New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 01:12 AM

Urdu Section ( 20 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-8نوائے افغان جہاد فتویٰ اور اسکی حقیقت ۔(قسط 8

 

تجارتی مراکز میں غیر محاربین پر حملہ غیر اسلامی ہے

سہیل ارشد،  نیو ایج اسلام

21 دسمبر، 2012

اپنے مضمون کی قسط ۔5 میں شیخ العبیری نے دشمن  پر شبانہ حملوں میں غیر محارب عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دشمن کے غیر  محاربین کا قتل اس صورت میں جائز ہے کہ وہ ان محاربین کے ساتھ ایسی جگہوں اور مضبوط قلعوں میں نشانہ بنیں کہ جن کی وجہ سے محارب اور غیر محارب  میں تمیز نہ کی جاسکے ۔ اس کی حمایت میں وہ  یہ حدیث نقل کرتے ہیں

‘‘ الصعب بن جثامہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے  مشرکین کی اولادوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب مجاہدین رات کے وقت مشرکین پر حملہ کرتے ہیں تو ان کی عورتیں  اور بچے بھی نشانہ بنتے ہیں  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ وہ انہی میں سے ہیں’’ وہ مسلم کی بھی ایک روایت نقل کرتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔‘‘ وہ اپنے باپوں ہی میں سے ہیں۔’’ اس سلسلے میں  شیخ العبیری نے  امام حجر عسقلانی، امام النووی، ابن ایثر اور ابن قدامہ تشریحیں نقل کی ہیں جن میں دشمن پر حملے کے دوران عورتوں او ربچوں کو غیر ارادی  طور پر قتل کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔ وہ امام مسلم کا قول نقل کرتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں شب خون مارنے کی دلیل اور ایسے لوگوں کو اطلاع دیئےبغیر اُن پر حملہ کرنے کاجواز ہے جنہیں  دعوت (اسلام ) پہنچ چکی ہو۔’’

مندرجہ بالا تمام دلیلوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر دشمن کے حملے کے دوران اگر ان میں عورتیں اور بچے بھی ہوں اور دشمن کے قتل کے نتیجے میں عورتیں او ربچے بھی مارے جائیں تو وہ جائز ہے ۔ لیکن کئی احادیث ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےجنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت فرمائی ہے ۔

صحیح بخاری حجم 4 حدیث نمبر 257 میں عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے دوران ایک عورت کی لاش ملی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عورتوں او ربچوں  کے قتل کو ناپسند کیا ۔اسی واقعے سے متعلق ایک اور حدیث ہے ۔

ریاح ابن ربیع سے مروی ہے کہ جب اہم اللہ کے رسول کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ لوگ جمع تھے ۔ انہوں نے ایک شخص کو وہاں بھیجا کہ دیکھ کرآئے کہ وہ لوگ کس چیز کے گرد اکٹھا ہوئے ہیں ۔ وہ وہاں دیکھ کر واپس آیا اور بولا ‘‘ یا رسول اللہ وہ لوگ ایک عورت کے گرد کھڑے ہیں جو قتل کردی گئی ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ  ‘مگر وہ تو لڑنے کی اہل نہیں تھی۔’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ایک شخص سے فرمایا ’’ جاؤ اور جاکر خالد سے کہہ دو عورت او رنوکر کو قتل نہ کیا جائے ۔ (ابوداؤد حدیث نمبر 2669)

مالک کے مؤطہ میں مروی ہے کہ یحییٰ نے مجھے مالک سے انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ کعب ابن مالک (مالک کا یقین ہے کہ ابن شہاب نے عبدالرحمان بن کعب کہا ) نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ خلاف یہودی ابن اُبی حقیق کے خلاف لڑنے والوں کو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں شامل ایک شخص نے کہا کہ ابن ابی حُقیق کی بیوی چیخنے لگی اور میں نے کئی بار اس پر تلوار اُٹھائی اور ہر بار مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت یاد آجاتی ۔ اور میں ہاتھ روک لیتا ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اس کو ختم کردیتا ’’ ( مؤطہ : کتاب 08 حدیث نمبر 008)

ا س کے علاوہ پچھلی قسطوں میں حدیثیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیانات گذر چکے ہیں جن میں انہوں نے اسلامی فوجوں کو جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔

بہر حال الصعب بن جثامہ کی حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی عورتوں او ر بچوں کے متعلق فرمایا کہ ‘‘ وہ انہی میں سے ہیں’’ ۔ استثنائی حیثیت کی حامل  ہے، اصول کی نہیں کیونکہ حدیثوں میں جنگ کے دوران عورتوں او ربچوں کو قصداً قتل سے منع فرمایا ہے جیسا کہ غزوے میں ماری جانے والی عورت کے قتل کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا ۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے نشانہ بننے سے متعلق پوچھا یا اس کی اجازت مانگی اس کا مطلب ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کرتے تھے۔ اگر جنگ میں عورتوں اور بچوں کی سختی سے ممانعت نہ ہوتی اور ان کا قتل کوئی مسئلہ نہ ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے متعلق استفسار ہی کیوں کرتے ، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صحابہ نے یہ نہیں پوچھا کہ جنگ کے دوران وہ عورتوں اور بچوں کو قصداً ہلاک کرسکتے ہیں یا نہیں بلکہ اس بات کا ذکر کیا کہ کبھی کبھی جب وہ مرد جنگجوؤں پرحملہ کرتے ہیں تو عورتیں  او ربچے بھی زد میں آجاتے ہیں ۔

شیخ العبیری نے امام ابن حجر عسقلانی کی اس حدیث پر تفسیر نقل کی ہے کہ عورتوں او ربچوں کو قصداً نشانہ بنانا جائز نہیں ہے مگر جب وہ جنگجوؤں کے ساتھ مخلوط ہوں اور ان کے قتل کے نتیجے میں عورتیں  اور بچے بھی زد میں  آجائیں تو ایسی صورت میں اس کا قتل جائز ہے ۔’’

لیکن امام ابن  حجر عسقلانی  نے اسی مسئلے پر آگے جو بات کہی  ہے وہ شیخ العبیری ہضم کرگئے ۔ انہوں نے ابن حجر عسقلانی کی صرف وہی اقتباس نقل کی جو ان کے مطلب یا طالبان کےمطلب کا تھا ۔ ابن حجر عسقلانی یہ بھی فرماتے ہیں ۔

‘‘ یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ کردی گئی ہو اور یہ کہ اگر عورتیں اور بچے جنگ کے دوران دشمن کے  ہمراہ ہوں تب بھی ان کا قتل نہ کیا جائے۔’’

حدیثوں سے یہ بھی  ثابت ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت حملے کا حکم نہیں دیتے تھے شاید اس کی وجہ یہی ہوکہ رات کو عورتوں او ر مردوں محارب اور غیر محارب میں تمیز مشکل ہوتی ہے ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے اور یہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی دشمن کے قریب رات کو پہنچتے تھے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے ۔ جب صبح ہوئی ،تو یہودی کدال اور بالٹیاں لئے ہوئے باہر آئے اور جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو بولے ‘‘ محمد ! خد ا کی قسم محمد اور اس کی فوج ’’ ! پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ خیبر تباہ ہوگیا کیونکہ ہم جب بھی کسی جارح قوم کے مقابل آتے ہیں تو ان کے لئے وہ صبح خرابی لے کر آتی ہے جن کو تنبیہ کردی گئی ہے ۔’’ (صحیح بخاری ، حجم 005 کتاب 009 حدیث نمبر 510)

شیخ العبیری ایک اور غیر مدلّل اور غیر مصدقہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ‘‘ اس حدیث میں شب خون مارنے کی دلیل اور ایسے لوگوں کواطلاع دیئے بغیر ان پر حملہ کرنے کا جواز ہے جنہیں  دعوت (اسلام) پہنچ چکی ہو۔’’

جب کہ  خیبر سے متعلق حدیث  شیخ العبیری کے اس جواز کی تردید کرتی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے قریب فوج کے ساتھ رات کے وقت ہی پہنچ  چکے تھے اور اگر دشمن کو اطلاع دیئے بغیر حملہ کرنے کو وہ صحیح مانتے تو صبح تک انتظار نہ کرتے ۔

مضمون کے آخری حصے میں  آکر شیخ العبیری کی بلّی تھیلے سے باہر آگئی  ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مسلمان دیکھیں کہ انہیں اچانک حملہ کرنے کی ضرورت ہے تو ان کے لئےایسا کرنا جائز ہے خواہ اس کے نتیجے میں عورتیں بچے اور بوڑھے وغیرہ مارے جائیں  ۔ اب تک تو وہ کہہ رہے تھے کہ دشمن پر حملے کی صورت میں غیر ارادی طور پر عورتیں اور بچے بھی قتل ہوسکتے ہیں مگر اب کھل کر اس نکتے پر آگئے کہ دشمن کے دفاع کو توڑنے کی غرض سے اس کے اسٹراٹجک مراکز (ورلڈ ٹریڈ سنٹر ، پنٹاگن ، وہائٹ ہاؤس وغیرہ ) پر حملہ کرنا اور اس کے نتیجے  میں غیر محارب عورتوں مردوں اور بچوں کا قتل جائز ہے او ر یہ دشمن کے 20 ہزار جنگ جوؤں کے قتل سے زیادہ بھاری ہے ۔یعنی دشمن کے وہ اہم تجارتی مراکز جہاں فوجی نہ بھی ہوں مگر وہاں پر حملہ کرنے پر اگر دشمن کومعاشی و نفسیاتی نقصان نسبتاً زیادہ ہو تو ایسے مراکز پر حملہ کرنا جائز ہے چاہے اسکے نتیجے میں غیر محارب مرد، عورتیں اور بچے ہی کیوں ہلاک نہ ہو جائیں۔ ملاّ العبیری کے مطابق دشمن کے کسی تجارتی مرکز کو تباہ کرنا اور اس کے نتیجے میں غیر محارب افراد کا مارا جانا شرعی اصول کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا ، وہ یہ نیتجہ اخذ کرتے ہیں کہ

‘‘ سو جس نے جنگ جوؤں سے مّمیز نہ ہونے کی وجہ سے معصوم لوگوں کے قتل کی اجازت دی تو وہ ان حملوں کے نتیجے میں قتل ہونے والے افراد کے قتل  کو بھی جائز قرار دے گا ۔ کیونکہ وہ بھی اسٹراٹجک مراکز میں نہیں پہچا نے گئے ۔’’ یہ واضح ہےکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں فوجی نہیں تھے بلکہ غیر محارب افراد تھے اس لئے ان کے محارب افراد سے ممیز نہ ہونے کا سوال ہی کہاں اُٹھتا ہے ۔ دراصل اس مضمون کا تمام تر تانا بانا ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے قتل کو جائز ٹھہرانے کےلئے بنایا گیا ہے اور اس کی بنیاد ایک حدیث پر رکھی گئی ہے جس  کے متعلق خود امام الحجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ حدیث بعد میں  منسوخ کردی گئی ہو اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر عورتیں او ربچے دشمن کے ہمراہ ہوں تب بھی انہیں قتل نہیں کیا جانا چاہئے ۔

URL of the Part 1 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam,-سہیل-ارشد/the-truth-behind-talibn-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔1)/d/9556

URL of the Part 2 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتوی-اور-اسکی-حقیقت۔۔-قسط-دو/d/9573

URL of the Part 3 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians--part-3---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔۳)۔-خود-کشی،منشیات-اور-خارجیت-پر-مبنی---طالبانی-فکر-و-عمل/d/9613

URL of the Part 4 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-4------نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔4)-۔-طالبانی-عالم-کاغیر-مسلموں-کے-قتل-کا-غیر-اسلامی-فتوی/d/9661

URL of the Part 5 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-5---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔۵)-۔--قرآن-،--حدیث-اور-فقہ-کا-غلط-انطباق/d/9690

URL of the Part 6 of the series:

 https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-6--نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اسکی-حقیقت--(قسط۔-6)-۔-اسلام-جنگ-میں-زمین-سوختہ-پالیسی-کا-مخالف/d/9735

URL of the Part 7 of the series:

 https://www.newageislam.com/urdu-section/سہیل-ارشد،-نیو-ایج-اسلام/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-7-نوائے-افغان-جہاد-فتویٰ-اور-اسکی-حقیقت-۔-(قسط-۔7)۔-اسلام-غیر-محارب-افراد-کے-قتل-کی-اجازت-نہیں-دیتا/d/9749

URL:

 https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam-سہیل-ارشد/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-8نوائے-افغان-جہاد-فتویٰ-اور-اسکی-حقیقت-۔(قسط-8/d/9762

  

Loading..

Loading..