New Age Islam
Fri May 20 2022, 09:40 AM

Urdu Section ( 24 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Universal Verses Of The Quran Not The Contextual War Verses Form The Basis Of Islamic Behaviour جنگی آیات نہیں بلکہ قرآن کی آفاقی آیات اسلامی طرز عمل کی بنیاد ہیں

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

17 جنوری 2022

ابتدائے اسلام کے بحران کے دوران مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے سیاق و سباق والی آیات نازل کی گئیں

اہم نکات:

قرآن پڑوسیوں، مسافروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ان کے مذہب کا ذکر کیے بغیر حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔

سیاق و سباق کی آیات صرف جنگ اور تصادم کے وقت کے لیے تھیں۔

قرآن مسلمانوں کو اپنے غیر مسلم والدین کے ساتھ احترام اور شفقت سے پیش آنے کے لئے کہتا ہے۔

جنگی آیات کو آفاقی آیات کے ساتھ ملانے سے الجھن پیدا ہو گئی۔

کچھ علماء نے سیاق و سباق سے متعلق جنگی آیات کو دہشت گردی کے نظریے کو آفاقی راستہ دینے سے تعبیر کیا۔

 -----

قرآن مجید اسلامی شریعت کا سرچشمہ ہے۔ یہ مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور ذاتی زندگی میں مسلمانوں کے لیے رہنمائی کی کتاب ہے۔ لیکن قرآن میں آیات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، سیاق و سباق سے متعلق آیات جو مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئیں کہ دشمنوں سے کیسے نمٹا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دشمنوں کی جانب سے جارحیت کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔

یہ جنگ والی آیات جنگ کے وقت کے لیے تھیں۔ ان آیات میں مسلمانوں کو اپنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔ دوم، قرآن میں ایسی آفاقی آیات ہیں جو اسلامی شریعت کی بنیاد ہیں۔ یہ آیات مسلمانوں کو نصیحت کرتی ہیں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت ہمدردی اور نرمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہ آیات امن کے دور میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتی ہیں اور جب ہم ان آیات کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک غیر مسلموں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دیتا ہے۔

 یقینا قرآن ایک ایسے معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں ہر فرد معاشرے کی برائیوں سے پریشان ہو گا اور معاشرتی اور مذہبی برائیوں کو دور کرنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ وہ مظلوموں اور ڈبے کچلے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی مسلسل کام کرے گا اور ساتھ ہی خدا کی وحدانیت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بھی کام کرتا رہے گا۔ لیکن وہ خدا کے پیغام کو پھیلانے کے لیے کبھی دباؤ یا تشدد یا جبر کا سہارا نہیں لے گا۔

خدا قرآن میں کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو حکمت اور ذہانت سے نوازا ہے اور اس لئے وہ اپنے اعمال اور اپنے عقائد کا خود ذمہ دار ہے۔ اس نے اپنی مخلوقات اندر ہی غور و فکر کا سرچشمہ پیدا کر دیا ہے۔ پس مسلمانوں کا کام صرف یہ ہے کہ انسان کی توجہ کائنات کی تخلیق میں موجود کمال کی طرف مبذول کرائیں اور انسان کو نیکی کرنے اور برائی سے باز رہنے کی تلقین کریں۔

’’روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری ہی طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں"۔ (النحل:44)

کسی بھی آیت میں قرآن مسلمانوں کو کافروں پر تشدد کرنے کی نصیحت یا ہدایت نہیں کرتا ہے کیونکہ قرآن بار بار کہتا ہے کہ روئے زمین پر موجود تمام لوگ اپنے دل کے مرض کی وجہ سے سچائی پر ایمان نہیں لائیں گے۔ خدا بدکار لوگوں کو حکمت سے نہیں نوازتا ہے۔ درحقیقت خدا فرماتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے جو بدکار ہیں اور خدا کا کلام سننا نہیں کرنا چاہتے اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں۔

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ (الکہف: 57)

’’یوں ہی مہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر‘‘ (روم:59)

"اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب،'‘ (بقرہ:7)

"مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ اس نے ان کے دلوں پر ان کی شرارتوں کی وجہ سے مہر لگا دی ہے اور اس لیے رسول بھی ان کی رہنمائی نہیں کر سکتے۔ اس لیے مسلمان انہیں صحیح راستے پر نہیں لا سکیں گے لہٰذا ان کے خلاف تشدد کا استعمال کرنا نادانی ہوگی کیونکہ یہ زمین پر امن قائم کرنے کی بجائے معاشرے میں انتشار کا باعث بنے گا۔

اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ ان کی شرارتوں اور ان کے کفر سے پریشان نہ ہوں کیونکہ اگر وہ ایمان نہیں لاتے اور ان کی باتوں پر کان نہیں دھرتے تو یہ اس لیے ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ صرف عقلمند لوگ ہی حکمت اور سچائی کی بات کو سنیں گے۔

 ’’تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں غم سے۔‘‘ (الکھف:6)

قرآن واضح کرتا ہے کہ رسول صرف خدا کا پیغام پہنچانے والے اور جہنم کی آگ سے ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ بدکار کفار پر تشدد سے کام نہ لیں۔ خدا کہتا ہے کہ جو راہ راست پر آجاتا ہے وہ اس کے اپنے مفاد میں ہے اور جو حق کے پیغام کو نہیں سنتا اس کا اپنا ہی نقصان ہے۔ کوئی مسلمان دوسروں کی بداعمالیوں کا ذمہ دار نہیں ہے۔

’’اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوشی ڈر سنانے والے،‘‘ (الکھف:56)

"اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ" (الکہف: 29)

"اور اندھوں کو گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں، تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ہو مسلمان ہیں،"(النمل:81)

 ’’اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں۔‘‘ (النمل:92)

"بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو"۔(قصص:56)

"اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں"۔(روم:53)

قرآن چاہتا ہے کہ مسلمان دنیا کے لیے ایک مثال بنیں اور اسی لیے انہیں تمام لوگوں کے ساتھ انصاف سے کام لینے کی تلقین کرتا ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ ایک مسلمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے کے تمام معاملات میں شائستگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ساتھ نہایت رحم دل تھے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے۔ انہوں نے کسی پر بھی پر بلا جواز تشدد کی حمایت نہیں کی۔

’’بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا بے حیائی اور برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔‘‘ (النحل:90)

قرآن ایک ایسے معاشرے کا تصور کرتا ہے جہاں مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ امن سے رہیں اور انہیں ان کے سماجی، مذہبی اور سیاسی حقوق فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فرض پرامن طریقے سے ادا کریں۔

 سیاق و سباق کی آیات کو قرآن کی آفاقی تعلیم مان لینے کی وجہ سے ہی مسلمانوں کے انتہا پسند طبقوں میں تشدد کا نظریہ مقبول ہوا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ جنگ کسی بھی برادری یا قوم کی زندگی میں صرف ایک عارضی مرحلہ ہے۔ مسلمان بھی اسلام کے ابتدائی دور میں اس عارضی مرحلے سے گزرے جب ان کے جود کو خطرہ درپیش تھا۔ اس مرحلہ کے گزر جانے کے بعد، قرآن کی آفاقی آیات جو امن اور پرامن بقائے باہمی کی تبلیغ کرتی ہیں، عمل میں آئیں۔ لیکن قرآن کی جنگ والی آیات کی شدت پسند تشریحات نے انہیں اسلام کا آفاقی پیغام سمجھ کر انتہا پسندی اور پھر دہشت گردانہ نظریے کو راستہ دیا۔ اسی سے دہشت گرد تنظیم کا جنم ہوا جس نے سیاق و سباق سے متعلق جنگ والی آیات کی اس غلط تشریح کو فروغ دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کو ان کے مذہبی پس منظر کا ذکر کیے بغیر اپنے پڑوسیوں، مسافروں، بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ انسانیت نوازی قرآنی پیغام کا مرکز ہے۔ یہ مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم والدین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں کیونکہ انسانی اقدار قرآن کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ قرآن کے سامنے انسانی جان کی حرمت سب پر مقدم ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور ایک بے گناہ کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔

 English Article: Universal Verses Of The Quran Not The Contextual War Verses Form The Basis Of Islamic Behaviour

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/quran-cotextual-war-verses-islamic-behaviour/d/126234

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..