں کا نزول  اس وقت جنگ  کے جذبے کو ابھارنے کےلئے ہوا ، لیکن اس پر آج بھی عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔

ایسے وقت میں ‘ جہادی’ اسلام ان آیتوں کا استعمال ہمارے نوجوانوں کی برین واشنگ کے لئے کررہا ہے تاکہ وہ ان  احکامات پر حرف بہ حرف  عمل کریں، دوسری طرف پٹرو ڈالر اسلام بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ آفاقی  اور ابدی  اہمیت کاحامل ہے اور اسی لئے  جنگ کا حکم بھی آج  بھی وہی معنویت رکھتا ہے جو مثال کے طور پر نماز یا تقوی کے حکم کی ہے۔ لہٰذا یہ بات من الشّمس ہے کہ جہادی اسلام اور پٹرو ڈالر  اسلام ایک ہی سکّے کے دو پہلو  ہیں ۔ ہم مین اسٹریم مسلمان خاموش تماشائی ہیں ۔ ہم ان دونوں فرقوں کو اپنے سماج  میں نقصان پہنچا تے اور تفرقہ  ڈال کر دوسری قوموں سے ہمارے تعلقات خراب کرتے  دیکھ رہے  ہیں ۔ ہم نے انہیں  اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ ہمارے مذہب سے روحانی عناصر کو نچوڑ کر نکال دیں اور اس میں اسلام کی ایک ایسی خشک ، ریتیلی اور بے رس شکل بھر دیں جس میں کوئی حسن اور بشاشت، لذت نہ ہو۔ خدا کی ایک صفت حسن  بھی ہے لیکن  پٹرو ڈالر اسلام نوازوں  کے دلوں  میں صرف اور صرف بد خوئی اوربغض و عناد ہے۔

عزت مآب صدر

اسلام کی اصل دھارا اب بھی صحیح سلامت ہے۔ یہ فرقے اب بھی بہت محدود ہیں، اگر چہ بے انتہا  دولت کی فراہمی نے فی زمانہ انہیں جارح  بنادیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم مسلمان اور حکومتیں بین الاقوامی سماج سے صرف اپنے حقوق کامطالبہ نہ کریں بلکہ پوری دنیا کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور قیام امن کےاقوام متحدہ  کی کاوشوں کو پورا کرنے میں تعاون  کرنے کی بات بھی سوچیں ۔وقت آگیا ہے کہ ہم جہادی، دیو کا سامنا کریں، ٹال مٹول کرنے کا  وقت گذ ر گیا ہے  ۔ ہمیں  اپنی بنیادوں  کی طرف واپس جانا ہوگا، قرآنی بنیادوں  ، فلسفیانہ بنیادوں کی طرف، اپنے عظیم صوفیاء کرام اور ان کی تعلیمات کی طرف ۔ ہمیں  پھر اپنے صوفیوں  کے روشن قلبی  ، وسیع النظری ، سخاوت اور عفو و در گذر اور تشکر کے جذبے  کو اپنانا ہوگا جو حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت تھی ۔  یہ نہ صرف ہمارے مذہب کے تحفظ  کا سوال ہے بلکہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو جہاد کیمپوں اور متحرک اور سلیپر سیل  میں جانے سے روکنے کابھی سوال ہے۔

ہم اپنے بچوں کے تحفظ  ، حقوق انسانی ، انسانیت اور عالمی امن کے تحفظ  کے لئے کم سے کم اتنا کرسکتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کو بڑے واضح الفاظ  میں بار بار یہ بتائیں کہ :۔۔۔۔۔۔

1۔ صرف ہم لوگ ہی چنندہ  قوم نہیں ہیں، اسلامی برتری غیر دانش مندانہ تصور ہے، اور خدا کی نظروں میں تمام انبیا ء کی امتیں برابر ہیں اور خدا ان کے ایقان کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا نہ کہ ہمارے۔

2۔ جنگوں کے متعلق  قرآنی آیتیں ان جنگوں کے متعلق ہیں جو اس وقت لڑی جارہی تھیں اور آج حالات پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا ۔

3۔ پٹرو ڈالر اسلام جس خارجی اسلام کی تلقین کرتا ہے وہ دراصل اسلام نہیں ہے، اسلام پر امن بقائے باہم کے پیغام میں یقین رکھتا ہے جو دو آیتوں ‘لکم دینکم ولی دین’ ( تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے ) اور ‘ لا اکراہ فی الدین’ ( دین میں کوئی جبر نہیں) میں کردیا گیا  ہے۔

4۔ غیر مسلم ممالک میں شریعت کے نفاذ پر اصرار خطرناک ہے۔ ہندوستان دنیا کا واحد مسلم اکثریتی  ملک ہے جو مسلمانوں کو پرسنل لاء کے مطابق اپنے کنبے  کے معاملات طے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن دیگر معاشرے اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ خود مسلم ممالک اپنے یہاں کی اقلیتوں کو اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ لہٰذا ، یوروپی و دیگر ممالک میں اس کی وکالت موجودہ  ماحول میں اسلام کا خوف یا اسلام ہراسی کو فروغ دیتی ہے جو نا قابل فہم نہیں ہے، حالانکہ  تمام حکومتوں کو اس کے خلاف لڑناچاہیئے اور مسلم سماج کے جائز حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے ۔

  مذہبی  آزادی نا قابل تقسیم ہے، اگر ایک اقلیت کی حیثیت سے ہمیں مذہبی آزادی کی ضرورت ہے تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم مسلم ممالک میں اقلیتوں کی مذہبی  آزادی کے لئے بھی لڑیں ۔

  اسلام خود ہمیں اجتہاد اور غور و فکر کادرس دیتا ہے تاکہ ہم بدلتے ہوئے وقت  کے ساتھ  نئی سچائیوں سے خود کو ہم آہنگ کرسکیں۔

http://www.newageislam.com/muslims-and-islamophobia/growing-islamophobia--missing-introspection--do-we-muslims-too-owe-some-responsibility?-and-what-can-we-do-about-it?-sultan-shahin-asks-muslims-delegates-to-unhrc/d/4149

Loading..

Loading..