New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 09:56 PM

Urdu Section ( 2 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religious Nudity vs. Religious Veiling مذہبی عریانیت بمقابلہ مذہبی پردہ

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

28 فروری 2022

اگر عریانیت مذہبی بنیادوں پر قابل قبول ہے تو ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی معاشرے میں پردہ بھی قبول کیا جانا چاہئے

اہم نکات:

 ہندوستان میں ہندو خواتین بھی اپنے چہرے کو گھونگھٹ سے ڈھانپتی ہیں

 مسلمانوں کے درمیان چہرے کو ڈھانپنے پر اختلاف ہے جیسا کہ جین مذہب کے پیروکاروں کے درمیان لباس پر اختلاف ہے

 مسلمانوں اور حکومت دونوں کو اس معاملے پر کچھ لچک دکھانی چاہیے

-----

ترون ساگر کا پی ایم مودی، ہریانہ کے سی ایم منوہر لال کھٹر اور راجستھان کی سی ایم وسندھرا راجے سمیت مختلف سیاست دانوں کی نظر میں  بہت احترام تھا۔ (تصویر: ڈی این اے)

-----

اکتوبر 2016 میں، دگمبر جین سنت ترون ساگر کو ہریانہ کے وزیر تعلیم، رام ولاس شرما نے ہریانہ اسمبلی میں خطبہ دینے کے لیے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے دعوت قبول کر لی اور اسمبلی میں آکر چالیس منٹ تک خطبہ دیا۔ اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق وہ بالکل برہنہ تھے حالانکہ اسمبلی میں کچھ خواتین ایم ایل اے بھی موجود تھیں۔

سوشل میڈیا پر تقریب کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ سوالات اٹھائے گئے کہ کس طرح ایک راہب یا سنت کو مکمل طور پر برہنہ حالت میں خواتین پر مشتمل عوامی مجلس میں حاضرین سے خطاب کے لیے مدعو کیا جا سکتا ہے۔ اس تقریب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ایک خاتون کالم نگار سنجکتا باسو نے ایک مضمون لکھا تھا جو فرسٹ پوسٹ میں شائع ہوا تھا۔ انہوں نے فحاشی سے متعلق ہندوستان کے قوانین اور ایک مذہبی گرو کو برہنہ حالت میں اسمبلی میں خطبہ دینے کی اجازت کے جواز کے بارے میں لکھا۔ انہوں نے لکھا:

"انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 294 فحاشی کے جرم کی وضاحت کرتی ہے: جو بھی دوسروں کو ناراض کرتا ہے یا

1) کسی عوامی جگہ پر کوئی فحش حرکت کرتا ہے یا

2) کسی بھی عوامی مقام پر یا اس کے آس پاس کوئی فحش گانا یا کوئی فحش کلام کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید لکھا: "یقینا قانون کافی مبہم ہے۔ بنیادی وجہ ناراضگی کا ہے۔ عدالتوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی فعل اس وقت تک فحش یا بیہودہ نہیں ہے جب تک کہ وہ ناراضگی کا باعث نہ ہو (2005 (3) ALD 220)۔ لیکن ناراضگی کیا ہے؟ دوسرے کون ہیں؟ عوامی جگہ سے مراد کیا ہے؟ جب کسی کام کی جگہ پر کوئی رسمی تقریب منعقد کی جاتی ہے جہاں خواتین اپنے عام فرائض کے حصے کے طور پر شریک ہوتی ہیں، تو اس صورت میں آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ چند خواتین۔ لیکن یہ ہریانہ اسمبلی میں صرف ایک دن یا صرف چند خواتین کی بات نہیں ہے۔ کیا مثال قائم کی جا رہی ہے؟ کل یہ کوئی اسکول یا کالج بھی ہو سکتا ہے --- عریاں جسم کو کسی بھی طرح سے کسی عورت کی نظروں پر تھوپنا نہیں چاہیے۔ کام کی جگہ پر عریانیت جنسی ہراسانی کے مترادف ہوگی لیکن مذہبی عریانیت کو ایسا کیوں نہیں مانا جاتا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی مردکا ارادہ اہم ہے نہ کہ غیر مذہبی عورت کی نظر کا عریاں جسم پر پڑنا کیسا ہے؟"

بہت سے لوگوں کو حجاب کے مسئلے سے یہ تشبیہ مناسب نہیں لگتی ہے لیکن ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی معاشرے میں یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ مذہبی پردہ یا حجاب بہت سے لوگوں کے لیے تو پریشان کن ہے لیکن مذہبی عریانیت نہیں۔ ہندوستان فرانس کی طرح ثقافتی طور پر متحدہ معاشرہ نہیں ہے جہاں شکل وصورت اور لباس میں یکسانیت کی توقع کی جاتی ہے اور اگر وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اسے دوسروں کی ثقافتی حساسیت سے لاعلمی مان لیا جاتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں پردہ اور عریانیت دونوں مذہب اور ثقافت کا حصہ ہیں اور مختلف خطے کے لوگ مختلف لباس پہنتے ہیں۔

Images by Abhishek | This photograph was taken during the Naga sadhus procession while the crowd looks on

----

ایسے ناگا سادھو بھی ہیں جن کی عریانیت کسی کو پریشان نہیں کرتی ہے کہ فحاشی کی زد میں نہ آجائے۔ جب عصمت دری ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ کم لباس پہننے والی خواتین عصمت دری کو مدعو کرتی ہیں۔

مسلم کالج کی لڑکیوں کو کالج جانے سے روک دیا گیا کیونکہ اس سے ایک خاص نظریہ سے وابستہ لڑکوں کو تکلیف تھی۔ لڑکیوں نے جو دلائل پیش کیے وہ یہ تھے کہ حجاب یا پردہ ان کے ضروری مذہبی معمولات میں سے ہے جیسا کہ جین راہب نے کہا تھا کہ عریانیت ان کا لازمی مذہبی عمل ہے۔

ہندوستان میں نہ صرف مسلم خواتین نقاب پہنتی ہیں یا چہرے کو ڈھانپتی ہیں بلکہ صدیوں سے ہندو خواتین اپنے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے ساڑی کے ایک حصے کو گھونگھٹ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ مشترکہ فیملی میں دلہن یا بہو سارا دن اپنے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر رکھتی تھی کیونکہ اسے خاندان کے بڑے مرد افراد سے اپنا چہرہ چھپانا پڑتا تھا۔

جدید معاشرے میں بھی نوجوان ہندو لڑکیاں اپنے چہرے کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسکارف یا اسٹال سے ڈھانپتی ہیں۔ ملک میں عصمت دری کے کچھ ہائی پروفائل واقعات نے لڑکیوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ اپنے چہرے کو ڈھانپ کر وہ ناپسندیدہ نظروں سے بچتی ہیں اور پردے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ معاشرے کے آوارہ عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا پر لڑکیوں کی تصاویر پوسٹ کیے جانے کے واقعات نے بھی غیر مسلم لڑکیوں کو چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تاہم چونکہ ہندو مذہب میں چہرے کو ڈھانپنا کوئی مذہبی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا ہندو لڑکیاں چہرے کو ڈھانپنے کے معاملے میں زیادہ سختی نہیں کرتیں اس لیے وہ ضرورت کے تحت اسکارف اتار دیتی ہیں۔ مسلمان لڑکیوں پر چونکہ پردہ یا حجاب ایک مذہبی معمول مانا جاتا ہے، اس لیے حجاب یا پردہ ان کے لیے ایک مذہبی شناخت بن جاتا ہے۔ اسی لیے اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

جو لڑکیاں پردے یا حجاب کے لیے اپنا کریئر چھوڑنے کو تیار ہیں، وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ کئی مسلم ممالک میں نقاب پر پابندی ہے۔ 2009 میں، مصر کی الازہر یونیورسٹی نے اپنے تمام ملحقہ کالجوں اور تعلیمی اداروں میں خواتین کے تمام کلاس رومز اور ہاسٹلری میں نقاب یا حجاب پر پابندی لگا دی ہے۔ سعودی عرب میں حجاب یا نقاب کو لازمی قرار دینے کے لیے کبھی بھی کوئی واضح قوانین نہیں رہا ہے۔ کالا عبایا مذہبی طبقے کے دباؤ کی وجہ سے مروج کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے حجاب اٹھا لیا ہے۔ اب یہ لازمی نہیں ہے۔

ہندوستان میں بھی خواتین اور لڑکیوں کا ایک طبقہ حجاب یا پردہ پہنتا ہے جبکہ دوسرے طبقہ حجاب یا نقاب نہیں پہنتا۔ فیصلہ مکمل طور پر ان کا ہے۔ کرناٹک میں، مسکان خان کو مسلمانوں نے حجاب پہننے پر سراہا جبکہ ایک کشمیری لڑکی جو 12ویں جماعت میں ٹاپر تھی، حجاب نہ پہننے پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر ہراسمنٹ، کیٹ کال یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے مذہبی وابستگی سے قطع نظر حجاب یا چہرے کے پردہ کو ایک حفاظتی تدبیر پایا ہے۔ ہندوستانی حکومت نے حجاب یا نقاب پر پابندی نہیں لگائی ہے لہٰذا تعلیمی ادارے اس معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر کچھ نرمی اختیار کر سکتے ہیں۔ قرآن یا حدیث میں نقاب یا پردہ کا حوالہ موجود ہے یا نہیں یہ ایک قابل بحث مسئلہ ہے کیونکہ مختلف علمائے کرام نے قرآن و حدیث کی مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ پردے کا ذکر قرآن میں ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے جس طرح دیگمبر جینز اور شویتمبر جینز کا لباس کے معاملے میں اختلاف ہے۔ مختصر یہ کہ ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی معاشرے میں جس طرح مذہبی عریانیت کی اجازت اور قبولیت ہے، مذہبی پردہ بھی قابل قبول ہونا چاہیے۔ تاہم اس معاملے پر مسلمانوں اور حکومت دونوں کو کچھ حد تک لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔

English Article: Religious Nudity vs. Religious Veiling

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religious-nudity-veiling/d/126495

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..