New Age Islam
Wed May 27 2026, 05:35 PM

Urdu Section ( 16 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Theologians Too Need To Introspect صوفی علماء کو بھی اپنا محاسبہ کرنے،تفوق پرستی اور سیاسی اسلام کے تصور سے الگ ہونے کی ضرورت:جنیوا میں سلطان شاہین صاحب کا خطاب

سلطان شاہین ، فاؤنڈنگ ایڈیٹر نیو ایج اسلام

9 مارچ، 2018

اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل جنیوا کے 37 ویں سالانہ اجلاس کا مکمل تقریری بیان

مباحثہ عامہ، آئٹم نمبر 3، حقِ ترقی ، شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی ، ثقافتی حق سمیت تمام حقوق انسانی کا فروغ اور ان کا تحفظ

پیش کردہ: سلطان شاہین ، فاؤنڈنگ ایڈیٹر نیو ایج اسلام

منجانب ایشین-یوریشین ہیومن رائٹ فورم

جناب صدر،

11/9 حادثے کے 17 سال بعد بھی اسلام کے نام پر دہشت گردی کے خاتمے کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوتے۔ عراق اور شام میں نام نہاد داعش کو اگر چہ شکست ملی ہے، لیکن افریقہ اور جنوبی ایشیا میں یہ فروغ پا رہا ہے۔ بہت سے طالبان دہشت گرد اب داعش میں شامل ہوکر افغانستان میں تباہی مچا رہے ہیں۔مصر کی جدید تاریخ میں انجام دئے جانے والے ایک انتہائی شدید ترین حملے میں داعش کے دہشت گردوں نے نومبر 2017 کو ایک صوفی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں صرف 800 آبادی والے شہر کے 305 افراد ہلاک ہوئے اور 128 افراد زخمی۔ اس حملے کا شکار ہونے والے لوگ بنیادی طور پر صوفی مسلمان تھے۔ صوفی مزارات اور ان کے زائرین کو دنیا بھر میں اسلام پسند دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں، اور خاص طور پر پاکستان، لیبیا، مالی اور ایران میں ہزاروں افراد کی جانیں تلف کر رہے ہیں اور مزارات مساجد اور لائبریریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان سب کے باوجود ہمیں مسلم لیڈروں سے اسلام پسند دہشت گردی کے خلاف صرف زبانی بیان بازیاں ہی سننے کو ملتی ہیں۔ اسلامی فقہی تعلیمات کو مطلق العنانیت ، دوسروں سے نفرت ، عدم روادار ی اور جارحانہ جہاد کے ذریعے اسلامی رقبے میں اضافہ کرنے کے ایک تاریخی محرک سے پاک کرنے کے لئے کوئی ٹھوس عمل قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم صوفی مسلمان، جو ایک طویل عرصے سے جہادی نظریہ کا شکار رہے ہیں ، جو کہ جدید خارجی سلفیت کی ہی ایک شاخ ہے - اپنا محاسبہ کریں گے اور اپنی فقہی تعلیمات کا جائزہ لیں گے اور انہیں سیاسی اسلام کے عناصر سے پاک کریں گے۔

یہ بات کچھ لوگوں کو عجیب لگ سکتی ہے۔ کیونکہ تصوف کو ہی جہادی نظریہ کا توڑ  مانا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ صوفیائے کرام نے اپنے افعال اور اقوال دونوں کے ذریعہ تکثیریت پسندی اور بقائے باہمی کی تعلیم دی ہے۔ انسانیت کے لئے ان کی خدمت اور ہر ذات ہر طبقے کے انسانوں کے لئے ان کا سلوک ایک مثالی نمونہ ہے۔ لہٰذا،  اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہےکہ ہر مذہب کے لوگ ان کے مزارات کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صوفی علماء اور فقہاء بھی سیاسی اسلام کے حامی رہے ہیں۔

لیکن سب سے عجیب بات جو اب دیکھنے کو مل رہی ہے وہ یہ ہے کہ فقہی تعلیمات کو مطلق العنانیت کے اثرات سے پاک کرنے کے بجائے صوف مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسے معمولات میں مصروف ہے کی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تصوف میں اب وہابیت کا زہر گھولا جا رہا ہے۔ صوفی اصول و اخلاق اور تعلیمات کی کتابیں صوفی مدارس کے نصاب سے خارج کر دی گئی ہیں۔ سنی مدارس کے اندر وحدت الوجود کے بنیادی صوفی تصور کی جگہ وحدت الشہود کے تصور کو متعارف کرایا جا رہا ہے ، جسے سب سے پہلے شیخ سرہندی نے ابن عربی کے اس نظریہ کے رد میں پیش کیا تھا جسے ان کے پیروکاروں نے وحدت الوجود کا نام دیا ہے۔ بعض قدیم نظریہ تصوف کے حامل مسلمان خود زیارت قبور اور صنفی علیحدگی وغیرہ جیسے مسائل پر سخت گیر وہابی سلفی مسلمانوں کا نقطہ نظر اختیار کر رہے ہیں اور خواتین کو اب حسب سابق مزارات کی زیارت سے روکا جا رہا ہے۔

جناب صدر،

میں کونسل میں شرکت کرنے والی مسلم حکومتوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کے مسئلے کو پہلے سے کہیں زیادہ اب سنجیدگی سے لیں اور اپنی فقہی تعلیمات کو اس استبدادی نظریہ سے پاک کریں جو پوری دنیا پر تسلط حاصل کرنے کے لئے جارحانہ جہاد کی حمایت کرتا ہے۔ الولاء و البراء (صرف مسلمانوں کے ساتھ دوستی کرنا اور دیگر تمام لوگوں کے ساتھ دشمنی)، یا تکفیریت (دوسرے مسلمان کو کافرکہنا) کے اصول سے جنم لینے والے نظریات کے زہر کو مدارس کے مسلم طلباء کے ذہنوں میں نہیں گھولا جانا چاہئے۔

اسلامی صحیفوں میں ایسے نظریات و احکامات موجود ہیں جن کا اطلاق آج ہمارے اوپر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس قدیم صوفی اور سلفی فقہاء نے یہ کہا ہے کہ صرف ایک نام نہاد جنگ والی آیت نے اوائل دورِ اسلام میں نازل ہونے والی قرآن کریم کی ان 124 آیتوں کو منسوخ کردیا ہے جن میں امن اور تکثیریت پسندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ جنگ ختم ہو جانے کے بعد جنگ کے دوران دی گئی کسی بھی ہدایت کو باطل سمجھا جانا چاہئے۔ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے والے سربراہان مملکت کو سب سے پہلے فقہ اسلامی کا تجزیہ کرنا چاہئے اور اسے استبدادی عناصر سے پاک کرنا چاہئے۔

جناب صدر،

میں یہاں اٹھائے مسائل کی کچھ تفصیلی وضاحت پیش کر رہا ہوں

اسلام پوری دنیا کے ہر ہر گوشے میں پہنچ چکا ہے اور آج اس کے تقریبا دو ارب پیروکار ہیں۔ دین اسلام کا جنم آج سے تقریباً 1400 سال قبل صحرائے عرب میں ہوا تھا اور یہ دنیا کے جس بھی خطے میں گیا اس نے اپنے بنیادی اور اصولی عقائد کو برقرار رکھتے ہوئے اس نے وہاں کی مقامی ثقافت و روایات کے سانچے میں خود کو ڈھال لیا۔ در حقیقت اسلام نے خود اس روایت کو فروغ دیا ہے۔ خود قرآن کریم اپنے پیروکاروں کو خدا کے تمام نبیوں پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے جنہوں نے محمد ﷺ سے قبل اپنے دور میں علاقائی زبانوں میں خدا کے پیغام کی تبلیغ کی ، خواہ انہیں اب جس بھی نام سے جانا جاتا ہو۔

اسلامی روایات میں خدا کے پیغامات کی تبلیغ کرنے والے ایسے رسولوں اور پیغمبروں کی تعداد 1 لاکھ 24 ہزار بیان کی گئی ہے جن میں سے قرآن کے اندر مختلف تعلیمات کی وضاحت میں صرف 25 پیغمبروں کے ناموں کا ہی ذکر کیا جا سکا ہے۔ لہٰذا، خدا کی وحدانیت اور محمد ﷺکی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ایک مسلمان سابقہ تمام انبیاء و رسل پر بھی ایمان لاتا ہے۔ اور یہ فطری بات ہے کہ مسلمانوں نے اپنے سابقہ معتقدات اور ثقافت و روایات سے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی مکمل طور پر خود کو اس حد تک الگ کرنا ضروری نہیں سمجھا جب تک ان سے اِن نئے اسلامی اصول و معتقدات میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

جیسا کہ افریقہ ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں بھی اسلام فطری طور پر اپنی علاقائی روایات اور ثقافتی اقدار کے ساتھ زندہ ہے۔ اور اس اس کا شاندار مظاہرہ برصغیر ہند میں صدیوں سے رائج لوگوں کے صوفی طرز زندگی سے ہوتا ہے۔ صوفی معمولات کی مقبولیت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام خطوں میں صوفیائے کرام کے مزاروں پر بالخصوص سالانہ تقریباتِ عرس میں لاکھوں کی تعداد میں مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکار نیازِ عقیدت مندی پیش کرنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ کچھ درگاہوں پر صوفی موسیقی کی روایت ہفتہ وار یا کچھ خاص مواقع پر اب بھی جاری ہے۔ صوفی موسیقی تہواروں کے مداحوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جن میں دنیا کے مختلف حصوں کے موسیقار حصہ لیتے ہیں۔ کلاسیکی ثقافتی تقریبات سے لیکر فلمی صنعت تک جنوبی ایشیاء کے اندر مختلف صورتوں اور متعدد تقریبات میں صوفی آرٹ کو سلبریٹ کیا جاتا ہے۔ ایک سالک کے لئے خالق حقیقی کی معرفت میں معاون اور روح کے لئے حرارت بخش موسیقی جو کہ بر صغیر ہند کی ایک منفرد خصوصیت ہے، ہند و پاک میں اس کی صنعت اب بھی جاری ہے۔

لیکن گزشتہ دہائیوں میں چیزوں کے اندر تبدیلی بھی آئی ہے۔ اسلامی معتقدات و معمولات میں ایک قسم کی یک رنگی پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش کی گئی ہے ، جو کہ ایک طرح سے اسلام کو سعودی عرب کے رنگ ڈھنگ میں محصور کرنے اور پوری دنیا کی مقامی تہذیبی اور ثقافتی اثرات کو مٹانے کی کوشش ہے۔ بڑے پیمانے پر پیٹروڈالر کے تعاون کے باعث 1974 کے بعد سے عالمی سطح پر سلفیت کے فروغ سے برصغیر ہند میں بھی مروج صوفی طرز زندگی کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سطحی طور پر تو یہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ صوفی قدریں اور روایتیں اب بھی فروغ پا رہی ہیں ، بلکہ فلمی اور موسیقی صنعتوں میں انہیں نئے نئے رنگ و نگار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، لیکن یہ داخلی طور پر زبردست خلفشار کا شکار ہے۔ کسی صوفی مزار پر ہجوم کے مسلسل اضافے کو دیکھ کر ہمیں غفلت سے کام لیتے ہوئے تصوف کو در پیش سنگین چیلنجوں سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے۔

40 سال قبل تصوف کو الحاد و زندقہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عالمی سطح پر ایک پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ تصوف کو پوری اسلامی تاریخ میں ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں کے درمیان اسے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ، اور اس کی بیخ کنی میں صرف بے شمار متمول و مالدار لوگوں کا ہی نہیں بلکہ حکومتوں کا بھی تعاون شامل رہا ہے۔

13 ویں اور 14 ویں صدی کے دو انتہائی مقتدر اور مؤثر سلفی علماء عبد الرحمان ابن الجوزی نے تصوف کو "الحاد" اور تقی الدین احمد ابن تیمیہ نے اسے"اسلام کی ایک عیسائیت پسند تعبیر" قرار دیا ہے۔ تصوف کو بدعت قرار دیتے ہوئے یہ، اور اسی طرح کے دیگر نظریات کا پروپیگنڈا گزشتہ دہائیوں میں پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تصوف کے رجحانات اسلام کے اندر اس کے روز اول سے ہی موجود رہے ہیں ، سب پہلے مسلمان حضرت ابو بکر اور حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو صوفیائے کرام اور عرفائے عظام کی صف اول میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تربیت روحانی اسرار و معارف کے باب میں خود پیغمبر اسلام (ﷺ) نے فرمائی تھی۔ اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہمیں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے صوفی تھے، حالانکہ اس اصطلاح کا استعمال بعد کے زمانوں میں ہوا۔ آپ ﷺ غار حرا میں کئی کئی دن اور کئی کئی ہفتے مجاہدے اور مراقبے میں گزارا کرتے تھے ، جیسا کہ یہ تمام صوفیوں ، رشیوں اور منیوں کا معمول رہا ہے۔

بر صغیر ہند میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت صوفی سنتوں نے کی ہے۔ لہٰذا، یہ بات واضح ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت صوفیائے کرام اور تصوف کے ماننے والوں کی ہے یا کم از کم یہاں اکثریت ایسے ہی لوگوں کی رہی ہے۔ لیکن ملک بھر میں بہت سے مسلمان اور خاص طور پر کیرل کے مسلمان اب خود کو فخر کے ساتھ سلفی مسلمان کہتے ہیں اور اپنی مسجدوں کو سلفی مسجد کہتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں نے تو خود کو تیمی بھی کہنا شروع کر دیا ہے اور اس طرح وہ خود کو ابن تیمیہ کا پیروکار ظاہر کرتے  ہیں ، اگرچہ انہوں ننے کبھی بھی خود کو وہابی یا محمد ابن عبد الوہاب کا پیروکار نہیں کہا ہے۔ عافیت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے اندر صوفی مزارات اور اس کے زائرین پر ابھی کوئی حملہ نہیں ہے ، جیساکہ اس طرح کے واقعات برصغیر اور دنیا کے دیگر حصوں میں پیش آ رہے ہیں اور متعدد جہتوں سے تصوف پر خطرات کے بادل منڈلاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔

عہد حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کا ہے۔ دہشت گرد اسے جہاد کہتے ہیں۔ ان کے نظریات کوجہادیت کا نام دیا جاتا ہے۔ جہادیت جدید خارجی سلفی وہابیت کی ایک انتہاپسند شاخ ہے جو کہ سعودی عرب میں مروج ہے۔ امریکی اداروں پر 11/9 کے دہشت گردانہ حملے میں ملوث 19 میں سے 16 دہشت گرد سعودی عرب کے تھے اور باقی مصری تھے جنہوں نے سعودی مذہبی تعلیم حاصل کیا تھا۔

دنیا نے اسلام سے ڈرنا شروع کر دیا  ہے۔ لیکن پوری دنیا نے اسلام پسند دہشت گردی کا علاج تصوف کو ہی مانا دیا ہے۔ اس سے اگر چہ لوگوں نے تصوف کی ایک مثبت نقطہ نظر سے دیکھا ، جبکہ تصوف پر جہادی اور اسلامفوب دونوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ بھی ہوا۔

آج انٹرنیٹ پر ہزاروں صفحات ایسی باتوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تصوف اسلام کی ایک خالص شکل نہیں جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ، امام غزالی ، ابن عربی ، شیخ سرہندی اور شاہ ولی اللہ دہلوی وغیرہ جیسے عظیم صوفی فقہاء کی تحریروں سے ایسے حوالہ جات پیش کئے جا رہے ہیں جن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ حضرات بھی دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے لئے کافروں اور مشرکوں کے خلاف جارحانہ جہاد کے حامی اسی طرح تھے جس طرح غیر صوفی اور روایتی قدامت پسند مذہبی علماء تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فقہ اسلامی میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق ایک مستقل جنگ کا ہے یہاں تک کہ پوری دنیا پر اسلام کی بالا دستی قائم ہو جائے۔

لہذا جارحانہ جہاد کے معاملے میں صوفیائے کرام کا موقف کیا ہے؟ ابتدائی زمانے سے ہی صوفیائےکرام نے قرآن مجید کے احکامات کی لفظی اور روحانی و عرفانی تفسیریں پیش کی ہیں۔ رشیدالدین میبدی کی کشف الاسرار (متوفی ابتدائی بارہویں صدی) یا القشیری کی لطائف الاشارات سے لیکر حضرت عبد القادر جیلانی ، امام ابو حامد الغزالی اور خود ہندوستان کے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ، تک تمام صوفیائے کرام اس دنیا کے اندر اعلائے کلمۃ اللہ میں مدد کرنے کے لئے جارحانہ جہاد کی ضرورت پر روایتی علماء سے متفق نظر آتے ہیں۔ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ جہاد اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک اس دنیا میں کفر اور شرک موجود ہے۔ وہ جزیہ ادا کرنے والے غیر مسلموں کے لئے  ذلت آمیزی بیان کرتے ہیں وہ 21ویں صدی کے حالات اور تقاضوں سے واقفیت رکھنے والے انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ ان کے لئے جارحانہ جہاد اور روحانی جہاد (جہاد بالنفس) ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں، لیکن روحانی جہاد (جہاد بالنفس) جارحانہ جہاد کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔ (برائے مہربانی ان میں سے چند حوالہ جات کے لئے درج ذیل ضمیمہ ملاحظہ کریں)

اپنی ایک مستند کتاب "Jihad in pre-modern Sufi writing" میں ہیری ایس نییل نے یہ ثابت کیا ہے کہ دورِ اوائل کی کتب تصوف میں بھی یہ تصور موجود ہے کہ جہاد بالنفس اور جارحانہ جہاد  دونوں ایک دوسرے کے لئے تکمیل کنندہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: "ابن کثیر (تفسیر قرآن) میں(14ہویں صدی کے اندر) دو سو سال قبل  جو بات کہیں گئی تھی وہی بات(ابتدائی 12ہویں صدی میں) رشیدالدین میبدی کی کتاب کشف الاسرار میں کہی جا چکی تھی کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بعض علمائے اسلام کا یہ موقف رہا ہے کہ قرآن کی آیت 9:5 اس سے قبل نازل ہونے والی 124 آیتوں کو منسوخ کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 12ہویں صدی کے اوائل دور کی ایک صوفی تفسیر اور 14ہویں صدی کی غیر صوفی تفسیر دونوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات سے متعلق اوائل دور میں نازل ہونے والی قرآن مجید کی آیتوں کی تنسیخ کی بات کی گئی ہےجس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے مفسرین اس رائے کو جائز اور مستند مانتے ہیں۔"

اپنے وصایا میں ابن عربی کہتے ہیں:"میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور شریعت اور اس کے آئین کے خارجی پہلوؤں کی ضروریات کو برقرار رکھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ تمہارے اوپر جہاد اکبر فرض ہے، جو کہ تمہاری نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد ہے، اور جب تم اپنے نفس اور خواہشات ذمیمہ کے خلاف یہ جہاد انجام دوگے تو دشمنوں کے خلاف دوسرا جہاد تمہارے لئے [آسان] ہو گا، کیونکہ اگر تم محاذ جنگ پر جہاد میں مرنا چاہتے ہو تو زندہ شہیدوں میں شامل کر لئے جاؤ گے۔ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے ( مجاہد ) کو وہ مقام حاصل ہے جو ایک ایسے پرہیزگار کو حاصل ہوتا ہے  جو اللہ کے لئے روزہ رکھتا ہے .... خدا کی راہ میں [جہاد میں] پوری مستعدی کے ساتھ شرکت کرو ..... اور آگاہ رہو کہ اگر تم فوجی مہم میں حصہ نہیں لیتے اور تم [اس مقصد کے لئے] قدم نہیں اٹھاتے تو تمہارا شمار منافقوں میں ہو گا"....۔ [وصایاابن عربی بحوالہ ہیری ایس نیل "Jihad in pre-modern Sufi writing" ۔

اسی طرح حضرت عبدالقادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) فوجی مہم جوئی اور روحانی جہاد (جہاد بالنفس) کی ایک دوسرے کے لئے تکمیلی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ انہوں نے "اسلامی قانونی احکامات کی پابندی کو جہاد اکبر کا ایک لازمی پہلو قرار دیا ہے ، جس سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ صوفیائے کرام اسلام کے بنیادی خارجی پہلوؤں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے.....۔ اگرچہ صوفیائے کرام نے عام طور فوجی مہم جوئی کے مقابلے میں جہاد بالنفس کو کہیں زیادہ مشکل اور دشوار کن گردانا ہے لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاد بالنفس فوجی مہم جوئی کی تردید کرتا ہے۔ اسی طرح، لفظ "زیادہ" اور "کم" سے مراد ان کی اہمیت کی درجہ بندی کرنا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ محنت درکار ہے۔ بحوالہ ہیری ایس نیل "Jihad in pre-modern Sufi writing

زیارت قبور کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت

تعجب کی بات ہے کہ سلفی وہابیوں کی بات تو درکنار ، ہندوستان میں کچھ بڑے صوفی بریلوی مفتیان کرام زیارت قبور کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔ اور اپنے موقف کی تائید میں ایسے معمولی اور کمزور دلائل پیش کرتے ہیں جو غیر مستند ہیں۔ وہ اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند منسوخ احادیث ہی پیش کر سکیں ہیں جن میں نبی ﷺ نے اوائل اسلام کے مسلمانوں کو قبروں پر جانے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن وہ ان ناسخ احادیث سے صرف نظر کرتے ہیں جنہوں نے ماقبل کی حدیثوں کو منسوخ کردیا ہے اور جن سے زیارت قبور کی اجازت اور تائید ثابت ہوتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ابتداءً عارضی طور پر زیارت قبور کو ممنوع قرار دیا تھا ، لیکن بعد میں آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی اور اس کی روحانی افادیت کے پیش نظر آپ ﷺ نے باقاعدہ زیارت قبور کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔

عارضی پابندی کا سبب یہ تھا کہ اس وقت کے نو مسلم اپنے غیر مسلم آبا و اجداد اور رشتہ داروں کی قبروں پر نازیبا اور غیر مہذب اشعار اور اہانت آمیز اشعار لکھتے تھے۔ لیکن بعد میں جب مسلمانوں کو زیارت قبور کے آداب اور طور طریقوں کی تعلیم و تربیت دے دی گئی تو یہ پابندی اٹھا لی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مسلمان مرد و خواتین دونوں کو زیارت قبور اور اس سے روحانی فوائد حاصل کرنے کی عمومی اجازت عطا فرما دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"میں نے قبروں پر جانے سے تمہیں منع کیا تھا۔ لیکن اب میں تمہیں اس کی جازت عطا کرتا ہوں اب تم زیارت کے لئے جا سکتے ہو کیونکہ یہ تمہیں اس دنیا کی لذتوں سے پھیر کر تمہیں آخرت کی یاد دلائی گی۔ "(مسلم، کتاب الجنائز ، 106؛ اضاحی ، 37؛ ابو داؤد ، کتاب الجنائز ، 77؛ اشربہ ، 7؛ ترمذی ، کتاب الجنائز ، 7؛ نسیائی ، کتاب الجنائز ، 100؛ ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، 47؛ احمد بن حنبل ، I، 147، 452، III، 38، 63، 237، 250، V، 35، 355، 357)۔

"پیغمبر اسلام (ﷺ) خود نصف شعبان کی رات زیارت قبور کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ ہمیشہ اپنے والدہ کی قبر پر جاتے اور ان کی محبت اور یاد میں آنسو بہاتے تھے، جیساکہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:

‘‘ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور رونے لگے جس کی وجہ سے آپ ﷺکے ارد گرد صحابہ کرام بھی رو پڑے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ میں نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے اپنے رب سے اجازت حاصل کر لی ہے۔ اب تمہیں بھی قبروں کی زیارت کرنی چاہے، کیونکہ اس موت کی یاد تازہ ہوگی۔ "( صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 65)

اس حدیث میں موجود زیارت قبور کے حوالے سے اس واضح اسلامی تصور کے باوجود صوفی اداروں میں بھی انتہاء پسند مفتی مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط کے بہانے خواتین زائرین کو درگاہوں کی زیارت سے روکتے ہیں۔ وہ اس قدیم اسلامی روایت کو حرام کہتے ہیں۔

صوفی بریلوی علماء پر بھی بڑھتے ہوئے سلفی وہابی اثرات دن بہ دن واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ انتہاء پسند بریلوی علماء جو خود کو 'اصلاح پسند صوفی' کہتے ہیں، وہ تصوف روحانیت کا ذہین رکھنے والے علماء کی ان کے لبرل نظریات کی بناء پر تردید کرتے ہیں، انہیں زندیق ، بدمذہب اور گمراہ کہتے ہیں اور ان کے لئے بالکل وہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو سلفی علماء کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرسمس کا جشن منانے اور صوفی موسیقی سننے جیسی بین المذاہب سرگرمیوں کی بنیاد پر پاکستان کے صوفی عالم دین ڈاکٹر طاہرالقادری کو ہندوستان میں بریلی کے قاضی القضاۃ مفتی اختر رضا خان اور مفتی ضیاء المصطفیٰ نے "گمراہ " اور "بد مذہب" قرار دیا ہے۔

صوفی بریلوی علماء کی جانب سے اس طرح کے قدامت پسند فتووں اور بیان بازیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر ممبئی کی رضا اکیڈمی نے مشہور ایرانی فلم ساز ماجد ماجدی کی بایوپِک، "Muhammad: The Messenger of God" ، پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اور انہوں صرف فلم ہی نہیں بلکہ اس فلم میں موسیقی دینے والے مشہور و معروف موسیقار اے آر رحمان سمیت پورے فلم ساز عملے کے خلاف بھی فتوی جاری کیا ہے۔

صوفی درگاہوں سے کفر ارتداد کے فتووں کا اجراء

رضا اکیڈمی اس فلم سے جڑے تمام لوگوں کو کافر و مرتد سمجھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ وہ دوبارہ کلمہ پڑھیں یا دوبارہ تجدید ایمان کریں تاکہ  پھر سے دائرۂ اسلام میں داخل ہو سکیں۔ یہ فتویٰ مفتی محمود اختر قادری نے جاری کیا تھا جو ایک بریلوی عالم ہیں اور ممبئی کی حاجی علی درگاہ پر بحیثیت امام مقرر ہیں۔ وہ ممبئی کے حاجی علی درگاہ کی مسجد میں امامت کرتے ہیں اور اسی شہر میں ایک مدرسہ اور دار الافتاء بھی چلاتے ہیں۔ چونکہ وہ ایک مشہور و معروف مفتی ہیں اور اپنا مدرسہ ( دارالعلوم امجدیہ ) اور ایک دارالافتاء بھی چلاتے ہیں اسی لئے وہ اس قسم کے فرسودہ اور قدامت پسند فتوے جاری کر کے اس درگاہ پر اپنے عہدے اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ان کے فتوے نے ان عام سنی مسلمانوں کو بھڑکانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جنہوں نے ماجدی کی فلم اور اس میں اے آر رحمان کی موسیقی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

صوفیاء کرام کی درگاہوں سے فرسودہ اور قدامت پسند فتووں کا اجراء

فتوی جاری کرنے میں صوفیاءکرام  کی درگاہوں کو کوئی کردار نہیں ادا کرنا چاہئے۔ لیکن صوفیاءکرام  کی درگاہوں سے منسلک مساجد کے ائمہ اکثر کسی مدرسے کے بھی عہدیدار ہوتے ہیں جن کا اپنا دار الافتاء بھی ہوتا ہے۔ صوفیاءکرام  کی درگاہوں کے ساتھ دار الافتاء کا کیا رشتہ؟ صوفیاءکرام  کی درگاہوں سے منسلک مساجد کے ائمہ اب فتوے کیوں جاری کر رہے ہیں؟

اطمینان اور عافیت کی بات ہے کہ کچھ صوفی درگاہوں کے سجادہ نشین رسول اللہ (ﷺ) کے تصویر شازی اور موسیقی کے حوالے سے ایک مختلف موقف رکھتے ہیں جن میں اجمیر شریف اور حضرت نظام الدین اولیاء درگاہ کے سجادہ نشیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سچے مومن کے طور پر اے آر رحمان کی ان کے شاندار رد عمل کے لئے تعریف کی جانی چاہئے۔ ایک تحریری بیان میں اے آر رحمن نے کہا تھا کہ "میں درمیانی راستے پر چلتا ہوں اور میں جزوی طور پر روایت پرست اور جزوی طور پر معقولیت پسند بھی ہوں۔ میں مغربی اور مشرقی دنیا میں رہتا ہو اور لوگوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کئے بغیر سب سے محبت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔"

تصوف کی وہابیت کاری

تصوف کی وہابیت کاری کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ صوفی بریلوی علماء نے نہ صرف یہ کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط کے بہانے خواتین زائرین کے لئے درگاہوں کی زیارت جیسے روایتی معمولات پر پابندی عائد کی ہیں بلکہ انہوں نے محرم کے دوران تعزیہ کے جلوس جیسے روایتی و ثقافتی معمولات پر بھی پابندی لگائی ہیں جس میں اب تک بعض علاقوں میں خود ہندو بھی مسلمانوں کے جذبات کے احترام میں شرکت کرتے ہیں۔

صوفی مدارس سے تصوف کی کتابوں کا اخراج

لیکن اس سے بھی زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ بہت سے ہندوستانی صوفی مدرسوں نے اپنے نصاب سے تصوف کی کتابوں کو خارج کر دیا ہے۔

صوفی درگاہیں اور خانقاہیں ملک بھر میں مدرسے چلا رہی ہیں جن میں تصوف ، روحانیت اور معرفت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اب سے چند دہائیوں قبل تک ان مدرسوں کا نصاب اس قدر وسیع ، جامع اور ہمہ گیر ہوتا تھا کہ ان میں تمام مکاتب و مذاہب کے طالب علموں کا والہانہ استقبا ل کیا جاتا تھا۔ ان مدارس کے اندر مختلف علاقائی زبانوں میں صوفیانہ نغمے تیار کئے جاتے تھے اور صوفیانہ محافل سماع کو خدا کی مکمل اطاعت شعاری کا مظاہرہ تصور کیا جاتا تھا۔

خوبصورت اسلامی تعلیمات پر مبنی ہندوستان کے صوفیائے کرام اور عرفائے کاملین کی ان کتابوں کو مدارس اسلامیہ نے اپنے نصاب سے خارج کر دیا ہے جن کی آج سے چند دہائیوں قبل تک باضابطہ تعلیم دی جاتی تھی۔ آج صوفی مدارس میں بھی مثنوی مولانا جلال الدین رومی ، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی کشف المحجوب ، شیخ سعدی شیرازی کی گلستاں اور بوستاں ، حضرت نظام الدین اولیاء کی فوائد الفواد، شیخ شہاب الدین سہروردی کی عوارف المعارف جیسے کتابوں اور اسلامی تصوف و معرفت کی تعلیمات پر مبنی ان تاریخی دستاویزوں کو خارج از نصاب کر دیا گیا ہے جو ہمیں آفاقی انسانی اقدار، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سب کے لئے محبت کی تعلیم دیتی ہیں۔ اب وہ دن گزر گئے جب عقل و استدلال، حکمت و فلسفہ اور اخلاقیات کی کتابیں ہندوستان میں مدراس کے نصاب کا حصہ تھیں۔ دین اور امت کا ایک وسیع ترین تصور پیش کرنے کے بجائے عصر حاضر میں مدارس کے اندر جو نصاب رائج ہے اس کا مقصد صرف ایسے طلباء پیدا کرنا ہے جو اپنے مسلک اور فقہی مذہب کی اشاعت کریں۔

میں مزید وضاحت کے ساتھ ذیل میں تصوف کی ان کتابوں کا حوالہ پیش کرتاہوں جو اس قبل مدارس کے نصاب میں شامل تھیں:

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی کشف المحجوب

شیخ شہاب الدین سہروردی کی  عوارف المعارف

حضرت نظام الدین اولیاء کی فوائد الفواد

مثنوی مولانا جلال الدین رومی

شیخ سعدی شیرازی کی گلستاں اور بوستاں

تصوف و روحانیت کے عنوان پر ملا صدرا کی متعدد کتب

شیخ ابن العربی کی فصوص الحکم

خواجہ معین الدین چشتی ، بابا فرید اور امیر خسرو (رضی اللہ تعالیٰ عنھم) جیسے عظیم صوفیاء کی حیات وتعلیمات

جن صوفی مدرسوں نے ان کتابوں کو خارج کر دیا ہےان میں سے کچھ کے نام حسب ذیل ہیں:

مدرسہ فرنگی محل ( لکھنؤ )

دار العلوم مصباح العلوم معروف بہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم

جامعہ نعیمیہ ( مراد )

مدرسہ عالیہ قادریہ (بدایوں)

جامعہ منظر اسلام (بریلی)

جامعہ مظہر اسلام (بریلی)

دار العلوم وارثیہ ( لکھنؤ )

مدرسہ احسن المدارس قدیم (کانپور)

مدرسہ عالیہ ، فتح پوری مسجد ، دہلی

اعلیٰ ترین اخلاقی اور روحانی نظریات کی ترویج و اشاعت میں ان کتابوں کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ ان کتابوں میں وحدت الوجود ، صلح کل ، علم الیقین ، ذکر ، مراقبہ ، تقوی ، توبہ ، اخلاص ، توکل ، صدق ، امانت ، استقامت اور شکر جیسے تصوف کے بنیادی تصورات بیان کئے گئے ہیں۔ ان اعلی روحانی مضامین پر عبور حاصل کرنے کے بعد ہی ہے ان مدارس کے طالب علموں کو عالم یا فاضل کی سند دی جاتی تھی۔

'ترک نفرت اور سب کے لئے محبت' صوفیائے کرام کا سب سے عظیم ورثہ تھا، جیسا کہ ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے بانی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری معروف بہ غریب نواز کے مواعظ اور ان کی تعلیمات سے واضح ہے۔ یہ عظیم صوفی ورثہ دوسرے مذاہب کے تئیں لوگوں کے رویے پر زبردست اثر انداز ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کی ان کتابوں نے مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کے اندر انسانی اخوت ، تکثیریت پسندی، رواداری، مذہبی ہم آہنگی، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور مذہب و ملت سے قطع نظر انسانیت کی خدمت جیسے عالمگیر اقدار پیدا کرنے اور بنیادی اسلامی تعلیمات کو اپنانے میں مدد کی ہیں۔

لیکن اب صوفی مدارس سے تصوف کی وہ کتابیں خارج کی جا چکی ہیں جو ایک طویل عرصے تک ہندوستانی مدارس کے تعلیمی نظام ‘‘درس نظامی’’ کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ لہذا، اگر آج صوفی مدارس کے طالب علموں کے کردار و نظریات میں بھی عدم رواداری کا رجحان پیدا ہو چکا ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔

بنیادی صوفی تصورات کی غلط ترجمانی کی جا رہی ہے

نہ صرف یہ کہ روشن خیالی اور علم و عرفان کی تعلیمات پر مبنی تصوف کی ان کتابوں کو مدارس سے خارج کر دیا گیا ہے بلکہ اب بنیادی صوفی تصورات کی بھی غلط تعبیر پیش کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر صلح کل کے صوفی تصور کی غلط تعبیر پیش کی جا رہی ہے جس کا بنیادی طور پر معنیٰ سب کے لئے یکساں احترام ہے۔ بریلوی علماء کے مطابق صلح کل کا مطلب دیگر اسلامی فرقوں کے ساتھ مفاہمت کرنا ہے۔ لہذا، جو تمام اسلامی فرقے کے لوگوں سے دوستی کرتا ہے اور ان سے نفرت نہیں کرتا وہ صلح کلی اور ان کے خیال میں گمراہ ہے۔ تاہم، اس نامساعد اور نا مناسب رویہ پر خانقاہ عارفیہ الہ آباد کے سجادہ نشین شیخ ابو سعید احسان الله صفوی اور چشتیہ فاؤنڈیشن اجمیر درگاہ کے سید سلمان چشتی نے تنقید کی ہے۔

لہٰذا، صوفیانہ موسیقی (محفل سماع) کے لئے ان کی کشادہ قلبی ، تمام مذہب و مسلک کے لئے ان کے جذبہ احترام اور ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ ان کی مجالست کے وجہ سے بریلوی علماء ان کی مخالفت میں بھی اسی طرح صف آرا ہیں جس طرح وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی مخالفت میں صف آرا ہیں۔

وحدت الوجود کی غلط ترجمانی وحدۃ الشہود کی شکل میں پیش کی جا رہی ہے

تصوف کے روحانی فلسفہ وحدت الوجود کے تعلق سے بھی صوفی بریلوی علماء کے ساتھ عام بات چیت میں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عملی طور پر اس تصورکو وحدت الشہود کے تصور سے بدل دیا گیا ہے، اور شاید اس کا مقصد یہ ہے کہ اس تصور کو سلفی وہابیت حامی سماجی ماحول میں قابل قبول بنایا جا سکے جسے پیٹرو ڈالر اسلام کی اشاعت سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ عمل دراصل میں 16ویں اور 17ویں صدی میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کی تعلیمات کے ساتھ ہی شروع ہو چکا تھا اور اس کے بعد 18ویں صدی میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیما ت سے اسے تقویت حاصل ہوئی۔ 12ویں اور 13ویں صدی میں اندلس کے ایک عالم ، صوفی عارف ، شاعر اور فلسفی شیخ محی الدین ابن عربی جنہیں بہت سے لوگوں نے ‘‘حقیقی صوفی’’ کا خطاب دیا ہے ، انہوں نے "وحدت الوجود" کا تصور پیش کیا تھا جس کا ماحصل یہ ہے کہ ‘‘حقیقتِ مطلقہ خداکے سوا کسی کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ اور یہ نظریہ قرآن کریم کی اس تعلیم کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے : "اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔" (3:185)

وحدت الوجود کی توضیح اس انداز میں بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ: "کائنات کے اندر صرف ایک ہی حقیقت ہے جو کہ اللہ ہے" اور "دیگر تمام چیزیں خدا کے اندر صرف موجود ہیں۔" بہ الفاظ دیگر اس کی توضیح اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ حق صرف خدا کا وجود ہے اور ایک علیحدہ کائنات کا نظریہ باطل ہے۔ شیخ سرہندی نے اس نظریہ کا رد وحدت الشہود یعنی "مظاہر کائنات کی وحدت" یا "خیالات کی وحدت،"کے اپنے تصور سے کیا جسے انگریزی میں "Apparentism" کہا جاتا ہے۔ ان کا نقطہ نظریہ ہے کہ ہے کہ "خالق اور مخلوق دنیا کے درمیان وحدت کا تجربہ خالصۃً معروضی ہے اور یہ صرف مومن کے دماغ میں ہی ہوتا ہے، اور حقیقی خارجی دنیا میں کوئی مادی وجود نہیں۔" شیخ احمد سرہندی کے نزدیک ابن عربی کا نقطہ نظر مظاہر پرستی کی طرف لے جاتا ہے جو کہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا اور مخلوق ایک ہی نہیں ہیں۔ ان کی نظر میں یہ مخلوق اسماء و صفات الٰہیہ کی عکس ہے۔

اس کے بعد وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے دو یکسر مختلف اور یہاں تک کہ متضاد تصورات کے درمیان تطبیق پیدا کرنے کے لئے شاہ ولی اللہ دہلوی نے اسے صرف "لفظی تنازعہ" اور محض زبان و بیان کا ابہام قرار دیا۔ اور اس کے بعد وحدت الوجود کے تصور کو زیر کرنے کے لئے انہوں نے وحدت الوجود کو وحدت الشہود کا ایک ادنیٰ درجہ قرار دیا ، جبکہ حقیقت یہ ہے وحدت الشہود کو اسلامی تصوف و معرفت کے جوہر وحدت الوجود کا پہلا مرحلہ تصور کیا جا سکتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج وحدت الوجود کی تعلیم اس طرح دی جاتی کہ گو کہ وہ وحدت الشہود ہے۔ آپ ایک کلاسیکی صوفی مدرسے کے فارغ التحصیل کسی عالم سے وحدت الوجود کی وضاحت طلب کریں تو وہ یقیناً آپ کے سامنے وحدت الشہود کی تعریف پیش کرے گا۔ درحقیقت وہ دوٹوک انداز میں یہ کہتے ہوئے وحدت الوجود کے تصور کو رد کر دے گا کہ وحدت الوجود سے مراد یہ نہیں ہے۔ وحدت الوجود کے اصل تصور کو کفر و الحاد تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اسے ویدی ہندو مت کے تصور ادویتا (غیر دوئی) سے مزید قریب تصور کیا جاتا ہے۔

اسلام میں صنفی مساوات

پورے ملک کے اندر صنفی علیحدگی اور امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ عملی طور پر ہر جگہ اکثر درگاہوں پر مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ زیارت کے لئے جانا ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ چند سال قبل ممبئی کی ایک مشہور و معروف درگاہ حاجی علی کے ٹرسٹ نے ایک مضحکہ خیز فتویٰ جاری کیا تھا۔ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی عورت کا مرد مسلم صوفی کے مزار کے قریب کھڑا ہونا ایک "سنگین گناہ" ہے۔ ٹرسٹ نے 20 اکتوبر 2015 کو ممبئی ہائی کورٹ میں مزار کے اندر خواتین کے داخلے پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے یہ نقطہ نظر پیش کیا  تھا۔ تمام ٹرسٹیوں کی "متفقہ" رائے درگاہ ٹرسٹ کی جانب سے منظور شدہ ایک قرارداد کا حصہ بنا جاتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو مرد اور عورت ایک ساتھ حج ادا سکتے ہیں اور کعبہ شریف کا طواف کر سکتے ہیں اور وہاں ایک ساتھ دعا کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ایک ساتھ کسی صوفی درگاہ پرزیارت کے لئے نہیں جا سکتے۔ صوفیائے کرام تمام لوگوں کے لئے رحمت و محبت کا پیکر تھے۔ یہاں تک کہ قدامت پسند اسلام کے مطابق بھی اسلامی روایت میں مردوں اور عورتوں کی علیحدگی نہیں ہونی چاہئے۔ قرآن کریم سے اوپر اسلام کی کوئی کتاب نہیں ہے۔ نماز ، حقوق اور جزا و سزا کے حوالے سے قرآن کریم کی آیتوں میں مردوں اور عورتوں کا ذکر ایک ساتھ ہے:

[قرآن کریم 2:228] "اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں۔"

[16:97]: جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔

[33:35] بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

اسلام کے اندر مذہبی ذمہ داریوں میں بھی صنفی مساوات موجود ہے۔ عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے یکساں مذہبی فرائض و معمولات بیان کئے گئے ہیں۔ کلمہ شہادت ، نماز، زکوة، روزہ اور حج یکساں طور سے مرد و عورت دونوں پر فرض ہیں۔

صوفی درگاہوں پر صنفی علیحدگی

جب خدا مردوں اور عورتوں کو تمام مذہبی ذمہ داریوں اور ساتھ ہی ساتھ جزا و سزا میں بھی یکساں گردانتا ہے، تو کسی بھی مذہبی عالم کو صوفی درگاہوں کی زیارت سے خواتین کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ عمل ایک صوفی درگاہ اور یقینا ملک بھر میں اکثر صوفی درگاہوں پر بھی جاری ہے جو کہ واقعی افسوسناک ہے۔ مثلاً خانقاہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی میں خواتین کو درگاہ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

صوفیائے کرام سب کو گلے لگاتے تھے، لیکن آج جو لوگ ان کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں یقینی طور پر وہ صوفی مسلمان بھی کہلانے کے لائق نہیں۔

صوفی معمولات کے بظاہر فروغ کے باوجود آج واضح طور پر ہندوستان میں تصوف کی روح زوال پذیر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتہا پسند وہابی سلفی افکار و نظریات مسلم معاشرے کی رگوں سرایت کر چکے ہیں۔ ایک روحانی راہ نجات کے طور پر اسلام کے تصور میں غیروں سے نفرت ، عدم روداری اور سیاسی اسلام کی مطلق العنانی کا عنصر ملایا جا رہا ہے۔ جب تک اسلامی تصوف و روحانیت میں مکمل طورپر عدم دوئی ، ادویتا اور وحدت الوجود کی بنیادی حیثیت کو بحال نہیں کیا جاتا ایک انسانیت پسند اسلام کے لئے حمایت رو بہ زوال ہی رہے گی، اور صوفی بریلوی اعتقادی مسلم معاشرہ صوفی درگاہوں پر صنفی علیحدگی اور مرتد وغیرہ کے قتل کے نام پر تشدد کی تائید کرتا ہی رہے گا۔ اس لئے کہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی اس کائنات اور خدا کی معرفت نے ہی تصوف کو اس خالق مطلق کی ایک انسانیت پسند تفہیم کی امتیازی حیثیت عطا کی ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ، خواہ ہم اس کتاب کے پیروکار ہوں جو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل کی گئی ہے ، خواہ ان کتابوں کے پیروکار ہوں جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک 1 لاکھ 24 ہزار انبیائے کرام کے اوپرنازل کی گئی ہوں۔

ہمارے لئے جو امور باعث تشویش ہیں ان کے اوپر سیر حاصل گفتگو کر لینے کے بعد اب مناسب ہے کہ ہم اس امر پر غور کریں کہ ہم ان معاملات میں بہتری پیدا کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی اس عہد حاضر کا ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کی شروعات 21 ویں صدی کے آغاز پر ہی ایک سب سے بڑے دہشت گردانہ واقعہ سے ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلام سے خوف و ہراس میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ایسا مذہب جو انسانوں کے لئے رحمت بن کر آیا تھا آج خوف و ہراس کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کہ اسلاموفوبیا کے فروغ میں جزوی طور پر ذاتی مفادات کا دخل ہے لیکن دنیا بھر میں عام لوگوں کے درمیان اسلام سے خوف و ہراس کے پیچھے کچھ فطری وجوہات بھی ہیں۔ پشاور میں ایک مسلم خاتون نے اس وقت یہ سوال پوری توانائی کے ساتھ اٹھایا تھا جب طالبان نے پشاور کے ایک اسکول پر حملہ کیا تھا جس میں بچے اور اساتذہ سمیت  142 افرادجاں بحق ہوئے تھے۔ ان کا سوال تھا کہ کیا یہ اسلام ہے؟ ہم اس کے لئے اپنے مذہب کو جوابدہ ہیں تاکہ کوئی بھی یہ سوال دوبارہ نہ کرے۔ یہ واضح طور پر یہ اب ہماری اولین ترجیح ہے۔ میں صرف چند تجویزات پیش کرنا چاہوں گا۔

1۔ کسی مسئلے کو حل کرنے میں پہلا قدم یہ ہے کہ پہلے یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری فقہی تعلیمات میں اور صرف سلفی وہابی ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے تمام فرقوں اور مسلکوں کی اتفاق رائے کے فقہی نظریہ میں خرابی ہے ، اور ہم صوفی مسلمان بہت آسانی کے ساتھ اس کا اقرار کرتے ہیں۔ ابھی ہم جس فقہی نظریہ پر کاربند ہیں اب وہ کم و بیش تشدد ، علیحدگی پسندی اور تفوق پرستی کی فقہ بن چکی ہے جس کا مقصد اس دنیا پر تسلط حاصل کرنا ہے۔ لہذا، ہمیں ایک جدید فقہ اور اسلام کی ایک نئی تفہیم کی ضرورت ہے جس میں موجودہ صورت کو تسلیم کیا گیا ہو جس میں مسلمانوں کو ایک کمزور اقلیت کے طور پر زندگی گزارنا ہے اور ہندوستان سمیت دنیا کے سو سے زائد ممالک میں ہمیں اپنے حقوق کو مکمل طور پر سیکولر اداروں سے حاصل کرنا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک اور خاص طور پر جو اسلامی حکومت ہونے کا دعوی کرتے ہیں، وہی غالبا سب سے زیادہ بدعنوان، سب سے زیادہ غیر انسانی اور عالمی طاقتوں پر سب سے زیادہ منحصر بھی ہیں۔ اور یہ ان حکومتوں کو تاخت و تاراج کرنے اور اس مقصد کی تکمیل میں ایک طریقہ کار کے طور پر اسلامی فقہ پر مبنی دہشت گردی کا استعمال کرنے کے لئے جہادی جماعتوں کے لئے ایک محرک بھی ہے۔ لہذا ہمیں ایک امن پسند، تکثیریت پسند ، بقائے باہمی اور صنفی انصاف سمیت انصاف پر مبنی ایک ایسی فقہ تیار کرنے کی ضرور ت ہے جو داخلی طور پر منظم اور منضبط ہو۔ ایسا کرنے کے لئے ہمیں اپنی موجودہ فقہ کے بنیادی عناصر پر از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ جب ایک بار یہ قبول کر لیا جائے گا تو اس کے بعد ہم سب مل کر یہ سوچیں گے کہ اس میں کیسے آگے بڑھا جائے۔ لیکن یہ اگلا قدم ہے۔

2۔ اس ضمن میں کم از کم ہم مین اسٹریم صوفی مسلمانوں کو جو کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے ذہنوں میں وحدت الوجود کی حقیقی صوفی تفہیم کو بحال کریں۔ یہی صحیح تصوف ہے۔ اگر ویدانتا میں ادویتا کے تصور کے ساتھ اس کی کوئی مشابہت پیدا ہوتی ہے تو یہ مزید ایک اور سبب ہو گا کہ اسے وجود حقیقی اور اس کی توحید کی حقیقی تفہیم تسلیم کیا جائے۔ یہ اس کو رد کرنے کا سبب نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ اس سے صرف قرآن میں خداکے اس پیغام کی حقانیت ثابت ہوتی ہے کہ ہم سب ایک ہی امت ہیں، اور خدا نے ہر معاشرے کے اندر اپنا ایک پیغامبر مبعوث کیا ہے جنہوں نے اس زمانے میں رائج خود انہیں زبانوں میں لوگوں کی تعلیم و و تربیت فرمائی لیکن ان سب کا پیغام ایک ہی تھا۔ اب ہمیں مکمل طور پر وحدت الوجوود کے تصور کو دوبار تسلیم کر لینا چاہئے۔ تصوف اور قدامت پرستی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور قدامت پرست علماء کی نظر میں قابل قبول بننے کی کوشش میں تصوف نے کافی قیمت چکائی ہے۔ اگر پوری کائنات سے خدا کی علیحدگی کے بجائے ہم واقعی اس کی قدرت مطلقہ اور علو مرتبت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں اس نظریہ کو چھوڑ کر اپنے ایمان کا برملا اظہار کرنا چاہئے۔

-----

میں ذیل میں مندرجہ بالا صوفیاء اور فقہاء کے چند اقتباسات کو نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ مسئلے کی نوعیت اور اہمیت و افادیت واضح ہو سکے، اور اس گورکھ دھندھے سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے مباحثے کو آگے بڑھایا جائے۔

ضمیمہ 1

گیارہویں صدی کے صوفی عارف، فقیہ، قانون دان اور فلسفی امام ابو حامد الغزالی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد اسلام کی سب سے بہتر تفہیم آپ کو ہی حاصل تھی۔ جہاد اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ان کے حوالے سے اکثر میڈیا میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ:

"جس طرح اہل علم و فکر کے ساتھ حق کے بارے میں گفتگو کرتے وقت علم و استدلال کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے اسی طرح ، حق کی خبر دینے کے بعد کافروں کے خلاف تلوار کااستعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس طرح یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تلوار ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی سب سے زیادہ مستحکم دلیل تھی اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ علم و استدلال کا اسلوب ہی ایک حتمی دلیل ہے۔ "احیاء علوم الدین مصنفہ ابو حامد الغزالی، جلد 4 ص۔ 35

سال میں کم از کم ایک بار جہاد پر جانا ضروری ہے ............جب غیر مسلم کسی قلعے میں ہوں تو ان کے خلاف منجنیق کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر چہ ان کے درمیان عورتیں اور بچیں ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ کوئی شخص انہیں آگ میں جھونک سکتا ہے یا انہیں غرقاب کر سکتا ہے........ اگر کسی اہل کتاب کو غلام بنا لیا جاتا ہے تو اس کی شادی خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے..... ان کے درختوں کو کاٹا جا سکتا ہے اور ان کی بیکار کتابوں کو جلا دیا جانا ضروری ہے۔مجاہدین ان کے مال سے جس قدر چاہیں مال غنیمت لے سکتے ہیں ..... اور انہیں غذا کی جتنی ضرور ت ہو وہ چوری کرسکتے ہیں.......

....... ذمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اللہ یا اس کے رسول کا نام نہ لے.......... یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے لئے جزیہ کی ادائیگی ضروری ہے.......... جزیہ ادا کرتے وقت ضروری ہے کہ ذمی اپنا سر چھکائے ہوئے ہو اور جزیہ وصول کرنے والا اہلکار اس کی داڑھی کو پکڑے اور اس کے جبڑے پر ضرب لگائے........... انہیں اپنی شراب یا چرچ کے گھنٹوں کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں ہے .......... ان (ذمیوں) کے گھر مسلمانوں کے گھروں سے اونچے نہیں ہونے چاہئے، خواہ مسلمان کا گھر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ ذمی ایک خوبصورت گھوڑے یا خچر پر سوار نہیں ہو سکتا؛ وہ صرف گدھے پر سوار ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کی زین لکڑی سے بنی ہو۔ وہ سڑک کے اچھے حصے پر نہیں چل سکتا۔ ذمی مردوں اور عورتوں کو عوامی حمام میں بھی اپنے لباس پر ایک علامتی ٹکڑا لگانا ضروری ہے ..... [ذمیوں] کو اپنی زبان پر لگام رکھنا ضروری ہے.......۔

"صاحب قرآن اور نبی حق و صداقت محمد ﷺ کی موت کے بعد صحابہ کرام نے اسلام کے کمزور ہونے ، اس کے پیروکاروں کی تعداد میں تنزلی ، اور لوگوں کے اپنے سابقہ حالت کفر پر لوٹ جانے کے خوف سے [اس سے حرب الردہ- ارتداد کی جنگیں مراد ہیں جو خلیفہ اول ابو بکر کے دور حکومت میں لڑی گئیں اور جن کے پیش نظر کفار کے خلاف فتوحات کی جنگوں کو مؤخر کر دیا گیا تھا]، مقدس جنگوں اور اللہ کی خاطر دیگر ممالک کی فتوحات ، تلوار کے ذریعہ کافروں کے چہرے مسخ کرنے اور لوگوں کو اللہ کے دین میں داخل کرنے کی مہم کو تمام علوم کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی’’۔ احیاء علوم الدین مصنفہ ابو حامد الغزالی، جلد 4 ص۔ 35

----- امام ابو حامد الغزالی (1111 -1058)۔ کتاب الوغیز فی فقہ مذہب الامام الشافعی۔ بیروت، 1979، صفحہ 186، 91-190؛ 200-199؛ 203-202۔ [انگریزی ترجمہ : ڈاکٹر مائیکل شوب ۔]

--------

ضمیمہ 2

ہندوستان کے انتہائی معروف صوفی اور فقیہ مجدد الف الثانی شیخ احمد سرہندی (1624-1564)، کہتے ہیں:

تلوار کے ذریعے شریعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے.......

جب بھی کوئی یہودی قتل کیا جائے اس میں اسلام کا ہی فائدہ ہے۔

کفر اور اسلام ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک کی ترقی صرف دوسرے کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے اور دونوں متضاد عقائد کے درمیان بقائے باہمی ناقابل تصور ہے........۔

اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی تذلیل و توہین میں مضمر ہے۔ جو کافروں کا احترام کرتا ہے وہ مسلمانوں کی توہین کرتا ہے۔ ان کا احترام کرنے کا مطلب صرف انہیں اعزاز سے نوازنا اور انہیں کسی مجلس میں عزت کی جگہ بیٹھانا ہی نہیں ہے ، بلکہ اس کا مطلب ان کی مصاحبت اختیار کرنا اور ان کا خیال رکھنا بھی ہے۔ انہیں دائرہ بازو کے اندر رکھا جانا چاہئے جس طرح کتے رکھے جاتے ہیں۔ اگر کسی دنیاوی کاروبار کا ان کے بغیر چلانا مشکل ہو جائے ، تو اس صورت میں انہیں اعتماد میں لئے بغیر ہی ان کے ساتھ کم سے کم رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے.........۔

اعلیٰ ترین اسلامی جذبات کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے دنیاوی کاروبار کو ترک کر دینا ہی بہتر ہے اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں کیا جانا چائے۔ ان پر جزیہ عائد کرنے کا اصل مقصد ان [ غیر مسلموں] کی اس حد تک توہین و تذلیل کرنا ہے کہ جزیہ کے خوف سے وہ اچھے لباس زیب تن کرنے اور جاہ و حشمت کی زندگی بسر کرنے کے قابل ہی نہ ہو سکیں۔ انہیں مسلسل لرزیدہ اور ترسیدہ رہنا چاہئے۔ اس کا مقصد ان کی تذلیل اور تحقیر کرنا اور اسلام کی ہیبت اور اسلام کا اقبال بلند رکھنا ہے۔

ہندوستان میں گائے کی قربانی عظیم ترین اسلامی معمولات میں سے ایک ہے۔ کافر جزیہ ادا کرنے کے لئے تیار تو ہو سکتے ہیں لیکن گائے کی قربانی وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے........

ملعون کافر گوبندوال [ایک سکھ جس نے اپنے معاشرے کی جابرانہ مسلم حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا] کی پھانسی ایک اہم کامیابی ہے اور ملعون ہندوؤں کی عظیم شکست ہے ......

اس کے پیچھے خواہ جو بھی محرک ہو کافروں کی ذلت و رسوائی مسلمانوں کے لئے افتخار کی بات ہے۔ اس کی پھانسی سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ شہنشاہ نے شرک کے سربراہ کا تاج توڑ دیا ہے۔ بے شک وہ مشرکوں کا سردار تھا اور کافروں کا رہنما تھا۔

--- سید اطہر عباس رضوی ، سولہویں اور سترہویں صدی میں شمالی ہند کی مسلم تجدیدی تحریکیں۔ آگرہ، لکھنؤ : آگرہ یونیورسٹی، بال کرشنا بک کمپنی، 1965، pp۔

یوہانن فریڈمن کی کتاب Yohanan Friedmann’s Shaykh Ahmad Sirhindi: An Outline of His Thought and a Study of His Image in the Eyes of Posterity pp. 73-74 بھی ملاحظہ ہو۔

-

ضمیمہ 3

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1762-1703)، مسلمانو ں کے درمیان ایک عظیم صوفی اورفقیہ کی حیثیت سے ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں کے کچھ اقتباسات جو انٹرنیٹ پر گردش کر رہے ہیں حسب ذیل ہیں:

میرے دماغ میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آسمان کی بادشاہت کافروں کے لئے ذلت و رسوائی مقدر کر چکی ہے۔ کیا بادشاہ (نظام الملوک) کو اپنے خزانے اور جرأتمندی کے ساتھ ایسی مہم کا عزم مصمم نہیں کرنا چاہئے تاکہ اسے پوری دنیا پر فتح حاصل ہو سکے.....۔ اس طرح ایمان کو مزید غلبہ حاصل ہو گا اور اس کی طاقت مضبوط ہو گی ؛ ایک چھوٹی سی کوشش سے عظیم اجر ملے گا۔ کیا انہیں کوئی کوشش نہیں کرنی چاہئے، اس لئے کہ وہ [مراٹھی] یقینا آسمانی مصیبتوں سے کمزور ہو کر نیست و نابود ہو جائیں گے اور ایسی صورت میں اس کا سہرا ان کے سر نہیں جائے گا.......۔ میرے قلب پر ان باتوں کا (آسمان) سے القاء ہوا ہے اور میں آپ کے سامنے موجود اس عظیم موقع کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنے کے لئے بے ساختہ طور پر یہ مکتوب لکھ رہا ہوں۔ لہذا آپ کو جہاد کرنے میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے.......۔ ائے بادشاہ! ملائے اعلی سے آپ کے لئے یہ حکم ہے کہ آپ اپنی تلوار میان سے نکال لیں اور دوبارہ اسے اس وقت تک میان کے اندر نہ رکھیں جب تک اللہ اللہ مشرکوں اور باغی کافروں سے مسلمانوں کو علیحدہ نہ کر دے اور گنہگار بالکل کمزور اور بے بس نہ ہو جائیں۔ '

خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کے لئے اپنی وصیت میں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ اگر تم خدا سے ڈرو گے تو پوری دنیا تم سے خوف کھائے گی۔ عرفاء یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ دنیا ایک سائے کی طرح ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے سائے کے پیچھے بھاگتا ہے تو وہ سائے کا پیچھا کرتا ہے ، اور اگر کوئی اپنے سائے کی طرف پیٹھ کر لیتا ہے تو پھر سایہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ خدا نے آپ کو سنیوں کے محافظ کے طور پر منتخب کیا ہے اس لئے کہ کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جو اس کام کو انجام دے، اور ضروری ہے کہ ہر وقت آپ اپنے کردار کو لازمی جانیں۔ اسلام کو غالب کرنے تلوار اٹھا کر کے ، اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی ذاتی ضروریات کو اس کے ماتحت کر کے آپ بڑا نفع اٹھائیں گے۔

[افغان حکمران احمد شاہ ابدالی درانی کو خط میں شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں] ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر آپ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ آپ اس خطے کے کافروں اور بےدینوں کے خلاف جہاد کریں۔ اس پر آپ اللہ عز و جل کی بارگاہ میں اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں گے اور آپ کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جنہوں نے اللہ کی خاطر جہاد کیں۔ اور رہ گیا سوال دنیاوی فائدے کا تو کثیر مال غنیمت غازیوں کے ہاتھ لگے گا اور مسلمان ان کی قید سے آزاد ہو جائیں گے۔ نادر شاہ کے حملے نے مسلمانوں کو تباہ کر دیا، مراٹھیوں اور جاٹوں کو محفوظ اور خوشحال ہی چھوڑ دیا ۔ اس کے نتیجے میں کافر و بے دین اپنی دوبارہ مضبوط ہو رہے ہیں اور دہلی کے مسلم حکمران صرف کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں۔

جب کوئی فاتح فوج مسلمان اور ہندو والی مخلوط آبادی کے علاقے میں پہنچے تو شاہی محافظوں کا کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان گاؤں سے شہروں میں منتقل کر دیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی جائیداد کی دیکھ بھال بھی کریں۔ غریبوں ، محتاجوں ، سیدوں اور علماء کو بھی حکومتوں کے ذریعہ مالی امداد فراہم کی جانی چاہئے۔ اس کے بعد ان کی کامیابی کے لئے فوری دعاؤں کے ساتھ ان کی سخاوت مشہور ہو جائے گی۔ ہر شہر اسلامی فوج کی آمد کے لئے شدید منتظر ہو گا۔ اس کے علاوہ، جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی شکست کا تھوڑا بھی اندیشہ ہو وہاں اسلامی فوج جائے تاکہ کافروں کو پوری دنیا کے کونے کونے میں منتشر کر دے۔ جہاد ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے ، اور اس طرح انہیں ہر مسلم کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہئے۔

--- سید اطہر عباس رضوی۔ Shah Wali Allah and his times ۔ کینبرا، آسٹریلیا، معرفت پبلشنگ ہاؤس، 1980، صفحہ 294-296، 299، 301، 305۔

-

ضمیمہ 4

Shah Wali Allah and his times کے تجزیہ میں اطہر عباس رضوی لکھتے، صفحہ۔ 286۔ 285:

شاہ ولی اللہ کے مطابق اسلامی شریعت کے کامل نفاذ کی علامت جہاد کی ا دائیگی تھی۔ انہوں نے قانونی اعتبار سے مسلمانوں کے فرائض کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا ہے جن کے پاس ایک پسندیدہ غلام ہو جس نے گھر میں دوسرے غلاموں کے کڑوی دوا کا انتظام کیا ہو۔ اگر زور و جبر کے ساتھ یہ کام انجام دیا جاتا تو جائز تھا لیکن اگر کسی نے اس میں رحمت اور شفقت سے کام لیا تو یہ اور بھی بہتر ہوا۔ تاہم، شاہ ولی اللہ دہلوی نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتوں اور احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آبائی مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ اگر کوئی اس طرح کے لوگوں کو اسلام سمجھانا چاہتا ہے تو یہ نقصان دہ ہے۔ شاہ ولی اللہ نے کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے سب سے بہتر جبر واکراہ ہے، اسلام بہ جبر و اکراہ ان کے گلے کے اندر اسی طرح اتار دینا چاہئے جس طرح ایک کڑوی دوا کسی بچے کی حلق کے نیچے اتاری جاتی ہے۔ تاہم، یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب غیر مسلموں کے وہ رہنما مار دئے جائیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے ، غیر مسلموں کو کمزور کیا جائے ، ان کی املاک ضبط کر لی جائے اور ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی جائے کہ ان کے پیروکار اور ان کی اولادیں اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیں۔ شاہ ولی اللہ کا ماننا تھا کہ جہاد کے بغیر عالمی سطح پر اسلام کا تسلط ممکن نہیں ہے۔

-----

ضمیمہ۵

اس طرح کے خیالات موجودہ دور کے  حالات سے  غیر متعلق معلوم ہوتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تمام  علماء  اپنے  زمانے کی پیداوار  ہوتے ہیں، جس میں انہیں اپنے شعورو احساس کے مطابق  حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے  ۔ بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں کچھ علما ء و فقہاء اورقرآن کریم کے مفسرین ایسے بھی ہیں جنہوں نے   کلیۃ متضاد و مخالف مواقف اختیار کیا ہے، اگرچہ بد قسمتی سے اسلامی نظریات کا اجماعی موقف مسلسل  کلاسیکی علما و فقہا اور ان  کے متعصب افکار کی اتباع کرتے رہتے ہیں جو کسی طرح سے بھی عصر جدید کی شعور و آگہی سے تعلق نہیں رکھتا ۔

مثال کے طور پر قرآن کی  اپنی موضوعی تفسیر میں  شیخ محمد الغزالی السقا (۱۹۱۷ تا  ۱۹۹۶) نے یہ ثابت کرنے کی ہر کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کا پیغام امن اور کثرت پسند ہے۔سورہ توبہ کی آیت ۵ کی جو تفسیر انہوں نے پیش کی ہے اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا ۔یہ وہ آیت ہے جس کے متعلق  رشید الدین میبودی جیسے نامور صوفی مفسرین  بھی یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ یہ آیۃ السیف ہے جس نے  تقریبا ۱۲۴ آیات کریمہ کو منسوخ کر دیا ہے جو امن و سلامتی اور تکثیریت  اور مصائب و آلام کی  نازک حالت میں  صبر و تحمل کی دعوت دیتی ہیں۔ان کی تفسیر کا مختصر اقتباس  یہاں قارئین کے لیے پیش کرنا  بہت ہی  روشن کن ثابت ہوگا، مگر اس سے قبل اس اسکالر کا مختصر تعارف پیش کرنا زیادوہ موزوں و مناسب ہوگا ۔

شیخ محمد الغزالی السقا  ایک مشہور عالم دین اور اسکالر  تھے جن کی تحریروں نے "مصریوں کی نسلوں پر اثر انداز ہوئیں"۔  ۹۴ کتابوں کے مصنف شیخ غزالی سقا نےعصر جدید کی ضروریات و مقتصیات کو اپنے ذہن  کے نگار خانہ  میں رکھتے ہوئے   اسلام اور اس کی مقدس کتاب قرآن کریم کی تفسیر و تشریح پیش کی اور اس طرح  کے کارناموں سے انہوں نے متبعین کی ایک بڑی جماعت کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔حالیہ مصر میں بڑے پیمانہ پر اسلامی عقیدہ کااحیا کرنے کا سہرا ان کے سر جاتا ہے (۲)۔ایک مصدر کے  ذریعہ پیش کردہ قول کے مطابق وہ ‘‘مسلم دنیا کے سب سے زیادہ قابل قدر شخصیتوں میں سے ایک ہیں ’’ (۳)۔ویکیپیڈیا (مترجم)

شیخ محمد الغزالی السقا سورہ توبہ کی آیت 5 (9: 5) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"... لہذا بنیادی طور پر مسلمان جنگ کے مخالف ہیں اور کبھی بھی انہوں نے اس کی شروعات نہیں کی ۔ خود ان کے مذہب کی تعلیم نے ان کے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ طاقت و قوت کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں پر اپنا مذہب نافذ نہ کریں۔ ان کا مشن صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں تک اللہ کے پیغام کو پہونچادیں اور اس کا فیصلہ کرنے کے لئے لوگوں کو آزاد چھوڑ دیں کہ وہ چاہیں تو اس پر ایمان لائیں اور چاہیں تو اس سے انکار کریں۔ جو لوگ ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں وہ امن کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہیں جب تک کہ وہ اسلام اور ان مسلمانوں کے لئے کوئی رکاوٹ یا خطرہ پیدا نہ کریں، جو اپنے ایمان کو اللہ عز و جل اور انسانیت کے درمیان مضبوط ترین اور اہم ترین تعلق تصور کرتے ہیں ، اور یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو اسلام سے آگاہ کریں اور انہیں اسلام کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے کا موقع فراہم کریں۔

"اسلامی معاشرے کے اندر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی بنیادی یہی ہے۔ قرآن میں ایک اور مقام پر اللہ کا فرمان ہے:

"پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے (بھی صلح جوئی کی صورت میں) ان پر (دست درازی کی) کوئی راہ نہیں بنائی،" [ النساء : 90]۔ جو لوگ کسی مسلم ریاست یا اس کے ایک حصے کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں ان کا مقابلہ کیا جانا چاہئے، اور اگر وہ شکست کھا لیں تو ان سے ہتھیار الگ کر لیا جائے۔ اور ایک بار جب یہ مراحل طئے کر لئے جائیں تو وہ مسلم حکام کے تحفظ میں امن اور سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے اور اپنے عقائد و معمولات پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں، جس کے بدلے میں انہیں ایک اجرت ادا کرنا پڑتی ہے۔

"یہ وہ پس منظر ہے جس کے تحت جزیہ یا خراج ان کے اوپر مشروع کیا گیا ہے۔ اس کی ادائیگی ان لوگوں کے اوپر نہیں ہے جو غیر جانبدار ہیں اور جنہوں نے کبھی بھی مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا ہے۔ اس خراج کے پیچھے جو وجہ ہے قرآنی آیت میں اس کی کافی وضاحت موجود ہے، کیوں کہ وہ آیت ایسے لوگوں کا تعین کرتی ہے جن کے لئے جزیہ مشروع ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں "جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تابع و مغلوب ہو کر خراج ادا کریں۔"

--- شیخ محمد الغزالی ، "التفسیر الموضوعی" [The International Institute of Islamic Thought ، طبع ثانی، 2005]

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/sufi-theologians-too-need-to-introspect-and-cleanse-their-theology-of-elements-of-supremacism-and-political-islam--sultan-shahin-tells-muslim-nations-at-unhrc,-geneva/d/114529

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sufi-theologians-too-need-introspect/d/114605

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..